ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا - ہارون الرشید

طارق تم نے سچ کہا تھا۔ بڑے آدمی اگر کبھی دیکھے تو چک 42جنوبی سرگودھا میں۔ بخدا باقی تو سب بھوسہ ہی نکلا۔ کرنل ریاض کی وفات سے وہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا۔ ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا۔ ہر عزیز کی موت تکلیف دیتی ہے مگر ایسی ناگہانی موت۔ جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن قلب و دماغ سے رخصت نہیں ہوتے۔ رفتید ولے از نہ دلِ ما۔دنیا سے رخصت ہوا مگر میرے دل میں وہیں کا وہیں ہے۔ بیس برس ہوتے ہیں، ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور کسی نے کہا ’’میں ریاض ہوں‘‘ حافظے کی وادیوں میں دھند تھی۔ عرض کیا: کون ریاض؟۔۔۔’’ہماری ہی غلطی ہے بھائی کہ رابطہ نہ رکھا۔ میں کرنل ریاض ہوں، بریگیڈئیر رفیق کا بیٹا۔‘‘ دل جیسے پگھل کر موم ہو گیا۔ بریگیڈئیر رفیق ان نادر و نایاب لوگوں میں سے ایک تھے کہ جس زندگی میں داخل ہوئے، وہ کبھی انہیں فراموش نہ کر سکی۔ پینتیس برس ہوتے ہیں۔ ایک دوست، ایک حاضر سروس جنرل سے ملنے گئے۔ فراغت بہلانے کے لیے میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ دفتر میں داخل ہوئے تو شاہ صاحب نے تعارف کرایا۔ یہ بتانے کی بجائے کہ تعلق اخبار سے ہے کہا: بریگیڈئیر رفیق کے بھتیجے ہیں۔ جنرل کے چہرے پر ملائمت آگئی۔ نہایت تیزی کے ساتھ وہ اپنی نشست سے اٹھا اور خود سے آدھی عمر کے آدمی کو سیلوٹ کیا۔ ایک آدھ نہیں، ایسے کتنے ہی واقعات ہیں۔ جنرلوں کی وہ کھیپ مٹی اوڑھے سو رہی ہے، جو مرحوم بریگیڈئیر کے شا گرد تھے۔ جن میں سے ہر ایک نے ہمیشہ اس بات پہ ناز کیا کہ ایک عظیم استاد سے اس کا تعلق تھا۔ وہ آدمی، جس سے ملاقات کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خاں کو دس منٹ انتظار کرنا پڑا تھا کہ وقت سے پہلے ہی وہ ملٹری کالج جہلم جا پہنچے تھے۔ وہ آدمی، جس نے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر یحییٰ خان کو ڈانٹ دیا تھا کہ فوج کی سلامی کے آداب ملحوظ رکھیں۔ بریگیڈئیر رفیق ایک پیدائشی استاد تھے۔

سپاہی بھی ایسے کہ سبحان اللہ۔ شیخ مجیب الرحمٰن کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا تو انہی پر اتفاق ہوا۔؛حالانکہ تب فوج کے تعلیمی شعبے میں تھے۔ فوج ہی نہیں، ملک بھر میں ان کا نام اکرام سے لیا جاتا۔ ہر جاننے والے کو معلوم تھا کہ سفارش ان کی بارگاہ میں کانپتی ہوئی داخل ہوتی اور نامراد لوٹتی ہے۔ ہر جاننے والے کو معلوم تھا کہ سو فیصد نہیں، بریگیڈئیر اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے اس سے بڑھ کر کر کاوش کرتے ہیں۔ بریگیڈئیر ہوئے، جنرل بھی ہو گئے ہوتے لیکن ایک دوسرے اساطیری کردار اور اپنے شاگرد بریگیڈئیر سلطان کی طرح اس عمر کو پہنچتے وہ تھک چکے تھے۔ جسمانی نہیں، ذہنی طور پر۔ اصولوں کی مکمل پاسداری کے ساتھ کون اس نظام میں پنپ سکتا ہے۔ مرحوم پہ لکھی گئی دو عدد کتابیں حیرت انگیز واقعات بیان کرتی ہیں۔ جاننے والوں اور رشتے داروں کے حلقے میں نصف صد ی بعد بھی ان کا نام اس طرح لیا جاتاہے، جیسے اولاد والدین کا ذکر کرے۔ جس راہ سے وہ گزرے، کوئی نقش چھوڑ گئے اور ہر نقش سہانا۔ ایک سادہ، سیدھے اور صاف آدمی، سچ کی طرح سادہ۔ ماتحتوں اور دوسروں پر وہی لوگ اصول نافذ کر سکتے ہیں، جو خود ان کی پاسداری کریں۔ کرنل ریاض اس افسانوی شخصیت کے اکلوتے فرزند تھے۔ چک نمبر 42جنوبی سرگودھا میں، میرا ہم جولی۔ چہرے پر باپ کی سی سادگی اور معصومیت لیے، ایک دن وہ غائب ہو گیا۔ حویلی میں ڈھونڈنے نکلاتو بتایا گیا کہ وہ کہیں دور کوہ مری نام کے پہاڑی شہر میں سکول میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ شام کو بخار نے آلیا۔ یہ ایک دوست کی جدائی کا غم تھا۔ ریاض کی ناگہانی موت کے بعد یہ غم ایک بار پھر لوٹ آیا ہے۔ پچیس تیس برس تک رابطہ منقطع رہا۔ اس لیے کہ فوجی شہر شہر، نگر نگر گھومتے ہیں۔ چک نمبر 42جنوبی اور رحیم یار خاں میں ٹیلی فون تو تھا نہیں، خط و کتابت کی توفیق بھی نہ ہو سکی۔ ایسا ہی ہوتاہے، زندگی میں ایسا ہی ہوتاہے۔

ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ کھڑی شریف کے عارف نے کہا تھا: جنہا باجھوں جھٹ نئیں سی لنگدا او شکلاں یاد نہ رہیاں۔ لیکن ایک دن طارق چودھری آیا۔ زنجیر نہیں، جس کے پاؤں میں ایک چکر ہے۔ کہا: ریاض کو ملنے جانا ہے۔ راولپنڈی گیریژن میں ریاض کے گھر پہنچے۔ چائے پی۔ بس اتنی دیر میں بیچ کے تیس برس غائب ہو گئے۔ میرؔصاحب نے کہا تھا ؎ روز ملنے پر نہیں نسبتِ عشقی موقوف عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے یہاں تو بچپن ایک ساتھ گزرا تھا۔ نہر کنارے کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر، مون سون کی بارشیں اور سرما کی سنہری دھوپ میں۔ سب کچھ بندہ بھول سکتاہے لیکن بچپن کی سنہری یادیں نہیں۔ گہری ہوتی شب میں بیلنے پر دھیرے دھیرے پکتے ہوئے گڑ کی کڑاہی کو نہیں۔۔ عمر بھر اللہ کی نعمتوں کا لطف ذوق و شوق سے اٹھایا مگر اس گڑ جیسی مٹھائی کوئی دوسری نہیں تھی۔ اس میں پکائی گئی شکر قندی۔ اس کے رس کی کھیر۔ اس میں لیموں، لسی یا ادرک ڈال کر بنایا گیا مشروب۔ بیس پچیس برس سے ملک میں ہیپاٹائٹس کا موسم ہے، کئی ماہ سے کرونا کا۔ اب بھی لیکن گنے کے رس کی ریڑھی کے پاس سے گزرتے ہوئے چک 42جنوبی سرگودھا کا بچّہ جاگ اٹھتا ہے۔ اسے بہلانا پڑتا ہے۔ شیشم کا وہ درخت، جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں چھٹی کے دن کبھی دوپہر کا کھانا کھایا جاتا۔ خربوزے کا وہ کھیت، جہاں آنکھ بچا کر پھل توڑا جاتا۔ شہد سے زیادہ شیریں کیا لیکن اس خربوزے کی بات دوسری تھی۔ خربوزہ تو الگ۔ سرخ گاجر کی مٹھاس کا ذائقہ اب تک زبان پر ہے، جو زیادہ کھا لی جاتی تو پیٹ میں درد اٹھتا۔

اس درد کی پرواہ کس کو تھی۔ گاؤں کے مغرب میں پھیلے میدان کا ایک چکر اور درد غائب۔ کرنل ریاض جنرل کیانی کے ہم جماعت تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ نہ جنرل ان کا ذکر کرتا اور نہ ریاض۔سپہ سالار بنے اور بات ہوئی تو فقط یہ کہا ’’اچھا آدمی ہے۔‘‘ کوئی بڑا آدمی اٹھ جائے تو کہا جاتاہے: اس کا خلا کبھی پر نہیں ہوگا۔نہ ہوتا ہوگا، یہ عاجز تو بس یہ جانتا ہے کہ اس کے دل میں بچپن کے دوست کا خلا کبھی پر نہیں ہوگا۔ بڑے آدمیوں سے ہمیں کیا لینا اور قائدِ اعظم کے بعد بڑا تھا کون؟ ہاں، کوئی صوفی، کوئی درویش۔ ریاض ایک پیدائشی درویش تھا۔ اپنے باپ کی طرح سیدھا، سادہ، سچا اور صاف دل۔ شیشے کی طرح صاف دل۔ وہ دل، جس میں حسد، بغض و عناد اور نفرت کبھی داخل نہ ہو سکتی۔طارق تم نے سچ کہا تھا۔ بڑے آدمی اگر کبھی دیکھے تو چک 42جنوبی سرگودھا میں۔ بخدا باقی تو سب بھوسہ ہی نکلا۔