شادی کور لاوارث بن چکا ہے - ملک جان کے ڈی

شادی کور زہرین کہور ضلع کیچ میں واقع ہے۔ شادی کور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ شادی کور پسنی اور تربت کو ملانے کا اہم شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ شادی کور پسنی کے ریڈ کی ہڈی جیسی ہے۔ کیونکہ پسنی کے عوام یہاں سے پانی، گھاس، سبزی اور فروٹ لیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا آدھا حصہ ضرورت کے سامان یہاں سے جاتا ہے۔احسان شاھ کے دورِ حکومت میں شادی کور کے بدنصیب عوام کے لیے ایک اسپتال کی بلڈنگ بنائی گئی۔

اس کے ایک سال بعد اِس اسپتال کے لوگوں کی پوسٹگ ہوئی۔ تربت سے ایک ڈاکٹر آیا۔ کچھ برس کے لیے اسپتال کے گیٹ کھولے تھے۔ لیکن اس اسپتال میں نہ انجکشن تھا، نہ کاٹن ، گولی اور ادویات کا تو تصور ہی نہیں تھا۔ کیونکہ ادویات اس اسپتال کے نصیب میں نہیں لکھے تھے۔ اس لیے حکومت کی طرف سے اس اسپتال کو کچھ میسر نہیں ہوا۔لوگوں نے اپنی زندگی گزارنے کے لیے کچھ اقدام اٹھائے۔ اس اقدام میں پہلا قدم ایک ان پڑھ نے میڈیکل اسٹور کھولا۔ اس اسٹور کھولنے کے بعد اسپتال میں رش بڑھ گیا۔ ڈاکٹر چیک اپ کر کے پرچی لکھ دیتا اور وہ بیچارہ اسٹور جاتا، ادویات خریدنے کے لیے، کبھی حالات کچھ اس طرح بھی ہو جاتے تھے کہ پرچی میں ڈاکٹر نے کچھ اور لکھا اور اسٹور والے نے کچھ اور دے دیا۔

ڈاکٹر تو صرف ایک ڈسپنسر تھا، جو اکثر پرچی کے اوپر انگریزی کے بجائے اردو لکھتا تھا۔ دوسری بات تو میڈیکل اسٹور والے کی تھی کیونکہ ان کو نہ اردو سمجھ آتی تھی نہ انگریزی۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب نے پرچی پر بلوچی لکھنا شروع کی۔ یہ روز کا معمول بن چکا تھا۔ پھر بھی آبائی لوگ بہت خوش تھے کہ ہمارے علاقے میں ایک ڈاکٹر موجود تو ہے نا۔ڈاکٹر صاحب پانچ سال ڈیوٹی کرنے کے بعد، شادی کور سے ٹرانسفر ہوئے اور کلمت میں تعینات ہیں۔ اب ان کی پوسٹنگ کلمت میں ہے۔ ان کے جانے کے بعد پھر شادی کور میں اور دوسرا ڈاکٹر ابھی تک نہیں آیا۔ اب انتظار کی گھڑی کا کانٹا بھی ٹوٹ چکا ہے۔ کیونکہ پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں اس ڈاکٹر کو یہاں سے گئے ہوئے۔

اب اس اسپتال کی دیواروں میں دراڑیں پیدا ہوئی ہیں، کمرے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، تالے زنگ آلود ہو گئے ہیں، جو دوسرا اسٹاف ہے وہ تو ڈیوٹی ہی نہیں دیتا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ڈاکٹر تو موجود نہیں ہم کیوں ڈیوٹی دیں۔ اب وہ اسپتال کبوتروں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ اس اسپتال کو کبوتروں نے اپنے قبضہ میں لیے لیا ہے۔بیچارے عوام عام کھانسی کے علاج کے لیے بھی پسنی یا تربت جاتے ہیں۔ اب آپ بتائیے کہ ایک مزدور جس کی روزانہ آمدنی سات سو سے بھی کم ہے، بمشکل وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، وہ ایک انجکشن کے لیے پسنی کا رخ کرنے پہ مجبور ہے۔یہاں ایک سوال بہت اہم ہے، کیا شادی کور کے لوگ انسان نہیں؟۔ کیا یہاں صرف جانور رہتے ہیں؟۔ ترقی یافتہ ممالک میں جانوروں کے لیے بھی مخصوص ڈاکٹر اور اسپتال ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں انسان وہاں کے جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ کبھی کبھی یہاں کے لوگ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش ہم یورپ کے جانور ہوتے تو اس سے بہتر زندگی ہوتی۔

زندگی گزارنے کے لیے انسان کی اولین اکائیوں میں سے اہم ترین صحت اور تعلیم ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہاں کے لوگ ان دونوں چیزوں سے محروم ہیں۔ کاش اس علاقے میں ایک وزیر کا گھر ہوتا، اس کے بچے بیمار ہوتے اور بارشوں کی وجہ سے سڑکیں بند ہوتیں تو شاید اس کو تھوڑا سا حساس ہوتا، اگر اس کے اندر ضمیر زندہ ہوتا ورنہ ۔۔۔۔ عوام تو اجل کے انتظار کے سوا ویسے بھی اور کچھ نہیں کر سکتے۔