سید منور حسن،ایک دور اندیش رہنما - کرن وسیم

فتنوں کے اس دور میں جب ہر کوئ حالات کی فتنہ انگیزی سے آنکھ چراتا ,دامن بچاتا نظر آتا ہے کچھ لوگ ایسے دلیر اور حق شناس ہوتے ہیں جو ممکنہ مخالفتوں کے باوجود حق گوئ سے چوکتے نہیں ہیں..تنقید کا طوفان ان کی نظریاتی اساس کو ہلا ہی نہیں سکتا.

تندوتیز جملوں اور چبھتے لہجوں کے مقابلے میں ان کا پرسکون اور باوقار رویہ اور دو ٹوک مؤقف مخالفین کو بھی جھکنے پر مجبور کردیتا ہے.. ایسے ہی باہمت اور مضبوط طرز فکر رکھنے والے رہنما تھے سید منور حسن....زہد و تقوٰی میں باکمال شخصیت رکھتے تھے..ان کی جراتمندی کا آج ہر کوئ اعتراف کررہا ہے لیکن جب یہ مردِ مجاہد ببانگ دہل حق کا آوازہ بلند کرتا تھا اسوقت طنز و تنقید کے تیر چلانے والوں کی ایک کثیر تعداد ہوا کرتی تھی.. قومی اور عالمی امور کو حقائق کے تناظر میں رکھ کر جسطرح منور حسن بیان کردیا کرتے تھے وہ بات طاقتور گروہ بھی زبان پر لانے سے ہچکچاتے تھے.

مگر ہر گزرتا دن انکی ہر بات کی حقانیت کو واضح کرتا گیا ... وہ صرف ایک عالم دین ہی نہ تھے بلکہ حالات حاضرہ اور ماضی, حال اور مستقبل پر گہری نظر رکھنے والے ایک مدبر تھے لیکن ہماری قوم کی بد نصیبی کے اہلِ حق کیلیئے ہاتھ میں پتھر اور زبان کے خنجر ہمیشہ چلائے گئے.. جیتے جی کسی حق شناس اور چارہ گر کی قدر کہاں کرتے ہیں...پروپیگنڈا کا طوفان ہماری سیاسی اور فکری بصیرت کو ہمیشہ ہی بہا لے جاتا ہے اور مخلص افراد ناقدری کا شکار ہوکر دار فانی سے کوچ کر جاتے ہیں.

یہ سال تو پے در پے اہلِ حق کی جدائ کا سال بن گیا... وہ اہلِ حق و دانش کہ جنکو اب بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہر لمحہ یاد کریں مگر اب نعم البدل بھی کہاں سے لائیں... آہ... تحریک اسلامی کے نایاب ہیرے جیسے لوگ. ناقابل تلافی نقصان.لوگ رخصت ہوئے ,اور لوگ بھی کیسے کیسے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */