لال یا لعل - ڈاکٹرطاہرہ بشیر سلہریا

بیٹھے بیٹھے اچانک بچپن میں لال شیشے والی عینک یاد آگئی۔

ایک موٹے سے ڈنڈے پر بڑا سا تختہ لگائے کوئی بابا گلیوں میں پھرتا، آوازیں لگاتا جاتا تھا۔

گو عید پر اس بابا کی اصل اہمیت کا اندازہ ہوتا تھا جب چمکیلے کپڑے،ایڑھی والی جوتی اور چھوٹے پرس پکڑے بچیاں اور شلوار قمیض،واسکٹ میں ملبوس بچے اس کے پیچھے بھاگتے آوازیں دے رہے ہوتے تھے۔ عیدی کا اس سے بہتر ضیاع ہوتا ہی نا تھا۔۔اس تختے پر سستی ٹافیوں ،بسکٹ کے ساتھ پلاسٹک کے بہت سے کھلونے ہوتے تھے۔

کسی ٹافی پر لپٹے کاغذ پر انعام کا نکلنا ایسے ہی تھا جیسے ٹرمپ کا صدر بن جانا۔ٹافی پر لپٹا کاغذ کھولتے ہاتھ کانپنے لگتے، آنکھیں پھیل جاتیں اور سانس دھونکنی کی مانند چالو۔

سب دعائیں اور سورتوں کا تیزی سے ورد شروع ہوجاتا۔ وقتا فوقتا للچائی نظریں بڑے اور قدرے مہنگے کھلونوں پر بھی الجھ جاتیں۔کاغذ پر بچوں کی خواہش کے بالعکس جب کہ بابا جی کی سٹریٹجی کے عین مطابق کوئی معمولی انعام نکل آتا۔

خیر انعام نکلنا بذات خود بہت بڑا انعام تھا۔

جسے محلے اور گھر میں سب کو دکھانا فرض بن جاتا تھا۔

اسی قابل فخر و انبساط انعامات میں وہ کرامتی لال عینک بھی تھی، پلاسٹک سے بنے فریم میں پلاسٹک کے لال شیشے۔اسے لگاتے ہی آپ اس بات سے بے نیاز کہ آپ خود کونسی مخلوق بن گئے ہیں، سب کچھ لال دکھائی دیتا تھا۔

آپ اس رنگ کے دیوانے ہوکر ہر زاویے اور ہر چیز کو لال و لال دیکھنے کی خاطر، سر کو ہر سو گھماتے اور خود بھی گھومتے۔

اب ہم ترقی کرگئے ہیں۔خود انحصاری کے ساتھ خود اعتمادی کی فراوانی ہے۔

ہر شخص لال عینک لگائے، علم و فراست کے اخبار نکال رہا ہے۔دائیں دیکھے یا بائیں سب لال و لال ہے۔

اس فریب میں اپنا رنگ نظر نہیں آتا کیونکہ وہ تو ہے ہی صحیح مگر باقی سب لال۔

دائیں دیکھ وکیل لال، بائیں دیکھو ڈاکٹر لال۔پیچھے دیکھو سیاستدان لال،آگے دیکھو پائیلٹ لال۔۔۔۔۔۔اب سستی عینک اترے تو لال اور لعل کا فرق معلوم ہو۔

مگر جناب عیدی جیب میں ہے، لٹاتے جائیں اور خریدتے جائیں لال عینکیں۔