سید منور حسن - محمد عمار

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نہ ابلا مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش

میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مجھ ایسے کمزور ارادے کے حامل انسانوں کی شائد بڑی خوبی یہی ہوگی کہ وہ بلند حوصلہ اور دلیر انسانوں کی مدح کرسکیںُ ۔ ان کی زندگی میں ایسے جی داروں کی تعریف کرنے میں اندر کا خوف اور بزدلی آڑے آتی رہتی ہے ان لوگوں کے مرنے پر مجھ ایسے سماج میں رائج “موت پر ہر کسی کی تعریف کرنے “ کی روایت کی آڑ لے کر اپنے دل کی باتیں کہہ دیتے ہیں جتنا بھی سوچ لوں اس کے علاوہ اپنی بزدلی کو داد دینے کا اور کوئی رستہ نظر نئیں آتا ۔ یہی وجہ ہے بینظیر بھٹو ، عاصمہ جہانگیر ، اسامہ بن لادن اور اس قبیل کے دیگر لوگوں کی مدح میں کاغذوں پر سرخی تب ہی پھیلائی” جب وہ ہمُ میں نہ رہے “

اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے برصغیر میںُ موجود قدیم ردالیوں کی طرح انتہائی پروفیشنل انداز میں نوحہ گری کرتے ہوئے دل کی اکشا یہی ہے کہ نوحہ گری میں سچ کی گانٹھ لگا کر من کا بوجھ ہلکا کیا جائے ۔ پھر گاہے خیال آتا ہے جس سماج میں ہم نے تربیت حاصل کی ہے وہاں تو ابھی تک ہمیں پاپولزم ،پوسٹ ٹروتھ ،ریٹورک rhetoric ، گوئبلز اور “بھوک اور غربت کا نعرہ لگانے والا سرمایہ دار “اور “کرپشُن کا نعرہ لگانے والا کرپٹ “ اور “انسانی زندگی کی بات کرنے والا سفاک “ ان سب کا ادارک حاصل نہیں ہو پایا ۔ اس لئے ہم صرف وہی کچھ دیکھ سکتے جو دکھایا جاتا ہے اور ہم لمحۂ بہ لمحۂ اس سے دور ہو رہے ہوتے ہیں جسے “ حقیقت “ یا “ reality “ کہا جاتا ہے حقائق کی تلاش مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتی ہے اور نصف صدی سے اپنا عالم یہی ہے

اور فریب کھائیے اور سراب دیکھئے

سید منور حسن کے بارے کیا کہا جاسکتا ہے شائد انگریزی میں erudite and brave اور loud and clear ۔ بیباکی اور بے خوفی ان کی شخصیت کا خاصۂ تھا جب لوگ سات پردوں میں اداروں اور خوفناک شخصیات کا ذکر نہیں کر پاتے تھے جب زبانیں لڑکھڑا جاتی تھیں ۔ انہوں نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی بوری بند لاشوں اور سفاکی پر غیر مبہم انداز میں میں انتہائی سوالات اٹھائے اور ریاست کو اس ظلم پر خاموشی کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔ جب اپنے پرائے اداروں کے ہاتھوں “ ٹڈی دل “ بننے پر شاداں و فرحاں تھے تب انہوں نے وار آن ٹییرر کو امریکی جنگ قرار دیا اور ڈرون حملوں اور لاپتہ افراد کے whereabouts سے متعلق شدت سے سوالات اٹھائے اور جب مظبوط اداروں نے ان کے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تو سید زادے نے کہا ادارے کو سیاست میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ۔ اور شائدملکی اور” جماعتی” تاریخ میں پہلی دفعہ میں کسی پارٹی کی طرف سے اداروں کو اپنی حد میں رہنے کا واضح پیغام دیا گیا ۔ یہ نہیں ہے کہ انہیں اس سب کے نتائج نہیں بھگتنا پڑے ۔ پر وہ نتائج سے بے نیاز اور مصائب کے لئے ہر دم تیار رہنے والا مرد آزاد تھا ۔

ریاست ، ریاستی ادارے اور میڈیا ان پر پل پڑے تھے لعن طعن ، دشنام طرازی اور تہمت غداری کیا تھا جو سید زادے کے اجلے دامن پر نئیں لگا ۔پھر اس مرد آزاد کے خلاف ففتھ جنریشن وار لڑی گئی ۔ یہی نہیں جماعتی تاریخ میں پہلی دفعہ” سٹنگ امیر جماعت “ کو پریذیڈنشل الیکشن ہروا دیا گیا۔انکی سیاست سے ، انکے موقف سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے تاریخ اس پر اپنا فیصلہ ضرور سنائے گی ۔ پر ہر گزرنے والا دن انکی بیباکی اور بے خوفی کو نمایاں کرتا جائے گا

اس مرد آزاد کی کہانی یہی تھی ۔

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں

تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

حاکم شہر بھی مجمع عام بھی

تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی

صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے

دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو