مقصد حیات اور غیر ضروری مصروفیات - محمد وقاص الیاس

ہمارے وجود کی موجودگی ہی ہمارے مقصد حیات کو پانے کے لیے کافی ہے کیونکہ اللہ نے جو بساط ہمارے اردگرد بچھائی ہے، اسی میں ہماری آزمائش اور امتحان کے ذرائع پیدا کیے۔ اور اسی موجودہ لمحے میں وہ ہر چیز موجود ہے جو ہمیں معرفت الٰہی کی منزلوں تک لے جائے ۔

ہمیں علم اور معلومات تو چاہییں کیونکہ یہ ہماری عقلی و شعوری ترقی کے لیے ضروری ہیں مگر ہمیں غیر ضروری تاریخ و فلسفہ اور دیگر علوم نہیں چاہیے ہوتے یہ ہمیں صرف حقیقی مقصد سے دور لے جاتے ہیں۔ روزگار کے علوم و فنون چاہییں مگر رزق دینے والے کی پہچان بھی چاہیے کیونکہ واضح طور پر اللہ کی پہچان ہی ہمارا اولین مقصد حیات ہے۔

ہمارے پاس بھلے علم کا سمندر ہو مگر اس سمندر کے ہم اس مقام تک نہ پہنچ سکیں جہاں اصل خزانے چھپے ہیں تو ہمیں اپنے ہی سمندر کا کیا فایدہ وہ تو شاید ہمیں خود میں ہی غرق کردے۔

اسی طرح میری معلومات آسمانوں کی بلندیوں اور کہکشاؤں تک کیوں نہ پھیلی ہوں، اگر میں خود کو اس سارے نظام میں تنہا پاؤں تو مجھے ایسی معلومات نے کیا دیا۔ میرا ہر اٹھنے والا قدم ہی میرا رستہ یہاں تک کہ میری منزل کا تعین کرتا ہے کیا مجھے جو موقع ملا ہے وہ ادھر ادھر ہی ضائع کردوں؟

شاید ہمیں اتنا آگے نکلنا ہی نہیں چاہیے جو ہمیں خود سے اتنا دور کردے کہ واپسی کا راستہ نہ مل پائے۔ اپنے ارگرد رہنے میں ہی عافیت ہے۔ ہاں اگر وہ علم جس کی ابتدا و انتہا فقط معرفت الٰہی حاصل کرنے کے لیے ہو، وہ آپ کو ضرور راہنمائی دیتا ہے۔ ڈھونڈیں تو سارا جہاں گواہی دے گا نہ ڈھونڈیں کو اتنے پاس بھی نہ ملے۔

اس کائنات کو چھوڑیں، اس زمین کے نظام میں بسنے والی مخلوقات اور انسانی تہذیبیں ہی اتنی لاتعداد اور متنوع ہیں کہ اسے سمجھنا ایک انسان کے لیے ناممکن ہے تو کیوں نہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہی اس کو ڈھونڈیں جس نے خاص مقام پر خاص وقت میں خاص احوال میں خاص مدت کے لیے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے لیے ایک اسٹیج تیار کیا اب یہاں پرفارم کرو اور آگے نکل جاؤ۔