تبدیلی مبارک ہو - محمد عرفان ندیم

اہل وطن کو مبارک ہو کہ ہم تبدیلی کے عہد میں جی رہے ہیں ، تبدیلی کے ہمہ گیر اثرات سماج ، سیاست اور ریاست تمام پہلوؤں کو اپنے جلو میں لیے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ایک عہد اوراس عہد کے خوش قسمت عوام ان اثرات کی زد میں ہیں ،یہ اثرات ہر صبح عوام کو جھنجھوڑتے ہیں اور انہیں 25جولائی کی یاد دلاتے ہیں ۔ تبدیلی اپنے سابقہ نام ’’سونامی‘‘ کی مصداق بنتی چلی جا رہی ہے ، ایک ہلاکت خیز طوفان جو بائیس کروڑ عوام کو خس و خاشاک کی مانند بہائے لے جا رہا ہے ، میں اس طوفان کی ہولناکیوں اور اس کے کارپردازوں کی بے حسی سے اللہ کی پنا ہ میں آتا ہوں ۔

دو دن قبل پٹرولیم مصنوعات میں اچانک اور ہوش ربا اضافہ تبدیلی کی نئی مثال قائم کر گیا ، عوام پچھلے ایک ماہ سے پٹرول کے لیے ترس رہے تھے ، کروناا ورگرمی کی شدت میں سینکڑوں موٹرسائیکلوں کا اجتماع تو آپ نے بھی دیکھا ہو گا، پھرا علان ہوا بحران پیدا کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا ۔ دو دن قبل عوام نے دیکھ لیا کہ غبارے سے ہوا نکل گئی اور بحران پیدا کرنے والے ایک ہی لمحے میں سات ارب روپے لے اڑے ۔پنجابی کا ایک محاورہ ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو شخص زبان کا پکا اور لین دین میں شفاف نہ ہو اسے ہرگز آدمی مت گردانیے۔ کیا کیا جائے کہ یہاں وعدوں ، دعووں اورجھوٹ کا ایک طویل سلسلہ ہے ، اگر محض پچھلے پانچ سال کا ریکارڈ جمع کیا جائے تو دس بیس جلدوں پر مشتمل پوری ایک کتاب وجود میں آسکتی ہے ۔ اگر پو لیٹیکل سائنس کا کوئی اسٹوڈنٹ اس پر ورک کرے تو اچھا خاصا تھیسز وجود میں آ سکتا ہے ۔

اور اگر اس کوموضوع کو وسعت دے کر کچھ اور نوجوان بھی اس تھیسز میں شامل ہو جائیں اور حواریوں کے بیانات ، دعووں اور وعدوں کی تفصیلات بھی یکجا ہو جائیں تو یہ تھیسز اگلے الیکشن میں عوام کے لیے گائیڈ لائن ثابت ہو سکتا ہے ۔آپ میانوالی کے نواب آف سبز باغ اور حواریوں کے، پٹرولیم مصنوعات کے متعلق دو سال قبل کے بیانات پڑھ کر دیکھ لیں ، پھر ان کا موازنہ حالیہ بیانات سے کریں ، عبرت اور غیرت کا کوئی پہلو کہیںدکھائی دے تو مجھے بھی مطلع کریں۔ میں اس بے حسی اور مردہ ضمیری سے بھی اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اگر اس سفر میں شریک دانشوروں ، کالم نگاروں اور اینکروں کو بھی تھیسز کا موضو ع بنا لیا جائے اور ان کی دانش کابھی تجزیہ کر لیا جائے ،پھر ان سب تھیسز کے نتائج اور فائنڈنگ کا مؤثرا بلاغ بھی ہو تو آئندہ الیکشنز میں تبدیلی کے اثرات اور اس کی شدت کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے ۔

یاد آیا تین چا ر سال قبل جب اس ملک میں ’’چوروں‘‘ کی حکومت ہوا کرتی تھی، تب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کچھ اس طرح تھیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 43.74ڈالر فی بیرل تھی، تب عوام کو یہ تقریبا چھیاسٹھ روپے فی لیٹر مل رہا تھا ۔ پھر یوں ہوا کہ2018میں بزعم خو د ایمانداروں کی حکومت آئی ، آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 40.85ڈالر فی بیرل ہے جبکہ عوام کو یہ سو روپے فی لیٹر مل رہا ہے ۔ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی کیا اشیائے ضروریہ میں سے کسی کا بھی موازنہ کر لیں ،قرض کے معاملے کو دیکھ لیں ، صرف دو سالوں میں تاریخ کا عظیم قرض لیا گیا، اس پر مستزاد کہ یہ کہیں لگا ہوا دکھائی نہیں دیتا ۔ دل اگر تعصب سے پاک اور عقل ’’سلیم‘‘ کی صفت سے متصف ہے تو اس طرز حکومت کو کسی صورت جواز نہیں بخشا جا سکتا۔

ترجیحات کا غلط تعین اور قوم کی اجتماعی دانش کسی ناجائز شخص پر اجماع کر لے تو قوموں پر ایسے ہی عذاب نازل ہوا کرتے ہیں ۔ یہ محض میرے دیس کا مسئلہ نہیں بلکہ اکسیویں صدی کی انسانیت کا یہ اجتماعی مسئلہ ہے ۔ انسانیت من حیث المجموع غلطی کا شکار ہو ئی ہے ، یہ انسانیت کی اجتماعی لغزش تھی کہ ٹرمپ، نیتن یاہو، مودی اور عمرا ن خان جیسے لوگ منتخب ہو کر منظر عام پر آئے ۔ ان میں سے کوئی سیاسی انتہاپسند ہے تو کوئی مذہبی انتہا پسند ۔ ان کے منتخب ہونے کے بعد انسانیت اپنے خطوں میں مسلسل نبرد آزما ہے اور آخری سسکیاں لے رہی ہے ۔ ٹرمپ نے امریکہ کو انارکی کی طرف دھکیل رکھاہے ،سفید فام اور سیاہ فام کی تفریق بڑھ رہی ہے ،مسلسل بے چینی اور اضطراب ہے جو کسی بھی لمحے انقلاب میں ڈھل سکتا ہے ۔اس انقلاب کابنیادی پتھر ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے بھی خطے کے امن کو داؤ پر لگا رکھا ہے ، حالیہ انتخابات میں ایک معاہدے کے تحت اقتدار نصیب ہوا ، نہ معلوم اگلے سال اس خطے کی قسمت میں کیا لکھا ہے ۔ مودی سر کار کی مذہبی انتہا پسندی کا تو اب زمانہ گواہ ہے ، یہ امر باعث حیرت ہے کہ بھارت جیسے سیکولر ملک میں مودی جیسے کم ظرف کو چنا گیا ، اسی لاکھ کشمیری اور کروڑوں ہندوستانی مسلمان اس کے زیر عتاب ہیں ۔ کیا اہل بھارت کو احساس ہے کہ انہوں نے ایک کم ظرف اور نیچ انسان کو منتخب کر کے انسانیت کو خطرے کے کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔یہ شخص بیک وقت پاکستان ، چین اور نیپال سے نبرز آزما ہے ، یہ مسلسل سرحدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور سفارتی آداب کو روند رہا ہے،یہ شخص تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا اکیلا ایک انسان اس زمینی سیارے پر فساد اور انسانیت کی تباہی کے لیے کافی ثابت ہو سکتا ہے ۔

رہے میانوالی کے نواب آف سبز باغ توترجیحات کے غلط تعین اور ہماری اجتماعی دانش نے جس میں عسکری دانش کا پلڑا بھاری ہے ، اس شخص کو منتخب کر کے اس قوم کے ساتھ زیادتی کی ۔ پچھلے دس سالوں سے اس قوم کے دانشوروں نے،اس شخص کی محبت میں کرپشن کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ڈکلیئر کیے رکھا۔سیاسی استحکام،امن و امان، روزگار اور معاشی استحکام، کسی نے ان پہلوؤں کو درخور اعتناء نہیں جانا ۔سارے جمہوری نظام اور اقدار کو تہس نہس کرنے کے بعد جب یہ شخص منزل مراد کو پہنچا تو آنکھیں کھلی کہ اب تک غلط جگہوں پر توانائیاں صرف کی جاتی رہیں۔ کرپشن ختم تو کیا ہوتی بتدریج بڑھتی رہی ، معیشت کا پہیا جام ہو ا، بے روزگاری بے لگام ہوئی اور رہا سیاسی استحکام تو آج یہ قوم شب و روز بحرانوں کی زد میں ہے ۔ کبھی آٹے کا بحران تو کبھی چینی کا ، کبھی پٹرول کی قلت تو کبھی اشیائے ضروریہ ناپید ۔جب اصل مسائل کو پوسٹ ٹروتھ کا سہار ا لے کر پس منظر میں دھکیل دیا جائے اور اجتماعی دانش اس کی نگہبان ہو تو یہی تماشا ہوتا ہے جو اس ملک میں ہو رہا ہے،شاید اب عوام یوٹرن لینا چاہتے ہیں مگراب صبر کہ جبر کے ایام ابھی باقی ہیں ۔

انیس سو پچاس کی دہائی میں چین میں ماؤزے تنگ نے ترقی کی جانب عظیم چھلانگ( Great Leap Forward) کا نعرہ لگایا تھا ، یہ اپنے عہد کا مقبول ترین نعرہ تھا ، مگر یہ نعرہ کروڑوں چینیوں کو موت کے منہ میںد ھکیل گیا ۔آج یہ عوام بھی’’ تبدیلی‘‘ کے نعروں کی زد میں ہے ، پچھلے دس سالوں سے سب سے مقبول نعرہ تبدیلی ہے ،مگر مجھے ڈر ہے کہ اس نعرے کی کوکھ سے کوئی تباہ کن بحران نہ جنم لے۔کیا سماج میں کوئی بھی ایسارجل رشید نہیں جو آگے بڑھ کر تبدیلی کے اس نعرے کی سطحیت کو بے نقاب کر ے۔