بیگم و سیّد منورحسن بےمثال جوڑا - شاذیہ عبدالقادر

لاہور میں 2001 کی مرکزی شوریٰ ہے۔۔شادی کے بعد نئی نئی امیدوار رکن جماعت اسلامی بنی تھی ۔ خواتین کی جانب آپا جی مسعودہ افضل مرحومہ نے ڈیوٹی کے لئے مرکز خواتین بلایا سابق ایم این اے اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین محترمہ عائشہ منور آپا جان سے ملاقات کروائی۔اپنے مخصوص انداز میں آپا جی مسعودہ نے تعارف کروایا یہ نئی دلہن آئی ہے ہمارے سرکل اقبال ٹاؤن میں۔ رکن جمعیت ہے۔

آپاجان کو جب معلوم ہوا کہ میں مدینہ منورہ کے محترم قاری عبدالحنان حامد کی بہو ہوں تو عائشہ آپا نے فرط جذبات سے دوبارہ گلے لگایا۔۔۔۔ارے قاری بھائی صاحب کے ہاں مدینہ تومنورصاحب ضرور جاتے ہیں اور سلمیٰ بھابھی کی ذائقہ دار پرتکلف دعوتیں بھی یاد ہیں۔ میرے سسرابوجی سید منورحسن صاحب سے بےپناہ عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔۔ساس امی جی بھی عائشہ آپا کے بارے بتایا کرتیں کہ حج عمرے دوران مدینہ میں خواتین کے اجتماعات منعقد کروانا۔۔ملاقاتیں اور زیارتیں ۔۔۔۔کیا بےلوث دوستیاں تھیں ۔ سبحان اللہ

عائشہ آپا نے بتایا کہ حافظ حسین احمد کی نعتیں اور ترانے ہمارے گھر خوب چلتے ہیں۔میں رکن جمعیت کے دور مَیں کئی بار مختلف پروگرامات میں آپا جان سے مل چکی تھی ان کی محبت اور شفقت ہمیشہ سے ایسی ہی تھی ۔کبھی ریلیوں میں۔۔کبھی جلسوں میں۔۔۔اجتماعات عام میں ۔۔کبھی جمعیت طالبات اجلاس و پروگرامات میں۔۔۔۔کبھی یونہی مرکز خواتین منصورہ میں۔ میں نے آپا جان کو گھر آنے کی دعوت دی تو آپا جان نے کہا بھئی ہمیں حافظ حسین احمد کی وہ نعت سنواؤ گی تو آئیں گے"کہاں میں کہاں مدح ذات گرامی ۔۔۔نہ سعدی نہ رومی نہ قدسی نہ جامی"
بھئی یہ سیّد صاحب کو بہت پسند ہے۔میں جانتی تھی کہ آپا جان کا شیڈول اتنا بزی ہوتا ہے وہ دعوتیں کھانے کا متحمل نہیں ہوتا ۔۔۔اجلاس شوریٰ کے وقفے میں لاہور کی ارکان ،کارکنان بہنوں کی عیادتیں، کسی کی خوشی تو اسے تحائف دینے ۔۔۔۔کسے کے غم گزرا تو اسے ڈھارس دینے۔

عائشہ آپا نے صرف نعت نبیۖ سننے کے شوق میں حامی بھری تھی۔ اور یوں آپا جان، کلثوم رانجھا باجی و دیگر شاید دو باجیاں تھیں، شوریٰ کے کسی وقفے میں ہمارے گھر آئیں کھانے کے بعد دیور بھائی حافظ حسین احمد نے ڈرائنگ روم کے دروازے پر بیٹھ کر نعتیں سنائیں اور ایک حسین یادگار بن گئی۔آپاجان ہر ایک سے ایسے ملتیں ہیں۔۔۔۔انکی مسکراہٹ اور انکی ملنسار شخصیت اپنے آپ میں ایک مثال ہے اسکی گواہی مختلف جماعتوں کی انکی ساتھی پارلیمنٹرینز سے سنی بھی ہے اور آج بھی وہ لوگ دیں گی۔سیّد منورحسن صاحب ایک تاریخی ،مثالی شخصیت ہیں
میں یہ کہتی ہوں کہ یہ جوڑا آج کے دور میں قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرتا ایک مثالی جوڑا ہے ۔ایم این اے یا حلقہ خواتین کی جنرل سیکرٹری رہیں تو اس کی وجہ ان کا سیّد منور حسن صاحب کی بیوی ہونا ہرگز نہ تھا۔انکی قائدانہ صلاحیت کی بدولت اراکین جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے خود انتخاب کیا۔

اور پارلیمنٹ میں پاکستان خواتین کے حقیقی مسائل اٹھانے میں کردار ادا کیا بلکہ دیگر سیاسی پارٹیز کی خواتین کو بھی ٹھوس کام پر متوجہ کیا۔اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ بل پیش کئے جنکی کتابی دستاویز بھی موجود ہے۔دنیائے اسلام میں مسلم ویمن آرگنائزیشنز ساتھ کوآرڈینشن ۔۔۔۔۔ملک بھر میں جماعت خواتین کے کام کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی میں کون سا علاقہ ہوگا جہاں عائشہ آپا کے قدم نہ ہونگے۔۔۔۔یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے گڑھ میں جاکر کام کیا۔میں نے ہمیشہ سیّد منور حسن صاحب کے نام پر عائشہ آپا جان کے چہرے کے خوبصورت حیادار رنگ دیکھے ہیں۔انکی آنکھوں میں لگا کاجل۔۔۔۔ہلکا سا مسکارا۔۔۔۔۔اور لپ اسٹک۔۔۔کانوں میں بندوں کے ساتھ لگے موتیے کے پھول یا ہاتھ میں کھنکھتی چوڑیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں انکے پرنور چہرے و شخصیت کو باغ و بہار بناتی وہیں جب منور صاحب کا حال پوچھنے پر انکے چہرے کے رنگ بکھرتے تو خوشگوار و پرسکون ازدواجی زندگی مزید کوئی ثبوت نہیں چاہئے ہوتا تھا
اور اتنی بڑی شخصیت کی بیوی۔۔۔۔جو خود ایم این اے رہیں تو سونے سے بھرا ہونا چاہئے تھا۔۔ کوئی ہیرے کی انگوٹھیاں۔۔۔۔کوئی کنالوں کی کوٹھیاں۔

لیکن یہ کیا چند مرلے کا کراچی کے عام سے علاقے حسن اسکوائر میں گھر۔۔۔۔اور لاہور کا ایک کمرہ جہاں منورحسن صاحب رہے یا پھر مرکز خواتین کا ایک کمرہ جو تنظیمی امور کے لئے مختص تھا۔2013 کے بعد جب سے منور حسن صاحب کی طبیعت خراب رہنے لگی تو وہ مسکراتے رنگ پریشان ہونے لگے تھے۔۔۔کاجل پھیلا پھیلا رہنے لگا تھا۔۔۔آنکھوں میں ایک درد ابھرنے لگا تھا۔ساتھ ہی اللہ پر کامل بھروسے اور یقین کے ساتھ ایک اعتماد ابھرتا کہ اللہ صحت دے گا۔میں سوچتی ہوں کہ اپنی ناسازی صحت ۔۔۔۔ بزرگی۔۔۔۔کے باوجود عائشہ آپا جان جس محبوب شوہر۔۔۔۔رہنما۔۔۔۔دمساز و ہمساز ساتھی کے ذکر پر کھکھلا اٹھتی تھیں۔۔۔۔۔انکی بیماری کے باوجود خود کو کمال ہمت سے سنبھالا ہوا تھا۔آج میری عائشہ آپا کیا محسوس کررہی ہونگی۔۔۔۔تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔میرا دل کرتا ہے میں جاکر انکے قدموں میں بیٹھ جاؤں انکی گود میں سر رکھ کر خوب روؤں۔۔۔۔۔آپا جان آپ ہمت والی ہیں آپ ہمارے لئے سیدی مرشدی کا عکس ہیں ۔۔۔۔ ہمیں آپ کی اب پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

ایسے عظیم شوہر کی بیوی ہونا ۔۔۔۔قدم قدم ساتھ ملا کر چلنا۔۔۔۔۔شوہر کی گھریلو ذمہ داریوں کو بھی ادا کرنا۔۔۔۔بچوں کو قابل اور نیک انسان بنانا کہ جن کے قصے میں یہ تو عام بات ہے کہ شادی میں موصول قیمتی تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کروادئیے کہ یہ تحفے سید منور حسن و عائشہ منور کے بچوں کو نہیں جماعتی عہدیداران کے بچوں کو ملے ہیں تو اس کا حق جماعت اسلامی کا ہےاور بچوں نے سرتسلیم خم کردیا ۔عائشہ آپا۔۔۔۔ہم بہت کمزور ہیں آپ نے جومثال وفاداری و قربانی و ایثار قائم کرکے لطف اٹھایا ہے اللہ ہمیں بھی توفیق دے لیکن زمانہ گواہ ہے کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آپ سے شناسائی کے پچیس سال سے میں نے آپ کے چہرے پر سیدی مرشدی کے نام پر محبت اور حیا کے جو مسکراتے رنگ دیکھے ہیں۔مجھے یقین ہے ایسے بےمثال ساتھی کی اس عارضی جدائی کے بعد بھی آپ کمال صبر سے فرط محبت اور طمانیت قلب کے ساتھ اس کا سامنا کررہی ہونگی ۔کیونکہ آپ دونوں نے ایک دوسرے کا حق اللہ کے راستے میں ۔۔۔اقامت دین میں جان و مال صلاحیتوں اور پوری قوتوں سے ادا کیا ہےہم جیسے مفلسوں کو آپ کی ضرورت ہے ہم آپ کو دیکھ کر تو حوصلہ کریں گے ۔۔۔۔۔ورنہ دکھ ہم سے سنبھالا نہیں جائے گا قابل رشک ہیں آپ ۔ ۔قابل تقلید ہیں آپ۔اللہ آپ کو صحت سلامتی عافیت سکون قلب عطا فرمائے آمین