نیا پاکستان بمقابلہ پرانا پاکستان (نیا ایڈیشن) - سلمان ا سلم

عہد حاضر کا بھی کیا ہی عجیب نظام ہے ادھر دل میں کوئی بات آئی ادھر سیکنڈز کے دورانیے میں پوری دنیا کی مسافت طے ہوجاتی ہے۔ کل میں نے دیوٹی آف کی تو واٹس اپ آون کر لیا۔ اک کزن نے پاکستان سے میسج شیر کیا جو کسی نیوز ویب ہیج کا سکرین شاٹ تھا۔ خبر کی سرخی تھی۔"9 پائلٹوں نے انکشاف کیا کہ ہماری جگہ امتحان کسی اور نے دیا۔ غلام سرور۔"جناب اسلم رئیسانی کی بات اب نہ چاہتے ہوئے بھی بہر حال ماننی پڑے گی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو ہا جعلی۔

میں نے خان صاحب کے اقتدار کے شروع ہونے سے پہلے ہی اک کالم (پرانا پاکستان بمقابلہ نیا پاکستان) میں کچھ بنیادی نقاط کو سامنے رکھ کر یہ واضح کیا تھا کہ خان صاحب ہمیں نئے پاکستان کے مقابلے میں پرانا پاکستان کیوں چاہیے۔ اب نئے پاکستان پہ بات کرنے کے لیے ہمیں پہلے پورے معاملیکو حضرات آدم کی پیدائش کی کہانی سے لے کر اب تک کی انسانی زندگی کو دیکھ کر سمجھنی ہوگی۔ کیونکہ جیسے انسانی زندگی ابتداء سے جن مراحل، جن تکالیفوں اور ہزیمتوں سے گزری ہے بعین ہی پاکستان کا وجود میں آنا بھی اسی طرح کے ہزار قربانیوں اور تکالیفوں سے گزرنا پڑا ہے۔

حضرت انسان آج زندگی کے جس عروج پہ پہنچا ہے کون جانتا تھا کہ یہ ابن آدم اک دن ستاروں پہ کمند ڈال لے گا؟ یہ وہی حضرت انسان تھا جو پتوں سے اپنا جسم ڈھانپتا تھا، جنگلی اناج سے اپنا پیٹ پالتا تھا اور کھلے آسمان تلے اپنی زندگی کا گزر بسر کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ابن آدم نے مکڑی کے جال بننے سے وجود کو ڈھانپنے کے لیے کپڑا بننا سیکھ لیا، چیونٹیوں کی نقل میں غاروں کے اندر اپنا مسکن بنانا شروع کردیا۔ اور یوں بالآخر کھیتی باڑی کا ہنر بھی سیکھ کر اپنا باقاعدہ تمدنی زندگی کا آغاز کر دیا۔ لیکن یہ سب کچھ انا فنا میں تو نہیں ہوا یقینا ابن آدم کو یہاں تک کا سفر طے کرنے کے لیے صدیوں کی مسافت اور ہزیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تمدن کے اس سفر کے ہر دور میں "عروج نو" کی خاطر ابن آدم کئی انقلابوں کے طوفانوں سے لڑکر گزرا۔ آج ابن آدم اس قابل ہوچکا ہے کہ روبورٹ جیسی ٹیکنالوجی کی مدد سے کئی انسانی حصلتوں کے موافق مشین تک بنا ڈالی۔ انسان آج عروج کے ایسے نہج پہ آپہنچا ہے جہاں پلک جپھکتے ہی خبر دنیا کے اک سرے سے سات سمندر پار دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہے اور صدیوں پہلے گرد آلود سفر کو ہوا کے دوش ایسے آلات آمدورفت سے کرنا شروع کیا کہ جس کا تصور بھی صدیوں پہلے ناممکن لگتا تھا۔

یوں پاکستان کے وجود پہ اگر نظر ڈالیں تو وطن عزیز برصغیر پاک وہند کا اک جڑا ہوا خط تھا۔ صدیوں سے زندگی آباد تھی وقت کی چکی کے ساتھ دولت اور جمہور عام کی ریل پیل تھی۔ تب اس خطے کو ایسے ملک کے نام اور شان سے (بنام پاکستان) الگ ہونے کا تصور تک ناممکن تھا۔ لاکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ جمہور پاک وہند کے اپنے کرتوتوں نے اس خطے کو تقسیم کردیا اور تب ہمارے قائد اس عظیم خطے کو، وطن عزیز کے اس مبارک ٹکرے کو پاکستان کے نام سے الگ حاصل کرنے کے لیے لامحالہ اور ان گنت قربانیوں، بے شمار مشکلات سے گزرنا پڑا۔ ہر نفس اتنی بڑی قربانی اور کسمپرسی کی حالت میں بھی آزادی کے سانسوں کی خوشبو سے مسحور ہو رہا تھا۔ ہر نفس اپنے جانوں کے نذارنے اپنے آنے والے نئی نسل کی خاطر بخوشی پیش کرتے رہے۔ تب یہ نومولود پاکستان یعنی نیا پاکستان بھی کہہ سکتے ہیں، تھا۔ لاکن دوسرے دن ہی نومولود وطن عزیز کے وجود کو ختم کرنے اور کھوکھلا کرنے والے ناسور اور سورماوں نے (عبداللہ بن ابئ کی مانند مسلمانی اور پاکستانی لبادہ اوڑ کر) سراٹھانا شروع کردیا۔ اور شروع ہی میں کہ ابھی وطن عزیز نے سکھ کے چند سانسیں لینے کی طرف بڑھا ہوگا کہ بس پھر نہ مولوی کی زبان کو لگام رہا اور نہ الحاد پرست سیاسی غداروں کو چین آیا۔

کسی نے کہا کہ شکر ہے میں پاکستان بننے کے گناہ میں شامل نہیں ہوا، تو کسی نے باقاعدہ گاندھی گیری کی تحریک کو دل سے لبیک کہتے ہوئے سیاست میں اکھنڈ بھارت کے مشن کا دانستہ یا نا دانستہ طور پر شامل ہوگیا، اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہا۔ پاکستان اس کرہ ارض پہ وہ واحد ملک ہے جس کو ختم کرنے کے لیے ہر نفس نے (سیاستدان، فوجی، بیوروکریٹ، تاجر اور عام شہری) اپنی بساط بھر ایڑھی چوٹی کا زور لگایا مگر صد الحمد للہ وہ ناکام ہی رہے اور تاحیات رہیں گے۔ کیونکہ کلمہ طیبہ کے جھنڈے تلے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو جانشینوں نے اسلام کی سربلندی کے لیے علم پاکستان کو گاڑنے کی بنیادیں قائم کیں تھیں جس کو دنیا کی کوئی طاقت کھوکھلا نہیں کرسکتی ان شائاللہ۔ یوں ہر نئے دور میں اک نیا فرعون اس نومولود پاکستان ہے تحت اقتدار پہ براجمان رہا، اور ہر فرعون کے لیے اللہ موسی بھی بھیجتا رہا مگر اس عظیم وطن کے امتحانات ختم نہیں ہوئے۔ کیونکہ مقصد جتنا عظیم ہوگا امتحان اور آزمائش بھی اتنی ہی کھٹن اور سخت ہوگی۔

پھر ماضی قریب سے پاکستان تحریک انصاف کی اک نئی، انوکھی اور زودار ہوا آئی یوں چند جلسوں میں معلوم ہوا کہ 70 سال پہلے شہیدوں کے خوں سے رنگا ہوا پاکستان پرانا ہوچکا ہے اور اب نئے پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی ہے۔ اک طور سے یہ بات تو موذوں لگتی ہے کہ پچھلے 70 سالوں میں ہر پارٹی، ہر سیاست دان نے اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے پاکستان کے عزت کا ہر طور سے سودا کیا جاتا رہا۔ سیاستدانوں نے اپنی تجارت کی خاطر وطن عزیز کے دامن عزت کو بیچنا چاہا، تو کہیں پہ فوجی گدوں نے اپنی مردار خوری کو بحال رکھنے کے لیے اغیار کو گھر بلا کر عزتیں پامال کرنے کی اجازت دی۔ اور کوئی تو اس ملک سے نفرت اور اغیار سے محبت میں اس حد تک آگے بڑھے کہ مرنے کے بعد وصیت خاص کے ساتھ پاکستان میں تدفین قبول بھی نہ کی۔ لیکن الحمد للہ صد الحمد للہ وطن عزیز کی خاک آج بھی ان عظیم شہدا کے لہو سے پر نور اور مسرور ہے۔ یہ تو شکر ہے اللہ نے ایسے پلید اور ناپاک جسود (غداران ملت) کو وطن عزیز سے باہر پھینک دیا۔

خان صاحب کے اس نعرے میں بظاہر کافی دم محسوس ہوتا رہا اور لوگوں کی ٹھیک ٹھاک توجہ بھی حاصل ہوتی رہی اور نئے پاکستان کی اوور ہر کوئی اس کے قافلے میں شامل ہوا۔ یہ قافلہ بھی نومولود پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کی مانند تھا، وہاں بھی نفوس پرانے پٹھے پرانے کپڑوں میں عازم سفر ہوئے تھے اور خان صاحب کے قافلے میں بھی ننگے اور آدھے ادھورے کپڑوں میں مخلوط جمہور شامل ہوتی رہی۔ بس فرق یہ تھا کہ نومولود پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کے دل نور ایمان سے منور تھے اور نئے پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کے دل ساز و سرور سے مست قلندر تھے۔ مگر مقصد دونوں کا بظاہر اک تھا یعنی نئے وطن کی طرف ہجرت۔ کیونکہ نومولود وطن کی طرف ہجرت کرنے والے برٹش انڈیا سے تنگ آچکے تھے اور پرانے پاکستان میں اب لوگوں کا پرانے نظام حکومت سے دم گھٹنے لگا تھا۔ خان صاحب کے اس نئے پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کے امراء اوائل میں کافی مستعد اور متاثرکن دکھائئ دیتے رہے۔ معترضین نے بہت سارے اعتراض اٹھائے، لاکن خان صاحب آگے بڑھتے رہے اور عوام کندھے سے کندھا ملا کے کھڑی ہوتی رہی۔ مگر خان صاحب کی ٹیم میں نسلی غدار، نسلی نااہل، اور نسلی چور جو پشت درپشت چلے آرہے ہیں، بھی موجود رہے۔ کسی نے کیا خوب صدا لگائی کہ ہمیں نیا پاکستان نہیں وہی پرانا پاکستان چاہئے خان صاحب!!!۔ تب وہ بات نامعقول معلوم ہوئی مگر آج کہتا ہوں وہ صاحب درست تھے ہمیں نیا پاکستان نہیں پرانا پاکستان چاہئے۔ کیوں؟

پاکستان ائیر لائن (پی آئی آے) کا رمضان میں پیش آنے والے واقعے نے ہر اک آنکھ کو آبدیدہ کر دیا،دلوں کو خون آلودہ کر دیا۔ حادثات ہر جگہ پیش آتے ہیں، ملک ہو یا انسانی زندگی ہو حادثات ان کا حصہ ہوتی ہے اور یہ قدرت کا اک نظام دنیا ہے جو چلانے کے لیے قائم کیا ہوا ہے۔ حادثات سے کچھ چیزیں اور نفوس ختم ہوجاتی ہیں تو کئ اور چیزیں اور نفوس جنم بھی لیتی ہیں۔ لیکن تحقیقاتی رپورٹ کے بعد دل کے بھبولے پھٹ پڑے۔ یعنی پاکستان میں کوئی اک جگہ اک ڈیپارٹمنٹ ایسا نہیں جہاں انسانی زندگی کے ساتھ درندگی حدیں پار کر کھیلا نہ جا رہا ہو۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عہد حاضر میں کرہ ارض پہ پاکستاں شائد وہ ملک ہوگا جہاں انسانی زندگی کی نہ کوئی قدر و قیمت ہے اور نہ وقعت۔ اور یقینا یہ الزام روایتا پچھلی حکومتوں پہ ہی جائے گی۔ لیکن کیا نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والوں نے کبھی اک بار بھی پرانے پاکستان (1990 تک) میں جھانک کر دیکھا کہ پرانے پاکستان کی کیا شان تھی؟ پرانے پاکستان میں شائد ہی اس نوعیت کا کبھی کوئی واقعہ پیش آیا ہو، کہ پائلٹ جعلی ڈگریاں لے کے جہاز آڑاتے رہے ہوں یعنی سیدھا سیدھا انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کے پیسے لیتے ہوں جیسے کرائے کے قاتل کرتے ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں یہ کہ پاکستان میں اب پائلٹ کرائے کے قاتلوں کی نئی ورژن ہے جو جعلی ڈگری سے پروفیشنل قاتل بن گئے ہیں۔ پی آئی آے کی تاریخ میں اب تک کل 18 بڑے حادثے پیش ائے ہیں سب سے پہلا حادثہ 1965 کوپیش آیا تھا۔ لیکن اب تک ان تمام حادثوں میں کہیں بھی آپ کو جعلی پائلٹ نظر نہیں ائیں گے۔ مگر نئے پاکستان میں اب نئے پائلٹ بھی نمودار ہوئے جو جعلی لائسنس اور ڈگری لے کے ہوابازیاں کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ ظاہر سی بات ہے ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی۔

پرانے پاکستان میں پی آئی آے کی جو شان تھی وہ پوری دنیا میں اعلی اور شاندار تھی۔ لاکن کرائے کے ان نئے قاتلوں (پائلٹوں) نے اس عزت کی رہی سہی دھجیاں بھی بکھیر دی۔
1946 میں اوریئنٹ ائرلائن برٹش راج میں پہلی مسلم ائرلائن تھی جو محمد علی جناح کے درخواست پہ محترم مرزا احمد اسپہانی اور آدم جی حاجی داوود نے بنائی تھی۔ پھر آزادی کے بعد 1955 میں اورئینٹ آئرلائن کو پاکستان ائرلائن میں ضم کردیا گیا۔ پرانے پاکستان میں پی آئی آے کی شان ملاحظہ تو کریں! پی آئی اے بوئنگ 707 کو 7 مارچ 1960 کو تجارتی خدمات میں شامل کرنے کے ساتھ جیٹ طیارے چلانے والی پہلی ایشین ایئر لائن بن گئی۔ تجارتی ہوائی جہاز کے ذریعے دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ پرواز مکمل کرنے کے لئے 10 نومبر 2005 کو بوئنگ 777-200LR کا استعمال کیا۔ یہ پرواز ہانگ کانگ اور لندن کے مابین مشرق کے راستے پر 22 گھنٹے 22 منٹ تک جاری رہی۔ اور یہی نہیں پرانے پاکستان میں پی آئی آے اس پائے کی آئرلائن تھی کہ عہد حاضر میں دنیا کی بہترین ائرلائن ایمرٹس آئرلائن کی بنانے میں نہ صرف کلیدی کردار ادا کیا بلکہ سٹاف ٹریننگ کے لیے پی آئی آے کی خدمات بھی ان کو حاصل ہوتی رہیں۔ یہ تھی پرانے پاکستان میں پی آئی اے کی شان اور عظمت مگر افسوس صد افسوس اب نئے پاکستان میں پی آئی اے کی عزت کو جعلی ڈگری اور لائنسنسوں والے پائلٹس (کرائے کے قاتلوں) نے پامال کرکے تار تار کر چکے۔

میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ خان صاحب کے ہی دور میں یہ سب ہوا یقینا یہ لوگ پچھلے دور حکومت کی کارستانیاں ہیں۔ جتنا نقصان مشرف، نواز شریف اور زرداری نیاس وطن عزیز کوپہنچایا (اللہ اس سے ہزار گناہ ان کی قبروں کو دوزخ کا ٹھکانا بنادے (آمین)) شائد ہی کسی اور کے دور حکومت میں پاکستان کی ساکھ اتنی پامال ہوئی ہو۔ مگر خان صاحب نے اول تو نعرہ لگایا نئے پاکستان کا اور پھر ٹیم انہی میں سے بنائی جن کے ہاتھ پرانے پاکستان کے قتل کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ خان صاحب یہ سورمائیں (مادر پدر غدار اور منافق) نہ صرف اپکے نئے پاکستان کا بلکہ آپ کا بھی خون کردینگے۔۔۔۔ یاد رکھیں۔ پاکستان کہ عزت اور مقصد آزادی کی بحالی نئے پاکستان بنانے میں نہیں بلکہ "خلافت پاکستان" میں مضمر ہے۔ ورنہ خدانخواستہ صد خدا نخواستہ وہ دن دور نہیں کہ آپ اپنے ہی نئے پاکستان کے خواب کے قبر پہ اپنے ٹیم کو ناچتے ہوئے دیکھیں گیں۔ رب جلیل وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔۔۔۔ آمین ثم آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */