غیر ملکی درخت ہمارے ماحول دوست یادشمن - قدسیہ ملک

فروری سے پانی نہیں آرہا ۔ٹینکر پر ٹینکر ڈلوارہے ہیں۔ واٹر بورڈوالوں کو فون پر فون کررہے ہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔کوئی پرسان حال نہیں۔لوڈشیڈینگ کے لئے جنریٹر لگوالیا۔پینے کا صاف پانی واٹر فلٹر پلانٹ سے آرہاہے۔استعمال کےپانی کےلئے ٹینکرڈلوارہے ہیں۔ٹینکر والوں کے نخرے برداشت کررہے ہیں۔اور پھر ایسا نہیں ہے کہ بل کم آرہاہو۔پچھلے سالوں کی بنسبت اس سال دوگناہ بل پانی بجلی اور گیس کی مدوں میں آرہاہے۔

وہ بھی بھررہے ہیں۔سڑکوں پر پانی کی لائنیں پھٹی پڑی ہیں۔صاف پانی سڑکوں پر بہہ رہاہے اور اہل محلہ پانی سے محروم ہیں۔ لیکن آخرکب تک۔بالآخروہی اٹھے جنھوں نے اس خاموش عوام کی مدد کے لئے ہر گروہ ہرتعصب،ہر نسلی علاقائی امتیازات سے پاک ہوکر اپنے اپنے علاقوں میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔اس علاقے میں بھی ایسے ہی ایک صاحب نے اپنے نفع نقصان کی سوچ سے بالاتر ہوکر تمام محلے والوں کا بھلا سوچتے ہوئےیہ سارے معاملات خود ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔محلے میں کمیٹی بنائی۔خود آگے بڑھے۔

اپنے خرچے پر تمام افراد سے محضر نامے بنواکر دستخط لئے مبادا شہری حکومت کا کوئی کارندہ اس مقصد کو تہہ تیغ نہ کرنے آئے۔پانی کی لائنوں کی کھدائی شروع کروائی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے کھدائی کے دوران حیرت انگیز انکشافات ہونا شروع ہوئے۔پانی کی لائنوں میں کئی کئی فٹ کی موٹی موٹی جڑیں نکل رہی تھی جو پانی تو کیا ہوا تک نکلنے کی راہ میں بڑی بری طرح حائل تھیں۔ان 50سالوں میں انہوں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ جڑیں اتنی خطرناک حد تک بڑھیں ہوں کہ پانی کی موٹی موٹی لائینوں تک کا راستہ روک لیں۔خیر کئی دن کی محنت رنگ لائی لائنوں کو ان اژدھے نما خطرناک جڑوں سے پاک کیا یعنی واٹر بورڈ والوں کاکام بھی اپنی مدد آپ کے تحت کیا۔اور پھر الحمداللہ وقت مقررہ پرپانی کی روانی شروع ہوگئی۔

دنیا میں ایسی سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بظاہر معصوم نظر آنے والے پودے کو کسی نئے خطہ میں منتقل کرنے پر وہاں کے انسانوں اور پودوں کے لیے فساد بن گئیں۔اس کی ایک مثال آسٹریلیا کاLeuca Mela درخت ہے جسے فلوریڈا میں زیر زمین پانی کی سطح کو کم کرنے کے لیے منتقل کیا گیا لیکن اس نے مقامی پودوں میں گھس کر پانچ لاکھ ایکڑ رقبہ کو تباہ کر دیا۔

پاکستان میں متعدد جگہوں پر ایسے درخت جابجا نظر آتے ہیں جنہیں ماحول اور نوع انسانی پر پڑنے والے اثرات کو بلا سوچے سمجھے یہاں لگادیا گیا ہے۔ہمارے ملک میں غیر ملکی پودوں کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب نہیں لیکن ایک اندازہ کے مطابق یہاں 700 سے زائد بدیسی پودوں کی اقسام موجود ہیں جن میں سے کئی اقسام مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔اسلام آباد کو سرسبز بنانے کی غرض سے اس علاقہ میں گل توت لگایا گیا لیکن چند ہی سالوں میں یہ اپنے تیز تر پھیلائو کے باعث مقامی انواع کے لیے خطرہ بن گیا۔پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے مطابق اس خطہ میں الرجی میں مبتلا ہونے والے 45 فیصد افراد گل توت سے ہی متاثر ہوتے ہیں۔

آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ کیکرمقامی درخت نہیں ہے بلکہ اس کا آبائی وطن ویسٹ انڈیز اور میکسکو ہے۔پاکستان میں بغیر کسی تحقیق اور منصوبے کے اس کا فضائی چھڑکائو کیا گیا جس کی وجہ سے ببول، شیشم اور کئی مقامی جڑی بوٹیوں بری طرح متاثر ہوئے۔اسی طرح جنوبی امریکہ سے درآمد شدہ واٹر فرن اور گل بکائولی اپنے جارحانہ پھیلائو اور منفی خواص کے باعث سندھ کے آبی ایکو سسٹم کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بہاول پور میں شجر کاری مہم کو فروغ دیا جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں لگائے جانے والے درخت کونو کارپس کے ہیں۔کراچی اس معاملے میں سب سے زیادہ بدقسمت شہر ہے۔کروڑوں کی آبادی والے شہر سے سوچی سمجھی سازشی منصوبے کے تحت سفیدے،برگد،نیم اور مقامی پھلوں کے درختوں کو بڑی بڑی مشینوں سے کاٹ کر ان کی جگہ کونو کارپس کا ناکام تجربہ کراچی میں سٹی ناظم مصطفی کمال کے دور میں کیا جاچکا ہے۔

جب 25لاکھ کونو کارپس افریقہ سے در آمد کیے گئے۔ یہ درخت کراچی میں پولن الرجی اور دمہ کا باعث بن رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق کونو کارپس ہماری مقامی آب و ہوا کے لیے بالکل بھی مناسب نہیں۔ کونو کارپس د وسرے درختوں کی افزائش پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں جبکہ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔پاکستان کے مختلف شہروں میں سڑکوں کے کناروں پر اس درخت کو تیزی سے کاشت کیا جارہا ہے جو مستقبل میں ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کا باعث بنے گا۔اس سے پہلے سڑکوں اور نہروں کے کناروں پر حکومت کی طرف سے یوکلپٹس اور چائنا پاپولر بے دریغ کاشت کیے جاتے تھے جن کے گرے ہوئے پتوں نے مقامی پودوں کی نشونما کونابود کر دیا۔ماہرین کے مطابق سفیدہ کا درخت چوبیس گھنٹوں میں ساڑھے سترہ لٹر پانی جذب کر کے فضا میں چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے فضا میں نمی کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔

جامعہ کراچی کی طالبہ یمنی جاوید کہتی ہیں دراصل چھوٹے تنے پر مشتمل ایک بڑی جھاڑی ہے۔ اسے’’ Button wood‘‘بھی کہا جاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ درخت، شمالی کیریبئن کوسٹ(North Caribbean Coast) سے تعلق رکھتا ہے۔ کونوکارپس ،مٹّی میں موجود زاید نمکیات، گرد و غبار، پانی کی کمی، بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سمیت دوسرے سخت حالات کو، جو شہری زندگی کا خاصہ ہیں، برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، اسی بنا پر اسے کئی مُمالک نے اپنے بڑے شہروں میں وسیع پیمانے پر لگایا، جن میں خلیجی مُمالک سرِفہرست ہیں۔ پاکستان میں اس درخت کو 2008 ء میں مصطفیٰ کمال کے دَور میں متعارف کروایا گیا۔

اس دَوران شہرِ قائد میں 4.5ملین کونوکارپس لگائے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے پھیلنے والا یہ درخت کراچی کے کئی رہائشی علاقوں اور شاہ راہوں کے اطراف نظر آنے لگا۔ ڈی ایچ اے، کے ڈی اے اور دوسری ہائوسنگ اتھارٹیز سمیت یونی ورسٹی روڈ اور شاہ راہِ فیصل پر اسے بڑے پیمانے پر لگایا گیا۔ تاہم، کراچی میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کے ضمن میں اب یہ درخت بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ماہرین اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد کونوکارپس کو اس خرابی کا ذمّے دار ٹھہرانے پر مُصر ہے، تو بہت سے لوگ ان باتوں کو مبالغہ آرائی قرار دے رہے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اس حوالے سے کچھ حقائق پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں 2008ء میں باہر سے لا کر لگائے گئے اس درخت کو پہلے سے موجود اسپیشیز یوکلپٹس (Eucalyptus)کے نعم البدل کے طور پر لگایا گیا تھا، جسے ماہرین نے ماحول کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ دراصل کونوکارپس اپنی پانی کی ضروریات خود ہی اپنے پیچیدہ اور باریک جڑوں کے نظام سے پوری کرلیتے ہیں کہ اس کی جڑیں کم جگہ میں بھی زمین کے اندر تیزی سے سرایت کر کے زیرِ زمین پانی جذب کر لیتی ہیں اور اسی وجہ سے اُن علاقوں میں موجود دیگر اقسام کے درختوں کے لیے پانی کی شدید کمی واقع ہو جاتی ہے اور نتیجتاً کچھ ہی عرصے بعد وہ درخت سوکھ کے رہ جاتے ہیں۔

صرف یہی نہیں، کونوکارپس کی تیزی سے پھیلنے والی جڑوں کے باعث زیرِ زمین نالیوں اور پائپس کے بچھے جال کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں عمارتوں کی بنیادیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ نیز، کونوکارپس نومبر اور اپریل میں اپنی ری پروڈکشن (Reproduction) کے لیے پولن گرینز (Pollen grains) کا اخراج کرتے ہیں، جو پولن الرجی کا سبب بنتے ہیں۔

ایک قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ اس درخت کے عام ہوتے ہی یہاں کے مقامی پرندے دوسرے علاقوں کی طرف پرواز کر گئے ہیں، کیوں کہ مقامی درخت نہ ہونے کے باعث عمومی طور پر پرندے کونوکارپس پر بسیرا نہیں کرتے۔ اس درخت سے کچھ زہریلے مادّوں کا بھی اخراج ہوتا ہے، جو پرندوں کے ساتھ، انسانوں کے لیے بھی خطرناک ہیں۔

جامعہ کراچی کے ڈاکٹر ظفر اقبال شمس کی International journal of environmentمیں چھپنے والی ریسرچ رپورٹ کے مطابق، کونو کارپس اسپیشیز کے پتّوں کے Extract میں کثیر تعداد میں Phenolic Compoundsپائے جاتے ہیں، جو مکئی اور لوبیا وغیرہ کی پیداوار اور نشوونما کو روکنے کا سبب بنتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق،’’ مقامی درخت نیم، کونوکارپس سے 3گنا زیادہ کاربن جذب کرتا ہے، جس سے واضح طور پر اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ مقامی درخت نہ ہونے کے باعث کثیر تعداد میں کونوکارپس کی افزائش، جو مطلوبہ مقدار میں کاربن جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کراچی کے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کا سبب ہے۔‘‘

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کونوکارپس مکمل طور پر نقصان دہ نہیں۔ رہائشی علاقوں کی بجائے جنگلات میں افزائش کر کے اس کی لکڑی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیز، اس کی Allelopathic خصوصیات کے باعث اسے مختلف پودوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں کے خلاف مؤثر دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا فصلوں کے لیے استعمال ہرگز مناسب نہیں، کیوں کہ یہ انھیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

کونوکارپس کے فوائد اپنی جگہ، لیکن شہری علاقوں میں اس کے سبب ہونے والے نقصانات کو مدّنظر رکھا جائے، تو کراچی میں اس کی کاشت کسی صُورت مناسب قرار نہیں دی جاسکتی۔ ہمیں شہر میں نیم، املی، جامن، برگد، اشوکا، کچنار، چمپا، املتاس اور غیر معمولی خوبیوں کے حامل سوہانجنا (Moringa) کے درختوں کی افزائش کو فروغ دینا چاہیے تاکہ کراچی کے ماحول کو شہریوں اور پرندوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں عوام کو بھی حکومتی اداروںپر تنقید میں مصروف رہنے کی بجائے خود بھی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا حصّہ ڈالنا چاہیے۔

پودا کونو کارپس کراچی میں بڑے پیمانے پر کاشت ہونے کے باعث افواہوں کی زد میں ہے،ڈاو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کہتے ہیں یہ اتنا نقصان دہ پودہ نہی بلکہ یہ پودہ آکسیجن بھی بناتا ہے۔ماہرين کہتے ہیں روزانہ ہزاروں نئی گاڑیوں کا سڑکوں پر آنا اور بلند وبالا عمارتیں گرمی کي شدت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جب کہ نینشل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ کے صدر نعیم قریشی کے مطابق کونو کارپس کے فائدے اور نقصانات دونوں ہیں۔لیکن یہ بات اب مقامی افراد بھی جان چکے ہیں کہ اس پودے کےنقصانات اس کے فائدے پر حاوی ہیں ماحولیاتی ماہرین نے زور دیا کہ شہر میں مقامی انواع کے درخت لگائے جائیں کیونکہ یہ شہر کے ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں۔

کراچی کے مقامی انواع میں املی، پیپل، نیم جس کا گھنا اور فرحت بخش سایہ تپتی دوپہر میں فرحت کا احساس دیتاہے، املتاس پیٹ کے درد کے لئے اس کی پھلے بطور دوا استعمال ہوتی ہے، سوہانجنا جس کی پھلی لوگ دال میں ڈال کر کھاتے ہیں جس کی بہت مزے دار دال بنتی ہے۔ہڈیوں کے مریض اس درخت کے پتے ابال کر پیتےہیں اور شفایاب ہوتے ہیں، چمپا ہےجس میں خوبصورت خوشبووالے پھول ہوتے ہیں جو چہرے کی شادابی بڑھانے کے کام آتے ہیں، برگدکا پر سکون سایہ، لیگنم، آم جسکا پھل بھی مزہ دیتاہے، امرودمزیدار پھل والادرخت ، جنگل جلیبی، مزیدار ۔

اور خون بڑھانے والا پھل چیکو، انسانی ہاضمہ مکمل درست کرنے والا پھل پپیتا اور خوبسورت پھولوں والاگل مہر جسکی تینوں اقسام کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔یہ تمام درخت مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں دل،انسانی جسم اعصابی نظام،نظام تننفس،نظام انہظام،نظام خون،کھال و ہڈیوں کی مضبوطی میں بطور دوا بھی استعمال ہوتے ہیں۔یہ پودے مکمل ماحول دوست بھی ہوتے ہیں۔انسانی جسم اور مقامی چرند پرند پر ان درختوں کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com