بڑی تمکنت سے اہل دل اٹھ کے جا رہے ہیں! - محمد وقاص ڈوگر

کیسا وقت آن پڑا ہے، کوئی دن نہیں جاتا  جب  اہل علم کے  اٹھ جانے  کی خبر  سننے کو نہ ملتی ہو۔علم کی روشنی پھیلاتے، جہالت کی تاریکیاں کم  کرتے اور سماج میں معتدل رویوں کو فروغ دیتے روشنیوں کے شہر کراچی کے مختلف مکاتب فکر کے دو  آفتاب علم غروب ہوچلے ہیں۔

بادہ کش تھے جو پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

مفتی محمد نعیم جدوجہد کا استعارہ تھے جنہوں نے اسی کی دہائی میں کراچی کے نسبتاً غیر آباد علاقے میں قائم ہونے والے  مکتب کو اپنی  لگن وللہیت کی بدولت بہت جلد ملک کا معروف جامعہ بنا ڈالا۔متانت جن کی پہچان اور حلم جن کا وصف تھا۔دینی و سماجی معاملات پہ اپنی رائے کا نہ صرف کھل  کر اظہار کرتے بلکہ اپنے اصولی موقف پر، کسی کی ملامت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے،  جرات کے ساتھ ڈٹ جاتے۔ایسے وقت میں کہ جب ملک میں آئے روز بم دھماکوں اور چن چن کر لوگوں کو پھڑکانا معمول بن گیا تھا تب انہوں نے بے باکی سے ایسے قبیح افعال  کی مخالفت کی اور ڈنکے کی چوٹ پر خود کش بم دھماکوں کو  حرام  کہا۔وطن عزیز میں مسلح جدوجہد کی راہ  چننے والی  کالعدم تحریک طالبان پاکستان(TTP) کےغیر شرعی اقدامات کی بہادری کے ساتھ مخالفت کی۔امن کے داعی مفتی محمد نعیم ہمیشہ جدا نکتہ نظر اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان رواداری  کے فروغ میں کوشاں رہے۔مدارس دینیہ کے موقف کی ہر فورم پر وکالت کی۔الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے سماجی و دینی مباحث میں حصہ لیتے اور اپنا موقف دھیمے لہجے میں دلیل سے پیش کرتے رہے۔ پرنٹ میڈیا پر بھی اشاعت  اسلام کی ذمہ داری نبھاتے رہے ۔ زندگی بھر پڑھنے پڑھانے سے وابستہ رہنے والے مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھے۔قرآن سے جن کی  دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ ملکی و عالمی سطح پر  معروف دینی تعلیمی ادارے کے انتظامی امور  نمٹانے کی مصروفیات کے باوجود سات  جلدوں پر مشتمل کلام اللہ کی تفسیر "روح القرآن" کے نام سے کی۔اس کے علاوہ بھی مختلف دینی موضوعات پر کتب لکھیں۔

نائن الیون کے سانحہ کے بعد مدارس کے باب میں پاکستان کی ریاستی پالیسی بدلی، آمر مشرف نے غیر ملکی طلبہ جو پاکستان کے مختلف مدارس میں علوم نبوت کے موتیوں سے اپنا دامن بھر رہے تھے کے لیے  تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہے۔ایسے کڑے وقت میں مضبوط اعصاب کے مالک مفتی محمد نعیم نے پردیسی طلبہ  کے تعلیمی حقوق کی  آئینی و قانونی جنگ لڑی۔جامعہ بنوریہ عالمیہ نے ایسے طلبہ واسطے اپنے دَر وا کر کے انہیں اپنی آغوش میں پناہ دی۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت قریب پچاس  مختلف  ممالک کے لگ بھگ سات سو کے قریب طلبہ مذکورہ ادارے  سے  علم نبوت کے صافی چشمے سے اپنی تشنگی بجھا رہے ہیں۔جبکہ تعلیم سے فراغت پا جانے والے  سیکڑوں طلبہ اپنے اپنے ملکوں میں دین اسلام کی شمع جلانے میں مصروف کار ہیں۔

مفتی صاحب کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ بھی تھا  کہ وہ نو مسلموں کے واسطے شجر سایہ دار تھے۔پارسی مذہب سے دین اسلام  کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے مسلمان ہو جانے والے خاندان کی تیسری نسل کے چشم و چراغ مفتی محمد نعیم نومسلموں کی نہ صرف دلجوئی کرتے بلکہ معاشی انتظام میں مدد بھی کرتے اور قانونی معاملات میں سرپرستی بھی فرماتے۔ اسلام کی ترویج و اشاعت میں اپنی زندگی کھپا دینے اور درد دل رکھنے والے  مفتی محمد نعیم  عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔سنیچر(ہفتہ) کے روز طویل علالت کے بعد راہی ملک عدم ہوئے۔

ابھی مفتی محمد نعیم کے  انتقال کا دکھ کم نہ ہوا تھا کہ علامہ طالب جوہری کی رحلت کی  خبر آن پہنچی۔اپنے جدا اسلوب خطابت کے باعث جنہوں نے شہرت پائی۔اچھوتے موضوعات کو اپنی خطابت کا عنوان بناتے۔قوت بیان اور زور خطابت سے آیات کلام اللہ کی  تشریح کرتے سمے ایسی نکتہ آفرینی کرتے کہ مجمع اش اش کر اٹھتا۔کلام اللہ سے جنہیں عشق تھا۔ کہا کرتے تھے کہ:"قرآن تمہارے باپ سے زیادہ شفیق اور ماں سے زیادہ ممتا والی کتاب ہے۔ " مذہبی اختلافی مسائل کی الجھی گتھی اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز سے یوں سلجھاتے کہ مجمع داد ہی دیتا رہ جاتا۔علامہ کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ماننا ہو گا کہ دلیل کی قو ت سے وہ اپنی بات کہنے میں طاق  تھے۔پاکستان ٹیلی ویژن پر اسی نوے کی دہائی میں" فہم القرآن" نامی پروگرام کرتے رہے ۔نشتر پارک کراچی میں کربلا کے واقعہ کی مناسبت سے  عرصہ دراز تک مجلس شام غریباں پڑھتے رہے۔بعد ازاں اس کئی برس تک پی ٹی وی پر محرم کے مہینے میں مجلس شام غریباں پڑھتےر،جنہیں سنی شیعہ ہر دو  مکاتب فکر میں دلچسپی سے سنا جاتا رہا۔

علامہ طالب جوہری فقط شیعہ عالم، مجالس  پڑھنے والے ذاکر اور نقطہ داں خطیب ہی نہ تھے بلکہ اردو ادب کے بلند پایہ  شاعر  بھی تھے۔شاعری پر طبع آزمائی کرتے تین کتب "حرف نمو"، "پس آفاق" اور  "شاخ صدا" منظر عام پر لے آئے۔ کلام اللہ کی تفسیر "احسن حدیث" کے نام سے کی۔فلسفہ پر "عقلیات معاصر" نامی کتاب لکھنے کے علاوہ مختلف مذہبی موضوعات کو بھی قلم کا عنوان بنایا۔سرکار نے ان کی خدمات کے عوض دو ہزار دس میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔

صحافی سید عدنان کریمی نے انٹرویو لیتے استفسار کیا کہ:" شیعہ سُنّی اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا بین المسالک تنازعات کا خاتمہ ممکن ہے؟ علامہ کی انگلیاں تسبیح کے دانوں پر جم گئیں، بیٹھنے کی ہیئت تبدیل کرتے ہوئے گویا ہوئے، معافی چاہتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا تعلق کس مسلک اور فرقہ سے ہے لیکن مجھے اتنا ضرور علم ہے کہ آپ مسلمان ہیں، قطع نظر مسالک اور فرقوں کے، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم علماء ہی اس فساد اور تنازع کا اصل سبب ہیں، میری مجلس اور میرا نوحہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں فساد فی الارض ٹائپ کی بات کر کے داد نہ سمیٹوں اور ہمارے دوسری طرف والے احباب اُن کی بھی کوئی محفل اور بیٹھک اس وقت تک تمام نہیں ہوتی جب تک وہ بھی کوئی متنازع اور مار دھاڑ کی بات کر کے سامعین سے "سبحان اللہ" نہ کہلوائیں۔ مسئلہ صرف پیٹ، حُبّ جاہ اور واہ واہ کا ہے جو ہمیں کسی طور بھی سکھ سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ آگ ہی آگ اور خون ہی خون ہے اس دشت میں ہم سب قابیل بنے پھر رہے ہیں۔افسردگی کے ماحول میں پورے کمرے میں سنّاٹا طاری تھا" منفرد خطیبانہ اسلوب کے حامل علامہ طالب جوہری  پیر کے روز طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے۔

‏سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں