رہنماؤ ہمیں راستہ چاہیے - حبیب الرحمن

تازہ ترین خبروں کے مطابق وزیر اعظم پاکستان، جو پوری قوم کو ہر مشکل مرحلے پر یہ تلقین کرتے ہوئے نظر آتے تھے کہ "گھبرانہ نہیں" وہ پارٹی کے اندرونی خلفشار پر سخت گھبراہٹ کا شکار دکھائے دے رہے ہیں۔ حکومتی و پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں وفاقی وزیر فواد چودھری کے بیان پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ پارٹی ارکان اور وزرا ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے اجتناب کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارٹی کے نظم و ضبط پر عمل کرنا تمام اراکین کی ذمے داری ہے۔ موجودہ صورت حال میں سب ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو کر کام کریں۔
واضح رہے کہ منگل کو وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، فواد چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھاکہ تحریک انصاف کی حکومت خود سے وابستہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی جس کا عمران خان کو پورا پورا احساس ہے۔ انھوں نے کابینہ اجلاس میں بھی کہا کہ آپ کے پاس چھ ماہ ہیں اس کے بعد وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور صورت حال کوئی اور رخ اختیار کرلے گی۔

وفاقی وزیر کے اس بیان پر پی ٹی آئی کے مختلف ارکان نے ٹی وی ٹاک شوز میں جو کچھ فواد چوہدری کے خلاف کہا وہ اپنی جگہ لیکن ٹھیک اگلے روز کے اجلاس میں کابینہ کے ارکان کے درمیان بہت زیادہ گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور اجلاس مچھلی بازار کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آیا۔ نوبت ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانے کی حد تک بڑھی تو وزیر اعظم کو بنفس نفیس خود مداخلت کرنا پڑی اور آپس میں الجھنے والوں کو الگ کمرے میں لیجاکر ٹھنڈے مشروبات پلاکر ان کے فشارِ خون کو معمول پر لانا پڑا۔

یہ ہیں وہ حالات جس کی وجہ سے نہ گھبرانے کا درس دینے والے وزیر اعظم کو گھبراہٹ میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے اور انھوں نے تمام وزرا اور مشیران کی فوج ظفر موج کو وارننگ دے دی ہے کہ وہ اپنی اپنی کارکردگیوں کو چھ ماہ کے اندر اندر درست کر لیں بصورتِ دیگر حالات ہم سب کے قابو سے باہر ہو جائیں گے اور معاملات کسی اور جانب کا رخ اختیار کر لیں گے۔

جس انداز میں عمران خان صاحب نے اپنے تمام وزرا اور مشیران کو متنبہ کیا ہے وہ انداز کچھ اور ہی چغلی کھاتا ہوا دکھائی دے رہا۔ موجودہ صورت حال تو اس بات کی جانب واضح اشارہ کرتی نظر آ رہی ہے کہ اب وزیر اعظم اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں اور اگر حسبِ اختلاف عدم اعتماد کی کوئی تحریک پیش کر دیتی ہے تو ان کو اپنی سادہ اکثریت بھی ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اتحادیوں کی علیحدگی شاید بہت پریشان کن نہیں بھی ہو لیکن پی ٹی آئی کے اپنے قریبی ساتھیوں کے بدلے ہوئے لہجے اور وہ تمام افراد جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر تو ضرور کامیاب ہوئے ہیں لیکن ان کا ماضی ہمیشہ "موقعہ پرستانہ" رہا ہے، وہ سب حسب اختلاف کے ذرا سا محنت کرنے سے اپنی اپنی کچھاروں میں واپس بھی جا سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ عمران خان کو جہانگیر ترین سے ہو سکتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کو اقتدار تک پہنچانے میں بہر صورت ان کا نمایاں کردار رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت "لنکا" کو ڈھا سکتے ہیں۔ اتنی کمزور پوزیشن کے باوجود بھی اگر وہ اب تک تختہ اقتدار پر موجود ہیں تو وہ "ان" کی سپورٹ کے علاوہ اور کیا ہے لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے وزرا اور مشیران کو دی جانے والی وارننگ کے پس پشت خود وزیر اعظم کو ملنے والی آخری مہلت ہو۔

وزیر اعظم نے وزرا، مشیران اور لاتعداد حکومتی ترجمانوں کو اپنی کارکردی بہتر کرنے کی ہدایات تو جاری کر دی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے سارے ذمے داران دی گئی مہلت کے اندر اندر اپنی اپنی کار کردگی کو اس حد تک بہتر کر پائیں گے کہ وہ اپنی کارکردگی سے، خود کو، عمران خان کو اور سب سے بڑھ کر عوام کو مطمئن کر سکیں؟۔ انہونی کا تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن دور و نزدیک ایسا کوئی امکان نہیں پایا جاتا کہ تمام کے تمام ذمہ داران کوئی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ جن ذمہ داروں نے گزشتہ 2 برس میں بھی اپنی اپنی صلاحیتوں کو قوم کے سامنے پیش نہیں کیا اور اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار اپنے سے پچھلی حکومتوں کو ٹھیرانے کے علاوہ کوئی اور راگ الاپا ہی نہیں ان سے یہ توقع باندھ لینا کہ وہ چھ ماہ میں زمین و آسمان کو آپس میں ملا کر رکھ دیں گے، وزیر اعظم کا اپنے آپ کو فریب دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

ہر دور میں عوام یہی کٹا چھنیاں دیکھتے آئے ہیں، اسمبلیاں اور کابینہ کے اجلاس میں اسی طرح کا طوفان بد تمیزی ہی مچا نظر آتا رہا ہے اور یہی دیکھا گیا ہے کہ مقدس ایوانوں میں کبھی ایک دوسرے کے اور کبھی خود اپنے ہی ساتھیوں کے کپڑے ہی اتارے گئے ہیں اس لئے پاکستان کے سارے عوام ہاتھ جوڑ کر اعجاز رحمانی کی زبان میں یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ

تم سرِ راہ آپس میں لڑتے رہو

رہنماؤ ہمیں راستہ چاہیے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */