یہ اُمت روایات میں کھو گئی! - ایس احمد پیرزادہ

حسب معمول گزشتہ ماہ رمضان المبارک میں بھی ہر روز ریڈیو پر سحری پروگرام نشر ہوا تھا۔ کرونا وائرس کی اس مہاماری میں حالات کی مناسبت سے علمائے کرام نے پورے ماہ مختلف دینی موضوعات اور سماجی ایشوز پر بات کی۔ ایک پروگرام میں ایک فاضلِ مقّرر نے عالمی وباء کے ان دنوں میں نماز جمعہ کے حوالے سے فرمایا کہ مسلمان مرکزی جامع مسجدوں کے بجائے اپنی اپنی مقامی مسجدوں میں عارضی طور پر نماز جمعہ اور عیدین کی نماز ادا کرسکتے ہیں اور Covid-19 کے اس عالمی وبا میں یہ لازمی ہے کہ ہم اپنے ماہرین صحت کی ہدایات پر عمل پیرا ہوجائیں۔ چند ہی دن بعد اسی پروگرام میں ایک دوسرے مولوی صاحب نے پہلے مولوی صاحب کے مقابلے میں بالکل متضاد مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں اُن مساجد میں نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا نہیں کرسکتے جہاں جمعہ قائم نہ ہو۔ اس متضاد رویہ کے ہوتے ہوئے عام فہم بے چارہ مسلمان اب کس بات پر عمل پیرا ہوجائیں گے، یہ مسئلہ پیدا ہوجانا لازمی ہے۔ اس کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ مختلف مسلکوں کے ماننے والے اپنے اپنے مسلک کے مطابق مسئلے کا حل بیان کرتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اُمت کے علماء کا سواد اعظم نئے دور کے نئے چیلنجزاور نئے فتنوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں ؟ کیا وہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب اُمت مسلمہ پستی اور ذلت کی دلدل میں گری ہوئی ہے، عام مسلمان کا دین و ایمان ہی داؤ پر لگا ہوا ہے، ایسے میں اِنہیں فروعی مسائل میںالجھانا دانشمندی ہے؟ ہمارے علماء فروعی مسائل کو سرفہرست رکھ کر ضروری اور اہم چیزوں کو پس پشت ڈال کر مخالف طاقتوں کو موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ اسلامی کی آفاقی تعلیمات کے خلاف منفی پروپیگنڈا کریں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے چند برس قبل بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے ایک قومی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر بڑے طنزیہ انداز میںکہا کہ پہلے سے ہی طبقاتی اور مسلکی فرقوں میں بٹی مسلم قوم کو بانٹ کر ہم اپنا ایجنڈا بآسانی آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایسے میں آئے روز سوشل میڈیا پر مولوی حضرات ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور ایک دوسرے کا رد ّکرنے بیٹھ جائیں تو کسی بھی ذی حس مسلمان کا سر شرم سے جھک جانا لازمی امر ہے۔ ہم کیوں مسلکی دائروں سے باہر نہیں آپاتے؟ حالانکہ موجودہ زمانے میں یہ اہم ترین ضرورت ہے؟ ہم کیوں اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد منہدم کرکے اُمت کے مجموعی مفادات کے بارے میں سوچتے نہیں ہیں؟ کیوں ہم عدم برداشت اور تنگ نظری کا اس قدر شکار ہیںہم اپنی فکر اور اپنے نظریات کے سوا کسی کو مسلمان ہی تصور نہیں کرتے ہیں۔ کروناوائرس کے دوران تبلیغی جماعت پر لگائے گئے ضد اور عناد پر مبنی الزامات پر جب ہندوستان کی بڑی بڑی مسلم تنظیموں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو ایک ٹی وی چینل پر مسلمانوں کے ہی ایک طبقے سے وابستہ سفید ریش بزرگ آدمی جس نے سرپر دستار بھی باندھ رکھا تھا، نے تبلیغی جماعت، جمعیت اہلحدیث ، جماعت اسلامی ، دیوبند اور ندوۃ العلما ٰسب پر’’الکفر ملۃ واحدۃ ‘‘کا فتویٰ صادر کرکے اُنہیں نہ صرف اسلام سے خارج کردیا بلکہ یہ تک بتا دیا کہ یہ سعودی ’’وہابیوں‘‘ کی پیداوار جماعتیں ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی دور واسطہ تک نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت ہند کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام جماعتوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینک دیا جائے۔

ایسا اس لیے ہے کہ اُمت کر دینی حلقوں نے ایک اللہ کی رسی کو تھام لینے کے بجائے اپنے اپنے مسلک اور فرقے کی رسی پکڑ رکھی ہے۔ ہم نے نئے چیلنجز کے پیش نظر غور و فکر اوراجتہادی طرز عمل کو ترک کردیا ہے۔ موجودہ دور میں قیادت کے منصب پر موجود دینی حلقے جمود کا شکار ہوچکے ہیں، وہ اُمہ کی کوئی رہبری یا رہنمائی کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کو مسائل کے دلدل سے نکالنے کے لیے کوئی حل پیش کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں دکھائی دیتے ہیں۔

مصروف اسلامی اسکالر،دانشور، سیاست دان، قلمکار محمد اسدنے اپنی سوانح حیات Road To Macca The میںجامعہ الازہر کے اپنے ایک دورے کے دوران پیش آئے ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ: ’’جامعہ کے استاذ شیخ مصطفی المراغی نے مجھے کلاس کا مشاہدہ کراتے ہوئے کلاس میں شامل طلبہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’آپ ان طلبہ کو دیکھ رہے ہیں؟ یہ ہندوستان کی ان مقدس گائیوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گلیوں میں ملنے والا ہر طباعت شدہ کاغذ کھاجاتی ہیں… جی ہاں، وہ صدیوں قبل لکھی ہوئی کتب کے تمام چھپے ہوئے صفحات ہڑپ کرجاتے ہیں مگر انہیں ہضم نہیں کرپاتے۔ یہ خود غور و فکر نہیں کرتے، وہ پڑھتے اور دہرائی کرتے ہیں، پڑھتے اور دہرائی کرتے ہیں نسل در نسل۔‘‘ محمد اسد کہتے ہیں کہ میں نے بات کاٹی اور بولا شیخ مصطفی ، الازہر تو اسلامی علوم کا مرکز اور دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے! آپ اس کا نام مسلم ثقافتی تاریخ کے تقریباً ہر صفحے پر دیکھتے ہیں۔ گزشتہ دس صدیوں کے دوران یہاں پیدا ہونے والے تمام عظیم مفکروں، ماہرین الٰہیات، مورخین، فلسفیوں اور ریاضی دانوں کا کیا ہوا؟… انہوں نے تاسف بھرے انداز میں جواب دیا: ’’اس نے کئی سو سال قبل انہیں پیدا کرنا بند کردیا۔ مانا کہ حالیہ ادوار میں کبھی کبھی الازہر سے کوئی آزاد مفکر اُبھرکر سامنے آگیا، لیکن بہ حیثیت مجموعی الازہر بانجھ پن کا شکار ہوچکی ہے جس کا نقصان ساری مسلم دنیا کو ہورہا ہے اور اس کی تحریک انگیز قوت بجھ چکی ہے۔ ان قدیم مسلم مفکرین، جن کا آپ نے ذکر کیا ہے، نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ کئی سو سال بعد ان کے خیالات کو سمجھنے اور ترقی دیے جانے کے بجائے محض رٹا لگایا جائے گا کہ جیسے وہ مطلق اورناقابل تردید سچائیاں ہوں۔ اگر کوئی بہتری لانی ہے تو موجودہ نقالی کے بجائے غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرنا لازمی ہے۔‘‘

متذکرہ بالا واقعہ میں اُمت کی ایک ایسی بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے سبب انسانوں کی اس دنیا میں ہماری حیثیت سمندر کے اُس جھاگ سی ہوگئی جس کے وجود کو ہوا کا ایک معمولی سا جھونکا بھی پل بھر میں تحلیل کردیتا ہے۔ اُمت مسلمہ جس ذلت اور رسوائی کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اُس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ذہن کے دریچوں کو بند کررکھا ہے، مسلمانوں نے دور اندیشی، دور بینی اور جہاں گیری کے ساتھ ساتھ غور و فکر، تحقیق اور چیزوں کی تہہ تک جانے کا کام چھوڑ دیا ہے۔ سطحی چیزوں میں الجھنا اور وقتی حادثات پر سخت ردعمل دِکھانا مسلمانوں نے اپنا فرض عین بنا رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا ہر شعبے میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے ہم فقیر کا وہی کشکول ہاتھ میں لیے دوسری اقوام کے علوم و ترقی میں اپنی پناہ ڈھونڈ تے پھرتے ہیں۔

آج کے دور میں اُمت کے اداروں میں دینی علوم کی بڑے پیمانے پر تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک ایک مدرسے میں ہزاروں طالب علم دینی علوم سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، نصابی کتابوں سے اُنہیں رٹایا جاتا ہے ، ذہانت کو نکھارنے اور تخلیقی صلاحیتوں کوپروان چڑھانے کے بجائے حافظے پر زور دیا جاتا ہے۔ تعلیمی مراحل یاداشت کی بنیاد پر طے کروائے جاتے ہیں، بقول مولانا مناظر احسن گیلانیؒ:’’ امتحان لیا جاتا ہے قابلیت کا اور امتحان ہوتا ہے آموختہ کی یاداشت کا، جس میں اکثر بدھو کامیاب ہوجاتا ہے اور قابل و ذہین آدمی فیل ہوجاتا ہے۔‘‘

اس لیے ہم دیکھتے ہیںاخلاف میں اسلاف کی مثالیں پیش کرنے والے بہت ہیں، گزشتہ ادوار کے علمائے کرام کی علمی صلاحیتوں کی باتیں کرنے والے بہت ہیں، اپنے علمی اباؤ و اجداد کی تعلیمات کو پھیلانے والے اور اُن کا رٹا لگانے والے لاکھوں میں ملیں گے لیکن آج کے دورمیں ہمارا یہ نظام کوئی امام اعظم ابوحنیفہؒ، کوئی امام بخاری، کوئی حافظ ابن عبدالبر، کوئی حافظ ہجر عسقلانی، کوئی امام غزالی، برہان الدین زرنوحی، قاضی ابن الجماعہ، محمد بن ابوزید اور علامہ ابن خلدون پیدا نہیں کرپاتا ہے۔ آج تحقیقیں بہت ہوتی ہیں، اسلاف کے علمی کام سے حوالے و دلائل بہت دئے جاتے ہیں لیکن جدید تقاضوں کے مطابق مسائل کا حل زمانے کی رفتار کے مطابق ہمارے علماء پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:’’ آج کل رسالوں کے باعث، لوگوں میں کتب بینی کا مذاق بہت پھیل گیا ہے، لیکن نظر کی اس وسعت نے نظر کی عمق کو غارت کردیا ہے، اپنے مضامین ، مقالات میں حوالے تو خوب دے دیتے ہیں لیکن فہم مسائل کی استعداد نہیں بڑھتی، اگلے علماء ناناتویؒ، گنگوہیؒ وغیرہم کے پاس کتابوں کا ذخیرہ بہت کم تھا لیکن کیسے کیسے نکتے ان حضرات نے پیدا کیے۔‘‘

ایسا اس لیے ہے کہ ہم نے نصاب تعلیم میں سوال اُٹھانے کی گنجائش ختم کردی ہے۔ یہاں طالب علم کو استاد کی ہر بات حروف بہ حروف سچ ماننا سکھایا جاتا ہے، اپنی سوچ کی سوئچ آف کرکے اُسی انداز سے شاگرد کو بھی سوچنا ہوتا ہے جس طرح کی سوچ اُن کے اساتذہ کی ہوتی ہے۔ اِسی کا نتیجہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جس مکتبہ فکر کی درس گاہ میں بچہ داخل ہوتا ہے وہ تاحیات پھر اُسی فکر کا نہ صرف حامی ہوجاتا ہے بلکہ اُن کے نزدیک حق صرف اُن کی فکر اورمکتبہ فکر ہی ہوتی ہے۔قرونِ وسطی میں دینی اداروں میں علماء کسی مکتبہ و فکر کے بھی کیوں نہ ہوتے شاگرد اپنی سوچ اور اپنی تحقیق کے مطابق لائن اختیار کرلیتے ہیں، اداروں میں علمی نکتوں پر باریک بینی سے مذاکرہ کا اہتمام ہوتا تھااور یہ اہتمام اس قدر ہوتا تھا کہ اگر دو طالب علم بھی جمع ہوتے تو مختلف مسائل پر مذاکرہ کرتے اور اگر دو جمع نہ ہوسکتے تو طالب علم کو رات کی تنہائی میں فرضی طور پر کسی کو موجود قرار دے کر اس سے کسی علمی مسئلہ پر مذاکراہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ وہ خود سوال کرتا اور اس کے تشفی بخش جواب اپنے ہی ذہن سے حاصل کرتاتھا۔ اور یہ مشق اُن میں فقہانہ و مجتہدانہ صلاحیت پروان چڑھانے کا سبب بن جاتی تھی۔

اس نازک ترین دور میںا ُمت کو بانٹنے والوں کی نہیں بلکہ جوڑنے والوں کی ضرورت ہے۔ سوچنے سمجھنے اور مضبوط فکر والوں کی ضرورت ہے۔ اُمت کی قیادت ایسے علماء کی ہاتھ میں ہونی چاہیے جو جدید دور کے تقاضوں اور چیلنجزسے واقفیت رکھنے والے ہوں، جو اسلام دشمنوں کی ترقی کا ادراک اور اُن کی منفقانہ و سازشانہ چالوں کا بھی علم رکھتے ہوں۔ جنہیں کفر اور اہل کفر کے ہر نظریات اور دنیا میں پھیلائے جانے والے ہر شر کا گہرا مطالعہ ہو۔ علماء کی صفوں میں ہزاروں لوگ مخلص ہیں،صالح ہیں لیکن اُن کی سادگی سے اس شاطر دنیا میں اسلام دشمن فائدہ اُٹھا کر ملت کو کمزور کررہے ہیں، اس لیے قیادت کے منصب پر وہ لوگ فائر ہونے چاہیے جنہیں کفر کی ہر چال سمجھ آتی ہو۔ حضرت عمر ؓ کسی ذمہ داری کے تعین کے لیے اپنے ساتھوں سے مشورہ کررہے تھے۔ مجلس میں موجود بعض لوگوں نے ایک خاص شخص کانام لیا کہ جی وہ بہت نیک آدمی ہیں، بڑے بزرگ اور تہجد گزار ہیں اور اخیر میں فرمایا کہ وہ اتنے نیک ہیں کہ’’ گویا وہ شر کو جانتے ہی نہیں۔‘‘ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایسا آدمی نہیں چاہیے جو شر کو نہیں جانتا ہو، اس لیے کہ جو شر کو نہیں جانتا وہ شر میں جلدی مبتلا ہوجائے گا ،وہ تو شرکا شکار ہوجائے گا۔ اس لیے ایسا آدمی درکار ہے جو خیر کو بھی جانتا ہو اور شر کو بھی جانتا ہو۔

Comments

ایس احمد پیرزادہ

ایس احمد پیرزادہ

ایس احمد پیرزادہ کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے، مقامی اخبارات میں کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے لیے مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں۔ دلیل کےلیے وادی کے حالات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */