جن سے مل کر زںدگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ - قدسیہ ملک

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر ہم اپنی زندگی میں ان دوستوں،چاہنے والوں،رقیبوں،ہم خیال لوگ کا انتخاب کریں گے جو محبتیں پھیلانے والے اور نفرت سے دور بھاگنے والے ہوں تو ہم اپنی زندگی دکھوں،غم وپریشانیوں کے ہوتے ہوئے بھی 80فیصد بیماریوں سے دور رہیں گے۔

اگر آپ کے قریب ایسے منفی ذہنیت کے حامل لوگ موجودبھی ہیں جو ہر وقت دوسروں کی نفرت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور دوسروں تک بھی یہ آگ منتقل کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکمل طور پر کنارہ کش رہیئے ورنہ آپ کی شخصیت کو برباد کرنے میں ایسے لوگ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔کیونکہ وہ خود اس حسد کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کا پیشترحصہ وہ اس فعل میں گزار چکے ہوتے ہیں۔اب ان کے لئے اس کیفیت سے باہر آنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن وہ دوسروں کو اپنے جیسااس آگ میں جلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ نے دم کٹی لومڑی کی کہانی تو سنی ہوگی۔بس اسی کے مصداق وہ ایسی مثالیں قائم کررہے ہوتے ہیں کہ شیطان کو بھی مات دے دیں۔ایسے لوگ آپکو زندگی کے ہر موڑ پر ہر گروہ،طبقات،خاندان اور قبیلے ملک و قوم میں باآسانی نظر آجائیں گے۔

منفی سوچ کے حامل ہر کسی کی کمزوریوں اور عیوب پر نظر رکھتے ہیں۔لہٰذا ایسے لوگوں کوہر شخص سے نفرت ہو جاتی ہے۔یہ ساری نفرتیں ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ان نفرتوں سے چھٹکارا پانے کیلئے ضروری قوت ارادی ان کے پاس موجود نہیں رہتی، اس طرح وہ زندگی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔محبت و نفرت بھی انسانی شخصیت کے دو اہم پہلو ہیں۔انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں بہت سی چیزوں کو پسند یا ناپسند کرتاہے۔ یہی جذبے کچھ شدیدہوکرکے محبت اور نفرت اور پھر اس سے بھی بڑھ کر عشق اور شدید نفرت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اگر تو یہ جذبے اپنی فطری حدود ہی میں رہیں تب تو بہت اچھاہے لیکن ان میں حدود سے تجاوز انسان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کردیتا ہے۔ آپ نے ضرورایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جو عشق یا نفرت کی شدت کا شکار ہو کر اپنی پوری زندگی لو داؤ پر لگادیتے ہیں۔

زندگی سے محبت کرنے والے ہمیشہ یہ جانتے ہیں وہ اپنی زندگی کیلئے کتنے ہی اصول و ضوابط مرتب کرلیں اور کتنی ہی محنت و محبت سے ان پر عمل پیرا ہوں البتہ اگر وہ منفی سوچ و فکر رکھنے والے افراد کے ربط میں اور ان کی صحبت میں آگئے تو ان کے سارے اصول دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، اسلئے وہ ایسے لوگوں کو دوست نہیں بناتے جو زندگی کی بے قدری کرتے ہیں یا جو ہر دم یاسیت و مایوسی کا لبادہ اوڑھے رہتے ہیں ۔وہ ان لوگوں کو دوست بناتے ہیں جن کا مثلاً یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اپنی جد و جہد حیات جاری رکھنا ہے کیونکہ کوشش کرنے پر کوئی انسان یا تو جیتتاہے یا کچھ سیکھتا ہے، ہارتا کبھی نہیں۔

ان جذبوں کو انکی اپنی حدود میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کا رخ موڑ کر صحیح سمت میں لگا دیا جائے۔ انسان کی محبت کا محور و مرکز اللہ تعالیٰ کی ہستی ہونا چاہئے جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ایسا خیال جو اور کوئی رکھ ہی نہیں سکتا۔آپ نے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہونگے جنکا خمیر محبت سے گوندھاہوا عشق کی خشبو سے رچاہواہوتاہے۔جن سے آپ ایک بار ملیں تو بار بار ملنے کی چاہ ہوتی ہے۔ اس شعر کی عملی تفسیر نظر آئیں گے۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ

آپ نے شاید نا دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

زندگی سے محبت کرنے والے اپنی زندگی میں غیر متوقع حادثات یا واقعات سے ہار نہیں مانتے بلکہ انہیں زندگی کا ایک حصہ سمجھ کر راستہ نکال لیتے ہیں۔ اپنی زندگی کی لغت میں `مشکل ` لفظ کو وہ چیلنج پڑھتے ہیں۔ان جیسے افراد کو اسکول کے زمانے ہی سے صرف فتح کا جشن منانا نہیں سکھایا جاتا بلکہ بڑی سے بڑی شکست کو بھی خوش اسلوبی سے جھیلنے کی تربیت دی میری زندگی میں ایسے بہت سے لوگ الحمداللہ موجود ہیں۔آئیے آج آپ کوان میں سے ایک کردار سے ملواتی ہوں۔یہ کردار میری نانی جان کا ہے۔

میری نانی دنیا کی سب سے اچھی نانی جان ہیں اب میں آپکو بتاتی ہوں کہ کیوں

*میری نانی اماں کی شادی بہت ہی چهوٹی عمر میں ہوگئی تھی۔عموما" اسی عمر میں پہلے شادیاں کردی جاتی تھیں۔16،17 حد ہو تو 20 سال۔اس وقت سے لیکر اب تک وہ جس طرح قربانیاں دیتی رہی ہیں،تمام رشتہ داریاں جس طرح بہ احسن خوبی نبها رہیں اسکی مثال ملنا مادیت پرستی کے اس دور میں کافی مشکل ہے۔

*شادی ہوکر جب آئیں تو پوراگھرباراپنے ساس سسر 3 غیر شادی شدہ نندوں،شادی شدہ نندیں اور انکے بچے انڈیا سے ہجرت کرکے آئے تھے سب کوخدمت کرکے ایسےاپنا گرویدہ بنالیا کہ ناناکو کبھی بھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ایسا ہرگزنہیں ہے کہ یہ کام انہوں نے باآسانی سرانجام دے دیاہو۔انکی پوری زندگی خدمتوں،قربانیوں اور محبتوں سے رقم ہے۔وہ آج تک اپنے سے جڑے رشتوں کا تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔وہ اپنے کسی فعل سے آج تک کبھی کسی نفس کو دکھ دینانہیں چاہتی۔چاہے وہ گھر میں کام کرنے والی ملازمہ ہویامزدوری کرنے والے ملازم کو بھی اپنی ذات سے تکلیف دینا اپنی توہین سمجھتی ہیں۔

*سب سے پہلے میری نانی جان نےاپنے بچوں کی بہترین تربیت کی۔اور انکے ساتھ ساتھ نندوں دیورانیوں کے بچوں کی بھی ساتھ ساتھ تربیت کی۔انہیں دعائیں سکھائیں، اٹھنے بیٹھنے،بڑوں چھوٹوں سے بات کرنےکے آداب،سب سے محبت سے پیش آنے کےگرسکھائے۔اپنے بچوں کی تربیت میں سختی سے پیش آئیں۔ہمیشہ دوسروں کے بچوں کو فوقیت دی۔تاکہ اپنے بچوں میں سب سے مل جل کر رہنے کا جذبہ پیداہو۔اتنی دلی محبت اور دلی عقیدت سے پیش آتیں ہیں کہ خاندان کے سارے بچے امی جی(نانی)کے گرویدہ ہوگئے۔لڑکیوں کواعلی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ گهرداری ،سلائی کڑھائی،سیناپرونا،گھر کی صفائی،گھر کےہر کام میں طاق کیا ۔اورلڑکوں کو پڑهائی کے ساتھ ساتھ سخت مشقت کی بھی عادت ڈالی۔

*اچهے کهاتےپیتے گهرانےکے ہوتے ہوئے بهی اپنے سسرالی ہجرت سے آئے ہوئے غریب رشتہ داروں ،حاجتمندوں،پڑوسیوں،ساتھ میل جول رکھنے والوں،مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں،گھر میں کام کرنے والے مالی،ماسیوں اور خانساماوں کے خاندانوں تک کی خدمت کرنے کے لئے بذات خود عملی میدان میں اتریں اور تمام رشتہ داروں،ضرورت مندوں کی حاجت روائی کو معمول بنایا۔اور انکی غیر محسوس طریقے سے مالی معاونت کے سات ساتھ ہر معاملے میں مدد کی۔نانا نے بهی ایسے میں بھرپور ساتھ دیا صرف لوگوں کے کام آنا اپنا مقصد زندگی بنایا

*.دور دور کے خاندان میں تک چاہے کسی کی بچی کی شادی ک مسئلہ ہو،گھر میں ماهانہ راشن ڈلوانا،نانا کی بہنوں کے وہی کپڑے اور وہی اسکول میں داخلہ دلوانا جہاں اپنے بچوں کو پڑهارہی ، اپنی بچیوں کے ساتھ ہر ہفتہ کسی بیمار عزیز رشتہ دار کے گھر جانا اسکی مزاج پرسی کے ساتھ ساتھ تمام گھر کے کام کهاناپکانے برتن کپڑے ، گهرداری کے تمام امور نبٹا کر اپنے ایک بچے کو بهی باربار انکی مزاج پرسی کے لیئے بهیجنا ۔میری نانی نے ہمیشہ لوگوں سے اللہ کی خشنودی کی خاطر محبت کی۔ابن القیم ر ح فرماتے ہیں "اللہ کیلیے محبت اور بغض کی علامت یہ ہے کہ انسان کسی اللہ کے ناپسندیدہ شخص کو اپنا محبوب نہیں بناتا، یعنی اگر انسان کو کسی ایسے شخص کی جانب سے کوئی فائدہ پہنچے جو اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہے ، یا وہ اِس کی کوئی ضرورت پوری کر دے تو اس فائدے یا ضرورت پوری ہونے کی وجہ سے وہ شخص اِس کو اپنا محبوب نہیں بناتا۔ اسی طرح اگر اللہ کے کسی محبوب سے نفرت نہیں کرتا ، یعنی اگر کسی اللہ کے محبوب بندے کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچے یا ناگوار اقدام کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس غلطی کی بنا پر اس سے نفرت نہیں کرتا، چاہے اس کی جانب سے پہنچنے والی تکلیف غلطی کی بنا پر ہو یا تعمیل حکم الہی میں عمداً ہو، یا کسی تاویل اور اجتہاد کی بنا پر ہو یا [شرعی حکم سے]بغاوت کی بنا پرہو" نانی جان ہمیشہ اپنے سسرال کے تمام رشتوں کی پرخلوص ہوکر ایسے خدمت کرتی جیسی اپنے گهرانے کی کرتی

* بچیوں کو کپڑے سینے پرونے میں اتنا طاق کردیا کے میری امی نے اپنی شادی کی ساری کی ساری سلائی خود کی....

*بچوں کے دل میں خدا خوفی پیدا کی...حق کا ساتھ دینے والا بنایا

اسی کا ثمر ہے کے ان کے تمام بچے معاشرے میں کارآمد شخصیت بن کر اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی،دینی و دنیاوی مہارتوں،بہترین نظم و ضبط محبت و خلوص کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتےہیں۔

*.بچوں کی شادیوں کے بعد بهی پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی اسی طرح تربیت کرنا جیسے اپنے بچوں کی کی

*بچپن میں بھی ہم جب بهی نانی کے گھر جاتے ہمیں اون سلائی کڑھائی دیتی یا کوئی پهول بناکردیتی کے اسکی کڑھائی کر کے دکھاؤ۔*ابهی بهی نانی ہم لوگوں کو فارغ بیٹھنے نہیں دیتی۔

*خود بهی نانی کبھی اچار،کبھی مربے،کبهی چٹنیاں کبھی گلاب جامن،شکرپارے،نمک پارے،لڈو،دالوں کے پاپڑبناکر پورے خاندان میں باٹتی رہی ہیں اور انکے اچار پورے خاندان میں دسترخوان کی شان ہوتے ہیں...

*سوئیٹر بہت خوب بنتی ہیں مختلف ڈیزائن کے رنگا رنگ خوبصورت اور دلکش سوئیٹرانکے سویئٹروں کی مانگ ہر اس جگہ ہے جہاں ہمارے رشتہ دار جاننے والے عزیزواقرباء،دوست احباب موجود ہیں چاہے وہ امریکہ کینیڈاافریقہ کے ممالک ہوں یا مڈل ایسٹ کے ممالک کویت ،قطر،سعودی عرب اور ہندوستان

*قرآن مجید بہت خوش الحانی سے پڑهتی ہیں ترجمے کا اہتمام کرتی ہیں۔مختف تفاسیر ،سیرت کی کتابیں،امہات المومنین کی سیرت کی کتب وغیرہ پڑھنے کا نہ صرف یہ کہ اہتمام کرتی ہیں بلکہ ہمین بھی فون کر کے بتاتی ہیں کہ یہ کتاب بہت اچھی ہے تم بھی ضرور اس کا مطالعہ کرو۔خاندان میں سب کی خبر گیری کرتی ہیں۔کسی کا کافی دن تک فون نا آئے تو خود فون کر کے خیریت دریافت کرتی ہیں۔آج کل وباء کے دنوں میں بھی خود فون کرکے سب سے خیر خیریت دریافت کرتی ہیں۔امریکی ماہرِ نفسیات ہیری سٹاک سالیوان سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ کی نگاہ میں صحتمند محبت کی کیا نشانی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ جب دوسرے انسان کے دکھ سکھ آپ کو اپنے دکھ سکھ کے برابر عزیز ہو جائیں تب آپ جان لیں کہ آپ بھی لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔

آپ سب سے دعا ہے کے میری نانی جان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں وہ واقعی بہت عظیم خاتون ہیں..ہم سب محبت کا فن اور راز جاننا چاہتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو یہ فن اور راز جلد سیکھ لیتے ہیں اور ایک کامیاب محبت بھری زندگی گزارتے ہیں۔لوگوں سے بے غرض محبت ہی رب سے محبت کی بنیاد ہے۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدامہرباں ہوگاعرش بریں پر

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com