وبا کے دنوں میں "لٹیرے" - قاضی نصیر عالم

برا ہو چہار دانگ عالم میں پھیلی وبا کا، جو وارفتگی اپنے ساتھ لے گئی اور وحشت مسلط کرگئی۔۔۔ اور پھر گرمی ایسی ہے کہ دجل کے سوا سب کچھ ہی تو گھل رہا ہے۔۔۔ سرمایہ۔۔۔ ساکھ۔۔۔ اسٹیٹس۔۔۔ سب کچھ!

کل بھائی آیا اور خاموشی سے برابر بیٹھ گیا۔ پندرہ منٹ تک سلام کے سوا کوئی دو لفظ ادا نہ ہوئے۔۔۔ حالانکہ ہم سلجھے دوستوں کی طرح کسی چائے خانے پہ بیٹھ کر دیر گئے باتیں کرتے تھے۔۔۔ کونسی سی کوئی برسوں پرانی بات ہے۔۔۔ کیا کچھ بدل گیا!

ہفتہ بھر پہلے آخری دفعہ اپنی آئل شاپ کھولی۔۔۔ تو داروغے آن ٹپکے۔
”چلو بھائی دکان بند کرو“

یوں لگا کہ جیسے کوئی گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا تیس سال پیچھے لے گیا ہو۔
”چل بے۔۔۔ تام توبڑا اٹھا“
”چل اوئے۔۔۔ بھنگ *******اٹھا“
”چل اوئے۔۔۔ ٹین ٹپڑ اٹھا“

سڑک کنارے پنکچر کے ٹھیے پر رزق سے زیادہ گالیاں ملتی تھیں۔۔۔ اور داروغے کی گالی کبھی کھائی ہے؟

حقارت کی غلاظت میں لتھڑی ہوئی جس کی بدبو رات کو سونے نہیں دیتی۔۔۔ میرے ٹھیے کے ساتھ لگے نیم کے درخت کی چھاؤں میں لیٹافقیرا ہیرونچی ایسے ہر موقع پر کہتا تھا: اوئے غم نہ کھایاکر۔۔۔ ہرن کے نافے میں خون جم کر جیسے مشک بن جاتا ہے نا بس ایسے ہی بعض لوگوں کی زبان میں حیض کا خون جما ہوتا ہے۔۔۔ پلید لوگ۔۔۔ دفعہ کر اپنی روزی کما اور گھر جا!

فقیرے کو کسی عالم خود سپردگی میں ہی یہ کشف ہوا ہوگا کیونکہ ڈاکٹر تو وہ بس اتنا ہی تھا کہ اپنے بازوؤں کی نس میں مارفین کا ٹیکہ اتار دیتا تھا۔

”چل جلدی کر سوچ کیا رہا ہے؟“
داروغے نے آگے جاتے ہوئے دوبارہ آواز لگائی۔۔۔ میں نے فقیرے کی تحقیق کو دماغ سے فوراً جھٹک دیا۔
”ساکھ“ سالی کی اوقات ہی اتنی ہے۔۔۔ بے ترتیب اور بے حساب گالیاں کھانے کے بعد تیس سالوں میں لاکھوں کا بزنس کھڑا کیا۔ اب بھی ذرا تاخیر ہو تو اگلے لمحے وہی گالیاں۔

ایک جھرجھری سی آئی۔

سوچا کھانا آگیا ہے شٹر گرا کے کھانا کھالوں اور پھر دکان بند کر کے گھر کا رخ کروں۔

ویسے بھی مندا ہی تھا۔۔۔ دکان کے آگے جہاں گاڑیوں کی قطار ختم نہیں ہوتی تھی اب وہاں سناٹا تھا۔ وبا سے پہلے آٹھ لڑکے کام کرتے تھے۔

پہلا لاک ڈاؤن ہوا تو لیبر کو ان کے مکان تک محدود کردیا۔ روز گھر سے تین ٹائم کھانا بنواکر لاتا اور وہ نیفوں میں ہاتھ اڑسے موبائلوں میں گم ہوتے۔ پہلے جب کام تھا تو وہ بھی صبح سے شام تک سر جھکائے کام کرتے اور رات کا کھانا کھانے کے بعد اتنے تھکے ہوتے تھے کہ سونے کے سوا کوئی خیال نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے شہروں سے آئی لیبر کو سنبھالنا، ان کے لنگر پانی کا انتظام کرنا، پھر ان پہ نظر رکھنا کہ محلے داری خراب نہ ہو، آدھے بال تو اس میں سفید ہو جاتے ہیں۔

اب معاملہ دوسرا تھا لاک ڈاؤن میں توسیع ہوئی تو مہینہ کی تنخواہ دے کر سب کو گھروں کو بھیج دیا تھا۔
عید کے بعد صرف ایک لڑکے کو واپس بلایا اور اس کی تنخواہ نکالنا بھی مسئلہ بنا ہوا تھا۔۔۔ میں نے شٹر نیچے کیا اور ملازم کو کھانا لگانے کا کہا۔۔ ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ دو لڑکے دکان میں داخل ہوئے۔

”آؤ بھائی بیٹھو بسم اللہ کرو“
میں نے ”گراہک“ سمجھتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔

وہ بولے:
”کھانا کھانے نہیں آئے، پیسے نکالو“
اس دوران انہوں نے ”چھوٹے “کو کھڑا کیا اور دو تھپڑ جڑ تے ہوئے بولے: کیش کہاں ہے؟

کیش کے نام پہ کل دو ہزار پڑے تھے۔
انہوں نے دراز زور سے بند کی اور بولے: کیش کہاں چھپا رکھا ہے؟

میں نے بیچارگی سے کہا کام نہیں ہوگا تو پیسے کہاں سے آئیں گے؟ ڈھائی مہینے بعد دکان کھولی ہے، تم خود تسلی سے ڈھونڈلو۔
انہوں نے وہ پیسے اٹھائے اور جاتے ہوئے ان میں سے ایک کہنے لگا:
”بھائی معذرت۔ ہمارے پاس بھی کام نہیں ہے، کیا کریں“

عام دن ہوتے تو خدا پہ یقین کرو کہ گھر سے لاکر پانچ دس ہزار دے دیتا کہ اپنی ضرورت پوری کرلو۔۔۔ لیکن یہ وبا کے دن ہیں۔ اسے نہیں پتا کہ ان دنوں اگر دو ہزار بھی نکل گئے تو واپس آنے کی امید نہیں۔ یہ پھر سے کمائے نہیں جاسکتے اس لیے کہ کوئی ذریعہ ہی نہیں۔۔۔ اگر میرے پاس اس وقت پستول ہوتا تو کیا میں ان کا عذر سنتا؟ وہ واپس جانے کو مڑتے تو میں سو روپے کی دو گولیاں ان کی پشت میں اتار دیتا۔۔۔ میری حالت ہی ایسی تھی۔

کیا وبائیں ایسی بلائیں ساتھ لاتی ہیں جو انسان کی سرشت ہی بدل دیتی ہیں۔۔۔ دو ہزار کی اوقات ہی کیا تھی!

دکان پھر سے بند ہے۔ کوئی پتا نہیں اس کا شٹر کب اٹھے گا، لیکن جب بھی اٹھے گا تو کوئی مجھ جیسا دو ہزار بچانے کے لیے کسی پستول بردار کی کمر میں سیسہ اتار دے گا۔۔۔ اور پھر پستول برداروں کے غول حفظ ماتقدم کے طور پر کیا کریں گے یہ فقیرا ہیرونچی بھی بتاسکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */