سپریم کورٹ کا فیصلہ: کس کی جیت؟ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جو لوگ مایوسی پھیلارہے ہیں، ان کی کئی قسمیں ہیں:

1۔ سب سے پہلے تو وہ ہیں جو اپنی تنخواہ حلال کرتے ہوئے حسبِ سابق جسٹس صاحب کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، جو جانتے ہیں کہ ان کا پروپیگنڈا ناکام ہوگیا ہے اور فیصلہ ان کے خلاف آیا ہے، لیکن آقاؤں کا حکم ہے کہ اس شکست کو بھی فتح بناکر پیش کیا جائے۔ ان میمونوں کی ہفوات پر تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

2۔ دوسرے نمبر پر وہ نوخیز سیاسی کارکن ہیں ہیں جو پرائے شگون میں اپنی ناک کٹوا بیٹھے ہیں اور اب یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ناک کٹ جانے پر انسان بہت پیارا دکھائی دیتا ہے۔ یہ لوگ قابلِ رحم ہیں۔ ان کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کرکے آگے بڑھ جائیے۔

3۔ تیسرے نمبر پر وہ مایوسی کے پیامبر ہیں جن کے اپنے لیڈر تو نہ صرف یہ کہ رسیدیں نہ دکھاسکے بلکہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ان بے چاروں کو میدان میں حسبِ روایت تنہا چھوڑ گئے ہیں۔ ان بے چاروں کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ جسٹس صاحب کے خلاف فیصلہ دے کر انھیں یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ پھر سپریم کورٹ پر تبرا بھیج سکیں لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو وہ اب پشتو محاورے کے مطابق "پش سے پشم خان بنانے کی کوشش" کرتے ہوئے مایوسی پھیلانے والوں کے سر میں سر ملارہے ہیں۔ یہ اس دوسرے گروہ سے زیادہ ہمدردی اور تعزیت کے مستحق ہیں۔ ان بحث کرنے کے بجاے ان سے بھی درگزر کیجیے ۔

4۔ چوتھے نمبر پر وہ ہیں جن کی خواہش تھی کہ سپریم کورٹ نہ صرف جسٹس صاحب کے خلاف ریفرنس کو خارج کردے بلکہ ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے انھیں نشانِ عبرت بنادے۔

اس تحریر کے مخاطبین یہ چوتھی قسم کے احباب ہیں۔ چنانچہ ان کی خدمت میں چند نکات عرض ہیں:

1۔مایوسی جس بات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے وہ اس حکم نامے کا سب سے پہلا اور سب سے اہم نکتہ ہے۔ دس کے دس جج صاحبان نے جسٹس صاحب کے خلاف ریفرنس کو خارج کردیا ہے۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ کل نمازِ جمعہ سے قبل ایک صحافی دوست نے رابطہ کرکے پوچھا کہ آپ کے خیال میں کیا فیصلہ آنے والا ہے؟ میں نے کہا کہ نماز کے لیے جارہا ہوں، اس لیے تفصیل سے بات نہیں ہوسکتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کم از کم سات جج صاحبان اس ریفرنس کو خارج کردیں گے، البتہ ان کی اہلیہ کی پراپرٹی کے معاملے کو ایف بی آر کی طرف بھیج دیں گے۔ پھر جب فیصلہ آیا اور دس کے دس جج صاحبان نے ریفرنس کو مسترد کردیا تو یہ میرے لیے بھی انتہائی خوش گوار حیرت کی بات تھی۔

ذرا غور کیجیے کہ ریفرنس مسترد ہونے کا مطلب کیا ہے؟ حکومتی ریفرنس کی بنیاد یہ بات تھی کہ جسٹس صاحب نے لندن کی جائیداد نہ دکھاکر مس کنڈکٹ کیا ہے اور اس وجہ سے وہ جج کے عہدے کےلیے نااہل ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریفرنس خارج کرکے یہ بنیاد ڈھادی ہے۔ یہ ڈیڑھ سال سے زائد حکومت اور "اداروں" کی کوششوں کی مکمل ناکامی کا اعلان ہے۔ سپریم کورٹ میں فروغ نسیم صاحب نے جو دلائل پیش کیے، وہ بھی اس دعوے کو ثابت کرنے کےلیے نہیں تھے اور انھوں نے ایک بالکل ہی مختلف کیس بنانے کی کوشش کی۔ چنانچہ یہ ثابت ہوگیا کہ جسٹس صاحب نے مس کنڈکٹ نہیں کیا۔ یہی تو اس کیس کا اصل سوال تھا اور دس کے دس جج صاحبان نے اس سوال پر فیصلہ جسٹس صاحب کے حق میں دیا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، بلکہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔

2۔ جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جسٹس صاحب کی اہلیہ کا معاملہ کیوں سپریم جیوڈیشل کونسل کے سپرد کیا گیا ہے، ان کی عقل پر حیرت ہے۔ کیا واقعی انھوں نے یہ چند صفحات پر مشتمل حکم نامہ پڑھنے کی زحمت گوارا کیے بغیر راے قائم کرکے اس کا پرچار کرنا ضروری سمجھا؟ سات جج صاحبان نے جسٹس صاحب کی اہلیہ کا معاملہ کونسل کو نہیں بھیجا بلکہ ایف بی آر کو بھیجا ہے اور قرار دیا ہے کہ اگر چیئرمین ایف بی آر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس معاملے میں کچھ گڑ بڑ ہے جس کےلیے جج صاحب کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے تو اس کی رپورٹ کونسل کو کرے اور پھر کونسل اس پر مناسب کارروائی کرے۔ حکم نامے کے پیرا نمبر گیارہ میں انتہائی صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ ایف بی آر میں اہلیہ اور بچوں کی جائیداد کے ٹیکس کا معاملہ اور کونسل میں جج صاحب کے خلاف ریفرنس ایک دوسرے سے یکسر الگ امور ہیں۔

For the removal of any doubts, it is clarified that any of the proceedings under the 2001 Ordinance as herein contemplated on the one hand, and before the Council in terms of paras 9 or 10 herein above on the other, are distinct and separate from each other.

3۔ اب رہا یہ خدشہ کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کی جائیداد کا معاملہ ایف بی آر کی طرف بھیج کر گویا حکومت کو ایک اور موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ جج صاحب کے خلاف شواہد اکٹھے کرلے، تو یہ خدشہ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ آپ نے یہ فرض کیا تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہی ختم ہوجائے گا۔ قانون کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں تھا اور اس کی وجوہات قانون کے مبتدی طلبہ کو بھی معلوم ہیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے مقدمے میں جج صاحب کی اہلیہ یا ان کے بچے سرے سے فریق ہی نہیں تھے۔ چنانچہ نہ ان کو عدالت کے سامنے نمایندگی دی گئی، نہ ہی مخالف فریق کی جانب سے ان کے موقف کے خلاف دلائل پیش کیے گئے۔ انھوں نے ٹیکس چوری کی یا نہیں، ان کے ذرائعِ آمدن ایسے ہیں کہ وہ لندن میں جائیداد خرید سکیں یا نہیں، یہ وہ جانیں اور ایف بی آر۔

سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ یہ تھا کہ کیا ان کی جائیدادیں اپنے کاغذات میں نہ دکھاکر جج صاحب ایسے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی بنا پر ان کے خلاف کونسل میں ریفرنس دائر ہوسکے، تو اس کا جواب دس کے دس جج صاحبان نے نفی میں دیا۔ اس کے بعد تین جج صاحبان نے جسٹس صاحب کی اہلیہ اور بچوں کی جائیداد کے ٹیکس اور ذرائع آمدن کے معاملے پر خاموشی اختیار کی کیونکہ وہ عدالت کے سامنے فریق تھے ہی نہیں اور، جیسا کہ پہلے ایک تحریر میں عرض کیا، میرے نزدیک یہی موقف درست ہےکہ اس معاملے میں قانون کو اپنی کارروائی کرنے دیں۔ تاہم باقی سات جج صاحبان نے حکومت کے طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے اس معاملے میں حدود اور قیود مقرر کرکے، اور چیئرمین ایف بی آر کو ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دے کر، حکومت اور اداروں کے ہاتھ پیر باندھ دیے ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر، انھوں نے اپنے تئیں قانونی طریقے کے سوء استعمال (abuse of legal process) کی راہ روکی ہے اور ایسا کرتے ہوئے انھوں نے تصریح کی ہے کہ یہ معاملہ جج صاحب کے خلاف ریفرنس سے الگ ہے۔

4۔ کیا جج صاحب کے سر پر اب بھی تلوار لٹک رہی ہے؟ یہ سوال اس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ کسی جج کے خلاف کونسل میں ریفرنس لازماً اس کی سزا پر منتج ہوگی، بلکہ اس کے خلاف ریفرنس کا امکان بھی اس کےلیے خطرے کا باعث ہوگا۔ یہ محض سادہ لوحی ہے۔ کسی بھی جج کے خلاف کسی بھی وقت کونسل میں ریفرنس کا امکان ہوتا ہے۔ اگر آپ دستور کی دفعہ 209 کا متن پڑھیں تو معلوم ہو کہ اس میں تصریح کی گئی ہے کہ کونسل میں کسی جج کے خلاف ریفرنس صدر کی جانب سے بھی آسکتا ہے اور کونسل کو دستیاب معلومات کی روشنی میں کونسل خود بھی انکوائری شروع کرسکتی ہے۔

If, on information from any source, the Council or the President is of the opinion that a Judge of the Supreme Court or of a High Court (a) may be incapable of properly performing the duties of his office by reason of physical or mental incapacity; or (b) may have been guilty of misconduct, the President shall direct the Council to, or the Council may, on its own motion, inquire into the matter.

چنانچہ اگر اسے سر پر تلوار لٹکنا کہتے ہیں تو یہ تو کسی بھی جج کے سر پر کسی بھی وقت لٹکتی ہی رہتی ہے۔ اگر یہ سات جج صاحبان نہ بھی کہتے تو ایف بی آر کو جسٹس صاحب کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی جائیداد کا معاملہ دیکھنے کا اختیار تھا اور اس کے بعد اگر اس کارروائی کی روشنی میں جج صاحب کے خلاف کوئی قابلِ عمل کیس بنتا تو کونسل اس پر کارروائی کرسکتی خواہ یہ بات یہ سات جج صاحبان نہ بھی کہتے۔ بہ الفاظِ دیگر، ان سات جج صاحبان نے تو صرف آیندہ کے قانونی طرزِ عمل کی توضیح کرکے اس کے ضمن میں ایف بی آر اور دیگر اداروں کو غلط کارروائی سے روکنے کےلیے بند باندھے ہیں۔

5۔ اگر ایف بی آر کے سامنے ایسے قابلِ عمل شواہد آجائیں جن کی رو سے ان جائیدادوں کےلیے جسٹس صاحب کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہو، تو اس صورت میں ہم کیوں جسٹس صاحب کی حمایت کریں گے؟ اگر وہ ذمہ دار ہیں تو پھر قانون کی رو سے ان کے خلاف جو بھی کارروائی بنتی ہو، وہ لازماً ہونی چاہیے۔ یہی کچھ سپریم کورٹ کے سات جج صاحبان نے کہا ہے اور اگر ہم حق و انصاف کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہی موقف اپنانا چاہیے کیونکہ معاملہ جسٹس صاحب کے ساتھ محبت کا نہیں قانون کی بالادستی کا ہے۔ چنانچہ میرے نزدیک اس فیصلے کا یہ پہلو بھی ہرگز قابلِ افسوس نہیں، بلکہ اس نے عدلیہ پر میرے اعتماد کو مزید تقویت دی ہے کہ اس نے اپنے "پیٹی بند بھائی" کو بچانے کے بجائے قانون کو اپنا کام جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ جسٹس صاحب کے ماضی، ان کے کردار اور ان کے طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ وہ اس معاملے میں کھرے ہیں لیکن اگر ان کی جانب سے ایسا غیر قانونی عمل ثابت ہوتا ہے جو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، تو یقیناً انھیں اس عہدے سے برطرف کرنا چاہیے۔ تاہم واضح رہے کہ اس ضمن میں حکومت کی تقریباً دو سال کی کاوش کو دس کے دس جج صاحبان نے یکسر مسترد کردیا ہے اور اب سات جج صاحبان نے پھر بارِ ثبوت حکومت پر ڈال دیا ہے اور اب کی بار حکومت کوئی غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال نہیں کرسکے گی، جیسا کہ اس نے اب تک اثاثہ ریکوری یونٹ جیسے غیرقانونی نظام اور ججز کی جاسوسی جیسی اوچھی حرکتوں کے ذریعے کی ۔

6۔ یہیں سے اس حکم نامے میں ذکر نہ ہونے والے ایک اہم امر پر بات کا موقع بن جاتا ہے، اور وہ ہے غیرقانونی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف کارروائی۔ اگر یہ بات بھی اس حکم نامےمیں ذکر ہوجاتی تو تصویر مکمل ہوجاتی اور کسی کو نکتہ چینی کا موقع نہ ملتا۔ اس کا ذکر نہ کرنے سے مجھ سمیت کئی لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ تاہم چونکہ تمام جج صاحبان نے ریفرنس کو یکسر مسترد کردیا ہے، اس لیے مجھے امید ہے کہ ان میں سے اکثریت اپنے تفصیلی فیصلے میں اس پہلو پر ضرور بات کرے گی۔ چنانچہ اس پہلو پر مزید گفتگو کےلیے انتظار کرنا ہی بہتر آپشن ہے ۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ڈاکٹر صاحب بہت اچھے آدمی ہیں مگر اس بار محبت و جذبات سے مغلوب ہوکر انہوں نے بھی جلدی مٹھائ کھالی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com