"جلن" ڈرامہ شدید تنقید کی زد میں، مصنفہ کیا کہتی ہیں؟

گزشتہ ہفتے ٹویٹر پر مسلسل دو دن تک ایک ٹرینڈ حاوی رہا "واہیات ڈرامے"۔ وجہ اس ٹرینڈ کی اے آر وائی ڈیجیٹل کا ڈرامہ "جلن" رہی۔ اس ڈرامے کا اسکرپٹ معروف لکھاری، شاعرہ اور ڈرامہ نگار سدرہ سحر عمران کا تحریر کردہ ہے۔ سدرہ سحر عمران دلیل کے لیے مستقل تحریر بھی لکھتی رہیں۔ انہوں‌نے مختلف مواقع پر تنقید کرنے والوں‌کو جواب دیے۔ اس تنقید کو سامنے رکھ کر دلیل نے فیصلہ کیا کہ مصنفہ کے ساتھ رابطہ کرکے ان سے اس ڈرامے کے متعلق کچھ سوالات کیے جائیں۔ ہمارے ہاں وہ موضوعات کیوں‌زیربحث رہتے ہیں‌جنہیں‌سوسائٹی میں‌اچھی نظر سے نہیں‌دیکھا جاتا؟ ترک ڈرامے ارطغرل کا ہمارے ہاں بڑا چرچا ہے، ہم ایسے پروجیکٹ بنانے میں‌کیوں‌ناکام رہے؟ یہ اور اس طرح‌کے کئی سوالات ان کے سامنے رکھے۔ یہ گفتگو دلیل قارئین کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔
انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان

دلیل: اے آر وائی پر آپ کا ڈرامہ ”جلن“ آن ایر ہونے کے ساتھ ہی تنقید کی زد میں آیا۔ کیا سمجھتی ہیں کہ معترضین کچھ تو درست کہہ رہے ہیں یا انہیں بالکل کوئی اہمیت نہیں دیتیں؟

سدرہ سحر عمران: اہمیت نہ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ ڈرامہ آڈئینس کے لیے بنا یا اور لکھا جاتا ہے تو ان کی رائے کی قدر و قیمت نظر انداز نہیں کی جاسکتی ۔ہاں میں یہ ضرور کہوں گی کہ دیکھے بغیر اعتراض سمجھ سے با ہر ہے، کیوں کہ میرے ڈرامے کا بنیا دی موضوع سالی بہنوئی کا ’’رشتہ‘‘ نہیں۔ وہ منفی جذبہ ہے جسے جلن، حسد یا رقابت کہا جاتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب لوگ بغیر کسی چیز کو دیکھے یا پرکھے رائے قائم کرلیتے ہیں اور پھر اس پر ڈٹے رہتے ہیں۔کیا اس منفی جذبے کی صداقت سے انکار کیا جاسکتا ہے؟ یہ حسد اور کینہ تو اس وقت سے دنیا میں موجود ہے جب اس کے ہاتھوں پہلا قتل ہوا۔ یہ جلن اور رقابت تو ہابیل اور قابیل کے درمیان بھی تھی۔ قابیل نے اسی جذبے کے تحت بھائی کو قتل کردیا۔ کیا وہ سگا بھائی نہیں تھا؟ اب آ پ کہیں گے ایک آ دھ مثال سے مجموعی تاثر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ میری نظر میں بات بھا ئی، بھائی یا بہن، بہن کی نہیں ہے۔اس منفی جذبے کی ہے جو نہ رشتہ دیکھتا ہے نہ سماج، نہ خاندانی رکھ رکھا ؤ نہ اپنی عز ت نفس۔ سر میں جو سودا سما جائے اس کے لیے کچھ بھی کر گزرتا ہے۔

دلیل:  آپ اس ڈرامے میں کچھ رشتوں کو زیربحث لائی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں یہ مسائل موجود ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہر فیملی میں یہ ایشوز موجود ہیں۔ اس طرح لوگوں کا اپنے رشتوں کے اوپر سے اعتبار نہیں اُٹھ جاتا؟

سدرہ سحر عمران: اس ڈرامے کا پہلا ٹیز ر آن ایئر ہو تے ہی اسے آڈئینس کی طرف سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کی نظر میں صرف سالی بہنو ئی کا رشتہ ہے۔ اور اسی بنیا د پر سخت تنقید کی گئی۔ یہ نہیں دیکھا جا رہا رشتے خراب کیوں ہوتے ہیں؟ برائی کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوتی ہے۔ میں نے کہانی جس طرح شروع کی ہے، اس میں یہی دکھایا جارہا ہے کہ شر اور برائی کیسے انسان کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ بہنوئی اسفند یار (عماد عرفانی) ایک شریف اور مہذب شخص ہے۔ نشا (منال خان) ایک حاسد اور جنونی کیریکٹر۔ جسے ہر اچھی چیز اپنے لیے چاہیے ہوتی ہے۔ کیا یہ عادتیں اور مزاج ایک دم ہی سامنے آتا ہے؟ نہیں جناب! نشا کی پرورش جس طرح ہوئی ہے وہ من مانی اور ہر اچھی چیز جھپٹ لینے کی عادی ہوتی گئی ہے۔ اس کی بہن مشا (اریبہ حبیب) قربانی اور ایثار کرنے والی۔ صلح جو اور محبت کرنے والی۔یہ کردار ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ایک قربانی دینے والا اور ایک لینے والا۔ اس کو ڈرامے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے تو کسی میسج یا احساس کے تحت ہی پیش کیا گیا ہے۔ ہوائی قلعہ نہیں ہے۔ اورآپ صرف سالی بہنوئی پر فوکس نہ کریں۔ کیا ہمارے ہاں ہر خاندان میں نشا جیسی لڑکی موجود نہیں؟ اسفند یار جیسا کیریکٹر نہیں ہے؟ چور رشتے، چور دروازے، حقیقت تو اس سے کہیں زیادہ تلخ اور ناقابل برداشت ہے۔ میں نے تو صرف ایک رخ پیش کیا ہے۔

دلیل: اعتراض یہ ہے کہ جو کچھ آپ دکھارہی ہیں، ممکن ہے کہ یہ سوسائٹی کی بہت معمولی اقلیت میں ہو، ڈراموں کے ذریعے کیوں انہیں پھر اس طرح پروموٹ کیا جاتا ہے؟

سدرہ سحر عمران: جی۔۔ سوال کیا جا رہاہے کہ کیا یہ ہماری ثقا فت ہے؟ ہماری ثقا فت کیا ہے؟ ہم انڈین کانٹینٹ کے عادی تھے۔ اب بھی ہیں۔ بیرونی ثقافت اور مغربی طرز زندگی کو اپناکر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انگریزی بولنے کو اعلیٰ تعلیم سمجھتے ہیں۔ مہنگی چیز، مہنگا لا ئف اسٹائل ہماری ثقافت ہے؟ ڈرامہ کس موضوع پر بننا چاہیے؟ مذہب؟۔۔۔ بہتر فرقوں کے ہوتے ہوئے کیا ایسا ممکن ہے؟ سیاست؟ سیاسی دھڑوں اور اندھی عقیدت کے ہوتے ایسا ہوسکتا ہے؟ سماج؟ اس پر تو بنتے ہی ہیں۔ جو اعتراض کرتے ہیں، وہ موضوع پیش کریں۔ اچھا لکھنے والے موجود ہیں، ضرور لکھیں گے ۔

دلیل:  مگر اعتراض یہ ہے کہ پہلے سے موجود رشتوں پر آپ سوالیہ نشان لگارہی ہیں۔

سدرہ سحر عمران: جو چیز صحیح ہو، اسے خراب کرنا مشکل ہوتا ہے اورجو پہلے سے خراب ہو اسے مزید کیا کرنا۔یہ ڈرامہ سالی بہنوئی کے رشتے کی وجہ سے نہیں ان کرداروں کی سائیکی، جلاپے اور کینہ پروری کی وجہ سے لکھا گیا ہے جو محبت اور جنگ میں سب جا ئز سمجھتے ہیں۔ حاصل کے جنو ن میں نہ انہیں رشتے کی پہچان رہتی ہے نہ کسی ویلیوز کا احساس۔ اگر اخلاقی گراوٹ یا رشتوں کی بے حرمتی کرنے والوں کو پوائنٹ آؤٹ کیا جائے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ پروموشن کی جارہی ہے ؟ ان ڈراموں کے اصلاحی پہلو کیوں نمایا ں نہیں کیے جاتے؟ سالی، بہنوئی، دیور بھابھی بہت نازک اور مقدس رشتے ہیں۔ لیکن اگر ہماری مذہبی حدود و قیود میں ان سے فاصلے کا کہا گیا ہے توکتنے لوگ ہیں جو ان ویلیوزکا خیال رکھتے ہیں۔ حد سے زیادہ ’’بے تکلفی‘‘ کسی بھی نامحرم رشتے کو زک پہنچا سکتی ہے۔ اب یہ لوگ تو مذہب پر بھی قدغن لگاسکتے ہیں جو کہتا ہے دیور موت ہے۔ تو کیا خدانخواستہ مذہب غلط ہے؟ نہیں۔ خدا نے آدم کی جس طرح تخلیق کی ہے وہ کبھی بھی بہک سکتا ہے۔ اس بہکنے اور نہ بہکنے کو شر اور خیر کہا گیا ہے۔

دلیل:  پاکستانی ڈراموں سے متعلق یہ شکایت رہتی ہے کہ یہاں ہمیشہ منفی رُخ ہی دکھایا جاتا ہے۔ بہت حد تک حقیقت بھی ہے۔ آپ دیکھ لیں ساس اور بہو کی لڑائیاں۔ بھابھی اور نندوں کے جھگڑے۔ اس سے تو ذہن پر منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔ کیا نہیں سمجھتیں کہ سوسائٹی میں مثبت کنٹری بیوٹ کرنے کے بجائے آپ لوگ منفی رول ادا کررہے ہیں؟

سدرہ سحر عمران: پاکستان میں ہر طرح کے اور ہر موضوع پر ڈرامے بنتے ہیں۔ اگر آج اسٹار پلس یا انڈین کانٹینٹ سے پابندی ہٹادی جائے تو ہماری آ ڈئینس کا ایک بڑا طبقہ ان ڈراماز کو فالو کرے گا؟ وجہ جانتے ہیں۔ فینٹسی۔ مصنوعی باتیں، مصنوعی دنیا، سازشیں، رشتوں میں دراڑیں اور چالبازیاں۔ لیکن ہماری آڈیئنس ان سب چیزوں کو پسند کرتی ہیں کیوں کہ انہیں ’’تفریح‘‘ چاہیے۔ میرا نہیں خیال لوگ دعوت و تبلیغ کے لیے ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ وہ صرف انجوائے منٹ کے لیے دیکھتے ہیں۔ جہاں تک ’’جلن‘‘ کا تعلق ہے تو یہ کہانی اسی معاشرے کی ہے۔ یہیں سے لی گئی ہے۔ رشتے مختلف ہوسکتے ہیں۔ نو عیت الگ ہوسکتی ہے۔ مگر یہ خلائی کہانیاں نہیں ہیں۔پاکستان کا ڈرامہ بہت اچھا اور بہت بہتر ہے۔اگر آپ پی ٹی وی کے دور کی باتیں کر یں گے تو میں یہی کہوں گی کہ اب ایک چینل کا دور نہیں رہا۔ سڑکیں ویران ہونے والی باتیں، اچھا کانٹینٹ ، اہم اور بڑے ادیب یہ سب ہما رے ماضی کا سنہرا وقت ہے مگر گزر چکا ہے۔ دنیا فاسٹ ہے۔ نیٹ فلیکس اور ویب سیریز پر با ت آگئی ہے یا اس سے بھی آ گے۔ تو کون صرف ڈرامہ سے تفریح حاصل کرے گا؟ لوگوں کے پاس ہزاروں آ پشنز ہیں۔ جہاں صرف ٹی وی اور کیبل کی سہولت ہے ان کے پاس بھی ریموٹ ہے۔ درجنوں چینل۔ آ ڈئینس کی دلچسپی کے لیے آپ کو ان کے مزاج کے مطابق ڈرامہ بنانا پڑتا ہے۔ اور میں اس چیز سے سخت اختلاف کرتی ہوں جب لوگ ڈرامے کی خرابی، معاشرے کے بگاڑ یا کجیوں کا سارا ملبہ ڈرامہ رائیٹرز اور چینلز پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔

آپ بتائیں کیا چینل کروڑوں روپے لگاکر اس لیے ڈرامہ بناتا ہے کہ وہ ڈبے میں بند پڑا رہے یا عوام کی طرف سے ریجکٹ ہوجائے؟ ہر ڈرامے کے پیچھے یہی مقصد ہوتا ہے کہ عوام دیکھے، سراہے اور پسند کرے۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ عوام کو چٹ پٹی، مصالے دار، روتی دھوتی کہانیاں چاہئیں۔ اینٹرٹینمنٹ میڈیا نہیں ہماری آ ڈئینس کی چوائس رونا دھونا ہے۔ وہ طبقہ جو ڈرامہ شوق سے دیکھتا ہے اسے دکھی رہنا پسند ہے۔ و ہ آ نسو بہاکر خوش ہوتا ہے۔ اسپیشلی ہماری خواتین۔ میں سمجھتی ہوں کہ اجتماعی طورپر ہمارے سماج کی عورت آنسو پسند ہے۔ ڈرامے میں ایک لڑکی پر جتنا ظلم دکھایا جاتا ہے وہ اسے دیکھ کر اتنی طمانیت حاصل کرتی ہے کیوں کہ اسے رونے کے لیے مواد مل رہاہے۔ اس کی رنجیدہ حس کو تقویت حاصل ہورہی ہے۔ آپ وومن امپاور منٹ پر ڈرامہ بناکر دیکھ لیں۔ ٹی آ ر پی گرجاتی ہے ۔ آپ معاشرے کے سدھا رکے لیے اللہ رسول کی باتیں اور وعظ ونصیحت والی با تیں دکھائیں لوگ چینل بدل لیں گے کیوں کہ انہوں نے اینٹرٹین ہونا ہے۔ اسلامی چینلز نہیں دیکھنے تو لا محالہ ڈرامے کا کانٹینٹ بھی ایسا ہو جس میں تفریح بھی ہو، مزاح بھی، میسج بھی ہو چٹ پٹے کردار بھی۔ جو ہمارے ڈرامے کا منفی کیریکٹر ہو تے ہیں۔ اور آپ یقین کریں ہمارے ہیرو ہیروئن سے زیادہ یہ نیگٹو کردار ہی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ڈرامہ دیکھا جاتا ہے۔ ہیروئین اچھی، شریف، سادہ، مہذب، ہر دکھ پر مسکرانے والی، چٹان جیسی مضبوط بھی ہوتو اس کا کردار ولن کی نیگٹیویٹی کی وجہ سے نکھرتا ہے کیوں کہ جب تک برائی کا شیڈ نہیں ہوگا اچھائی نظر نہیں آئے گی ۔

دلیل:  میں آپ سے یہاں اختلاف کروں گا۔ پاکستانی ڈراموں کی ہی بات کریں تو جو کرایٹیریا آپ نے بتایا ہے، عمیرہ احمد کا ڈرامہ ان پر پورا نہیں اُترتا۔ ان کے ڈراموں میں قرآن وحدیث کی باتیں ہی ہوتی ہیں۔ بعض ڈرامے اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ انسان یقین نہیں کرتا یہ کس طرح پاکستان میں آن ایئر ہورہے ہیں۔ مکمل مذہبی۔ پھر وہ کیوں کامیاب ہیں؟

سدرہ سحر عمران: عمیرہ احمد بلاشبہ عمدہ اور متاثر کن لکھتی ہیں۔ ان کے ناولز اور ڈرامہ میں تصوف کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ انہی کا خاصا ہے جو مقبول عام بھی ہے آڈئنس عمیرہ احمد سے توقع بھی یہی رکھتی ہے، مگر ہر لکھاری عمیرہ احمد نہیں ہوسکتا۔ ہر کسی کی اپنی چوائس، مزاج، ٹیلنٹ اور سب سے بڑھ کر ترجیحی عوامل ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی ڈرامے کو مذہبی نہیں ہونا چاہیے، لیکن ہمارے لوگوں میں اتنی برداشت نہیں ہے کہ وہ مذہبی اختلافات گوارا کرسکیں۔ بہت بار ایسا ہوا کہ ناظرین کے مذہبی عقائد یا مزاج کے خلاف کوئی بات ہوئی اور باقاعدہ کمپین اور احتجاج شروع کردیا گیا تو احتیاط کے تقاضے کے پیش نظر مذہب کو تفریحی مواد سے الگ رکھا جاتا ہے۔

دلیل:  میں پاکستان کے اکثر مشہور ڈرامے دیکھ چکا ہوں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈرامے ایک دوسرے کا ملغوبہ ہوتے ہیں۔ اداکار اور اداکارائیں نئی مگر کہانیاں تقریباً وہی۔ آپ کے ڈرامے سے متعلق بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں؟

سدرہ سحر عمران: سیف الدین سیف نے کہا تھا: سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیںتو جب تک زمینی حقائق، لوگ، رویے، جذبا ت اور احساسا ت نہیں بدل سکتے کہانی بھی وہی رہے گی۔ آپ اسے جس انداز میں بھی پیش کرلیں، اس سے پرانی باس ضرور آئے گی کیوں کہ نفرت اور محبت کا معیار وہی ہے۔ دنیا کے آغاز سے آ ج تک وہی حسد، جلن اور رقابت ہے۔ وہی محبت، احساس اور تحفظ۔تو رائٹر اسی سماج، معاشرے اور کرداروں کی کہانی لکھے گا جو اس کے اطراف میں بستے ہیں۔ اور ٹی وی دیکھنے والی عمومی کلاس کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اسی لیے زیادہ تر کہانیا ں اسی طبقے کے گرد گھومتی ہیں۔ کیوںکہ گھریلو خواتین کو سائنس فکشن، راکٹ سائنس، ایڈونچر یا تھرلر نہیں چاہیے۔ ہمارے ہاں جب بھی کسی مختلف مو ضوع پر لکھنے کی کوشش کی گئی، اسے خاطر خواہ رسپانس نہیں ملا۔ یا وہ چیز عوام کو سمجھ ہی نہیں آ ئی۔خود مجھ سے کہا جاتا ہے کہ آپ کی نظموں میں جو لہجہ، سفاکیت، استعارے اور آرٹ ہے وہ آپ کے ڈرامہ میں کیوں نہیں؟ تو میرا یہی جواب ہوتاہے کہ ڈرامہ کمرشل چیز ہے۔ عام جملے، عوامی بات چیت، عمومی رویے اور لہجے۔ایسے کردار جو معاشرے سے ریلیٹ کرتے ہوں۔ جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ یہ تو میری کہانی ہے۔ یہ کردار تو مجھ جیسا ہے۔ تو وہ اسے دلچسپی سے دیکھتاہے ۔ یہ انسانی رویے ہیں۔ آپ زمین پر رہ کر آ سمانی کہانیاں نہیں سنا سکتے۔ کوئی سنے گا ہی نہیں۔

دلیل:  ابھی حال ہی میں ڈرامہ ”رسوائی“ دیکھا۔ جبکہ انہی دنوں ”الف“ ڈرامہ بھی دیکھا۔ رسوائی کو دیکھ کر وہی تاثر اُبھرتا ہے کہ بس اداکار اور اداکارائیں ڈال دیں اور ایک نیا ڈرامہ تخلیق کرلیا گیا، جبکہ الف کی کہانی دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کچھ نیا ہے۔ کیوں ہمارے ہاں کچھ نیا کام نہیں ہوتا؟

سدرہ سحر عمران: مجھے یاد ہے سن 2012سے جب ترک ڈراموں ’’عشق ممنوع، فاطمہ گل ،ایک حسینہ ایک دیوانہ ،پیار لفظوں میں کہاں، کالا پیسہ پیار‘‘ یا دیگر ڈراموں کا دور شروع ہوا تو یہی عوام تھی جو ترکی کانٹینٹ کو سخت تنقید کا نشا نہ بنا تی تھی۔ کیوں کہ ترکی ہما ری نسبت بولڈ، بلنٹ اور ایڈوانس ہے۔ ان کے موضوعات میں محرم رشتوں کی پامالی، محبت، طلاق، معاشرتی بے رواہ روی جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ لباس اور طرز زندگی بھی ہم سے بہت آگے کادکھایا جاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود یہ ڈرامے دیکھے گئے۔ مقبول بھی ہوئے۔ کیوں کہ پرائی چیز تھی۔ ہمیں بدیسی ریپر میں کچھ بھی لپیٹ کر پیش کردیا جائے ہم شوق سے دیکھیں گے لیکن یہی چیز اگر ہما رے اپنے چینلز پرو ڈیوس کریں گے تو ہماری عوام کی غیرت جوش مارنے لگے گی۔میں بذات خود ترک ڈراموں کی معترف ہوںکیو ں کہ ان کا کانٹینٹ بہت پاور فل، بولڈ اور strong ہے ۔ لیکن کہانیاں ان کی بھی زمین سے جڑی ہیں، اس لیے لوگ دیکھتے ہیں۔

دلیل:  ارطغرل آپ کے سامنے ہے، جتنے نام آپ نے گنوائے، ان سب سے زیادہ پذیرائی اسے ملی ہے۔

سدرہ سحر عمران: ایک ’’ارطغرل‘‘ کو لے کر پورے پاکستانی کانٹینٹ کو ریجیکٹ کردینا کہاں کا انصاف ہے ۔ کیا ہمارے ہاں ماضی میں آخری چٹان اور شاہین جیسے ڈرامے نہیں بنے؟ ارطغرل تاریخی ڈرامہ ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ عوامی کانٹینٹ رکھ کر فیصلہ صادر نہیں کرسکتے۔ ’’ارطغرل‘‘ ایک الگ مزاج کا سیریل سہی لیکن انسانی رویے، منفیت، جلن، حسد، رقابت، جھوٹ، بہتان، سازشیں، کینہ ،بغض و عناد کے بغیر ہے کیا؟

دلیل:  میں مجموعی تاثر کی بات کررہا ہوں۔ کیا ارطغرل دیکھ کر یہ تاثر بنتا ہے کہ وہاں رشتوں کے اندر جلن، حسد اور رقابت ہے یا پھر مجموعی تاثر کچھ اور بنتا ہے؟ مجموعی تاثر تو یہی بنتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک سنہری تاریخ ہے۔ مجموعی تاثر یہی بنتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں عورت کا ایک اعلیٰ مقام ہے۔

سدرہ سحر عمران: اس کا ہما رے کانٹینٹ سے مقا بلہ نہیں ہے۔ ’’جلن ‘‘ کی بات کرتے ہوئے یہی کہا جا رہاہے ’’ارطغرل‘‘ دیکھیے تو بھئی ہماری جذباتی عوام چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔مجھے بتا ئیں ہمارے معاشرے پر ارطغرل کا کیا امپیکٹ پڑا؟ کیا برائی کم ہوگئی؟ کیا مسلمانوں کا جذبہ ایمانی بیدار ہوگیا؟ یہ ارطغرل دیکھنے والے ہی ہیں جو وبا کے دنوں میں بھی میڈیسن مہنگی کرتے ہیں۔ کبھی پلازما کیش کرواتے ہیں۔ کبھی راشن اور پٹرول غائب کر دیتے ہیں۔ تو جناب ڈرامہ کو ڈرامہ سمجھیں۔ اگر یہ مثبت اثرات مرتب کرتا ہے تو بہت اچھی بات ہے، لیکن لوگوں کوبے راہ روی اور گمراہی سے خبردار کرنے میں بھی ڈرامہ ہی کردار ادا کرتاہے ۔ برائی کا انجام ہمیشہ برائی ہی دکھایا جاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اگر ظلم و تشدد ہورہاہے تو کرنے والا کامیاب ترین دکھایا جائے۔ جہاں تک ساس بہو کا ایشو ہے تو آ ج بھی بیٹی پیدا ہونے پر بہو قتل ہوتی ہے۔ جلائی جاتی ہے۔ بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ تو بدلاؤ کہاں پر آیا ہے؟ اور جہاں تک taste بدلنے کی بات ہے تو شر طیہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ ڈرامہ ختم ہو تے ہی اس کا خمار بھی اتر جائے گا۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */