علامہ اقبال کی ایک آرزو - مفتی منیب الرحمن

اسکول کے زمانے میں علامہ اقبال کی ایک نظم پڑھی تھی ، جس کا عنوان تھا: ’’ایک آرزو‘‘،اس میں اقبال نے بڑی دلکش منظر کشی کی تھی اور کہا تھا:

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب!

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری

دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروں

دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں

چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا

ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو
ہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھونا

شرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہو
مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل

ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں

ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
ہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہ

پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو
آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ

پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو
پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو

سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم

امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے

جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
پچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذن

میں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہو
کانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساں

روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے

رونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے

تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
ہر دردمند دل کو رونا مرا ر لا دے

بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے

یہ نظم مجھے ساری زندگی یاد آتی رہی ،کیونکہ علامہ اقبال نے اس نظم میں جس چیز کی تمنا کی تھی ،میٹرک تک ہماری زندگی اُسی ماحول میں گزری ، روز اسکول جاتے ہوئے ہمارا گزر ایسے ہی پہاڑی ندی نالوں سے ہوتا تھا اور وہ بعینہٖ علامہ اقبال کی آرزو کا مظہر تھے، اب تو برسوں جانا نہیں ہوتا، جون تا اگست ہمارے آبائی گھر کے صحن میں بیٹھیں تو سامنے ایسا ہی رومانی منظر اور دلکش نظارہ ہوتا ہے اورہریالی سے بھرپور پوری وادی ہتھیلی کی طرح نظروں کے سامنے ہوتی ہے۔ شاید علامہ اقبال دنیا کی محفلوں سے اکتا گئے تھے ، پس انہوں نے ایک تخیلاتی منظر اپنے ذہن میں سجالیاتھا ، چنانچہ وہ اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں:

’’اے پروردگار! دنیا کی محفلوں سے اکتاگیا ہوں ، دل بجھ سا گیا ہے ، شورش سے نفرت ہوگئی ہے ، مجھے ایسا سکوت چاہیے کہ جس پر گفتار اور گویائی بھی قربان ہوجائے، میں خاموشی کے لیے مرا جارہا ہوں ، مجھے پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا چاہیے جہاں میں ہر فکر سے آزاد ہوکر تنہائی میں دن گزاروں ، دنیا کے غموں کو پیچھے چھوڑ آئوں ، چڑیوں کی چہچہاہٹ اور پہاڑی چشموں کی شورش میرے لیے نغمگی اور موسیقی کا سماں پیدا کر ے، پھول کی کلی چٹکے تو میں ہمہ تن گوش ہوجائوں ۔ ندی کے کنارے قدرتی سبزہ زاربچھونے کا کام دے ،ہاتھ سے ٹیک لگاکر لیٹ جائوں، ایسی مثالی تنہائی ہو کہ جس کے آگے بزم بھی شرمائے، میری صورت سے بلبل اس قدر مانوس اور بے تکلف ہوجائے کہ وہ مجھ سے چھیڑ چھاڑ کرے ‘‘۔

پہاڑی ندی کا منظر یہ ہوتا ہے کہ جون تا اگست کے زمانے میں کثرت سے بارشیںہوتی ہیں ،پانی کا بہائو تیز ہوتا ہے ، آبشار بن کر گرتا ہے ، موجیں اٹھتی ہیں ،ندی کے دونوں جانب ہرے بھرے درخت ہوتے ہیں ،ہر سو سبزہ ہی سبزہ ہوتا ہے، پس قبال کہتے ہیں: ’’جب ندی کی موجیں بلند ہوتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہرے بھرے درختوں کی تصویر لے رہی ہیں ، ایسا لگے کہ پانی کی موجیں اٹھ اٹھ کر پہاڑ کا نظارہ کر رہی ہیں ،ہرے بھرے سبزے کو زمین نے اپنی آغوش میں لے رکھا ہے اور پھولوں کی جھکی ہوئی ٹہنیاں پانی کو اس طرح چھورہی ہوں جیسے کوئی حسین آئینہ دیکھتا ہے۔ سرِ شام جب اُفق پہ سرخی چھا جائے تو ایسا لگے کہ جیسے دلہن کو مہندی لگاکر سجایا گیا ہے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں:

’’ پہاڑی پگڈنڈیوں پر راتوں کو سفرکرنے والے جب تھک ہار جائیں تو میری جھونپڑی میں ٹمٹماتا ہوا دیا اُن کے لیے امید کی کرن بنے ، جب آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوں اور بجلی چمکے تو مسافروں کی نظر میری کٹیا پر پڑے ،رات کے پچھلے پہر کوئل کی کوک اذانِ فجر کا کام دے اور ہم دونوں حمدِ باری تعالیٰ میں یک آواز ہوجائیں ،میری سماعت کسی کے زیرِ بارِ احسان نہ ہو، میری جھونپڑی کے روزن سے جب روشنی کی کرن آئے تو مجھے صبح کا پتا چلے۔ جب رات کے وقت شبنم پھولوں کو وضو کرانے آئے تو میرے آنسو میراوضو بن جائیں اورمیری فریاد میری دعا بن جائے ، اس پرسکون ماحول میں اللہ کے حضور میری فریاد اتنی بلند ہو کہ تاروں کے قافلے بھی سن کر سہم جائیں ، میرے رونے سے ہردردمند دل رو پڑے ،کاش کہ جو خوابِ غفلت میں پڑے ہیں،اللہ تعالیٰ انہیں جگادے‘‘،غالب نے بھی کہا تھا:

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار، تو کوئی نہ ہو تیماردار

اور اگر مر جائیے، تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

امیر مینائی نے بھی کچھ اس سے ملتی جلتی خواہشات کا اظہار کیا تھا۔یہ خیال اس لیے آیا کہ علامہ اقبال نے تو ایک اختیاری خَلوت گزینی اور عُزلت نشینی کی تمنا کی تھی ، مگر کورونا وائرس کے سبب لاک ڈائون نے سب پر یہ جبری خَلوت مسلّط کردی ، یورپ کے بارے میں تو یہ خبر آئی کہ گھریلو جھگڑے ہونے لگے ، گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ، کیونکہ وہ زیادہ دیر مل جل کر رہنے کے عادی نہیں رہے۔ پس کچھ باذوق لوگوں کو چاہیے کہ خانہ بدوش بنیں ، جنہیں مغرب میں Gypsiesکہاجاتا ہے ، وہ مستقل ٹھکانا بنانے کے عادی نہیں ہوتے، چلتے پھرتے جہاں رات آئی بسر کرلی۔ یہ بڑا اچھا موسم ہے،اگر کچھ لوگ خانہ بدوش بن کر سوات اور ہزارہ کے پہاڑی علاقوں کا رخ کریں ، ندی نالوں کا نظارہ کریں ، تو علامہ اقبال کی آرزو آپ کو مجسم نظر آئے۔ آج کل وہاں وہ تمام نظارے دستیاب ہیں جن کی اقبال نے بڑی چاہ سے تمنا کی تھی ۔ علامہ اقبال کے اجداد کشمیر سے آئے تھے ،اس لیے کشمیر کے پہاڑ، ندی نالے، سبزہ زاروکہسار اور حسین مناظر شایدان کی جینیاتی ساخت میں شامل تھے ، کسی صاحبِ نظر نے کشمیر کے بارے میںکہا تھا :

اگر فردوس بر روئے زمین است

ہمیں است وہمیں است وہمیں است

مفہوم:’’یعنی بفرضِ مُحال اگرجنت زمین پر ہوتی تو صرف اور صرف کشمیر ہی میں ہوتی‘‘، کیونکہ یہ وادی جنت نظیر ہے ۔خواہش اپنی اپنی ہوتی ہے ، مولانا حسن رضا خان نے بھی ایک مثالی خَلوت کی تمنا کرتے ہوئے کہا تھا:

دل میں ہو یاد تیری اور گوشۂ تنہائی ہو

پھر تو خَلوت میں بھی عجب انجمن آرائی ہو

بند جب خوابِ اَجَل سے ہوں حَسَن کی آنکھیں

اس کی نظروں میں تیرا جلوۂ زیبائی ہو

مفہوم:’’ یارسول اللہ! گوشۂ تنہائی ہو اور دل میں آپ کی یاد رچی بسی ہو تو پھر خَلوت میں بھی ایک مثالی بزم سجے گی اور جب فرشتۂ اَجَل آکر میری روح قبض کرے تو آخری صورت جو نگاہوں میں قرار پائی ہو، یارسول اللہ ! وہ آپ کے دیدار کا جلوۂ زیبا ہو‘‘۔ اس پر علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی نے کہا تھا:
سارا عالَم ہو، مگر دیدۂ دل دیکھے تمہیں

انجمن گرم ہو اور لذّتِ تنہائی ہو

مفہوم:’’یارسول اللہ! سارے عالَم کی بزم اپنی پوری تاب وتواں اوررنگینیوں ورعنائیوں کے ساتھ سجی ہوئی ہو، لیکن نہ کوئی منظرآنکھوں میں جچے ،نہ دل میں بسے ، نہ کسی چیز سے دل لگے ، بس یہی تمنا ہے کہ دیدۂ دل میں آپ کی یاد رچی بسی ہواور آپ ہی کے تصور کو ساتھ لے کر ایک نورانی انجمن سے لطف اندوز ہوتا رہوں۔مولانا محمد الیاس عطار نے بھی اسی تصور میں کہا ہے:

ہر وقت تصور میں مدینے کی گلی ہو

اور یاد محمد کی، میرے دل میں بسی ہو

دو سوزِ بلال آقا، ملے درد رضا سا

سرکار عطا، عشقِ اویسِ قَرَنی ہو

آقا کا گدا ہوں، اے جہنم! تو بھی سن لے

وہ کیسے جلے جو کہ غلامِ مدنی ہو

جس وقت نکیرین میری قبر میں آئیں

اس وقت میرے لب پہ سجی نعتِ نبی ہو

اے کاش! مدینے میں مجھے موت یوں آئے

قدموں میں تیرے سر ہو، میری روح چلی ہو

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com