بے زبان - ردا بشیر

وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما۔دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلے۔شمسں و قمر اپنے اوقات مقررہ پر آتے جاتے رہے۔۔۔

اور بھی بہت کچھ بدلا۔ ٹی وی کی جگہ ایل ای ڈی نے لے لی۔جدید سے جدید ترین حیران کردینے والی مشینری آئی، ایسی تبدیلیاں‌آئیں کہ آج سے پچاس سال قبل کا انسان زندہ ہوجائے تو یہ سب دیکھ کر اسے یقین نہ آئے، وہ اسے ایک خواب سمجھے، لیکن ایک جگہ آکر میرے دماغ کی سوئی حرکت کرنا بند کر دیتی ہے۔کیا ہم سب وہ کر رہے ہیں جس کا حکم اسلام اور خداوند نے دیا؟ بیٹی جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا،اسے کتنا زحمت بنا دیا گیا؟

مانا عورت کا اصل مقام گھر کی چار دیواری ہے لیکن یقین مانیے ہم نے سے متعلق ایسے نظریات گھڑلیے ہیں گھر سے باہر نکلنے والی عورت ہم سب کی نظر میں بدکردار ہوتی ہے. انہیں اپنے کردار کی صفائیاں پیشں کرنے کے لیے قرآن اٹھانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ ایسا مرد جو آپ سے کردار کی صفائیاں بات بات پر مانگے، اس سے کمزور سہارا کیا ہوسکتا ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ اس کا اپنا کردار کسی کے سامنے بیان کرنے کے قابل نہیں‌ہوگا۔ ایسے سہارے سے بہتر عورت کوئی جانور پال لے جو آپ سے آپ کے کردار کی صفائیاں نہ مانگے۔

وقت سے بڑا بے رحم کچھ نہیں، لیکن وقت سے بڑا مرہم بھی کوئی نہیں ۔نہ یہ کسی کے لیے رکا نہ رکے گا۔دریا کی موجوں اور بے لگام گھوڑے کی طرح بسں دوڑتا چلا جاتا ہے۔ میں اگر ماضی کے دالان میں سوچوں کے دریچوں سے آ گے سیڑھوں سے اوپر بند کمرے سے آتی ہوئی روشنی کی طرف جاؤں تو یقین مانیے یہ روشنی اسلام کی ہے۔اسلام سے زیادہ جدید مذہب کوئی نہیں۔اسلام حق حقوق دیتا ہے تو ہم انسان کیا اور ہماری حیثیت کیا؟ اسلام کو قرآن وسنت کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے والو! کبھی حقیقت میں قرآن اور حدیث کا مطالعہ کیا تو سارے حقائق کھل جائیں گے. وہ جو آپ لوگوں‌نے مختلف ثقافتوں کو اپنا مذہب بناکر پیش کیا ہے، اسلام ایسا ہرگز نہیں!

مسئلہ یہ ہے کہ آج کی جدید نسل پڑھ کر حقیقت کی دنیا میں‌چلی جاتی ہے. وہ جان لیتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے کیا حقوق رکھے ہیں؟ شاید یہ اب گوارا نہیں ہوتا۔ بہت سے تو پچھتاتے ہیں کہ کیوں‌پڑھایا بیٹیوں‌کو؟ کیونکہ ان میں سمجھنےاور سوچنے کی حسں آگئی ہے۔ پڑھا لکھا کر اتنے احسان کر کے جو گنتی میں بھی نہ آئے تو کسی ایک ایسے شخصں کے حوالے کردینا جسں کی ذات اور سوچ گٹر کے جیسی گندی اور بدبودار ہو، وہاں سے شروع ہوکر اپنی ہی ذات کی `میں` پر ختم ہو تو ویاں بیٹیاں آباد نہیں ہوتیں وہاں بیٹیاں نفسیاتی مریضں بنتی ہیں اور بن چکی ہیں۔ ڈپریشن میں گھری آنے والے کل کو سوچتی ہوئیں نفسیاتی مریضائیں۔ والدین تو بیساکھیاں ہیں، سہارے ہیں جب یہی سہارے کمزور پڑ جائیں نا تو یہیں نازوں سے پلی منہ کے بل گر جایا کرتی ہیں۔

یں خود ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں اپنی بات کو سمجھانا نافرمانی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک بہت پڑھی لکھی فیملی کا حصہ ہوں، یہ بات فخر نہیں بہت سی لڑکیوں کے لیے کیونکہ ان کے گھر والوں کی سوچوں کے زاویے بھی انہی لوگوں سے جاملتے ہیں جہاں کہا جاتا ہے کہ اب ہم تجھے رخصت کررہے ہیں سسرال سے نکلے تو تمہارا جنازہ ہی نکلے تم نہیں"

کیا نازوں‌سے پلی بیٹی کے ساتھ یہ روا جائز ہے؟ ہر انسان کا مزاج مختلف ہوسکتا ہے اور پھر شادی کے بعد مزاجوں کا بدلنا بھی تو عین ممکن ہے. اگر کسی کی زندگی عذاب بن جاتی ہے تو کیا تب بھی اسے یہی کہا جائے گا؟میرا مذہب ایسا تو نہیں تھا نہ میرے نبی نے ایسا کحچھ فرمایا۔پھر کیوں ہم اپنی خواہشات کو مذہب کا نام دیتے ہیں؟ یہی کہوں‌گی کہ دین میں خود سے باتوں کا اضافہ کرنے والو! جاو تمہیں اللہ ہوچھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */