اب کچھ بھی کر لیا جائے کچھ ہونے کا نہیں - حبیب الرحمن

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لیا جائے گا اور خلاف ورزی کی مرتکب مارکیٹوں، فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں حتیٰ کہ رہائشی کالونیوں تک کو بند کردیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کورونا کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور جولائی میں اس میں مزید اضافہ ہوگا جس سے بچنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے۔

حکومت اب ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لے گی جس کی روزانہ کی بنیاد پر مجھے رپورٹ بھی دی جائے گی اور یہ کہ میں وزیراعظم ہاؤس سے اس تمام عمل کی خود نگرانی کروں گا۔عمران خان صاحب کا یہ فرمانا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزیاں کرنا کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے اور پاکستان میں ہی نہیں، بین الاقوامی سطح پر بھی اس سلسلے میں کافی تشویش پائی جاتی ہے لہٰذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب جہاں جہاں بھی ایس او پیز کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں وہاں وہاں سخت کارروائیاں کی جائیں گی، ایک اچھا فیصلہ سہی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عید سے ایک ہفتے پہلے عوام کو تھوڑی سی (اسمارٹ) آزادی دی گئی تھی، کیا اس وقت سے تا حال پورے پاکستان میں عوام کی جانب سے ایس او پیز کی دھجیاں اڑتی نہیں دیکھی گئیں؟۔ گلیوں، شاہراہوں، بازاروں، ملوں، کارخانوں اور فیکٹریوں میں لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ کیا حکومت کو نظر نہیں آئے؟۔

کیا لاک ڈاؤن کے اسمارٹ کئے جانے کے بعد سے پورے پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ہر آنے والے وقت کے ساتھ دن دگنی اور رات چوگنی کے حساب سے بڑھتی نہیں جا رہی اور کیا اموات کی شرح میں نہایت تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پورے پاکستان کے سارے مناظر نہ تو گہر، دھند یا فوگ کی وجہ سے دھندلائے ہوئے تھے اور نہ ہی گرد و غبار کے طوفان میں چھپ کر رہ گئے تھے تو کیا حکومتِ وقت کا فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ وبا کے پھیلاؤ کی تعداد سیکڑوں اور ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں میں تبدیل ہوجانے سے پہلے کسی قسم کے ٹھوس اقدامات اٹھاتی اور پاکستان کے عوام کو اس عذاب سے نکالنے کی جد و جہد کیلئے ویسے ہی عملی اقدامات اٹھانے کی منصوبہ بندی کرتی جس کے متعلق اب نئے سر سے غور کیا جا رہا ہے۔

حکومتی سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب جہاں اور جس مقام پر بھی افراد، اداروں یا شاپنگ سینٹروں پر ایس او پیز کی خلاف ورزی نظر آئے گی، ان کے خلاف نہ صرف سخت کارروائی کی جائے گی بلکہ ایسے سارے مقامات سر بمہر بھی کر دیئے جائیں گے، بے شک یہ فیصلہ سولہ آنے درست سہی لیکن میرے اپنے حساب سے اس فیصلے میں اب بہت زیادہ تاخیر ہو چکی ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی صرف یہ کہہ دینے سے کہ ملک میں دفع 144 نافذ کر دی گئی ہے یا کرفیو لگادیا گیا ہے تو لوگ 4 سے زیادہ کی تعداد میں جمع ہونا یا گھر سے باہر نکلنا از خود بند کر دیا کرتے ہیں، سراسر غلط اور لغو تصور ہے۔ لاک ڈاؤن نرم کر دینے کے بعد ایک ایسے ملک کے عام افراد سے جو بقول وزیر اعظم، کورونا کی وبا کو وبا ماننے کیلئے بھی تیار نہ ہوں، یہ توقع باندھ لینا کہ وہ اچھے بچوں کی طرح اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل پیرا ہو جائیں گے، ایک ایسی فاش غلطی تھی جس کی سزا نہ جانے اس ملک کے عوام کب تک اور کتنی قیمت ادا کرنے تک بھگتے رہیں۔ پورے ملک کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کئے بغیر حکومت کا یہ خیال کر بیٹھنا کہ عوام طے شدہ اصولوں پر من و عن عمل کریں گے کی سوچ نے ملک کو بہت بڑے خطرے سے دو چار کر دیا ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ اب معاملات قابو میں بھی آ سکیں گے یا نہیں۔

عمران خان نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر پورے عمل کی از خود نگرانی کریں گے۔ یہ بات شاید ان کے اپنے دل کی تسلی کیلئے اچھی ہو لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ لوگوں کی واضح اکثریت یہ سن کر مزید پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔ اب تک کئی درجن معاملات کے متعلق ان کا ایسا ہی فرمانا رہا ہے اور ایسے سارے معاملات یا تو مزید ابتر ہوگئے ہیں یا پھر ان کا ذکر تک سنائی دینا بند ہو گیا۔موجودہ صورت حال کے تناظر میں جو بات نہایت یقین کے ساتھ کہی جا سکتی وہ یہی ہے کہ اب خواہ پورے پاکستان کو جیل بنادیا جائے یا پریشان افراد، تاجروں اور اداروں پر جرمانوں پر جرمانے لگا دیئے جائیں۔

اگر حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ اب سختیوں سے کورونا قابو میں آ جائے گا تو یہ حکومت کی بہت بڑی بھول ہے کیونکہ جو وقت سخت اقدامات اٹھانے کا تھا وہ گزر چکا ہے۔ میرے نزدیک اب لنگر ونگر توڑ تاڑ کر کشتی کو موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کے علاوہ شاید کوئی اور راستہ بچا ہی نہیں ہے۔ اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ جو بات قیامت کی ہول ناکی کے ذکر سے شروع ہوئی تھی وہ کورونا کی جوانی پر آکر ختم بھی ہوتی ہے یا نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */