پولیو کے قطرے،ایک سازشی تھیوری - ڈاکٹر ابراہیم شیخ

مرکزی میڈیا میں اکثر میں نے یہ بحث سنی ہے کے پولیو ویکسین کے خلاف آواز اٹھانے والے سازشی تھیوریاں مانے والے ہوتے ہیں. ان لوگوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے. اور تصور یہ دلایا جاتا ہے کے ڈاکٹر سب متفق ہیں کہ ویکسین کا کوئی نقصان نہیں اور اسکے خلاف بات کرنا ہی بیوقوفی ہے. اس بات کو فروغ دینے کے لئے سٹرا مین ارگمنٹ استمال کیا جاتا ہے جہاں دکھایا جاتا ہے کے ویکسین کے خلاف صرف چند اعتراض ہیں جیسے مسلمانوں کی آبادی کم کی جارہی ہے، یہودی سازش ہے اور اس میں زہر ڈالا جارہا ہے وغیرہ وغیرہ .

اس کی وجہ سے اصل علمی اعتراض پیچھے رہ جاتے ہیں اور گفتگو فارما انڈسٹری کے مارکیٹنگ بروشر کی نقل بن جاتی ہے . اور اس بروشر کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں ہمارے ڈاکٹرز . جسکو نہ تو مینوفیکچرنگ کے بارے میں اتنا علم ہوتا ہے نہ انسان کے امیون سسٹم کی گہری معلومات ہوتی ہے. اور عوام یہ نہیں جانتی کے جس سفید کوٹ کی وہ تقلید کرتے ہیں، وہ خود عالمی اداروں اور فارما انڈسٹری کے مقلد ہوتے ہیں.ویکسین بنانے والوں کی مارکیٹنگ کا جائزہ لیتے ہیں:دعوی: پولیو ویکسین نے پولیو کا خاتمہ کیا:ڈبلیو ایچ او (WHO)اور بل گیٹس نے اپنی پولیو ویکسین کو بہترین قرار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ آج کل کی تمام ویکسینز موثر ہیں اور بیماریوں سے بچاتی ہیں. لیکن کیا اس بات کے پیچھے کوئی حقیقت ہے؟

اعداد و شمار سے یہ پتا چلتا ہے کہ ویکسینز کے اجراء سے قبل ، پولیو کی شرح اموات امریکہ میں 47 فیصد اورانگلینڈ میں 55 فیصد پہلے ہی کم ہو چکی تھی اور اس میں مسلسل کمی واقع ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ یورپین ممالک میں پولیو ویکسین کے استعمال سے پہلے ہی یہ بیماری خود سے ختم ہوتی جا رہی تھی.جب پولیو ویکسین چلائی گئی تو صحیح پولیو کیسز کی شناخت کرنا زیادہ مشکل ہوگیا تھا. اس کی وجہ یہ ہے کہ ویکسین سے پہلے تمام مفلوج انسیفلائٹس کے کیسز کو پولیو سمجھا جاتا تھا. ویکسین کے بعد ایسے کیس کو پولیو قرار دینے کے لیے لیب ٹیسٹنگ کے ساتھ ٦٠ دن کی نگرانی بھی ضروری ہوگی ۔ تاکہ دوسری انسیفلائٹس کیسیز اور پولیو کے درمیان تمیز ہو سکے ۔ &اس بات کی تائید 1950 کی دہائی کے دوران امریکی پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کی کمیٹی برائے تشخیص اور معیارات کے چیئرمین ڈاکٹر برنارڈ گرین برگ نے کی۔ ڈاکٹر برنارڈ نے یہ بھی بتایا کہ پولیو کیسز میں "کمی" ویکسین کی وجہ نہیں بلکہ کیس کی اطلاح دینے کے طریقہ میں تبدیلی کی وجہ سے ہے.2

پولیو کے مقابلے میں اسپٹیک میننجیٹس کے اعدادوشمار میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یہ سب پہلے کہاں دیکھا گیا ہے؟ابھی کورونا کے ساتھ بھی یہی معاملہ سامنے آیا ہے. پھیپھڑوں کے تمام امراض بلا تشخیص کے WHO کی ہدایت کے مطابق کورونا کی گنتی میں ڈالے جا رہے ہیں. جب ویکسین آجاے گی تشخیص کے لئے اینٹی جن ٹسٹنگ کی ضرورت لازم کر دی جاۓ گی اور اسی جادو کے ذریے کورونا ختم ہوجاۓ گادعوی؛ پولیو ویکسین محفوظ ہے
اگرچہ ڈبلیو ایچ او ، سی ڈی سی اور ان کے بنیادی فنانسرز بل گیٹس اور روٹری فاؤنڈیشن پولیو ویکسین کی افادیت کا دعوی کرتے ہیں کیا یہ دعوی سائنس کے ذریعہ ثابت ہیں ؟ ڈبلیو ایچ او نے سال 2000 تک پولیو کے خاتمے کو سامنے رکھتے ہوۓ عالمی سطح پر پولیو خاتمہ اقدام(GPEI – Global Polio Eradication Initiative) شروع کیا. اس وقت دنیا میں پولیو کے کیسز موجود تھے اور انہوں نے دعوی کیا تھا کہ یہ حفاظتی ٹیکوں کی کمی کی وجہ سے ہے۔:تاہم کچھ نئی معلومات سامنے آئیں

١. مصر میں کئی جگہ پولیوکی وبا پھیل گئی تھی جو کہ ویکسین سے ماخوذ تھی

٢. پولیو وائرس سے پہلے ہی امیونٹی حاصل کرنے والے کسی فرد کو حفاظتی ٹیکے لگانے سے وائرس کی نئی خطرناک اقسام پیدا ہونے اور آبادی میں پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے

٣. جاپان میں دریاؤں میں پائے جانے والے پولیو وائرس کی جینیاتی ترتیب سے پتہ چلتا ہے کہ غیر فعال پولیو وائرس جو ویکسین میں پایا جاتا ہے اپنے اندر تبدیلیوں کے بعد اپنی سابق طاقت حاصل کر چکا تھا.

٤. یہاں تک کہ مغربی ھمیسفیر ( ڈومینیکن ریپبلک ) میں بہت سارے پولیو کے کیسز سامنے آیے اور لیب ٹیسٹنگ کے ذریے ان کی وجہ پولیو ویکسین ہی ثابت ہوئی۔4 تحقیق کے مطابق جس کو بھی OPV پولیو ویکسین دی جاتی ہے وہ ویکسینیشن کے بعد ہفتوں تک اپنے جسم سے زندہ پولیو وائرس اخراج کرتا رہتا ہے اور آبادی میں پولیو کی خطرناک قسم کو پھیلانے کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔یہاں تک کہ ایک اور ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی کے صحت مند افراد میں بھی ویکسین کے بعد پولیو میں تبدیلی کے بعد فالج ہوسکتا ہے بلکہ ریسرچ کے مطابق دنیا میں پولیو ویکسین سے پھیلنے والے کیس نیچرل پولیو سے زیادہ ہیں ۔

اور یہ بات صرف سازشی تھیوری بنانے والے نہیں بلکے ویکسین بنانے والے اور اسکے مطلق پروپیگنڈا کرنے والے WHO کا بھی یہی کہنا ہے : بلکے یہ تو لکھتے ہیں کے ویکسین لگوانے والے کے رشتے داروں کو بھی آگاہی دینی چاہئے کے محتاط رہیں ویکسین کی وجہ سے خارج ہونے والا وائرس انکو فالج کا مرض دے سکتا ہے.غور سے پڑھیں تو یہ بھی لکھا ملتا ہے کے صرف یہ نہیں بلکے اور بھی تمام ویکسینز اس بات کی گارنٹی نہیں دیتیں کے اسکے بعد آپ اس بیماری سے محفوظ ہوجاینگے. بلکہ امیون سسٹم کے ماہرین کہتے ہیں کے ویکسین کو immunization یعنی بیماری سے مکمل تحفظ کہنا سائنس کے اعتبار سے جھوٹ ہے .یہ ایک انفلوئنزا وائرس کی ویکسین کا پیکج لیفلٹ ہے، جس پر لکھا ہے کہ کوئی کونٹرول ٹرائل یعنی سائنسی تحقیق نہیں کی گئی اس پر جسے یہ معلوم ہو کے یہ ویکسین انفلوئنزا سے ہونے والی بیماری سے بچاتی. آپ تھوڑی سی ہی تحقیق کریں تو پتا چل جاۓ گا اکثر ویکسین جو بچوں کو دی جاتی ہیں اسکے پیچھے نہ کوئی سائنسی تحقیق ہوتی ہے نہ اسکے موثر ہونے کا کوئی اور ثبوت ہوتا ہے، صرف انڈسٹری کے نمائندوں اور WHO کی مارکیٹنگ ہوتی ہے .

بھارت ، ایک ایسا ملک تھا جس کو ڈبلیو ایچ او نے پولیو سے پاک قرار دیا تھا، لیکن اس میں بھی ویکسین دیے گئے افراد میں فالج کے490000 کیسز سامنے آئے . سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کی اور معلوم ہوا کہ یہ ویکسین انسانی مائکروبائیم (microbiome) کو بدل دیتی ہے جس سے انسانی صحت کو خطرہ ہے . ہماری حکومت پاکستان نے بھی ایک درجن ویکسین سے پھیلے پولیو کیسز کو چھپانے کی کوشش کی .یہ (P2)قسم کا پولیو ہے جو کہ زیادہ خطرناک ہے اور فالج کا زیادہ امکان رکھتا ہے، ویکسین سے پہلے تقریباً ختم ہو چکا تھا اور ویکسین کے بعد دوبار سامنے آگیا. یہ سب دیکھ کر ڈاکٹر کہتے ہیں کے اس کا نقصان اسکے فائدے سے کم ہے . بات کم یا زیادہ کی نہیں بلکے جان بوجھ کر معلومات چھپانے کی ہے. پیناڈول کے پتے پر بھی اسکے فائدے اور نقصانات کی تمام تفصیل موجود ہوتی ہے. صرف ویکسین ایک واحد پروڈکٹ ہے جسکے نقصانات کی بات کرنے پر رسوائی کا سامنا کرنا پڑھتا ہے

آپ مجھے اپنے بچے کو ایک بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی قطرے پلانے کو کہ رہے ہیں، ایک ایسی بیماری جس سے اس کابیمار ہونے کا امکان ویکسین کے نقصان کے امکان سے بھی کم ہے ، جس کے خلاف زیادہ تر لوگ پہلے ہی امیون ہیں. وہ بھی ایسی ویکسین جس سے وابستہ خطروں سے مجھے اگاہ نہیں کیا جاتا اور آبادی میں وائرس کے خطرناک تناؤ کو دوبارہ متعارف کرانے کے لئے جانی جاتی ہے .اس سب کے بعد کیا آپ واقعی سائنسی برتری کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟طبی استعمال کی تقریباً تمام ادویات یا مصنوعات دستبرداری یا لاتعلقی کے نوٹس کے ساتھ آتی ہیں . صارفین کو ان کے ضمنی اثرات اور اس سے وابستہ خطرات کے بارے میں آگا کیا جاتا ہے بیشک کہ اس کا خطرہ کم ہی کیوں نہ ہو. اور یہ دعویٰ کہ ویکسین ١٠٠ فیصد محفوظ ہے کسی بھی سائنسی ثبوت کے بغیر کیسے قانونی طور پر شائع کیا جاتا ہے. ویکسین کے لئے جو یہ خاص قانونی گنجائش ہے اسکے پیچھے بھی ایک خطرناک فریب ہے لیکن وہ سمجھنے کے لئے ویکسین پر لگاۓ پیسوں پر نظر ڈالتے ہیں.

دعوی : پولیو ویکسین مفت ہے.میڈیا پر یہ بات بار بار دھرا کر ہمیں یقین دلایا جاتا ہے کے سلامتی کے مسیحا بل گیٹس اور اسکے ویکسین بنانے والے انویسٹر خیر خواہی کا کام کر رہے ہیں اور ان پر تنقید کرنا محض سازشی تھیورسٹ کا کام ہے پولیو ویکسین پروگرام مفت ہے. اور عطیات کی بنیاد پر قائم ہے. آئیے دیکھتے ہیں پیسا کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے:

١. گیوی (GAVI) بین الاقوامی فاؤنڈیشن جو دنیا کو ویکسین فراہم کرنے کا کام کرتی ہے بل گیٹس فاؤنڈیشن نے بنائی تھی .

٢. گیٹس فاؤنڈیشن "ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ"(Research and Development) منصوبوں کے تحت فیکٹریاں تیار کرتی ہے اور دنیا بھر میں ویکسین بنانے والے کاروبار میں شیئرز خریدتی ہے.

٣. گیٹس فاؤنڈیشن GPEI (گلوبل پولیو خاتمہ انیشیٹو بذریعہ گیوی) کو بھی اس کے اہم معاون کی حیثیت سے مالی اعانت فراہم کرتی ہے۔ اور GPEI ، گیوی سے ویکسین خریدنے کے بعد ان کو 'عطیہ' کرنے کا ذمہ دار ہے۔

٤. گیوی گلیکسوسمتھ کلائن (GlaxoSmithKline) اور فائزر(pfizer) جیسے مینوفیکچروں کے ساتھ کام کرتا ہے اور دنیا کو بیچنے کے لئے ان سے ویکسین خریدتا ہے

٥. غریب ممالک برائے راست ویکسین نہیں خریدتے کیونکہ ویکسین بنانے والے جس ریٹ پر گاوی کو دیتے ہیں اس ریٹ پر کسی کو نہیں دیتے
بل گیٹس فاؤنڈیشن یہ رقم کہاں سے کماتی ہے؟فنانشل - سرمایہ داری [Philanthro-Capitalism]: ان کا دعوی ہے کہ کاروباری بنیادوں پر مبنی خیراتی اور فلاحی کام کیا جاتا ہے. مثال کے طور پر آپ لوگوں میں آگاہی پھیلائیں کے انکو وٹامن ڈی کی بے حد ضرورت ہے. اور عالمی اداروں کے ذریعے کمپین چلائیں کے اگر وٹامن ڈی نہیں لی تو کروڑوں لوگ مر جائیں گے. اس کے بعد آپ تمام وٹامن بنانے والوں سے معاہدہ کریں کے اصل ریٹ پر آپ نے صرف مجھے بیچنی ہے باقیوں کے لئے ١٠ گنا مہنگی کردو . اس طرح آپکی مارکیٹ کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا ۔ لہذا وہ ویکسین میں سرمایہ لگاتے ہیں ، پھر ان ویکسین کو فروغ دینے والی این جی او کو فنڈ دیتے ہیں اور پھر ڈبلیو ایچ او جیسی تنظیموں کو فنڈ دیتے ہیں تاکہ وہ کسی نایاب بیماری کا خوف پھیلا کر ترقی پذیر ملکوں میں ویکسین کو مسلّط کریں . ، اب تک کا خلاصہ یہ ہے

١. بل گیٹس بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (BMGF ) کے مالک ہیں

٢. BMGF نے پاکستان جیسے ملک میں ویکسین بھیجنے اور لازم کرانے کے لئے ڈبلیو ایچ او اور جی پی ای آئی کو فنڈ فراہم کیے ہیں .

٣. پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک سے قرضہ لیا ہے. اس کی ضمانت بل گیٹس نے دی ہے.

گیٹس نے پاکستان کو گارنٹی دی ہے کے قرض پر سود کی ادائیگی میرے ذمے بشرطیکہ پاکستان بل گیٹس کی اطاعت کرےگا. یہ رقم تقریباً ٣٢٧ ملین امریکی ڈالر ہے

٤. اس کے بعد پاکستان غیر ملکی قرض لے کر یہ رقم ڈبلیو ایچ او / یونیسف / GPEI کو عطیہ کرتا ہے.٥GPEI گیوی (GAVI)سے ویکسین لینے کا آرڈر دیتا ہے۔
گیوی BMGF کی ملکیت ہے

٦.گیوی فائزر اور جی ایس کے سے سستی ویکسینیں خریدتا ہےاور اور اپنا منافع ڈالنے کے بعد GPEIکو فراہم کرتا ہے٧GPEI پاکستان کو یہ ویکسین پوھنچاتا ہے “مفت میں” لہذا بنیادی طور پر ، بل گیٹس آپ کو قرض دیتے ہیں اور آپ کو ویکسین خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ، آپ وہی ویکسین بل گیٹس سے اسی رقم سے خریدتے ہیں۔ بل گیٹس اپنی رقم رکھتا ہے اور آپ مقروض ہوجاتے ہیں۔

دعویٰ ؛ ویکسینیشن ضروری ہے.اس سب سے یہ سمجھا جا ساکتا ہے کہ یہ ویکسینیشن صرف ایک پیسے کمانے کا منصوبہ ہے ان گروپس کے لئے جو اس میں شامل ہیں. اور کہ یہ ایک ایسی بیماری کے آگے کوئی حقیقی فائدہ نہیں دیتی جو شائد ویکسین کے بغیر وجود میں نہ آتی. یا پھر آ کے دوسری وائرل بیماریوں کی طرح خود ختم ہوجاتی ۔ویکسینیشن پروگرام کا کوئی حقیقی انسانی جان سے متعلق مقصد اور معنی ہے؟

سی ڈی سی کے مطابق پاکستان میں اموات کی سب سے اہم وجوہات یہ ہیں: (ischemic heart deceases)دل کی بیماری 8٪ ، کینسر 8٪ ،(lower-respiratory infections) پھیپھڑوں کے انفیکشن 8٪ ، اسٹروک 6٪ ، اسہال کی بیماری 6٪ ، COPD پلمونری بیماری 5٪ ، ٹی بی 5٪ .اس کے مقابلے میں پولیو نے پچھلے ٧ سال میں 7 افراد کو ہلاک کیا جس کے لئے حکومت پاکستان 327 ملین امریکی ڈالر قرض لے کر امداد دے چکی ہے.اس رقم کا تھوڑا سا حصہ صحت کی حفاظتی اقدامات پر خرچ کرنا کیا بہتر نہیں ہے؟ جو پولیو کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانیں بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔لیکن پھر بل گیٹس اس سے نفع حاصل نہیں کرسکیں گے

تحقیق کے مطابق : [ذیل دعوے کو پیش کی گئی تحقیق سے ثابت کیا جاسکتا ہے

١. ویکسین بنانے والی کمپنیز اپنی مصنوعات پر تحقیق کی خود کفالت کرتے ہیں۔

٢. تحقیقی مضامین کے مصنفین جو ویکسین کی سیفٹی کے بارے میں لکھتے ہیں ، زیادہ تر ویکسین بنانے والی کمپنیز کے لئے کنسلٹنٹس ہیں جو گرانٹ کی رقم وصول کرتے ہیں. 21

٣. میڈیکل جرنل ویکسین کمپنیوں کے اشتہارتی آمدنی پر انحصارکرتے ہیں

٤. ویکسین بنانے والی کمپنیاں ہر کانگریس ممبر کے لئے تین ترغیب کار کو اپنی ملازمت میں رکھتی ہیں

٥. FDA اور سی ڈی سی ایسی تحقیق کی کفالت کرنے سے گریزاں ہیں جس سے ویکسین سے مطلق حفاظتی خدشات سامنے آئیں. یہ وہی ویکسینز ہیں جن کو وہ لائسنس اور پروموٹ کرتے ہیں لہذا انکے خلاف کسی قسم کا شک پھیلنے سے انکی شہرت کو نقصان اور قومی اعتماد میں کمی ہو سکتی ہے.

٦. ویکسین سے متعلقہ مسائل کی رپورٹس کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی جاتی ہے

7. ایف ڈی اے کو فارما انڈسٹری سے بہت زیادہ مالی اعانت ملتی ہے اور اس طرح براہ راست ان سے متاثر بھی ہے

2000 میں ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ،ڈبلیو ایچ او نے اعتراف کیا کہ OPV ویکسین خطرناک ہے اور کسی نئی آبادی میں پولیو کے ایک نئی خطرناک قسم کو پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے. پھردعوی کیا ک اس کو روکنے کے لئے ایک نئی ویکسین کی ضرورت ہوگی. یعنی کہ ایک بار جب انہوں نے OPV کا استعمال کرکہ پولیو وائرس پھیلادیا تو ، وہ اس کو روکنے کے لئے IPV کا استعمال کریں گے. یعنی کے آپ انکو OPV کے لئے رقم ادا کرتے ہیں اور جب اس کےاستعمال کے بعد خطرناک اقسام سامنے آتی ہیں تو پھر دوبارہ IPV کے لئے رقم دیں.

سوال یہ ہے کہ جب ڈبلیو ایچ او ویکسین کے ان خطرات سے اگاہ تھا تو ویکسین پروگرام شروع کرتے ہوئے ان کا عوامی طور پر اعلان کیوں نہیں کیا؟ بغیر کسی سائنسی اعداد و شمار کے ڈاکٹر کیوں کہہ رہے ہیں کہ ویکسین سو فیصد محفوظ ہے؟ صرف اس وجہ سے کہ ڈبلیو ایچ او اس بات کی حمایت کرتا ہے؟Epidemiologist , Immunologist اور دیگر مطلقہ سائنس دان اور ماہرین کو چھوڑ کر انسانی جسم کے مکینک یعنی ڈاکٹر کے ہاتھ اسکی نمائندگی کیوں دی گئی ؟
GPEI صرف پاکستان میں ویکسین کے محفوظ ہونے اور اعتماد قائم کرنے کے لئے اشتہاری مہموں میں 42 ملین امریکی ڈالر خرچ کر چکا ہے . یہ سب پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ کیوں کسی اور بیماری یا اس کے علاج کو پولیو کی طرح پروموٹ نہیں کیا گیا؟ ویکسین کو فراہم کرنے میں کم اور لوگوں کو اس کی سیفٹی سے اگاہ کرنے میں زیادہ رقم استعمال کی جا رہی ہے. دعویٰ؛ صرف سازشی تھوریسٹ ویکسین کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ٢٠٠٤ میں ایک اسٹڈی پر ایک تحقیقی مضمون کو امریکی پیڈیاٹرکس جرنل(American Pediatrics Journal) میں شائع کیا گیا جس میں ان امریکی خاندانوں کا پس منظر جانے کی کوشش کی گئی جو ویکسین کے خلاف تھے.

مندرجہ ذیل نکات دریافت ہوئیں :جن بچوں کو ویکسین نہیں لگائی گئی وہ اچھا کمانے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جہاں ان کی ماؤں کی تعلیم کالج ڈگری تک تھی. ان کے والدین نے ویکسین سے انکار کیا تھا، سازشی تھیوری سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ ویکسین کے حفاظتی خدشات کی وجہ سے ڈان نیوز یکم مئی 2017 میں شائع ہونے والے ایک خبر میں ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبد الستار عیسانی نے ایک ویکسینیشن ڈرائیو کے دوران مشاہدہ کیا کہ پولیو ویکسینیشن پروگرام کے مخالف لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اعلی تعلیم یافتہ تھی۔ اور ان میں سے بہت سارے تجربہ کار ڈاکٹر تھے۔

ویکسین کی افادیت پر سوال اٹھانا اور سائنسی معلومات کا مطالبہ کرنا کم عقلی کی علامت نہیں ہے . ہمیں اس ذہنیت سے دور جانے کی ضرورت ہے جہاں ادارے اور مہریں ہماری سوچ پر پابندی لگادیں اور باہر سے آنے والا کچرا بھی ہمیں سونا لگے اور ہمیں چاہئے کے ہم سائنسی تحقیقات ، تجرباتی اعداد و شمار کے طریقوں کی طرف واپس لوٹ آئین. اگلی بار جب ڈبلیو ایچ او ایک پوشیدہ دشمن پیدا کرے جس کے خلاف صرف اس کے اتحادیوں کے پاس ہی حل ہو تو ان سے ثبوت مانگتے وقت گھبرانا نہیں.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */