زمین ساکت ہے لیکن ہمارے دماغ گھوم گئے ہیں - ذیشان نور خلجی

ان کا نام فقیر محمد ہے۔ آزاد کشمیر کے ایک دور دراز گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں ماسٹرز کرنے بعد یہ اپنے گاؤں کے چند پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ 2012ء میں میری ان سے عید کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ ہم عید کے چاند کو ڈسکس کرنے لگے۔ میں نے کہا، کتنے افسوس کی بات ہے دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہمیں سرے سے چاند ہی نظر نہیں آتا۔

وہ کہنے لگے، یہ شوشہ انگریزوں نے اپنی برتری کے لئے چھوڑا تھا ورنہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ حضرت انسان نے چاند کو مسخر کر لیا ہے۔ میں مقبول بیانیے پر بضد تھا۔ جواباً انہوں نے کہا، مجھے وہ سیڑھیاں دکھائو جس کے سہارے سائنس دان چاند پر پہنچے تھے۔ اور آج آٹھ سال بیت چکے ہیں میں ابھی تک ان سیڑھیوں کو ہی تلاش کر رہا ہوں بلکہ ساتھ ساتھ وہ دھاگہ بھی ڈھونڈ رہا ہوں جس کی مدد سے پتنگ کی طرح ہوائی جہاز کو اڑا کر دور دیس عرب میں بھیجا گیا تھا اور جناب فقیر محمد، حاجی کے سابقے سے ہم کنار ہوئے تھے۔ کیوں کہ میرا ماننا ہے اگر چاند پر جانے کے لئے سیڑھیوں کی ضرورت ہے تو پھر جہاز کو اڑانے کے لئے بھی لازمی دھاگے کی ضرورت ہوتی ہو گی۔

یہ تلاش تو جانے کہاں تک چلے گی لیکن یار لوگوں نے اب ایک نئی ڈیوٹی بھی تفویض کر دی ہے، کہ بتاؤ اگر زمین گردش کرتی ہے تو پھر ہمیں چکر کیوں نہیں آتے۔ اور ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوں اور زمین کی گردش کے باعث وہ خود بخود ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جائے۔ دراصل نہ ہی میٹھے میٹھے اسلامی بھائی عمران عطاری زمین کی گردش کو روکتے اور نہ ہی ہمارے دماغ گھومتے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی نے آج سے تقریباً سوا سو سال قبل ایک کتاب لکھی جس میں ثابت کیا کہ زمین ساکت ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ اس وقت ان کی یہ کاوش علمی میدان میں بہت بڑی خدمت ہو گی۔ لیکن کیا ہے نا کہ آج دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔ تب کے دستیاب وسائل اور آج کی سائنس میں واضح فرق ہے اور اب تو باقاعدہ خلاء سے اس بات کا مشاہدہ کیا جا چکا ہے کہ زمین گردش کرتی ہے۔ تو پھر یہ سو سال پرانی باتوں کو سینے سے لگا کر بیٹھ جانا کہاں کی عقل مندی ہے۔

اوراہل مذہب حضرات زمین کے ساکت ہونے کے حق میں جتنی آیات پیش کرتے ہیں تو بار ثبوت کے لئے انہی پرانی تفاسیر کا سہارا لیتے ہیں جن کے لکھنے والوں کے زمانہ میں "زمین ساکت ہے" کا نظریہ معروف تھا۔ جب کہ اگر موجودہ سائنسی علوم کی روشنی میں ان آیات کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ قرآن ہرگز زمین کی گردش کے مخالف دعویٰ پیش نہیں کرتا۔ اور یہاں یہ سوال اٹھانا کہ قرآن زمین کی گردش کے حق میں یا رد میں کیوں صراحت نہیں کر رہا، تو اس باب میں بس اتنا ہی عرض کروں گا قرآن ایک آسمانی کتاب تو ہے لیکن آسمانی علوم (آسٹرونومی) کی کتاب نہیں۔ یعنی ہمیں ماننا ہو گا کہ یہ مذہب کی کتاب ہے نہ کہ سائنس کی۔"زمین حرکت کرتی ہے یا جامد ہے" سائنس کے باب میں اب یہ ایک تھکا ہوا سوال ہے جس کی طرف کہ اہل سائنس بھی اب دھیان نہیں دیتے۔ آج کے سوالات تو کہکشاؤں کو پاٹ رہے ہیں۔

اوراب اگر ہمارے میٹھے بھائی نے یہ موضوع چھیڑ ہی لیا ہے تو ان سے عرض کروں گا کہ مذہب کے باب میں، "کھیرا کیسے کاٹنا ہے اور کیلے کو کیسے رکھنا ہے" جیسے زریں مسائل پر گفتگو کر کے، اگر آپ اپنے امام جناب احمد رضا بریلوی سے ایک قدم آگے آ ہی چکے ہیں تو پھر براہ مہربانی سائنس کے میدان میں بھی ان کی تقلید کرنے کی بجائے جدید سائنسی علوم سے استفادہ کریں۔ ویسے بھی زمین کی گردش تو روکے نہ رکے گی لیکن آپ کی ایسی حرکتوں سے مسلک اعلیٰ حضرت ضرور گردش میں آ جائے گا۔