سانسوں پر فقط ایک سانس بھاری - محمد طیب زاہر

ہٹلر کا ذکر آتا ہے تو مودی بھی یاد آنے لگتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل نے بھی اس ظالم شخص کو ہٹلر سے تشبیہ دے دی ہے۔ہٹلر نے بھی بے پناہ لوگوں کا خون بہایا فرق صرف اتنا ہے ہٹلر نے یہودیوں کو مارا اور مودی نے گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی اور وزیر اعظم بننے کے بعد تو اور آپے سے باہر ہوگیا۔

اس انسانیت سے عاری شخص نے نہ صرف بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی 5 اگست 2019 سے کرفیو لگا کر رکھا ہوا ہے ۔کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں ۔یونائیٹد پریس انٹرنیشنل نے مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دے کر وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف پر مہر ثبت کردی ہے۔یونائیٹد پریس انٹرنیشنل کو بالآخر مودی کو ہٹلر سے تشبیح دینے کی ضرورت کیوں کر پیش آئی؟ اس کا چیدہ چیدہ سا جائزہ لے لیتے ہیں.بین الاقوامی نیوز ایجنسی کے مطابق مودی کورونا وبا کی آڑ میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے ۔اس بیمار شخص کے بقول بھارت میں کورونا پھیلانے کے ذمہ دار بھارت میں رہنے والے مسلمان ہیں۔یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار اور بھارتی پولیس مسلمانوں کو اس ظلم وبربریت پر احتجاج بھی نہیں کرنے دے رہی ۔اور تو اور مسلمانوں سے شہریت کا حق بھی چھین کر ظلم اور بربریت کی ایک نئی مثال رقم کردی ہے۔

اور سب سے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم اور جبر کا راج قائم ہے اس کی روشنی میں اس بین الاقوامی نیوز ایجنسی نے مودی کو ہٹلر سے مماثلت دی ہے۔مماثلت سے یاد آیاجب بچہ پیدا ہوتا ہے تو گھر والے کہتے ہیں کہ یہ اپنے ابا پر گیا ہے کوئی کہتا ہے نہیں ماں پر گیا ہے ۔ٹھیک اسی طرح جب مودی پیدا ہوا ہوگا تو اس کے گھر والوں نے کہا ہوگا اس کی شکل ہٹلر سے ملتی ہے ۔خیر!ہٹلر ایک جابر حکمران تصور کیا جاتا ہے جس نے اپنی نازی فورس کی پوری طاقت یہودیوں اور سیاسی مخالفین کا نام و نشان مٹانے میں جھونک دی۔ہٹلر کو ہٹلر اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے کئی لوگوں کا خون بہایا۔آؤ شوٹس نامی مشہور قتل گاہ جو پولینڈ میں واقع ہے۔ہٹلر نے جنگ عظیم دوم میں پولینڈ پر قبضہ کیا تو اس نے یہاں مذکورہ قتل گاہ قائم کی ۔یہاں سینکڑوں لوگوں کو مختلف طریقے سے اذیت دے کر موت کی نیند سُلا دیا جاتا۔1940 سے لے کر 1945 تک اس قتل گاہ میں ہٹلر نے خوب خون کی ہولی کھیلی۔ہٹلر نے کل 7 اذیتی مراکز قائم کئے تھے۔ اس سے ہم ہٹلر کے شدت پسند ہونے کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔

ہٹلر کو ذہنی مریض بھی کہا جاسکتا ہے جو دوسروں کو تڑپا تڑپا کر مارنے میں مزہ لیتا تھا۔ طریقہ کو چھوڑ کر باقی ساری خصلتیں اور مقصد مودی میں ہٹلر والی ہی پائی جاتی ہیں۔مودی کے جگمگ بھارت کی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے شہر کیرالہ میں حال ہی میں ایک حاملہ ہتھنی کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا جس سے انسانیت کے ساتھ شاید حیوانیت بھی شرما جائے ۔ ہتھنی بھوکی تھی تو لوگوں نے اس کو بارود سے بھرا اناناس کھلا دیا تین دن وہ تڑپتی رہی اور کوئی اس کی مدد کو بھی نہ آیا نتیجہ یہ نکلا کہ ہتھنی نے تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دی۔ہٹلر اپنی بیوی ایوا براؤن کو ساری زندگی شادی کا خواب دکھاتا رہا اور وہ ساری زندگی اس خواب کی تعبیر دیکھتی رہی۔ہٹلر نے جب زیر زمین بنکر میں خود کشی کی تو اس کی بیوی نے بھی اس کےساتھ موت کو گلے لگا لیا اور ہٹلر نے خودکشی سے ایک دن پہلے ایوا براؤن سے شادی کی ۔

بعض تاریخ دان کے نزدیک ایوا براؤن فقط چالیس گھنٹے سے بھی کم وقت کے لئے ہٹلر کی بیوی رہ سکی۔ہٹلر کو بھی موت سے پہلے اپنی بیوی پر ترس آگیا یہی نہیں مرتے وقت زیرِ زمین بنکر جہاں دونوں میاں بیوی نے اپنی جان دی وہاں بنکر کے کونے پر ہٹلر کی ماں کی تصویر بھی موجود تھی ۔وہ اپنے باپ سے نفرت کرتا تھا لیکن اپنی ماں سے بہت پیار کرتا تھا۔بات کہنے کا مقصد اتنا ہے کہ ہٹلر کا کہیں نہ کہیں نرم گوشہ دیکھنے میں آیا لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ ہٹلر ایک مظلوم آدمی تھا۔بھارت میں تو ہتھنی بھی نفرت اور تشدد کا نشانہ بنی اس کے باوجود کے اس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔مودی سرکار ہٹلر سے بڑھ کر ظالم ہے اس کا مکروہ چہرہ سب کے سامنے آشکار ہوچکا ہے ۔نام نہاد سیکولر بھارت کی جارحیت دنیا کے سامنے ہے۔ مودی کی مثال اس بندر جیسی ہے جس کے ہاتھ میں ماچس دے دی گئی ہو۔مودی کے ہاتھ بھارت لگ گیا ہےاور وہ اس میں اپنے ہاتھوں سے آگ لگا رہا ہے ۔مسلمان اس کے خلاف صدا بلند کر رہے ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں برہان مظفر وانی جیسے عظیم سپوت نے آزادی کی تحریک کا آغاز تو بہت پہلے ہی کردیا تھا۔برہان وانی کے بعد آزادی کی تحریک چلانے والے ریاض نائیکو بھی بھارتی فوجی کی گولی کا نشانہ بنے ۔لیکن مقبوضہ کشمیر سمیت پورے بھارت میں آگ اب دونوں جانب برابر لگ چکی ہے ۔اب مودی اسے چاہتے ہوئے بھی بُجھا نہیں سکتا۔ مقبوضہ کشمیر ہو یا بھارت کے مسلمانوں پر مودی سرکار کا ظلم عالمی برداری نے اس پر آنکھیں موند رکھی ہیں ۔اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں مودی اور اس کے بھارت کو بےنقاب کرکے رکھ دیا اور کشمیر کا مقدمہ عالمی فارم پر احسن طریقے سے لڑا ۔جس کے بعد عالمی دنیا کی آنکھیں کھلی لیکن اب ایک بار پھر ایسا محسوس ہوتا ہے یہ آنکھیں نیم حالت میں جا رہی ہیں جو پھر بند ہونے کے قریب ہیں ۔کشمیر عالمی سطح پر موضوع بحث نہیں رہا جتنا امریکہ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کا قتل عالمی دنیا کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جارج فلائیڈ سیاہ فام کی حمایت میں برطانیہ آسٹریلیا، جرمنی، اسپین اور فرانس میں نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہرے کیے گئے . لیکن کشمیر کے نام پر سب کو چھپ لگ گئی.کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد مختلف ممالک میں احتجاج ہوئے اور پھر معاملہ سرد ہوگیا۔لیکن امریکا سمیت دیگر ممالک اب بھی جارج فلائیڈ کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں ۔یہ نسلی تعسب پسندی صرف امریکا میں نہیں بلکہ مذہبی انتہا پسندی بھی اس معاشرے کی اہم بیماری ہے جس پر عالمی برادری زیادہ توجہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ اب جارج فلائیڈ کے آخری الفاظ دعائیہ کلمات بن گئے۔افریقی امریکیوں نے 'وہ مجھے ماردیں گے، میرا دم گھٹ رہاہے، پلیز سر، میراسانس رک رہاہے'، کے الفاظ دعا میں استعمال کیے۔سانس صرف جارج فلائیڈ کا نہیں رکا زندگی صرف ایک شخص کی نہیں لی گئی ۔بھارت کے مسلمان اور اور مقبوضہ کشمیر کے شہری سب جارج فلائیڈ ہیں جو روز مودی کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں ۔

ان کا بھی دم گھٹ رہا ہے ان کی بھی سانس ختم ہو رہی ہے لیکن کسی کو ان کی آہیں اور سسکیاں سنائی نہیں دے رہیں ۔بدقسمتی کے ساتھ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی دم تورتی سانسوں پر صرف جارج فلائیڈ کی سانس بھاری نظر آتی ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کی ظلم اور جبر سے ان کی آخری سانسوں میں ان کے ادا کئے ہوئے آخری کلمات بھی دعا بن کر ابھریں اور مودی کے لئے بددعا ثابت ہوں۔لداخ معاملے پر مودی اور اس کی فوج کے منہ پر جو تپھڑ پڑے ہیں ایسی ہی سبکی دنیا بھر میں مودی کی ہوگی۔مودی سیڑھی چڑھتے ہوئے جس طرح منہ کے بل گرا ایسے گرے گا کہ پھر وہ اُٹھ نہیں پائے گا۔ویسے بھی پہلے سے گرا ہوا کتنا گر سکتا ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */