ارطغرل سیریز: ہمارے رویے، مصنف کی سوچ‎ - سید سلمان علی

دریلیش ارطغرل کے نام سے ترک ڈرامہ سیریز نے پاکستان و اطراف میں بلکہ دنیا بھر میں اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستان میں تو پہلا سیزن سرکاری طور پر جاری ہے البتہ انٹرنیٹ کی بدولت عوام چھٹے پر پہنچ چکی ہے اور اب تو ہر بدھ کو ترکی زبان میں ہی دیکھ سن اور سمجھ لیتی ہے ۔
میرے دائرہ علم کے مطابق اب تک مسلم دنیا کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اس طرز کاکوئی کام نہیں ہوا۔

ناظرین پر پڑنے والے اثرات سماجی میڈیا پر موجود بے شمار گروپس میں ڈسکشن کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔

اس میں واقعی کچھ دل دکھانے والی افسوس ناک پوسٹیں ہوتی ہیں جنہیں۔۔۔ سادگی کہیں یا نادانی ؟

یہ سوالات نما پوسٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ آپ شایداب تک آپ اس سیریز کو جتنا بھی دیکھ چکے ہیں ( ڈیڑھ سو جمع 24 اقساط میں سے) تو وہ محض انٹرٹینمنٹ کی خاطر وقت ضائع تھا۔

بس پھر جان لیں کہ وقت کی بھاری جوابدہی ضرور ہوگی۔ بہتر ہے کوئی انڈین فلم یا ہالی ووڈ یا نیٹ فلکس پر سسپنس سیریز وغیرہ دیکھ لیں جیسا پہلے سے کرتے آرہے تھے ،کہ آپ اسی قابل رہ جاتے ہو۔

یو ٹیوب پرکل ہی ایک ویڈیو دیکھی جو بڑے فخر سے ارطغرل میں سے تکنیکی و اسکرین پلے کی خامیاں نکال کر بتانا کارنامہ سمجھ رہا ہے۔
ٹوئٹر پر تواتر سے ٹرینڈ بنتا دیکھتا ہوں۔ ہاں، اس میں پھر بھی کچھ نہ کچھ لمیٹیشن حدود کہ وجہ سے مقصد، کہانی، پیغام کا ذکر آجاتا ہے تو خوشی ہوتی ہے۔
کوئی کلپس نکال کر، کوئی فائٹنگ سیکوئینس نکال کر کسی ترانے یا منقبت پر شاٹس لگاکر خوش ہورہا ہے۔ میمز والے میمز بنا رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو اُن کو سلام کہوں گا کہ جنہوں نے اس طویل سیریز کا اردو ترجمہ کیا۔ وہ واقعی قابل تعریف و تحسین ہیں اور ان کو سب مائنس کر دیتے ہیں۔ اصل تو گیو می 5 والے ہیں، پھر اب مکی ٹی وی، یا ٹی وی اردو بھی تیزی سے کام کررہےہیں جو کہ سب قابل تحسین ہیں۔

بُرا مت مانیے گا باقی سب تو۔۔۔

جذبات میں ابتدائی قدم کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن باقی جو کچھ سوالات، پوسٹیں گروپس میں شیئر ہوتی ہیں ان سے ضرور کہوں گا کہ
زندگی میں کبھی ڈرامہ تو کیا کبھی ٹک ٹاک ویڈیو بھی نہیں بنائی ہوگی جو اب آپ محمد بوزداغ کی اتنی بڑی پیشکش پر عجیب سوالات نکالتے ہیں۔
جان لیں یہ وہی ہے
جس کی 150 اقساط کے سحر میں جنون کی حد تک مبتلا رہے؟
فخر سے لوگوں نے لکھا کہ ہم نے کئی دن رات جاگ کر سیریز پوری کی۔
مگر اس کے بعد کیا بس یہی سیکھا کہ کونسی اداکار کیسی اداکاری کرتا ہے؟

کون کہاں کیوں چلا گیا؟
کتنا سفر کتنے منٹ میں طے ہوا؟
چہرے کے تاثرات کیا تھے؟
فلاں کردار کہاں چلا گیا؟

ارطغرل کو میدان جنگ میں بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر بھی کوئی سبق نہیں لیا۔ پر اپنی نمازیں اس ڈرامے کے لیے چھوڑتے گئے، اسی کو تو لہو ولعب کہتے ہیں۔

پھر آج کیا فرق رہ گیا۔

کیا سیکولر، کیا لبرل، کیا متاثرین سب اصل پیغام سے منہ چُرانے کے لیے کبھی اس کو اسلامی ثقافت، کبھی تاریخ تو کبھی کچھ لیبل کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

جو کہتے ہیں کہ ارطغرل تو مسلمان تھا ہی نہیں، جو کہتے ہیں کہ سارا فکشن ہے، آپ بھی اپنے عمل سے وہیں پہنچ جاتے ہو۔

اچھا یہ بتائیے کہ پلاٹ کیا ہوتا ہے آپ سات سیزن بنانے والے بوزداغ کو سکھاؤگے؟ جی ہاں اس وقت وہ ساتویں سیزن کی ریکارڈنگ میں مصروف ہیں۔
لوگ ڈیڑھ گھنٹہ کی ہالی ووڈ بلاک بسٹر میں دسیوں کمیاں نکال لیتے ہیں یہ تو ایک قسط ہی دو گھنٹہ کی بناتا ہے۔ ہوں گی ، اس میں بھی لا تعداد تکنیکی و اسکرین پلے کی خامیاں ہوں گی کیوں کہ بہرحال انسان ہے۔

سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اصل پیغام کو چھوڑ کر لوگ کہانی، کرداروں، پلاٹ، اسکرین پلے کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ یہ کوئی عام ڈرامہ ، فلم یا کہانی ہے ؟

کسی کو یہ کہنے کی ہمت و جرأت نہیں کہ ہمیں اس ڈرامہ نے اپنا بھولا مشن یاد دلایا ہے کہ ہم بھی اللہ کے نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ہمیں اس زمین پر اللہ کا نظام لانا ہے اس کے لیے ارطغرل کی مانند کردار پیدا کرکے ایمان، تقوی و جہاد کی بنیاد پر اس زمین پر ایک عادلانہ حق پر مبنی نظام کی جدو جہد کرنی ہوگی۔ اسکے علاؤہ ہمارا کوئی مقصد وجود نہیں۔

یہ عظیم پیغام چھوڑ کر ہمیں سب کچھ یاد ہے۔ کورونا کے خودرو ماہرین کی طرح ہم بھی اپنے لیول سے بڑھ کر تکنیکی تبصرے کر رہے ہیں۔ اتنی بڑی پروڈکشن کوئی معمولی بات ہے۔ یہ خیمہ بستی آٹھ سال سے سجا کر رکھی ہوئی ہے بوزداغ نے ۔ یہ معمولی بات ہے کیا؟

ترکی میں سارے کردار فارغ بیٹھے ہیں جو یہ سارے کام کر سکیں۔گھڑ سواری، تلوار بازی وغیرہ۔
ایک سال کی تو ٹریننگ ہوئی ہے اداکاروں کی، کچھ معلومات ہیں بھی کہ نہیں۔خیال رہے کہ دیگر پروجیکٹ بھی کرتے ہیں اداکار۔

یہ ترک ڈرامہ تاریخ کا طویل ترین پروجیکٹ ہے جس کو اس وقت لگاتار آٹھواں سال چل رہا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ اسوقت کورونا بھی آگیا ہے، اسی لاک ڈاؤن میں ساتویں سیزن کی ریکارڈنگ جاری ہے۔

بوزداغ کا انٹرویو دیکھا تو پتا چلے گا کہ یہ ڈرامہ اس نے خالص اللہ کی طرف سے دیئے گئے اشاروں کی بنیاد پر لکھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ "یہ میرے اندر کا طوفان تھا جسے نکالنا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس نے ہر ہر دل پر اثر کیا۔ "

اچھا یہ بتائیں کہ کسی بھی غیر مسلم کاصرف ڈرامہ دیکھ کر قبول اسلام کا واقعہ ایویں لگتا ہے آپ کو۔
بوزداغ نے تو مراد پا لی۔
آپ نے اتنا وقت لگا کر کیا پایا یہ آپکو سوچنا ہوگا؟
اسکرین پلے ، کرداروں کا جھول یا زندگی کا مقصد؟

اس سے آگے نکلنا ہوگا وگرنہ کیا صرف تلواروں اور کلہاڑے کی پریکٹس کرتے رہنا ہی اصل حاصل ہے؟
اچھا یہ بھی جان لیں کہ ۔ایسا کیوں ہوا؟ کیسے ہوا ؟ جسے ہم سادہ زبان میں لفظ "برکت" کہہ سکتے ہیں۔
کیسے یہ اداکار دلوں پر راج کر گئے۔ کیا اس سے پہلے ان اداکاروں نے کام نہیں کیا تھا؟

لیکن آپ دیکھیں کہ کیا شرق کیا غرب ۔۔ کیا شمال کیا جنوب ۔۔سب پر یکساں اثرات ہوئے اداکاروں کے، اداکاری کے، پیش کش کے۔۔۔

جب یہ محمد بوزداغ کی زبانی جانا تو سمجھ آیا۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ ان کے اندر بچپن ہی سے حاصل شدہ قرآنی تعلیمات کا موجزن طوفان ہے ، اُن کا مکمل دینی گھرانہ تھا جس میں قرآن کو اولیت حاصل تھی۔ پھرانہیں ایک روز خواب میں اس جانب اشارہ ملا تبھی وہ اس کام میں آئے۔
پھر ارطغرل کو بنانے میں یہ کام، یہ سوچ، یہ فکر کو ایک سال لگا کر انہوں نے تمام کرداروں میں منتقل کیا۔۔۔ تب جا کر کرداروں نے اللہ کی مدد سے ایسا انصاف کیا جس کے اسکرین پر آپ ہم سب گواہ ہیں۔

ایک نہیں کئی سین ، کئی ڈائیلاگ ، کئی مناظر ایسے ہیں جو اندر سے آپ کی روح کو ہلا دیں۔ اس لیے میں ایک خاص پس منظر رکھنے اور خاص لٹریچر کے مطالعہ کی بدولت اس کو محض ڈرامہ نہیں قرار دیتا کہ یہ ڈرامہ آج چھ سال لگا کراس بات کی ہیمرنگ کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا عادلانہ نظام ہی ہونا چاہیے۔یہی سب کو امن، خوشحالی دے گا۔ یہی ارطغرل کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا اور یہی درحقیقت ہماری زندگی کا مقصد ہے ۔

بوزداغ صاحب کا صاف کہنا ہے کہ سیریل بناتے وقت اور آج بھی ہم نے اس پروجیکٹ کا کمرشل ایسپیکٹ نہیں سوچا تھا اللہ نے آگے چل کر خود رستے کھولے۔۔۔
ایک اور اہم نقطہ یاد رہے کہ محمدبوزداغ کے تاحال کیے گئے تمام کام دیکھ کر بھی آپ میری بات کی تصدیق کریں گے: یونس ایمرے۔ مہمچک کتلعمارے۔ کتل ظفر۔ انصاف کی تلوار۔۔ ان شاہکاروں پر تو ابھی بات شروع ہی نہیں ہوئی لیکن ان سب کے پیچھے غور کریں ، کام دیکھیں تو میری باتوں کی تصدیق کے ساتھ ساتھ یہی پیغام ملے گا۔

مزے دار بات یہ ہے کہ یہ سیریز جو قیام دین کے لیے ریاست کے حصول کو ایمان، استقامت، جہاد کے عظیم درس کے ساتھ تربیت دیتی ہے۔
اس کو عمل کی دنیا میں لانا ہوگا، حلیمہ و بالا کی خوبصورتی، عثمان و ارطغرل کی اداکاری، کون اچھا ولن، کون نویان سے بدتر اور بہتر۔
اب اس کے چکر سے نکلو اور اپنی بے مقصد زندگیوں میں اللہ کی زمین پر اس کا نظام لانے کی جدو جہد کا سوچو۔ کہیں اقساط میں کھو کر اصل بات سے محروم نہ رہ جانا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */