سنتھیا رچی، کتنی حقیقت کتنا فسانہ - قادر خان یوسف زئی

سیاسی و غیر سیاسی شخصیات پر الزامات کوئی نئی بات نہیں، بالخصوص #MeToo تحریک میں ایسی شخصیات بھی سامنے آئیں، جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ وہ جنسی ہراسانی کے واقعات میں ملوث رہے ہوں گی۔#MeToo مہم 2017میں ہالی وڈ پروڈیوسرہاروی وائنسٹن پر18معروف اداکاروں کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے بعد شروع ہوئی۔

سنگین الزامات لگانے والی اداکاراؤں، ماڈلز، گلوکاراؤں، فیشن ڈیزائنرز اور صحافیوں میں انجلینا جولی، ایشلے جڈ، جیسیکا بارتھ، کیتھرین کنڈیل، گوینتھ پالٹرو، ہیدر گراہم، روسانا آرکوئٹے، امبرا بٹیلانا، زوئے بروک، ایما دی کانس، کارا دیلوگنے، لوشیا ایونز، رومولا گرائے، ایلزبتھ ویسٹوڈ، جوڈتھ گودریچے، ڈان ڈیننگ، جیسیکا ہائنز، روز میکگوان، ٹومی این رابرٹس، لیا سینڈوئکس، لورین سوین اور مرا سرینو معروف شخصیات شامل تھیں۔جس کے بعد تین برسوں میں یہ تعداد ہزاروں و لاکھوں تک پہنچی۔

امریکی شہری و بلاگر سنتھیا رچی نے سیاسی جماعت کے سنیئر رہنماؤں پر مبینہ جنسی زیادتی کے الزامات عاید کرکے بھونچال پیدا کردیا۔ سینئر رہنماؤں نے سختی کے ساتھ خاتون کے الزامات کی تردید کی اور اس وقت دونوں فریقین قانونی چارہ جوئی کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سنتھیا رچی نے سیاست دانوں کے جواب میں کچھ نجی نوعیت کی تصاویر بھی شئیر کرنا شروع کردیں، ان کے بارے میں خاص و عام جانتے ہیں کہ وہ مختلف پاکستانی ثقافت کے مختلف مقامات کو اجاگر کرنے کے لئے متعدد دستاویزی فلم بھی بنا چکی ہیں، معروف اخبارات و میگزین کے لئے لکھتی بھی ہیں، ٹویٹر پر ان کے فالورز کی تعدادایک لاکھ 74ہزار سے زاید ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کبھی غیر معروف شخصیت نہیں رہیں۔

شخصیات پر الزامات کی تحریک#MeTooمیں لاکھوں خواتین نے ماضی میں اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں و ہراسانی کے واقعات کا ذکر کیا، بھارت کی بھی کئی اہم شخصیات می ٹو مہم کی وجہ سے الزامات کی زد میں آئیں۔ پاکستان میں اس تحریک کو خاص شہرت تو نہیں ملی، لیکن مشہور و معروف کئی شخصیات نے جب اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے واقعات کو دوہرایا تو عوام ششدر رہ گئے، عدالتوں میں مقدمات بھی چل رہے ہیں، کئی واقعات میڈیا میں بھی زیر بحث چلتے رہے۔ جنسی ہراسانی کے واقعات کی اس بازگشت میں 9برس بعد ڈائریکٹر پروڈیوسر بلاگر و لکھاری سنتھیاڈی رچی کا مخصوص سیاسی جماعت کے سنیئر رہنماؤں پر سنگین الزامات عاید کرنا، غیر معمولی نوعیت کا حامل واقعہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اُس وقت کے وزیر اعظم و وفاقی وزیر داخلہ و وزیر صحت پر لگائے جانے والے الزامات کے بعدو سوشل میڈیا میں اب ریاست کے ایک اہم ادارے کی کردار کشی کا قابل مذمت سلسلہ شروع ہے جو ناقابل برداشت وتیرہ ہے کہ واقعہ کسی بھی نوعیت کا ہو، سوشل میڈیا میں وائرل ہوجائے، تو اہم ریاستی ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی جاتی ہے، اس سے ملک کے قومی وقار کو زک پہنچتی ہے اور ریاستی اداروں کے خلاف دشنام طرازی کرنے والوں کو ایک اور موقع مل جاتا ہے۔

امریکی اداکار ایلسا میلانونے #MeTOO کے عنوان سے جب اس ٹرینڈ کا آغاز کیا تھا تو غالباََ انہیں کبھی توقع نہیں رہی ہوگی کہ یہ ٹرینڈ دنیا کو ہلاکر رکھ دے گا۔ یہاں اس بات سے قطع نظر الزامات لگانے والوں کی کتنی داد رسی ہوئی اور کتنے مایوس ہوئے، یہ اَمر قابل غور ہے کہ برسوں پرانے زیادتی و ہراسانی کے واقعات کو ثابت کرنا دشوار گذار عمل ہے۔ یہ بہت ہی گنجلگ معاملہ ہے کہ جب تک ملزم خود اعتراف نہ کرے، کسی جنسی ہراسانی کے واقعے کو ثابت کرنا، جوئے شیر لانے کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کا بدترین نقصان اُس وقت ہوتا ہے جب الزامات لگانے والی شخصیت ٹھوس شواہد کو پیش نہیں کرپاتی، عمومی سوال اٹھا یاجاتا ہے کہ ایک دہائی تک خاموش رہنے کی وجہ کیا تھی۔ لیکن اس موقف کو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ خوف زدگی یا ضمیر کی خلش میں ہمت جتانے میں وقت لگ جاتا ہے، کیونکہ جنسی ہراسانی کی شکار شخصیات، چاہے کتنی ہی باہمت دکھائی دیتی ہوں، اس قبیح فعل کا شکار ہونے کی وجہ سے معاشرے میں اپنا عزت و مقام کھونے کے ڈر اور اَن چاہے سوالات کی گردان کی وجہ سے خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔

سنتھیا رچی نے ایک ایسے وقت میں سیاسی جماعت کے اہم رہنماؤں پر سنگین الزامات عاید کئے، جب کہ مملکت میں کرونا کی بدترین صورتحال ہے، حزب اختلاف و حکمران اتحادی جماعتوں میں ’تین کا آکڑا‘ ہے۔یہاں سیاسی مخالفت کے باعث ان الزامات پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتی کیونکہ موجودہ حکومت کی کئی اعلیٰ شخصیات پر ماضی میں بھی سنگین الزامات عاید کئے گئے، ذاتی زندگی کو میڈیا کے ٹاک شوز میں اچھالا گیا، بلکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں تو بعض وفاقی وزرا ء کے خلاف ذو معنی تقاریر، تو شرم سے سر جھکا دیتی ہیں،کئی معروف شخصیات کے اسکینڈلز بھی آچکے ہیں، سوشل میڈیا میں کئی قابل اعتراض ویڈیوز بھی سامنے آچکی ہیں، جن کا ذکر اس وقت کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔

سنتھیا رچی الزامات وسوالات کا جواب ترکی بہ ترکی دے رہی ہیں، سیاسی جماعت کے کارکنان میں غیض و غضب بھی ہے، سوشل میڈیا تو ویسے بھی شتر بے مہار ہے، ان حالات میں اگر سوشل میڈیا میں گر ی ہوئی زبان استعمال ہوبھی رہی ہے تو اس کا سہرا کس جماعت کے سر جاتا ہے، یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اصل لب ِ لباب یہ ہے کہ کیا ہماری مملکت میں سیاست کے لئے عوامی ایشوز ختم ہوچکے کہ رکیک موضوعات پر ہلچل مچانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس سے قبل بھی ایک خاتون اینکر پرسن نے متنازع کتاب لکھی تو اس پر الیکٹرونک میڈیا نے جو پروگرامنگ کی، اسے مفاد عامہ کے حق میں بہرحال قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سنتھیاڈی رچی کے الزامات بھی حساس نوعیت کے ہیں، فریقین اپنے الزامات میں کتنے سچے یا جھوٹے ہیں، اس پر یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کام انصاف فراہم کرنے والے اداروں کا ہے۔

کم ازکم اس قسم کی خبروں کو سنسنی خیز بنا کر، ریاستی اداروں پر انگشت نمائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے، یہ عمل انتہائی ناقابل قبول ہے۔فریقین کے لئے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں، یہی مناسب پلیٹ فارم ہے، جہاں قانون کے مطابق داد رسی حاصل کرنے کے لئے رجوع کرنا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے قائد یا سنیئر رہنماؤں پر ہر دوقسم الزامات د اور اس کے ر الجواب کسی مسئلے کا حل نہیں۔ #MeToo تحریک میں بھی اُن شخصیات کو سزا ملی، جن کے معاملات عدالتوں میں گئے۔ فریقین میڈیا میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے مناسب فورم استعمال کریں تو یہ سب کے حق میں بہتر ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */