غیر سنجیدہ کون، حکومت یا عوام - حبیب الرحمن

وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے عوام نے کورونا کو سنجیدہ نہ لیا تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔ لوگ اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عوام ایس او پیز پر عمل نہ کرکے اپنوں کی زندگی خطرے میں اور ملک کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا بلکہ وبا پھیلنے کی رفتار کم ہوجاتی ہے جبکہ کوئی ملک زیادہ عرصے لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری ساری جدوجہد یہ ہے کہ ملک میں کورونا تیزی سے نہ پھیلے تاکہ اسپتالوں پربوجھ نہ پڑے۔

وزیر اعظم کا ایسا فرمانا کوئی پہلی بار نہیں ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری ہونے والے بیانات کا اگر نچوڑ نکالا جائے تو ہر بیان میں یہی ایک بات زیادہ زور دے کر کہی جارہی ہے کہ لاک ڈاؤن کیونکہ مسئلے کا حل نہیں اس لئے اس وبا سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ان کے نزدیک صرف یہی ہے کہ جو ایس او پیز طے کر لئے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل کیا جائے اور اگر اس میں عوام نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔عمران خان کی کہی گئی ایک بات بھی غلط نہیں اس لئے کہ اس وبا سے بچ رہنے کے دو ہی طریقے اب تک سامنے آئے ہیں۔

ایک یہ کہ پورے ملک میں سناٹے کا راج نافذ کر دیا جائے اور ہر قسم کی انسانی و مشینی نقل و حرکت بند کردی جائے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کو اسمارٹ بنا دیا جائے لیکن افراد کی اتنی ذہنی تربیت کر دی جائے کہ وہ خارزار راہوں سے گزرتے ہوئے اپنے لباس اور جسم کو بے رحم اور نوکیلے کانٹوں سے بچا کر گزرنے لگیں اور وبا کے پھیلے کیچڑ پانی سے خود ہی بچ بچ کر چلیں۔ پہلی تدبیر کو مکمل سختی کے ساتھ اختیار کر کے دنیا کے دو ممالک اس بلا کو ٹالنے میں مکمل طریقے سے کامیاب ہو چکے ہیں جس میں چین اور نیوزی لینڈ شامل ہیں لیکن جو دوسری تدبیر ہے اس کو اختیار کرنے کے بعد دنیا کا اب تک کوئی ملک بھی وبا کو اپنے ملک سے بھگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایسے سارے ممالک میں روزانہ کے حساب سے ہزاروں افراد وبا کی زد میں آرہیں ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

موجودہ جو صورت حال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان اب تک اس وبا سے بچنے کیلئے جو جو بھی تدبیریں اختیار کرتا رہا ہے وہ دنیا کی نقالی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ جب دیکھا کہ دنیا کے شہروں میں سناٹے ہیں، سناٹا کئے جانے کا اعلان کر دیا اور جب محسوس کیا کہ آزادیاں بحال کر دی گئی ہیں تو "پیچھے امام کے اللہ اکبر" کہہ کر صف بندی کر لی۔

بات پہلی تدبیر کی ہو یا ثانی الذکر کی، دونوں پر عمل کرانا کس کی ذمہ داریوں میں آتا ہے؟، یہ ہے وہ اہم ترین سوال جس کو اربابِ حکومت و اختیار نے کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔ جب پورے ملک میں کورونا کے کیس نہ ہونے کے برابر تھے، سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ تو ضرور کیا گیا لیکن کیا حکومت اس پر 30 فیصد بھی عمل در آمد کرا سکی؟۔ بے شک بڑی مارکٹیں اور خرید و فروخت کے مراکز بند رہے لیکن گلی کوچوں میں زندگی کی چہل پہل میں کوئی کمی نہ آئی۔ اسی طرح شہروں میں ایک بڑی تعداد میں ٹریفک رواں دواں رہا۔ جب وبا پھیل گئی تو لاک ڈاؤن کو اسمارٹ بنانے کا اعلان تو کیا گیا لیکن اس پر نظر ہی نہیں رکھی گئی کہ خرید و فروخت کا ہر مرکز مچھلی بازار کے مناظر پیش کرتا ہوا کیوں دکھائی دے رہا ہے۔

دنیا کے وہ ممالک جہاں عقل و فہم کا معیار ہم سے کہیں زیادہ ہے، ان میں لاک ڈاؤن اسمارٹ کئے جانے کی بات تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے لیکن جس ملک میں کورونا کو کوئی بیماری ماننے کیلئے ہی تیار نہ ہو اور تمام تر خبروں کے پہنچتے رہنے کے باوجود عوام اسے ایک ڈرامے سے زیادہ اہمیت ہی نہ دیتے ہوں، جہاں علم کی روشنی بھی دیگر ممالک سے کافی کم ہو اور جہاں مزاجوں میں قبولیت سے زیادہ رد کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہو، اس ملک میں یہ سمجھ لینا کہ لوگ از خود ساری احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں گے، نادانی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

پورے ملک میں ہر قسم کی نقل و حرکت کو ساکت کر دیا جائے یا کاروبار کی مشروط اجازت دیدی جائے، ہر دو صورتوں میں اس پر عمل در آمد کرانا صرف اور صرف حکومت کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ لاک ڈاؤن کو نرم کر دینے کی پالیسی بے شک مناسب فیصلہ سہی لیکن اس میں طے شدہ شرئط (ایس او پیز) پر عمل در آمد کرنے کا ذمہ دار عوام کو نہ ٹھیرایا جائے بلکہ یہ ذمہ داری حکومت اپنے سر لے اور پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرے ورنہ صرف کمبل کمبل کہتے رہنے سے لہو منجمد کردینے والی ٹھنڈ کبھی حرارت میں تبدیل نہیں ہو سکے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */