درھم ضبط کئے جائیں - احسان کوہاٹی

مضبوط جسامت کا وہ دراز قامت شخص ہاتھ میں درا لئے چلا جارہا تھا اس کی پیشانی پرپڑی شکنیں بتا رہی تھیں کہ وہ کسی معاملے میں الجھا ہوا ہے ،وہ مانوس راستے پر نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے چل رہا تھا کہ اسے کسی کے رونے کی آواز آئی وہ چونک گیادرے پر ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوگئی ،اس نے دیکھا زرا فاصلے پرایک عورت کھڑی رورہی ہے ۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اسکے پاس پہنچا’’کیوں روتی ہے کیا ہوا ہے ؟ ‘‘ دراز قامت شخص نے قدرے نرمی سے پوچھا لیکن اسکارعب اس قدر تھا کہ وہ خاتون سہم گئی اس نے تسلی دی توکہنے لگی’’میری مالکن نے مجھے تیل لینے بھیجا تھامجھے یہاں ٹھوکر لگی اور تیل کا پیالہ میرے ہاتھ سے گر گیا سارا تیل ضائع ہو گیا اب میں مالکن کو کیاجواب دوں گی وہ تو بہت غصے والی ہے وہ تو مجھے بہت مارے گی ‘‘عورت جو ایک سخت گیر مالکن کی لونڈی تھی یہ بتا کر پھر رونے لگی اسے روتا دیکھ کر وہ دراز قامت شخص جلال میں آگیا ،اسکے سرخ و سفید چہرے کے عضلات تن گئے اور درے پر ہاتھ کی گرفت مزید سخت ہوگئی دفعتا اس نے درا لہرایا اور زمین پر دے مارا،اسکی بارعب آواز بلند ہوئی ’’کیا میں نے تجھ پر انصاف نہیں کیا ؟‘‘

اسکا یہ کہنا تھا کہ گرے ہوئے پیالے سے تیل پی جانے والی زمین جیسے تھرا اٹھی اس نے سارا تیل اگل گیا ،وہ لونڈی حیران حیران یہ سب دیکھنے لگی وہ کبھی اس دراز قامت شخص کوتکتی اور کبھی زمین پر پڑے تیل کو ’’دیکھتی کیا ہو پیالے میں تیل ڈالو‘‘بھاری لیکن نرم آواز لونڈی سے مخاطب ہوئی لونڈی نے احسان مند نظروں سے اپنے امیر اپنے خلیفہ عمر فاروق ؓ کی جانب دیکھا اور پیالہ بھر کردعائیں دیتی ہوئی چلی گئی سیلانی جیسے جیسے حجاز کے لق و دق صحراؤں میں اونٹ چرانے والے عمر فاروق ؓ کی سیرت کا مطالعہ کرتا جا رہا تھاحیران ہوتا چلا جارہا تھا یہ کیسا حکمران تھا کہ زمین پر درا مارتا تو وہ پیا ہوا تیل لوٹادیتی خشک ہوتے دریائے نیل کو خط لکھتا تووہ لبالب بہنے لگ جاتا جری بہادر کہ مسلمان کفار کے مظالم شر سے بچنے کے لئے خاموشی سے ایک ایک کرکے ہجرت کر رہے ہیںاور یہ ہاتھ میں شمشیر لئے خانہ کعبہ کا طواف کرکے ان کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور ا نہیں پکار کر کہتا ہے کہ تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ اسکی بیوی بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھے اور اس کھلے چیلنج کے باوجود کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ وہ یہ چیلنج قبول کرتا۔

سیلانی کو ایک مضمون کی تیاری کے لئے کچھ معلومات درکار تھیں اس نے حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت کے بارے میںپڑھنے کے لئے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور پھر پڑھتا چلا گیااسے ہر سوال کا جواب مل گیا اسے پتہ چلا کہ احتساب کے بغیر عدل قائم نہیں ہوسکتا اور عدل کے بغیر حکومت قائم نہیں رہ سکتی، محلے بے چین اور شہر مضطرب ہوجاتے ہیں عام ،بے وسیلہ افراد کا جینا دو بھر ہوجاتا ہے جرائم معمول بن جاتے ہیںجو بل آخر معاشرے کو انارکی کے گڑھے میں دھکیل دیتے ہیں ۔۔۔ مرادِ رسول ظﷺ کے بارے میں تاریخ کا ہر ہر ورق سیلانی کو حیران کئے دے رہا تھا اور تاریخ اسکی حیرت پر کسی شفیق دادی ماں کی طرح مسکرا رہی تھی وہ بچپن میں ایسا ہی حیران ہوتا تھا جب وہ دادی کی گود میں سررکھتااوراور وہ اپنی نرم نرم انگلیوں کی کنگھی سے اسکے گھنگھریالے بالوں کے پیچ کھولتے ہوئے گئے وقتوں کے قصے سناتی ،آج تاریخ دادی جان بن گئی تھی وہ احتساب کی ایک عجب کہانی سنانے لگی’’اس دربار تو نہیں کہا جاسکتا کہ دربار تو بادشاہوں کے ہوتے ہیں لیکن دفتر کہنا بھی مناسب نہیں کہ وہاں بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم بیٹھا تھا۔

چلو جو بھی کہو حضرت عمر فاروق ؓ اپنے امور مملکت نمٹا رہے تھے کہ سامنے سے سلطان الاحادیث آتے دکھائی دیئے ،جانتے ہو ناکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کو سلطان الاحادیث کہا جاتا ہے ان سے پانچ ہزار چار سو سے زائد احادیث منسوب ہیں ،انہوں نے سرورکائنات ﷺ کے معیت میں بڑا وقت گزارا سب ہی ان کا بہت احترام کرتے تھے اور یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت عمر فاروق ؓ ان کے احترام میں کچھ پیچھے رہتے ؟ وہ تووہ تھے جو مسجد نبوی میں حضرت عباس ؓ کے گھر کا پرنالہ اس خیال سے ہٹوادیتے ہیں کہ بارش کا پانی مسجد میں گررہا ہے اور جب انہیں حضرت عباس ؓ بتاتے ہیںکہ یہ پرنالہ رسول اللہ ﷺکی اجازت سے لگایا گیا تھا تو وہ بے چین ہو کر ان کے ساتھ خود اس جگہ پر پہنچتے ہیںاور رکوع کی حالت میں جھک کر کہتے ہیں کہ عباس میری کمر پر کھڑے ہو کر یہ پرنالہ اسی جگہ پر لگاؤ، وہ ہچکچاتے ہیں کہتے ہیں کہ کسی اور سے لگوالوں گا لیکن خلیفہ وقت اصرار کرتا ہے کہ نہیں آپ اسی طرح میری کمر پر کھڑے ہوں اور یہ پرنالہ اسی جگہ لگائیں اور یہ پرنالہ ان کی کمر پر کھڑے ہو کر لگتا ہے ۔

جہاںمحبتوںعقیدتوں کی یہ شدت ہو وہاں ایک ایسا دوست سامنے سے آتا دکھائی دے جس نے’’ محبوب و مقصود‘‘ کی مجلسوں میں خوب وقت گزارا ہو تواس کا احترام اور اہمیت کیاہی ہوتی ہوگی لیکن یہ بھی ہے کہ وہ خلیفہ ء وقت بھی تھے انہوں نے امور خلافت بھی چلانے تھے انہوںنے ابو ہریرہ ؓ کو بحرین کا گورنر بنا کر بھیجا تھا اور اب وہ دو برس بعد سرکاری ڈیوٹی کرکے آرہے تھے انہیں ان کے کاندھوں پرایک گھٹڑی رکھی دکھائی دی ،پوچھا ابو ہریرہؓ یہ کیا ہے ؟ گورنر نے جواب دیا اس میں میرے دس ہزار درہم ہیں جو میں نے وہاں تجارت کرکے کمائے ،خلیفہ نے یہ سنا تو حکم دیا یہ دس ہزار دہم بیت المال میں جمع کر ا دو میں نے تمہیں وہاں کاربار بزنس تجارت کرنے کے لئے تو نہیں بھیجا تھا ۔۔۔یہ احتساب کا وہ فارمولا ہے جس نے ساری گھتیاں سلجھا ڈالی ہیں عمر فاروقؓ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی کو کہیں گورنر بنا کر بھیجتے تو اسکے اثاثوں کا ریکارڈ رکھ لیتے اور جب وہ اپنی ذمہ داریوںسے عہدہ برا ہوتا تو اسکے اثاثے کراس چیک کرتے یہی تو وہ احتساب تھا کہ جس نے بائیس لاکھ مربع میل میں ایسا عدل قائم کیا کہ وہ زمین پر درا مارتے تو وہ بھی لونڈی کاگراہوا تیل لوٹادیتی ۔

بزرگ تاریخ مجھے دور فاروقی کے روز و شب بتا رہی تھی اور میں کسی بچے کی طرح حیران حیران بیٹھا سنے جارہا تھا ،تاریخ نے اپنے سفید بالوں پر بے داغ چادر ٹھیک کی اور کہنے لگی’’جس جس ملک میںاحتساب ہے وہاں عدل ہے جہاں عدل ہے وہاں سکون ہے تمہارے پاکستان میں احتساب بیوروتو ہے مگر یہاں احتساب نہیں ہے اسلئے انصاف بھی نہیں ہے جب تک احتساب نہ ہوگا انصاف بھی نہ ہوگا‘‘۔تاریخ کی نصیحت کا ایک ایک لفظ آئینہ ہے جس میں ہم اپنے بگڑے اور مزید بگڑتے چہرے دیکھ سکتے ہیں ہمیں احتساب اور حساب کتاب اسی وقت اچھا لگتا ہے جب یہ دوسروں کا ہو اپنی جانب انگلی اٹھے تو پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں جس سے بھی حساب لیا جائے وہ ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے سیاسی انتقام کی دہائیاں دینے لگتا ہے ،جج سے بات کرو پوچھو کہ جب بیوی کچھ کماتی نہیں تو اسکے نام پر کروڑوں کی جائیدادیں کیسے تو وہ قانون کی کتابیںکھول بیٹھتا ہے قانون کی نت نئی تشریحات بیان ہونے لگتی ہیںجسٹس فائز عیسیٰ بڑا نام ہیں بڑے معتبر محترم ہیں لیکن وہ کیا اتنے معتبر ہیں جتنے عمر فاروق ؓ کے لئے ابوہریرہ ؓ تھے ؟

یقینا نہیں پھر جب ابوہرہ ؓ کا احتساب ہوسکتا ہے ان کے درہم ضبط ہوسکتے ہیں توان سے یاکسی اور سے سوال کیوں نہیں ہو سکتا ؟ جسٹس صاحب اگر جواب دے کر خود پر لگنے والے الزامات دھو ڈالیں تو انکا قد کاٹھ مزید بلند نہ ہو؟ وہ مثال نہ بن جائیں آنے والے وقت میں وہ ضرب المثل ہوجائیں گے ۔۔۔یہاں اس طرح کی کٹ حجتی کا مظاہرہ ہروہ شخص کرتا ہے جس سے سوال ہواور یہ بھی بات بھی خوب ہے کہ احتساب صرف سامنے کھڑے یا لکیر کے پار کھڑے لوگوں کا ہی ہوتا ہے اپنی صفوں پہ نظر کرم کم ہی جاتی ہے یا اپنی طرف احتساب ہوتا بھی ہے تو دکھاوے کا۔۔۔سیلانی اسرائیل کے وجود کو ناپاک سمجھتا ہے لیکن اس ناپاک وجود نے احتساب کا وہ کھرا نظام اپنا رکھا ہے جو کبھی ہمارے آباء نے قائم کیا تھا ۔

آج بھی اسرائیلی وزیر اعظم کی بیوی کو سرکاری پیسوں سے کھانا منگوانے پر عدالت طلب کرلیتی ہے سوال جواب ہوتے ہیں وضاحت مانگی جاتی ہے کہ سرکاری باورچی کے ہوتے ہوئے سرکارکے پیسوں سے کھانا کیوں منگوایا ؟ پیشیاں ہوتی ہیں اوربل آخر اسے وہ رقم سرکاری خزانے میں جرمانے کے ساتھ جمع کرانی پڑتی ہے۔۔۔ہمارے یہاں ہے کوئی ایسی مثال ؟ سیلانی نے بہت سوچا بہت سوچا اور نفی میں سرہلاتے ہوئے کمرے کی کھلے دروازے سے نیلے آسمان کی وسعتوں کو خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com