برابر کی اکثریت- مجیب الرحمان شامی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کی طرف سے ہر صبح کرنل شفیق کورونا وائرس کے متاثرین کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہیں۔ آج جبکہ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، 93983 کیسز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ 32581 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ 1265 افراد کی حالت نازک ہے۔ مُلک بھر کے 747 ہسپتالوں میں پانچ ہزار 60 مریض داخل ہیں۔ بڑی تعداد اپنے گھروں میں خلوت اختیار کیے ہوئے ہے۔ کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بازار اور دکھانیں کھلی ہیں۔ ٹریفک رواں دواں ہے، شادی ہال، کلب اور تفریح گاہیں البتہ بند ہیں۔ پنجاب حکومت پبلک پارکس کو کھولنے کا فیصلہ کر چکی ہے، اس کے ساتھ ہی ساتھ قواعد و ضوابط نافذ کرنے کے لیے بھی پُر زور بیانات داغے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی مارکیٹ میں کسی ایک دکان میں بھی کسی قاعدے کی خلاف ورزی ہو گی تو پوری مارکیٹ کو بند کر دیا جائے گا۔ ماسک نہ پہننے والوں کو جرمانے کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں سرگرمی دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں بھی انتظامی نقل و حرکت جاری ہے، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔ ہسپتالوں پر دبائو بڑھ رہا ہے، اموات میں اضافہ ہو رہا ہے، ڈاکٹروں کی پریس کانفرنسیں جاری ہیں، لیکن کوئی ان کی سننے والا نہیں نظر آتا۔ نئے فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کے مطالبات بھی ہو رہے ہیں۔ وینٹی لیٹرز کی دہائی بھی دی جا رہی ہے، حکومت ان کی ''وافر مقدار‘‘ کی یقین دہانیاں تو کراتی ہے لیکن یہ نہیں بتا پا رہی کہ انہیں چلانے والا تربیت یافتہ عملہ بھی ''وافر مقدار‘‘ میں موجود ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹر کسی رکشے یا موٹر سائیکل کی طرح نہیں ہے کہ بٹن دبائیے، اور کھٹ سے کھٹ کھٹ کر لیجیے، انہیں چلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کے لئے ایک پورا نظام درکار ہوتا ہے، جس کی طرف توجہ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کا موازنہ جرمنی، سپین، اٹلی اور فرانس سے کیا جا رہا ہے کہ جنہوں نے وائرس کی شدید یلغار کا منہ لاک ڈائون کے ذریعے موڑا، شدت میں کمی آئی تو معمولاتِ زندگی کی بحالی کی طرف توجہ ہوئی۔ پاکستان نے ابتدائی دِنوں میں ڈھیلا ڈھالا لاک ڈائون کیا، لیکن جب بے توجہی کے باعث مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو لاک ڈائون کو خیرباد کہہ دیا، گویا پاکستان دُنیا کے تجربات سے الٹ تجربہ کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔

ایک طرف انسانوں کے درپے وائرس منہ زور ہے، تو دوسری طرف فصلوں پر ٹڈی دل کا شدید حملہ ہو چکا ہے۔ کم و بیش آدھے ملک میں یہ پھیلا ہوا ہے، اور فصلوں کو چٹ کرتا جا رہا ہے۔ سید فخر امام کے بقول جون اور جولائی میں اس کے مزید جھنڈ افریقہ اور ایران کے راستے پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں یہ اس ''آسمانی لشکر‘‘ کا پاکستان پر سب سے بڑا حملہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے یہ بلوچستان اور کئی دوسرے علاقوں میں انڈے بچے بھی دے چکا ہے۔ مقامی افزائش نے اس کی تباہ کاریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس کی ایک مادہ دو سو سے بارہ سو تک بچوں کی افزائش کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایک سال میں اس کی تین نسلیں پروان چڑھ جاتی ہیں۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 52 اضلاع میں یہ دل موجود تھا۔ پانچ لاکھ ہیکٹر رقبے پر سپرے کر کے اسے تلف کیا جا چکا ہے۔ اِس وقت ایک ہزار سے زیادہ ٹیمیں اس کے خلاف آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ ٹڈی دل سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے تخمینے لگائے جا رہے ہیں۔ گویا کورونا کے ساتھ ساتھ یہ ایک اور وبا ہے جو ہماری مشکلات میں اضافہ کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ بجٹ کی آمد آمد ہے، وفاقی مشیر خزانہ نے یقین دلایا ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اندازہ یہ بھی ہے کہ کم و بیش تیس لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔ شرح نمو میں اضافہ تو خواب بن کر رہ گیا ہے۔ خدا معلوم کب اور کس طرح ہماری معیشت گرداب سے نکل پائے گی۔ کورونا حملے سے پہلے ہی حالات قابو میں نہیں تھے، اب تو دُنیا ہی بدل چکی ہے۔

اس قیامت در قیامت کے درمیان ہماری سیاست کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن والے ایک دوسرے کو للکارنے میں لگے ہیں۔ احتساب کے نام پر برسوں پرانے معاملات کھدیڑے جا رہے ہیں۔ طلبیاں جاری ہیں، گرفتاریوں کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزرائے کرام اور مشیران عظام لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں ہیں۔ احتسابی کارروائیوں کی داد وصول کرنے میں لگے ہیں۔ مخالفین کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی جو کوشش کی گئی، اس نے ماحول میں کشیدگی پیدا کر دی۔ انہیں ایک پرانے معاملے کی تفتیش کیلئے نیب نے طلب کر رکھا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ کینسر کے مریض رہے ہیں، زیر بحث معاملے کے بارے میں اپنا ریکارڈ فراہم کر چکے، اور پیشیاں بھگت چکے ہیں، کورونا کے ماحول میں انہیں حاضری سے معذور سمجھا جائے۔ نیب کے کئی اہلکاروںکے بارے میں یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ وہ ''کورونا پازیٹو‘‘ پائے گئے ہیں۔ ایسے میں شہباز شریف کی استدعا تھی کہ ان کے تحریری جواب پر اکتفا کر لیا جائے یا انہیں سکائپ کے ذریعے شامل تفتیش کیا جائے۔ ان کی یہ درخواست منظور نہ کی گئی، اور نیب کی ٹیم ان کی گرفتاری کیلئے حرکت میں آ گئی۔ اس سے پہلے وہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے تھے اور ان کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو چکی تھی۔

نیب کی ٹیم ان کی رہائش گاہ پر پہنچی، تو وہ ہاتھ نہ آئے، مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کے باوجود گرفتاری ممکن نہ ہو سکی۔ شہباز شریف آئندہ صبح ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہو کر عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے‘ لیکن ان کے بارے میں وزرائے کرام نے جو آتشیں لہجہ اپنایا، اور ان کے خلاف جو تند و تیز الفاظ استعمال کیے، اس نے بطور اپوزیشن لیڈر ان کا تشخص ابھارنے میں مدد کی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اربابِ اقتدار جب کسی مخالف رہنما کو ٹارگٹ کرتے ہیں تو اس کا بال بھی بیکا نہیں کر پاتے، لوگوں کی ہمدردیاں البتہ اس کے ساتھ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ شہباز شریف کو بھی اس کا فائدہ پہنچا، غیر معمولی انداز میں کی جانے والی کوئی بھی کارروائی بآسانی انتقامی قرار پا کر اپنے منفی اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ احتسابی اداروں کو اپنی جگہ بڑی احتیاط کے ساتھ اقدامات کرنے چاہئیں، گرفتاری سے زیادہ مقدمے کو حتمی شکل دینے یا دائر کرنے کو اولیت دی جانی چاہیے۔ معاملہ عدالت میں جائے گا تو خود ہی منطقی انجام تک پہنچ جائے گا۔ احتساب میں سیاست کو ٹانگ اڑانی چاہیے نہ سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جن کا کام ہے وہ جانیں اور ان کا کام۔
پاکستان آج کل جن حالات کا شکار ہے، ان کا اولین تقاضا ہے کہ حزبِ اقتدار اور اختلاف ایک ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے کورونا اور ٹڈی دل کے اثرات کم کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ ''جان ہے تو جہان ہے‘‘ کا محاورہ آج بھی اتنا ہی درست ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ اپوزیشن کو زندہ رہنے کا حق نہیں ملے گا، تو وہ بھی زندگی اجیرن بنا دے گی۔ اس کی طاقت کا غلط اندازہ نہ لگائیے، ماضی کی غلطیاں نہ دہرایے، چند ووٹوں کے فرق پر نہ اترائیے، ویٹو کسی کے پاس نہیں ہے۔ تقسیم کی سیاست نے پہلے بھارت اور اب امریکہ کی جو درگت بنائی ہے، اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اقلیتیں زیر نہیں کی جا سکتیں تو برابر کی اکثریت کو کیسے ہمیشہ کے لیے باندھ کر رکھا جا سکتا ہے۔