نسلی تعصبات،بھارت اوراسرائیل ،امریکا کے نقش قدم پر- عبدالرافع رسول

یہ بات طے ہے کہ بساط ارض پرخلق خدا،ایک بہت بڑی طاقت ہوتی ہے جواگرچاہیں تواپنے ظالم حکمرانوں کی شوکت وحشمت کوخس وخشاک بناسکتے ہیںاورانکے غروروتکبراورنخوت کوخلاک میں ملاسکتے ہیں۔امریکامیں نسلی تعصب کے خلاف ہورہا عوامی احتجاج اس پرمہرتصدیق ثبت کرتاہے۔ ایسالگ رہاہے کہ سیاہ فام یاکالے امریکیوں نے اپنے حقوق حاصل کرنیکے لئے آریاپارہونے کاعزم کررکھاہے۔

اوریہی وہ سٹیج ہوگاکہ امریکی انتظامیہ کوسیاہ فاموں کے تمام حقوق بالکلیہ تسلیم کرنے پڑیں گے ۔اگرانکے مطالبات نہیںمانے گئے توپھراس امرپریقین پختہ ہونے لگ رہاہے کہ امریکا کی منطقی ٹوٹ پھوٹ کا وقت آن پہنچاہے۔ بہت پہلے سے پائے جانے والی ا مریکی معاشرتی اور معاشی تقسیم کی وجہ سفید فام نسل کا مبینہ نسل پرست رویہ اب آخری حدوں کوپہنچ چکا ہے اور امریکامیں آج اسی منظم نسلی تعصب نے ر یاستی اور بنیادی معاشرتی چولیں ہلاکررکھ دی ہیں۔ یہ تعصب امریکا کی جڑوں کو کھوکھلا کرچکا ہے۔

امریکامیں سفید فاموں کی بالادستی اورسیاہ فاموں کے ساتھ نسلی امتیازکے اس خوفناک جگڑے کے دوران امریکامیں تین نعرے بلندہورہے ہیں ان میں سے ایک نعرہ (Black Lives Matter )یعنی سیاہ فام زندگیاں بھی اہم ہیں ۔ اس کے جواب میں سفیدفاموں کی طرف سے جونعرہ لگ رہاہے وہ ہے (All Lives Matter)یعنی سبھی زندگیاں اہم ہیں۔ اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ سیاہ فام مظلومیت کارونانہ روئیں۔تیسرانعرہ (Blue Lives Matter )یعنی نیلی زندگیاں بھی اہم ہیں۔ اس نعرے کا مقصد پولیس اہلکاروں کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا ہے۔دنیابھرمیں امریکاہی کی طرح برابری اور مساوات کی آڑ میں مذہبی تعصب اور نسل پرستی کے مکروہ چہرے کب بے نقاب ہونگے اورکب پوری دنیامیں ان چہروں کوپہنچاناجائے مظلومین کی آنکھیں تک رہی ہیں۔ حقیقت پر مبنی بے لاگ اور غیر جانبدار انہ تجزیہ کیاجائے تومبرہن طورپرجوبات سامنے آجاتی ہے اسکے مطابق امریکاکے بعدبھارت اوراسرائیل ہیں کہ جونسل پرستانہ نظریے کے تحت مسلمانوں کوتہہ وتیغ کررہے ہیں۔

بھارت اوراسرائیل دونوں امریکاکی مکمل تقلیدکرتے ہوئے نسلی تعصب کی بنیادپرمسلمانوں کاقتل عام کیاکررہے ہیں بلکہ اس جرم عظیم میں وہ امریکاسے بھی کہیں آگے ہیں کیونکہ دونوں نسلی بنیادکے ساتھ ساتھ مذہب کی بنیادپربھی مسلمانوں کے ساتھ خونین برتائو جاری رکھے ہوئے ہیں۔کشمیرپربھارت کاناجائزاورجابرانہ قبضہ ہے اوراس جارحیت کے خاتمے کے مطالبے پر بھارتی فوج اسلامیان کشمیرکووسیع پیمانے پرموت کے گھاٹ اتارہی ہے ،کشمیرمیں بھارت کا سفاکانہ کردار، اور اسلامیان کشمیرکے ساتھ غیر انسانی برتائو کی داستان بڑی دردناک ،اذیت ناک،الم ناک اور طویل ہے اس پرمستزاد یہ ہے کہ اب ان کے شہدائے کے جسدخاکی کوبھی ان کے سپردنہیں کیاجاتایہ سب کیاہے یہ نسلی تعصب کی کڑیاں ہی تو ہیں ۔جبکہ بھارت میں این آرسی کے بعدکے بعد جومظاہرے ہوئے تھے، وہ خالصتاََ شہری حقوق کی تحریک تھی اسے طاقت کے بہیمانہ طریقے سے کچلایاگیا۔

اور جو آگ وخون کا کھیل کھیلاگیا مورخ لکھ چکاہے کہ کس طرح جمہوریت کا چولاپہن کربھارتی حکمرانوں نے اپنے ہی شہریوں پر ظلم جبرکے پہاڑتوڑڈالے ۔ شہریت کے نئے قانون لانے کے بعد منقسم بھارتی معاشرے میںپورے بھارت میںمسلمانوں کے ساتھ عدم مساوات اورطبقاتی خلیج سے انکے تشخص بری طرح زد میں ہے جسے ان کاسکھ چین اگرکہیں تھاتوچھن چکاہے ۔ جبکہ عدلیہ اورمقننہ ،بھارتی عدالتیں،بھارت کانظام انصاف اورقانون بنانے والے ادارے اور قانون نافذکرنے والے ادارے با لخصوص پولیس اس وقت منظم نسلی تعصب ،تنفر وتمیز کے خطوط پر رواں دواں ہے۔ ایسے میں بھارتی مسلمانوںکی معمول کی زندگی کا پہیہ تقریبا رکتا ہوا دکھائی دے رہاہے۔جس سے یہ مترشح ہورہاہے کہ بھارت ایک ایساملک ہے کہ جہاں اکثریتی طبقے۔ہندئووں یاہنود کا فکری و عملی نظریہ بالکلیہ نسل پرستانہ ،فرقہ پرستانہ ،متعصبانہ ، منافرانہ ومتشددانہ ہے ۔بھارت میں دلت توروزاول سے ہی اسی صورتحال کاسامناکرتے چلے آرہے ہیں جوسیاہ فام امریکیوں کودرپیش ہے لیکن افسوس اب مسلمانوں کوبھی نشانے پررکھاگیاہے۔جس کی تصدیق پربے حدوحساب مثالیں موجود ہیں۔

کشمیرسے بھارت تک بھارتی فوج اورپولیس اورفلسطین میں اسرائیلی فوج جس نسل پرستی کی بنیادپرمسلمانوں کی نسل کشی کاارتکاب کررہی ہے عالمی سطح پر اس کے خلاف مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔اگرچہ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مایئکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اسرائیلی ریاست کی نسل پرستی کے خلاف اس نے مہم شروع کردی اوراسے(PalestinianLivesMatterاورBlackLivesMatter)کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ساتھ فلوائیڈ کا عنوان دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری عالمی مہم میں اسرائیلی ریاست کے فلسطینیوں کے خلاف جاری وحشیانہ جنگی جرائم اور نسل پرستانہ جرائم کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔اس مہم میں شامل ہونے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں ایک ذہنی مریض فلسطینی نوجوان کو بے رحمی کے ساتھ شہید کیا جب کہ اسی واقعے سے ملتے جلتے واقعے میں امریکا میں امریکی فوج نے ایک سیاہ فام شہری کو وحشیانہ ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل کردیا ۔

اسلام ہی وہ مقدس دین ہے کہ جس میں رنگ، نسل، علاقہ ، زبان کی بنیادپرکسی انسان کودوسرے انسان پرکوئی فوقیت نہیں اگرکسی کوکوئی فوقیت حاصل ہے تووہ صرف اورصرف تقویٰ کی بنیادپر حاصل ہے یعنی رب کاسب سے زیادہ پسندیدہ اس کاسب سے زیادہ فرمانبردارانسان ہے ۔باقی سب بتان رنگ وخون ہیں اسلام کے سامنے جن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔نسل پرستی ایک نظریہ ہے جو جینیاتی بنیادوں پر کسی انسانی نسل کا ممتاز ہونے یا کمتر ہونے سے متعلق ہے۔ نسل پرستی خالصتا کسی بھی خاص انسانی نسل کی کسی دوسری انسانی نسل یا ذات پر فوقیت یا احساس برتری کے حوالے سے امتیاز کا ایک نظریہ ہے۔نسل پرستی کی وجہ سے پڑنے والے اثرات کو نسلی امتیاز کا نام دیا جاتا ہے۔ ادارہ جاتی یا بڑے پیمانے پر نسل پرستی سے مراد کسی ایک نسلی گروہ یا آبادی کا دوسری نسل انسانی کے گروہ پر نسل کی بنیاد پر سہولیات، حقوق اور سماجی فوائد تک رسائی محدود کر دی جاتی ہے اور عمومی طور پر نسل پرستی کے شکار گروہ کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔نسلی امتیاز خصوصی طور پر لوگوں کے مختلف گروہوں میں حیاتیاتی درجہ بندی کے فرق کو واضع کرتا ہے۔ گو کوئی بھی شخص نسل، تہذیب یا جینیاتی خصوصیات کی بنیاد پر نسلی امتیاز کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن عمومی طور پر اس کے متوقع مجموعی نتائج انتہائی بھیانک ہوتے ہیں۔

نسل پرستی کی تعریف اور عمومی مطلب میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور اوائل میں یہ ایک انتہائی سادہ سی اصطلاح تھی، جس کے مطابق انسان جینیاتی لحاظ سے مختلف نسلوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان میں نسلی امتیاز یعنی ایک نسل کو کسی دوسری نسل پر فوقیت حاصل ہے۔محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نسل پرستی میں ترامیم اور اس کے پرچار میں سماجی سائنسدانوں کا غیر ارادی طور پر بڑا ہاتھ ہے۔ اس ضمن میں انیسویں صدی میں ہونے والے نسلی امتیاز کے چیدہ واقعات اور اس کے نتائج کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جینیات اور انسانی نسلوں بارے تحقیق نے بھی نسل پرستی کی لعنت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لحاظ سے انسانی نسلوں کی مخصوص جینیات، عادات، تاریخ، آبائی علاقہ جات اور گروہ سے تعلق چند ایسی معلومات تھیں جو دنیا میں نسل پرستی اور گروہ بندی کو مضبوط کرنے کا سبب بنی۔گو سائنسدان اور سماجی ماہرین اور تاریخ دان اس الزام کی تردید کرتے ہیں لیکن یہ پچھلے دو سو سال میں اس بارے ہونے والی تحقیق اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی نسل پرستی اور نسلی امتیاز کے واقعات میں اضافہ اس بات کے شاہد ہیں۔

امریکہ میں عوامی احتجاج کاجائزہ لیاجائے تواس حوالے سے اس کاایک مثبت پہلوبھی ہے کہ دنیا بھر کے مظلوموں کواس نے زبان دی۔ جمہوریت کے لبادھے میںبساط ارض پرجوقومیںمختلف الجہات سے ریاستی دہشت گردی کے باعث نسل کشی کی شکارہیں،ظالم ممالک کی فوجوں اورپولیس کی وحشیانہ بربریت کاانہیں سامناہے۔ قید و محن میں پڑے ہوئے ہیں۔ مظلومیت، تفریق و امتیاز اور اجنبیت کے شکار ہیں۔کالے قوانین کے تحت انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ دنیابھرکے تمام مظلوم طبقوںکوچاہئے کہ ان مظاہروں میں شامل ہو ں۔جس طرح ٹرمپ سیاہ فاموں پرڈھائے جانے والے مظالم کی یہ کہہ کرتوجیہ پیش کرتاہے کہ یہ لوگ شرپسندہیں اورمیں ان پراپنے کتے چھوڑ دونگامیں اپنی ملٹری کے ذریعے اس صورتحال پرقابوں پالوں گا۔ کشمیر،ہندوستان یافلسطین میں مسلمان اپنے عزیزوں کی لاشیں اٹھاکراحتجاج کرتے ہیں تو مودی اورنیتن یاہوکالب ولہجہ بھی اس وقت ٹرمپ جیسا ہی ہوتاہے۔