ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیاں - محمد عنصر عثمانی

ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت آتی جا رہی ہے اور سیاہ فام عوام کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔ کچھ دن قبل ایک امریکی شہری جارج فلائیڈ پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگیا تھا، جس کے بعد امریکہ بھر میں سیاہ فام آبادی سڑکوں پر آگئی اور امریکی دار الحکومت سمیت ملک کے دیگر شہر عوام کے رحم و کرم پر رہے۔ ان حالات میں صدر ٹرمپ نے اپنے روایتی لہجے، جس میں وہ پوری دنیا سے ہم کلام ہوتا ہے، اپنے عوام سے بھی اسی لہجے میں بات کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مظاہرین سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں گے، تو ہمیں سخت ایکشن لینا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی سمیت 15 ریاستوں میں فوج کو بلانا پڑ جائے۔

صدر کے اس سخت اعلان کے بعد امریکی عوام نے جارج فلائیڈ کی موت کو لے کر اپنے حق کے لیے اٹھائی جانے والی آواز، جو اب بھرپور احتجاج کی صورت اختیار کرچکی ہے کو کم نہیں کیا۔ 2جون رات دس بجے تک حالات ٹھیک تھے، لیکن جیسے ہی رات پونے دس بجے شہر ی انتظامیہ نے کرفیو کا اعلان کیا، امریکی شہری گھروں سے باہر آگئے اور وائٹ ہاؤس کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ حالات اتنا سنگین ہوگئے تھے کہ وائٹ ہاؤس سکیورٹی اور نیشنل گارڈ کے سینئر آفیسرز صدر ٹرمپ کو خفیہ بنکر میں لے گئے ۔ امریکی قانون میں یہ بات وضاحت سے موجود ہے کہ کسی بھی مشکل صورت حال میں صدر کی جان بچانا ضروری ہے، شاید اسی لیے وائٹ ہاؤس میں زیر زمین کئی محفوظ اور خفیہ بنکر بنائے گئے ہیں، مگر یہ پہلا موقع ہے کہ جب بہادر امریکہ کے طاقت ور صدر کو جان کے لالے پڑے ہوں اور وہ بنکر میں جا چھپا ہو۔

جارج فلائیڈ کے قاتل پولیس اہلکار ڈریک شیوان اور اس کے تین ساتھیوں پر اقدام قتل کے الزامات لگائے گئے ہیںجو کہ سیاہ فام امریکی شہریوں کی تسلی کے لیے کافی نہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پولیس نے سیاہ فام شہریوں کے ساتھ نسلی تعصب کا مظاہرہ کیا ہو۔اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں ،مگر جارج فلائیڈ کو جس انداز میں قتل کیا گیا ہے وہ سیاہ فام امریکیوں کے مستقبل کے لیے خطرناک طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق اکثر امریکی شہری اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سیاہ فام صدر باراک ابامہ کے دو دفعہ کے دور حکومت میں ایسا کبھی نہیں ہواکہ سیاہ فاموں نے سفید فاموں پر سماجی رعب ودبدبہ دکھایا ہو اوران پہ اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہو۔ لیکن صدر ٹرمپ کی پالیسیاں امریکی عوام کو مایوسی کا شکار بنا رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہ کرنے پرکئی ریاستوں کے گورنرز،شہری حکومتیں کو بے جاتنقید کا نشانہ بنایا۔

سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت سے پیدا ہونے والے حالیہ واقعات نے ٹرمپ کے صدر بننے کی صلاحیت پر پیداہونے والے شکوک و شبہات پر مہر ثبت کردی ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ٹرمپ کو وائٹ ہاوس میں لانا امریکی عوام کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ماہرین تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ’’جارج فلائیڈکو یاد کرو‘‘ ’’ سیاہ فام بھی جینے کا حق رکھتے ہیں‘‘ جیسے نعروں سے شروع ہونے والے احتجاج میں شدت اگلے ہفتے آسکتی ہے ،جب قاتلوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یہاں پرمقتول کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بہت اہمیت رکھتی ہے جس میں لکھا ہے کہ جارج فلائیڈکی موت گردن پر 9 منٹ تک گھٹنا رکھنے سے ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے سامنے لیٹ کر 9 منٹ کی خاموشی اختیار کی جس کا مطلب جارج فلائیڈ کے پولیس حراست میں گزرے منٹ کو یاد کرنا تھا۔ موقع پر موجود لوگوں کی بنائی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار ڈریک شیوان اوراس کے تین ساتھی جارج فلائیڈ کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مرنے کے تین منٹ بعد تک پولیس اہلکار اس پر بیٹھے رہے ۔مظاہرین کا کہناہے کہ یہ سیاہ فاموں کے ساتھ نسلی تعصب کی بدترین مثال ہے،جس پرسیاہ فام عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ امریکہ متاثر ہو ا اور اب تک ایک لاکھ سے اوپر لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ یہ مظاہرے ایسے وقت میں شروع ہوئے جب امریکی انتظامیہ کورونا وائر س کے بعد کی صورت حال سے نبٹنے کے لیے غور و فکر میں مصروف تھی ۔ مئی کے چوتھے ہفتے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں بغیر دستاویز سرحد پار کرکے داخل ہونے والے تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ان میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے بظاہر یہ اقدام کورونا وائرس کی وبا سے بچنے اور امریکا کے پبلک ہیلتھ سسٹم میں پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر کیاگیا تھا۔جس پرامریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن’’سی ڈی سی‘‘ کے سابق ڈائریکٹرنے بھی ان احکامات کی صدیق کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات پر ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کورونا وائرس کی وبا کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان احکامات کا اصل مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کی پالیسی کو مزید سخت بنانا ہے، تاکہ ایسے غیرملکی تارکین وطن کو روکا جاسکے جو بڑی تعداد میں میکسیکو سٹی سے امریکہ میں داخل ہوتے ہیں اور ان میں سیاہ فام امریکی بڑی تعداد میں شامل ہوتے ہیں ۔ ان غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے سیاسی پناہ کی کوششوں میںمزید مشکلات پیدا کرنا ہے ۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے میکسیکو کے بارڈر پر امریکی کسٹم اور بارڈر سکیورٹی کے دستے کے ساتھ ملاقات بھی کی تھی۔ کورونا کے بعد سیاہ فام آبادی کے مظاہرے ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں جب امریکہ کے عام انتخابات میں صرف چھ ماہ باقی ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ نے اپنے دور اقتدار میں جو سخت گیر پالیسیوں پر عمل کیا ہے وہی گلے کا پھندا بن چکی ہیں۔اور چھ ماہ بعد ہونے والا الیکشن ٹرمپ کے لیے ڈرونا خواب ہوگا۔