کورونا کے مریض پر کتنے ڈالر مل رہے ہیں؟ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اس حوالے سے بطور ایک کلینیشن میں ایک نکتہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ میرے علم میں کوئی ایک کیس بھی ایسا نہیں جہاں کسی ڈاکٹر کو کورونا کی رپورٹ کرنے یا کسی میت کو کورونا ڈکلیئر کرنے، چاہے وہ کورونا کا مریض ہی کیوں نہ ہو، پر کوئی ایک ٹکا بھی کسی سے، کہیں سے، کبھی آفر کیا گیا ہو۔ یہ وہ جان لیوا افواہ ہے جو مریضوں کو خطرے کے باوجود اسپتال سے اور ڈاکٹروں سے خوفزدہ کیے ہوئے ہے۔

جو مریض بالکل ابتدا میں مکمل تندرست ہوسکتے ہیں، وہ اس اور چند معاشرتی و قانونی خوف کی وجہ سے اسپتال پہنچنے میں دیر کرتے رہتے ہیں، حتی کہ جان لبوں پر آن پہنچتی ہے۔ تب معاشرہ قانون اور ہر خوف رشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے اڑ جاتا ہے اور مریض ہر صورت اسپتال پہنچنا چاہتا ہے۔ زندگی اہم ہے، معاشرتی مقاطعہ سے بعد میں بھی نمٹا جاسکتا ہے۔ جب ملک الموت سراہنے آپہنچتے ہیں تب ڈاکٹر تک پہنچ بھی گئے تو کیا ہوسکتا ہے۔ اسے ذرا عام الفاظ میں‌ یوں سمجھیں کہ اگر سو پوائنٹس میں سے 33 پوائنٹس تک کی بیماری پر "سروائیول ریٹ" اچھا ہے تب تک چونکہ بیماری شدید نہیں ہوتی تو مریض گھریلو ٹوٹکے کرتا رہتا ہے۔ اور اپنے گھر والوں سمیت اپنے مرض کے لیے رازداری سے کام لیتا ہے، کبھی یہ جان بوجھ کے ہوتا ہے، کبھی انجانے میں۔ لیکن اسپتال پہنچنے والے مریض عموما سیریز ہو چکے ہوتے ہیں۔ 50 فیصد سے زیادہ پھیپھڑے متاثر ہوچکے ہوتے ہیں۔ آکسیجن سیچوریشن ڈراپ ہورہی ہوتی ہے۔ 93 سے اوپر سیچوریشن والے جواں العمر لوگ جو کسی اور بیماری میں مبتلا نہیں وہ بہتر سروائیو کرتے ہیں۔ لیکن 55 سے اوپر اور کرانک امراض، مثلا دمہ، شوگر یا دل کے امراض میں مبتلا لوگ کمپلیکیٹڈ مریض ہوتے ہیں۔ عموما یہ اسپتال تب رپورٹ کرتے ہیں جب ان کی آکسیجن سیچوریشن 80 سے نیچے جاچکی ہوتی ہے۔

ایک اور غلط فہمی عام ہے کہ ہمارے مریض کو کرونا نہیں ٹائفائیڈ یا ملیریا یا عام نمونیہ ہے۔ ایسا بالکل ممکن ہے کہ مریض درست کہہ رہا ہو، اسے صرف ٹائفائیڈ ہی ہو یا کرونا کے ساتھ ٹائفائیڈ بھی ہو۔ اس کا پتا کیسے چلے گا؟ ٹیسٹ سے۔۔۔ اور ٹیسٹ اسپتال میں کیے جائیں گے۔ اسپتال کوئی جانا نہیں چاہتا، کرونا ٹیسٹ کوئی کروانا نہیں چاہتا۔ گھر بیٹھے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

اچھا اب ایک مریض گھر پر فیصلے میں دیر کرکے بالآخر اسپتال پہنچتا ہے۔ مریض کے پھیپھڑے 50 فیصد یا زیادہ ختم ہوچکے، کوموربیڈٹی بھی موجود ہے۔ وائٹل سائنز ڈراپ کررہے ہیں۔ ہائی فلو آکسیجن دینے کے باوجود خون میں آکسیجن کا لیول مینٹین نہیں ہورہا۔ یعنی بچنے کے 100 میں سے 90 فیصد تک کام بگڑچکا۔ ڈاکٹر نے ٹیکہ آرڈر کیا۔ پیرامیڈک نے انجکشن دیا جو کہ بہر طور آخری چانس کے طور پر لگایا ہی جانا ہے۔۔۔ مریض بچ گیا تو کوئی ایشو نہیں۔ کوئی شکریہ نہیں۔ لیکن مریض نہ بچا تو زہر کے ٹیکے والا بیان فورا جاری ہوجاتا ہے۔

کرونا کے مریض کے ساتھ اٹینڈنٹ کو نہ رہنے دینے میں نہ صرف اٹینڈنٹ کو مرض سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے بلکہ اس اٹینڈنٹ کی مریض کے کمرے اور بیرونی ماحول میں آزادانہ اور غیرمحتاط آمدورفت کی روک تھام کا خیال بطور احتیاط شامل ہوتا ہے، تاکہ اس مہلک مرض کو معاشرے میں پھیلنے سے بچایا جا سکے۔ اس کا ذکر اس لیے کیا کہ کچھ لوگوں‌کے خیال میں‌ ڈاکٹر کسی خاص مقصد کے لیے اس کے ساتھ آنے والوں‌کو اندر نہیں‌جانے دینا چاہتا. تاکہ ان کے مطابق وہ وہاں‌اپنا "کھیل" کھیل سکے۔

کورونا مریض کی نعش حوالے نہ کرنے کا معاملہ بھی اگر واقعی کہیں ایسا ہوا ہے تو، اسی احتیاطی تدبیر کی وجہ سے ہی ہوسکتا ہے جس کی وجہ غالبا حکومتی قوانین ہیں کہ باقاعدہ ایس او پیز کے ساتھ تدفین عمل میں لائی جائے۔

اچھا ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر خود لاوارث لاشوں کے جنازے پڑھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر مختلف پبلک سرونٹس، جن میں اے سی اور پولیس کے علاوہ شہری رضاکار شامل ہیں، انہیں بھی جنازے اور تدفین کے انتظامات کرتے دیکھا ہے۔ تو ان لاوارث نعشوں کی بولی ڈالرز میں کیوں نہیں لگتی؟ آخر وہی نعشیں کیوں خریدی جارہی ہیں جن کے ورثا موجود ہیں؟ اس افواہ میں دم نہیں ہے۔ اگر صرف کوئی غیرجانبداری سے سوچ لے۔ نہیں بھئی ڈاکٹروں کو لاشوں کے پیسے نہیں ملتے، بلکہ اکثر و بیشتر دوران علاج مریض کی وفات کی صورت میں اسپتال کے پیسے بھی ڈوب جایا کرتے ہیں۔ "نعش نہیں دے رہے" والا شور بھی عموما وہیں اٹھتا ہے، جہاں ورثا اسپتال کے واجبات کلیئر کرنے سے پہلو بچارہے ہوتے ہیں۔

گورنمنٹ نے ابتدا میں لاک ڈاون کیا، پھر نرم کیا، پھر تقریبا کھول دیا ہے۔ کچھ حد تک اس حکومتی اقدام کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ جلد یا بدیر لاک ڈاون کھولنا ہی تھا۔ ابھی وبا کنٹرول ہو بھی جاتی اور بڑا سرج گزر بھی جاتا تب بھی لاک ڈاون کھولتے ہی پہلے سے بڑا دوسرا سرج آنا طے تھا ۔ لاک ڈاون کھولنے سے یہ ہوا کہ ایک ہی سرج آئے گا۔ آر یا پار۔

ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں تمام عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے ہر انفیکشن کو کورونا سمجھیے اور بروقت تشخیص اور علاج کروائیں۔ وبا کے دنوں میں ہر انفیکشن کرونا ہے جب تک اس کی عدم موجودگی ثابت نہ ہوجائے۔ اپنے اعتماد کے ڈاکٹر سے فوری رابطہ کیجیے۔ چاہے ہلکی کھانسی ہو چاہے بخار یا جسم میں درد یا محض خوشبو اور ذائقہ کی حس تبدیل ہوئی ہو۔ یہی درست حکمت عملی ہے۔

گورنمنٹ لیول پر عوامی خوف کو ایڈریس ضرور کیا جانا چاہیے۔ وبا کے دنوں میں خوف بیماری سے بڑا مسئلہ ہے۔ خوفزدہ مریض کا تندرست ہونا، باحوصلہ مریض کی نسبت مشکل تر ہے لیکن بے خوفی بھی اتنی نہ بڑھ جائے کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.