جمال سنگھ - احسان کوہاٹی

وہ بہت باتونی مگر دلچسپ شخص تھا۔ سیلانی فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا کہ اس کی زبان تیز چل رہی ہے یا فراٹے بھرتی کار۔۔۔ بہر حال بندہ دلچسپ تھا، اس لئے اسے گپ شپ میں مزا آرہا تھا۔ وہ سیلانی سے کہنے لگا ’’ایک بات تو بتائیں یہ کورورنا شورورنا واقعی میں کچھ ہے۔ میرا مطلب ہے کہ سچ میں کوئی بیماری ہے یا بس ایسے ہی کسی نے ہوا چھوڑی ہے؟‘‘

’’کاش ایسا ہی ہوتا یار لیکن افسوس ایسا نہیں، میرے خالو کورونا کا شکار ہوکر انتقال کرگئے۔ میرے دوستوں میں سے دو یہ بیماری کاٹ رہے ہیں۔ تین الحمدللہ ٹھیک ہو چکے ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک کمزوری محسوس کر رہے ہیں۔ مکمل طور پر فٹ نہیں ہوئے۔‘‘

’’سر جی ! میں نے تو آج تک کورونا کا اک بھی مریض نہیں دیکھا،سارا دن سڑکوں پر ٹیکسی لیے آوارہ گردی کرتا رہتا ہوں۔ پتا نہیں مجھے کوئی کیوں نہیں ملا؟‘‘

’’او اللہ کے بندے اچھا اچھا بولو وہ کہتے ہیں ناکہ بات اچھی کرنی چاہیے۔‘‘

’’اس سے پہلے کہتے ہیں کہ منہ اچھا نہ بھی ہوتوبات اچھی کرنی چاہئے‘‘

اس نے قہقہہ مارکرکہا’’نام کیا ہے تمہارا ؟‘‘ سیلانی نے کشمیر ہائی وے سے باہر جھانکتے ہوئے پوچھا ’’جمال سنگھ ہیں ایں ایں جمال سنگھ۔۔۔‘‘سیلانی کے لہجے میں تعجب تھا۔

’’جی جمال سنگھ ‘‘اس نے ونڈ اسکرین کے بیچ میں لگے آئینے کی مدد سے سیلانی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ وہ سیلانی کی حیرت سے محظوظ ہو رہا تھا۔’’جمال کے ساتھ سنگھ ۔۔کچھ عجیب سا نہیں؟‘‘

سیلانی بولااور اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا، اس کا فون بج اٹھا اس نے فون کان سے لگایاا ور دوسری طرف سے کسی کی آواز سن کر ٹھیٹھ پنجابی میں بولا’’ست سری اکال جی ست سری اکال ۔۔۔واہگورو دا بڑا ای احسان ہے، بڑا کرم ہے۔ اچھا جی میں وعدہ نئیں کردا ہوسکدا وا میں آ جاؤں‘‘

وہ میٹھی پنجابی میں باتیں کرنے لگا اور سیلانی کے ذہن میں’’جمال سنگھ‘‘ کے حوالے سے کلبلاتے کیڑے مرتے چلے گئے، وہ بات کرکے فارغ ہوا توسیلانی نے کہا’’یار ! تم سکھ تو کہیں سے نہیں لگتے، تمہاری داڑھی ہے نہ پگڑی باندھی ہوئی ہے۔

’’بس سرجی ! گناہ گار بندہ ہوں باپو سے روز ذلیل ہوتا ہوں، ماں بھی جوتیاں مارتی ہے اور میں کہتا ہوں بس اب میں پکا سکھ بن کر دکھاؤں گا لیکن سچ بات بتاؤں مجھے گرمی بڑی لگتی ہے،ہاہاہا‘‘۔

جمال سنگھ دلچسپ نوجوان تھا’ وہ بتانے لگا کہ اس کا پورا نام سردار جمال سنگھ ہے اور یہ نام اس کے والد نے اپنے مرحوم دوست ڈاکٹر جمال کے نام پر رکھا ہے۔

’’ڈاکٹر جمال اور میرے باپو کے چڈی فرینڈ تھے، دونوں نے بچپن ساتھ گزارا۔ گاؤں کی نہرمیں ساتھ ڈبکیاں لگائیں، مرغیوں کے انڈے چرائے، لاہور جا کر سینما میں فلمیں دیکھیں، بنا ٹکٹ کے کراچی گئے، بڑا یارانہ تھادونوں کا، لیکن موت نے جدا کردیا۔ ڈاکٹر جمال نے میڈیکل کالج میں داخلہ لیا لیکن دوسرے سال ہی اسے گردن توڑ بخار ہوا اور وہ بچ نہ سکے۔ باپو کوبڑا دکھ لگا، وہ ابھی بھی اسے یادکرتا ہے ناتو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، میرا نام انہوں نے اپنے دوست کے نام پر ہی رکھا تھا‘‘

’’موت تلخ سچائی ہے سردار جی‘‘سیلانی نے بیک مرر میں اسے دیکھتے ہوئے بوجھل لہجے میں کہا۔ دفعتا اس کی نظر بیک مرر سے جھولتے یااللہ خیر کے طغرے پر پڑی جو ونڈاسکرین کے دائیں جانب سکھوں کے مذہبی نشان کھنڈا پر جاکر رک گئی ’’یار سردار جی! لگتا ہے تم اسلام سے کافی متاثر ہو۔‘‘

’’باپوکی تربیت ہے، ہمارے گھرمیں ہرجمعرات نیاز ہوتی ہے، میری ماں پورے رمضان سات گھروں میں افطار ی بھیجتی ہے، نذر نیاز اپنی جگہ باپو میلاد کا جلوس نہیں چھوڑتا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ ایک بار باپو بڑا سخت بیمار تھا، بخار بگڑ گیا تھا۔ حال یہ تھا خود سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا، لیکن جب مسجد والوں نے نعتیں اور محلے کے بچوں نے مرحبا مرحبا کے نعرے لگانا شروع کیے تو باپو ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔ مجھے چار گالیاں دیں کہ بتایا کیوں نہیں آج میلاد ہے؟ وہ ضد کرکے جلوس میں گئے اور حال یہ تھا کہ پاؤں ٹھیک سے نہیں اٹھا پارہے تھے، لیکن وہ گئے ضرور، مولوی صاحب کو پتا چلا تو انہوں نے زبردستی گھر بھیجا‘‘۔

ٹیکسی کشمیر ہائی وے سے جی ٹی روڈ کی طرف آگئی تھی،جی ٹی روڈ پر اچھا خاصا ٹریفک تھا لیکن ویسا پھر بھی نہیں تھاجو کوروناسے پہلے ہوا کرتا تھا۔ جمال سنگھ کہنے لگا’’سرجی! میرا ماننا ہے کہ مذہب کوئی بھی برائی کا نہیں کہتا یہ انسان کے اندر کاشیطان اسے برائی پر لاتا ہے۔

اور سچی بات ہے سرجی! ہمارا پاکستان بڑا ہی پیارا ہے۔ یہاں جو محبتیں ہیں ناں جو بھائی چارہ ہے، وہ دنیا میں کہیں نہیں اگر کہیں ہے تو مجھے نہیں پتا، میں باپو کے ساتھ انڈیا بھی جاچکا ہوںلیکن مجھے وہاں مزا نہیں آیا۔ وہاں اونچی نیچی ذات کا بڑا مسئلہ ہے جی، نفرتیں بہت ہیں اور پھران کا پاکستان کے بارے میں بڑا ہی غلط خیال ہے، وہ سمجھتے تھے کہ یہاں سکھوں اور ہندوؤں کے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ ان کو جینے کا بھی حق نہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ تمہارے انڈیا سے زیادہ ہم وہاں محفوظ اور خوش ہیں۔ ہمارے گوردوارے آباد ہیں، ہندؤں کے مندر میں پوجاپاٹ ہورہی ہے۔ ہم بڑے مزے میں ہیں۔۔۔ میں جب انہیں بتاتا تو وہ بڑے حیران ہوتے تھے، وہاں چھوت چھات بہت ہے سرجی! یہ برہمن ہے، یہ شودر ہے، یہ اونچی جاتی کا ہے اور یہ کم ذات ہے یہ حساب کتاب توبہ توبہ۔۔۔ شکر ہے اپنے پاکستان میں ایسا نہیں ہے ‘‘

’’الحمد اللہ بالکل ایسا ہی ہے ،میں کراچی کے علاقے ماری پور گریکس میں رہتا تھا، وہاںمیرے محلے کی مسجد کے سامنے والا گھر ایک ہندو فیملی کا ہے، اس کے پیچھے ہندؤں کے گھر ہیں۔ مسجد سے سو دو سو قدم پر ان کا مندر ہے، جہاں وہ اپنی عبادت کرتے ہیں، بھجن گاتے ہیں، کوئی روک ٹوک کوئی ڈر خوف نہیں، پھر وہاں کرسچن کمیونٹی کافی تعداد میں آباد ہے، میرے گھر سے تین گلیاں چھوڑ کر ان کا چرچ ہے۔

علاقے کے بازار میں پروٹسنٹ مسلک کا چرچ الگ ہے۔ وہاں عیسائی، ہندو، مسلمان، بلوچ، پنجابی، پٹھان، سندھی، سرائیکی اور اردو بولنے والے سب ہی لوگ ہیں۔ علاقے کے میدان میں چار کرکٹ کی وکٹیں تھیں،ایک پر پاک کرسچین کا میچ ہورہا ہوتا۔ ایک پرینگ مسلم کھیل رہی ہوتی اور ایک پر ہندو دوست کھیل رہے ہوتے تھے۔ شمع الیون کا کپتان رشید کرسچن تھا جس کی کپتانی میں مسلمان لڑکے بڑی خوشی سے کھیلتے تھے۔ سب مل جول کر ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ مجھے تو آج تک یادنہیں پڑتا کہ وہاں کبھی مذہب کے نام پر کوئی تفریق کوئی جھگڑا ہوا ہو،یہاں تک کہ جب بابری مسجد شہید کی گئی تب بھی کسی نے ہندؤں کے مندر کی کوئی اینٹ تک نہیں کھرچی۔ ایک دوسرے کے مذہب اورعبادت گاہوں کا ایسااحترام ہے اور ایسا ہی اپنے پاکستان میں ہے اکا دکا واقعات ہوجاتے ہیں جو کہاں نہیں ہوتے لیکن ہم لوگ شیر شکر ہو کر رہنا جانتے ہیں۔

’’کیا کہنے جی کیا بات ہے جی ۔۔۔سر جی! یہ آپ کا بھاٹا روڈ آگیا اب کہاں جانا ہے؟‘‘

’’بس سیدھا نکل لو‘‘تھوڑی دیر بعد سیلانی کی منزل آگئی۔ جمال سنگھ نے موبائل میں بل دیکھ کر سیلانی سے کہا ’’سرجی ! دل تو چاہتا ہے آپ سے روپیہ بھی نہ لوں لیکن پاپی پیٹ کا سوال ہے، مجبورا پیسے لینے پڑرہے ہیں آپ کا بل تین سو دس روپے کا بنا ہے‘‘۔

سیلانی نے جیب سے بٹوہ نکال کر جمال سنگھ کو کرایہ ادا کیا اور مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر اسے جاتا دیکھنے لگا۔ جمال سنگھ نے سچ کہا تھا کہ ہم پاکستانیوں کی ساری نالائقیاں اپنی جگہ لیکن الحمدللہ اقلیتوں کا خیال رکھنے، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی میں ہمارے نمبر اچھے نہیں بہت اچھے ہیں۔ یہ اس معاشرے کا ہی حسن ہے اسی لیے تو انتہا پسند بھارتی ہندؤں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوکر سرحد پار کرنے والے پاکستانی ہندو نیویارک ٹائمز کی رپورٹر سے افسردگی سے کہتے ہیں ہم غلطی کر بیٹھے۔۔۔ جمال سنگھ بھی پاکستان میں اسی بین المذاہب ہم آہنگی، احترام آدمیت، پڑوسیوں کے حال کی گواہی اور سیلانی کو ایک احساس تفاخر دے کر راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنا رزق تلاش کرنے نکل گیا تھا جسے سیلانی جاتا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.