‏دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا - ڈاکٹر محمد عمار رشید

‏دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا

ترا معاملہ ہم نے خدا پہ چھوڑ دیا

کسی ملک کے بڑے حصے یعنی قریبأ ۷۰ % کو وائرس سے اس خیال کے ساتھ متاثر ہونے دیا جائے کہ ان میں سے زیادہ تر صحت یاب ہو جائیں گے اور ان میں مدافعتی اینٹی باڈیز پیدا ہو جائیں گی اور ملکی آبادی کے اس قدر بڑے حصے کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کا پھیلاؤ معدوم ہوتا چلا جائے گا ۔ اس کو ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی مدافعت کہا جاتا ہے ۔ ماضی میں مختلف امراض کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کا کام ویکسین سے لیا جاتا رہا ہے ۔ ہاں ماضی قریب میں زکا وائرس کی ایک مثال ہے جسے کہا جا سکتا ہے ہرڈ امیونٹی سے اسکا زور ٹوٹنے میں مدد ملی ۔ سال ۲۰۱۵ میں لاطینی امریکہ اور کریبین ممالک زکا وائرس سے متاثر ہوئے ، ڈبلیو ایچ او نےاسکے پھیلاؤ اور خطرات کے بارے وارننگ دے دی ۔ ویکسین بنانے کی کوششیں زور و شور سے شروع ہو گئیں لیکن ۲۰۱۶ کے اواخر میں دیکھا گیا ان ممالک میں کیسز خاصی حد تک کمُ رپورٹ ہونے لگے۔ ڈبلیو ایچ او نے ان ملک میں دی گئی ایمرجنسی وارننگ واپس لے لی ۔سلواڈور(Salvador)میں ہونے والی تحقیق سے بھی دیکھنے میں آیا زیادہ تر لوگوں میں مدافعت موجود ہے ماہرین نے وائرس کے اس معدومُ ہوتے ہوئے پھیلاؤ کو ہرڈ امیونٹی قرار دیا ۔

کورونا وائرس نے جب کاروبار دنیا کو تہہ و بالا کردیا تو ہر طرف یہ بحث چھڑ گئی کہ اس کا حل کیا ہے ریاستوں نے اپنے طبی ماہرین اور ذہین مشیر ان سے مشورے کئے تو ان کو ایسی باتیں سننی پڑیں جن کا فلوقت وجود نہیں اور مستقبل قریب میں ہونے کی امید بھی نہیں پائی جاتی۔ کل ملا کر احتیاطی تدابیر ، سماجی فاصلہ اور سماجی فاصلے کی انتہائی شکل لاک ڈاؤن ہی کو موثر حل کے طور پر پیش کیا گیا ۔ یہ حل جہاں لوگوں کی زندگی کے ضامن ہیں وہیں معاشی سرگرمیوں کے لئے زہر قاتلُ بھی ہیں ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک میں موجود عبقری ذہنوں نے شش و پنج میں مبتلا محبوب حکمرانوں کو ہرڈ امیونٹی کا حل سجھا دیا ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس حل کے پسند کرنے والے حکمرانوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور زیادہ تر کو مجبوراً اپنی طبی ماہرین کی آرا کو ہی ماننا پڑا ۔

جس چیز پر سب سے زیادہ سوالُ اٹھائے گئے وہ انسانی جان کو خطرے میں ڈالنا اور اسقدر آبادی کے بڑے حصے کے متاثر ہونے کے بعد سب متاثرہ افراد کے لئے طبی مراکز کا صحت کی سہولیات فراہم کرنا ناممکنات میں سے ہے برطانیہ کے بورس جانسن ہرڈ امیونٹی کے پہلے بڑے حامی کے طور پر ابھرے اور برطانیہ نے پہلے اسے اپنا بھی لیا لیکن وبا کے آغاز میں اس وقت ترک کر دیا جب یہ تخمینہ سامنے آیا کہ اس سے طبی نظام پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بہر حال ترقی یافتہ ممالک میں صرف آبادی کے لحاظ سے چھوٹے ملک سویڈن ہی علی الاعلان یعنی بطور ریاستی پالیسی اپنانے والا واحد ملک ہے اس پالیسی کو اپنانے کے باوجود سویڈن میں پچاس سے زائد لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہونے کے ساتھ ساتھ بزرگ لوگوں کے لئے بنائے گئے “کئیر ہومز “ میں دیگر لوگوں کے جانے پر پابندی ہے اس سب کے باوجود ہمسایہ ممالک سے کہیں زیادہ اموات ہو جانے کی وجہ سے ریاستی پالیسی تنقید کی زد میں ہے ۔

پسماندہ ممالک جہاں پہلے ہی دیگر زیادہ تر مسائل کی طرح کورونا کو بھی سازش سمجھا جا رہا ہے اور عوام اور ریاست اب کی بار بل گیٹس کو ہر گز کامیابی کا چانس دینے پر راضی نظر نہیں آتیں ۔ وہاں لوگوں کو بڑی حد تک سمجھا دیا گیا ہے کہ فلوقت “ بھوک “ زندگی اور موت سے بڑا مسئلہ قرار پایا ہے اور لگ بھی یوں رہا ہے کہ غیر اعلانیہ یا غیر ارادی طور پر پاکستان جیسا بڑی آبادی والا ملک ہرڈ امیونٹی کی تھیوری کو اپنانے جا رہا ہے اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ ملکی پالیسیاں بنانا اعلی دماغوں کا کام ہے اور مجھ ایسے کند ذہنوں کا ان کاموں میں ٹانگ اڑانا نہیں بنتا پھر بھی مجھ ایسے وہمیوُُ کی سمسیا حل ہونے میں نہیں آرہی جہاں سویڈن کی آبادی ایک کروڑ ہے تو ہمارے پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ کو جا لگی ہے اس حساب سے ہمیں اگر قطعی مدافعت حاصل کرنے کی تھیوری پر عمل کرنا ہے تو قریب قریب ۱۵ کروڑ آبادی کا متاثر ہونا ضروری ٹھہرتا ہے اور مقامی نہ سہی عالمی اعداد و شمار کو بھی دیکھا جائے تو ایک فیصد لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں اسطرح ۱۵ لاکھ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔

اس قسمُ کی ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر اپنا ردعمل دے رہی ہیں وہیں ڈبلیو ایچ او کا بھی یہ کہنا ہے کہ انسانوں کو جانور نہ سمجھا جائے ۔ ماہرین کچھ سائنسی حقیقتوُُں کی طرف بھی متوجہ کر رہے ہیں ابھی تک یہ طے نہیں پا رہا کہ ہر متاثرہ فرد قوت مدافعت حاصل کر پائے گا ۔ اگر قوت مدافعت حاصل ہوتی ہے تو کیا وہ زندگی بھر کے لئے ہوگی یا محدود / کتنے عرصہ کے لئے ہوگی اور تو اور سپین کے کارلوس تھری انسٹیٹوٹ میں ہونے والے سٹڈی نے مزید خدشات اٹھا دئیے ہیں جہاں انہوں نے ۹۰ ہزار کے قریب لوگ جو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں ان میں مدافعتی اینٹی باڈیز کو جانچا گیا ہے اور صرف ۵ فیصد لوگوں میں مدافعتی اینٹی باڈیز پائی گئی ہیں ۔ کہتے ہیں ٹرین کی پٹڑی پر لیٹ کر حیات جاوداں کی دعا نہیں کی جا سکتی ۔ بارش میں کھڑے ہو کر گیلا ہونے سے نہیں بچا جا سکتا ۔ اس کے لئے چھتری کے نیچے آنا پڑے گا