تعلیم کشی کا رویہ ترک کریں - ڈاکٹرمحمدیونس خالد

پاکستان اس وقت جس تنزل کا شکار ہے وہ ہم میں سے کسی سے مخفی نہیں۔ ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے ملک کی اعلی لیڈرشپ سے لے کر نیچے چپڑاسی لیول تک قومی خزانے میں کرپشن کا شکار ہیں۔ جس کے ہاتھ جو آتا ہے وہ اسے اٹھانے سے دریغ نہیں کرتا حتی کہ وبائی مرض کرونا کی صورت حال میں بھی اللہ کی طرف رجوع کرکے غلط کاموں سے توبہ کرنے کے بجائے ملک میں کرپشن کا رجحان عروج پر ہے۔

ملک کا تعلیمی نظام اور تعلیمی ادارے تباہ ہوچکے ہیں، ان اداروں میں تعلیم کے بجائے نقل، چیٹنگ اور محنت کے بغیر پاس ہونے کے شارکٹ راستے ڈھونڈنے کا رجحان عام ہوتا جارہا ہے ۔ملازمین دفاتر میں ڈیوٹی دیئے بغیر تنخواہیں وصول کرنے میں مصروف ہیں، حتی کہ بعض دوسرے ملکوں میں جاب پر ہیں اور تنخواہیں ان کی یہاں وصول ہورہی ہیں ۔حکام کی ملی بھگت سے گھوسٹ ادارے اور گھوسٹ ملازمین کرپشن کا بہت بڑا ذریعہ بن چکے ہیں ۔ محنت کے بغیر اورمہارتیں حاصل کیے بغیر محض ڈگری اور سرٹیفکیٹ لیناہی ان اداروں میں پڑھنے والوں کا آخری مقصد بن کررہ گیا ہے۔ اساتذہ جوڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں۔اس طرح ملک سے تعلیم کاجنازہ اٹھ رہا ہے۔ بڑے لیول پر نقل کروانے کے لئے مالی کرپشن کی خبریں امتحانات کے موقع پر اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

دوسری طرف میڈیا کو دیکھاجائے تو سرشرم سے جھک جاتا ہےوہاں ریٹنگ کے چکر میں جھوٹ، الزام تراشی، بلیک میلنگ اور سنسنی پھیلانے کا رجحان عام ہے فحاشی اور عریانی پھیلانے والے اخلاق باختہ پروگرامزاور رجحانات کو فروغ دیا جاتا ہے۔حالانکہ میڈیاکو قومی سطح کا ذمہ دار ٹرینڈ سیٹر اور سمت فر اہم کرنے والا ادارہ ہوناچاہیے۔ یہ ادارہ اگر ٹھیک طرح سے کام کرنے لگے تو قوم میں مثبت رجحان سازی، تعلیم ، اسکل ڈویلپمنٹ اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔ قومی تنزل کی اس ساری صورتحال کو سامنے رکھ کر ہمارے مہربان جناب سیدقاسم علی شاہ نے ایک ویڈیو پروگرام کیا جس میں انہوں نے حکمرانوں کو یہ مشورہ دیا کہ اگرپاکستان کو اس دلدل سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے تو بنیادی طور پر تین کام کرنے ہونگے،یہاں مختصرا ن پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

1۔بیس سال کے لئے تعلیمی ایمرجنسی لگائیں۔تعلیم ایسی چیز ہے جو انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اور شعور کو سمت دینے کا کام کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم نہ صرف کم ہے بلکہ جو ہے اس میں بھی معیار کی شدید کمی ہے ۔ہماری تعلیم نہ تو شعور پیدا کرتی ہے اور شعوری سمت فراہم کرتی ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں صرف ڈگری لینے اور دینے پر اکتفاکیا جاتا ہےنہ تعلیم کے معیارپر کام کیا جاتا ہے، نہ طلبا کے اخلاق وکردار پر کام کیا جاتا ہے۔ اورنہ ہی بچوں کی اسکلز سیٹ یا مہارتوں کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں لوگ بڑی بڑی ڈگریاں تو لے کر پھرتے ہیں لیکن ان میں اخلاق وکردار، اسکلز اور مہارتیں نہیں پائی جاتیں۔ اگر اس قوم کی قسمت بدلنی ہے تومیری تجویز ہے کہ بیس سال کے لئے تعلیمی ایمرجنسی لگائی جائے۔ جس میں قومی سطح پر تعلیم کو پہلی ترجیح پر رکھا جائے اس کے لئے زیادہ سےزیادہ بجٹ مختص کیا جائے ۔تعلیم میں معیار اورمہارتیں لانے کے لئے اس پورے پروسس میں ایک چیز بہت ہی بنیادی اور اہم ہے کہ جس کےبغیر تعلیم ہوہی نہیں سکتی اور وہ ہے حقیقی اساتذہ کی موجودگی۔ ہمیں قومی سطح پر حقیقی اساتذہ تیار کرنے ہونگے۔

یہ اساتذہ چاہے ہمارے ملک ہوں یا ہمیں باہرسے امپورٹ کرنا پڑے بہرحال ٹیلنٹد اساتذہ ہمیں درکار ہونگے۔ یہ ایسے اساتذہ ہوں جن سے نئی نسل حقیقی معنوں میں استفادہ کرسکے ان سے انسپائر ہوسکے، ان سے موٹیویٹ ہوسکے اور ان کے ادب واحترام کے لئے دل وجان سےتیاربھی ہو۔یہ اساتذہ بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ اعلی اخلاق وکردار اور اسکل سیٹ یا مہارتیں بھی دے سکیں۔ یہ ان بچوں کو وژن بھی دے سکیں اور مشن بھی درست انداز سےکرنے کا سلیقہ سکھا سکیں۔یوں بیس سال کے بعد ایک ایسی نسل تیار ہوکر سامنے آئے گی جو حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ ہوگی، ان میں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق وکرداربھی ہوگا نیز زمانے کو درکار مہارتوں اور اسکلز سے بھی وہ مزین ہوگی۔

2۔ میڈیا کو کنٹرول کرکے قوم سازی پر لگائیں۔میڈیا اگر مثبت طریقے سے کام انجام دے تو بہت بڑا استاد ہوتاہے یہ قوم کی ذہن سازی ، کردار سازی ، رجحان سازی اور قوم کو درست سمت فراہم کرنے میں بہت بڑاکردار اداکرسکتا ہے۔ یہ ایک بڑے استاذ کی حیثیت سے بیس سالہ تعلیمی ایمرجنسی کے دوران بھی بھرپور کردار اداکرسکتا ہے۔ یہ نہ صرف نئی جنریشن کو معیاری تعلیم، اعلی اخلاق وکردار اور سماجی مہارتیں فراہم کرنے میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ ساری قوم کو مثبت سمت اور مثبت رجحانات دینے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ بس صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی پالیسی بنا کر اس کوکنٹرول کیا جائے اور منفی سرگرمیوں سے ہٹا کر اس کو قوم سازی پر لگادیا جائے۔

3۔ ملک میں دینی مدارس کے نیٹ ورک کو جدید بنایاجائے۔ہمارے پاس پورے ملک میں دینی مدارس کا ایک شاندار نیٹ ورک موجود ہے، ان مدارس میں پڑھنے والے بچے نہایت ذہین ، محنتی ،مخلص ،متحرک اور ملک وملت کے لئے قربانی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جب سب سوررہے ہوتے ہیں یہ سب سے پہلے اٹھتے ہیں اورفجرکی اذان دے کر دوسروں کو اٹھانے کی ذمہ داری برسوں سے سرانجام دے رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جب ملک وملت کے لئے قربانی کی ضرورت پڑتی ہے تو سب سے پہلے میدان میں اترتے ہیں اور دشمن کے ٹینک اور جہازوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔نیز یہی وہ لوگ ہیں جو قوم کوکامیابی کی سمت اور ڈائرکشن دینے میں اپنی سی کوششوں میں صدیوں سے مصروف ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان مخلص لوگوں کو قومی سطح پراب تک نظراندازکیے رکھاہے ان کے بہترین ٹیلنٹ کو ہم اب تک کیش نہیں کراسکے ۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مدارس دینیہ کے اس تعلیمی نیٹ ورک کو نہ صرف قومی سطح پر قبول کیا جائے بلکہ ان کی کوششوں کا بھرپوراعتراف کیا جائے۔ مدارس کے اس نیٹ ورک کو اہمیت دے کراس کو زمانے کی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے ۔ ان بچوں کو دینی علوم کے ساتھ جدید سائنس وٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے۔ قومی تعلیمی نظام کے مرکزی دھارے میں ان کو شامل کیا جائےاور ان کی صلاحیتوں سے قومی سطح پربھرپورفائدہ اٹھایا جائے۔ حکومتی پالیسی میکرز کو میرا یہ مشورہ ہے کہ اگر پاکستان کو اس گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے تو بیس سالہ پروگرام ترتیب دیا جائے اور اس میں ان تین کاموں کو پہلی ترجیح پر رکھا جائے تو یقینا ہمارا ملک شاندار ترقی کی راہ پر گامزن ہوگاانشااللہ۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔