سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب کے - عمیس علی

پیر مہر علی شاہ نے جب رسول ص کی شان اقدس میں نعتیہ اشعار لکھے تو اپنی کم مائیگی کے اظہار کے لیے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ

"کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا

گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں"۔

اس سے ملتا جلتا احساس بار بار اس ناچیز کو بھی ہوتا رہا کہ کہاں مجھ جیسا طالب علم اور کہاں سیدنا علی رض کی شان کا بیان یہ تو بڑے بڑے علماء کے بس کی بات بھی نہیں لگتی۔ کئی دن اسی شش و پنج میں گزرے پھر سوچا کہ چلیں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں چند باتیں سیدنا علی رض کے حوالے سے عرض کر ہی دیتے ہیں ۔ صاحبان علم کی نظر سے گزریں گی تو اس ناچیز کی بھی اصلاح کا سامان ہوجائے گا ۔

سیدنا علی رض رسول ص کے چچا زاد بھائی تھے ۔جب جناب عبدالمطلب کی وفات ہوئی تو جناب ابوطالب نے رسول ص کی کفالت کا اعلان کیا تو جناب محمد ص اور جناب علی رض کو ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا موقع ملا۔ دونوں کو ایک ہی عظیم ماں فاطمہ بنت اسد کے زیر سایہ پرورش نصیب ہوئی۔جب جناب محمد ص کے پاس غار حرا میں جبرائیل امین سورہ علق کی ابتدائی آیات لے کر آئے تو آپ ص نے آکر سیدہ خدیجہ رض کو یہ سارا واقعہ سنایا۔ سیدہ خدیجہ رض نے یہ سارا اماجرہ سننے کے بعد ننھے بچے سیدنا علی رض کو ہی بھیجا تھا کہ وہ جائیں اور سیدہ خدیجہ رض کے چچا زاد بھائی اور عیسائی عالم جناب ورقہ بن نوفل کو بلا کر لائیٰں تو اس اعتبار سے سیدنا علی رض حضرت محمد ص کی نبوت کے پہلے دن سے ہی ساتھی ہیں اور معاون ہیں۔

جب نبوت کے ابتدائی ایام میں آپ ص نے اپنے خاندان والوں کی دعوت کی اور انہیں دین کی طرف بلایا اکثر لوگوں نے اس دعوت کو جھٹلا دیا تو اس موقع پر سیدنا علی نے کھڑے ہوکر فرمایا" مانا کہ میری ٹانگیں چھوٹی اور کمزور ہیں اور میری آنکھیں دکھتی ہیں لیکن میں ہر حال میں آپکی دعوت کا ساتھ دوں گا" - یہی نصیحت سیدنا علی کو ورقہ بن نوفل اور جناب ابو طالب نے کی تھی کہ ہر حال میں محمدص کا ساتھ دینا۔ یہ بات آج کے مسلمان نوجوان کے لیے بالعموم اور اسلامی تحریکوں سے جڑے نوجوانوں کے لیے بالخصوص مشعل راہ ہے-جب بدر کا میدان سجا تو باقاعدہ جنگ کے آغاز سے قبل دوبدو لڑائی کے لیے قریش کے سرداروں عتبہ ، شیبہ اور ولید کے مقابلے کے لیے پہلے پہل جناب رسول اللہ ص نےتین انصاریوں کو بھیجا قریش کے اعتراض پر جناب سیدنا علی ، جناب حمزہ اور ایک مہاجر کو بھیجا گیا ۔ جناب علی رض نے پہلے ہی وار میں اپنے مدمقابل کو ڈھیر کردیا ۔ اس طرح حق و باطل کی پہلی جنگ میں جناب علی کو لڑائی کے آغاز کی سعادت نصیب ہوئی ۔

اسی طرح غزوہ احد کے آغاز میں بھی دوبدو لڑائی کے لیے سیدنا علی رض نے پہل کی اور کامیابی حاصل کی ۔ غزوہ خندق میں باقاعدہ جنگ تو نہیں ہوئی تھی لیکن جب چند مشرکین نے خندق عبور کرنے کی کوشش کی تو اس وقت پھر سیدنا علی کو لڑنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جناب رسول اللہ نے سیدنا علی کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا جناب علی نے کہا کہ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے لیے چھوڑے جاتے ہیں تو رسول ص نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون ع کو موسی ع سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اسی طرح خیبر کا واقعہ تو کافی مشہور ہے کہ جب خیبر فتح نہیں ہورہا تھا تو رسول ص نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں فتح نصیب ہوگی ۔ سب جید اصحاب نے دعا کی کہ یہ اعزاز انہیں حاصل ہوجائے لیکن رسول ص نے جناب علی کو بلایا اور جھنڈا ا نہیں دیا ۔ جناب علی نے کہا کہ میری آنکھیں دکھتی ہیں تو رسول ص نے اپنا لعاب دہن آپکی آنکھوں پر لگایا جس سے آپ کی تکلیف جاتی رہی اور آپ کے ہاتھوں خیبر کی فتح نصیب ہوئی ۔

آپ نے یہودی سردار مرحب کو اپنے ہاتھوں جہنم واصل کیا۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ " نا علی سے بڑھ کر کوئی بہادر ہے اور نا ذوالفقار سے اچھی کوئی تلوار ہے"۔آپ قیامت تک شجاعت ، بہادری اور جرات کا استعارہ اور اعلی مثال ہیں ۔ آپ کی فضیلت اور عظمت پہ تمام مسلمان سنی ہوں یا شیعہ ہوں متفق ہیں ۔ یہ آپ سے ہی محبت کا اثر ہے کہ اس ناچیز کے خاندان ( جو کہ سنی ہے) میں کئی لوگوں کے نام علی ہیں میرے دادا ابو کا نام علی ہے خود میرا نام بھی خاندان اور گاؤں کی حد تک صرف علی ہی ہے جو میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ میرے ساتھ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے میرے مکمل نام عمیس علی سے واقف ہیں ۔ اسی لیے میں نےعنوان رکھا کہ سیدنا علی رض سب کے ۔ آپ سے محبت رکھے بغیر اور آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر شاید مسلمان ہونے کا کوئی تصور نہیں ہے - ۔ معروف سکالر جناب احمد جاوید صاحب کیا ہی خوبصورت الفاظ کہتے ہیں کہ '' سیدنا علی رض کا خیال آتے ہی اہنے مسلمان ہونے پر فخر محسوس ہونے لگتا ہے"۔ رسول ص کی رحلت کے بعد حضرت علی رض کو یکے بعد دیگرے تین خلفائے راشدین کا مشیر بننے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

سیدنا عثمان کی شہادت کے بعدآپ کو چوتھا خلیفہ راشد چنا گیا اور پانچ سال سے تھوڑا کم عرصہ آپ امیر ا لمومنین کے منصب پر فائز رہے اس عرصہ میں آپ نے خوارج کا قلع قمع کیا اور نہروان کے مقام پر انہیں عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ نماز فجر کی امامت کے دوران ایک خارجی عبدالرحمان ابن ملجم نے آپ پہ وار کیا آپ نے فرمایا کہ اگر میں بچ گیا تو میں خود اسکا فیصلہ کروں گا ا گر میں شہید ہوگیا تو ہوسکے تو میرے قاتل کو معاف کردینا ورنہ ایک ہی وار میں اسکا سر قلم کردینا اور زیادہ اذیت مت دینا۔ لیکن آپ جانبر نا ہوسکے اورسیدنا عمر کے بعد شہید المحراب کے منصب پر فائز ہونے والی اسلام کی دوسری بڑی شخصیت بن گئے۔آپ سے منسوب مشہور مزار نجف عراق میں واقع ہے جس سے عقیدت کی بناپر علامہ اقبال نے فرمایا کہ

"خیرہ نا کر سکا مجھے جلوہ دانش افرنگ

ہے سرمہ میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف "

اسی طرح آپ سے منسوب ایک مزار افغانستان میں بھی واقع ہے جس کی وجہ سے افغانستان کے ایک پورے صوبے کا نام مزار شریف ہے۔ سیدنا علی رسول ص کے داماد تھے ۔ آپ خاتون جنت سیدہ فاطمہ رض کے شوہر تھے جوکہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور آپ رسول ص کے لاڈلوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین کے والد گرامی ہیں ۔ آپ سیدنا عمر کے سسر اور سیدنا عثمان کے ہم زلف ہیں۔ آپ کو سیدہ فاطمہ سے شدید الفت تھی اسی بنا پر آپ نے انکی حیات میں دوسری شادی نہیں کی۔ سیدہ فاطمہ سے آپکی محبت کا اندازہ اس نظم سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو سیدہ فاطمہ کی رحلت و تدفین کے بعد آپ نے ان کی قبر پہ کھڑے ہوکر پڑھی جو خالص درد ہے صرف اور صرف دکھ اور درد بحوالہ شیخ عمر سلیمان حفظہ اللہ " مجھے کیا ہوگیا ہے قبر پہ کھڑے ہوکر میں اسے سلام کہ رہاہوں جو گزر چکی ہیں میری پیاری کی قبر لیکن وہ میرے سلام کا جواب نہیں دے رہیں ۔

میری عزیزہ آپ میرے سلام کا جواب کیوں نہیں دے رہیں کیا آپ ہمارے درمیان انسیت کے تمام لمحات کو بھول چکی ہیں میری پیاری نے جواب دیا اور کہا کہ میں کیسے آپ کو جواب دے سکتی ہوں جبکہ میں مٹی اور کنکریوں کی قیدی بن گئی ہوں مٹی نے میری خوبصورتی کو ختم کردیا ہے اس لیے میں آگے بڑھ گئی ہوں اور میں نے اپنے گھر والوں اور پیاروں سے پردہ کر لیا ہےاور میرا سلام واپس آپ کے لیے اور ان سب کے لیے ( جنہیں میں نے پیچھے چھوڑا ہے) وہ انسیت کے لمحات اب گزر چکے ہیں"۔