اب پانی پلوں پر سے گزر کر رہے گا - حبیب الرحمن

جب سے کورونا وائرس پاکستان پر حملہ آور ہوا ہے اس وقت سے دو سوچیں بہت واضح انداز میں پاکستانی عوام کے سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ چار پانچ ہفتوں تک پورے پاکستان میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی جائے اور ایک یہ سوچ کہ شدید پابندیوں کی بجائے "چالاکیوں" سے کام لیا جائے۔ مکمل پابندی لگانے کی سوچ پاکستان کے چار صوبوں میں سے صرف صوبہ سندھ کی تھی جبکہ باقی 3 صوبے بشمول وفاق، "چالاکیوں" کے حق میں تھا۔

اس کشاکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ پابندیاں لگانے والوں اور چالاکیاں دکھانے والوں کی کشاکش ان عناصر کو(بظاہر) فائدہ پہنچا گئی جو اپنے شب و روز کے معمولات میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی لانا ہی نہیں چاہتے تھے۔۔ بیشک درمیان میں ایسا ضرور ہوا کہ باقی تین صوبے بھی اپنے اوپر پابندیاں لگانے پر مجبور نظر آئے لیکن اس دوران صوبوں اور صوبوں، شہروں اور شہروں کے درمیان اتنی زیادہ افرادی آمد و رفت ہوئی کہ اس بات کا علم ہی نہ ہو سکا کہ وبا زدہ علاقہ حقیقت میں کون سا تھا اور انسانی آمد و رفت وبا کو کہاں کہاں تک لے گئی۔

پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے تھا جو کورونا کی لپیٹ میں سب سے آخر میں آنے والوں میں شامل ہے۔ پاکستان کے پاس اس وبا سے نمٹنے اور اس کے خلاف پیش بندیاں کرنے کیلئے قدرت نے بہت زیادہ وقت دیا تھا لیکن بد قسمتی سے پاکستان اس کا بھر پور فائدہ نہ اٹھا سکا۔ جس عقلمندی کا مظاہر پاکستان نے چین اور ووہان میں موجود پاکستانی طالبِ علموں کو فوری طور پر واپس نہ لانے کا اعلان کر کے کیا تھا اگر اسی طرح ایران، افغانستان اور بھارت کے زمینی، فضائی اور سمندری راستے فوری بند کر دیئے جاتے تو شاید جس صورتِ حال کا سامنا پاکستان کو اب ہے، ایسی صورتِ حال پیش نہ آ رہی ہوتی۔ جس وقت پاکستان میں کورونا کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے اس وقت تک دنیا کے سیکڑوں ممالک بری طرح کورونا کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ اگر اسی وقت شہر در شہر اور صوبوں کے درمیان صرف انسانوں کی ہر قسم کی آمد و رفت بند کر دی جاتی تو جو وبا جس علاقے میں پھیل گئی ہوتی، وہیں تک ہی محدود ہو کر رہ جاتی۔ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کن کن ممالک کی کیا صورتِ حال ہے، سر حدوں کو "سفاکیت" کے ساتھ کھول دیا گیا اور اس بات تک کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ افغانستان، بھارت اور ایران کی سرحدوں پر ہی ایسا مربوط انتظام کر دیا جائے کہ آنے والے اپنے اپنے شہروں، گاؤں اور قصبوں میں مطمئن ہو نے کے بعد جا سکیں۔

شہروں شہروں، صوبوں صوبوں اور ملکوں ملکوں کے درمیان ہر قسم کی آمد و رفت بے شک بند کر دی گئی لیکن ایسا سب کچھ کرنے میں اتنا وقت لگا دیا کہ اب کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ ہم نے اپنی ہاتھوں کن کن کوچوں، گلیوں، محلوں، شہروں اور دیہاتوں کو وبا زدہ بنا کر رکھ دیا ہے۔اس وبا کے پھیلاؤ کا ایک سبب وفاق کا مسلسل لاک ڈاؤن کے خلاف آواز کا ابھرنا بھی شامل تھا۔ چاروں صوبوں میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے باوجود عوام اس لئے بھی زیادہ لیت و لعل کا شکار رہے کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے اٹھائے گئے اقدامات پر سخت تنقید سامنے آتی رہی۔ یہ صورتِ حال ان عناصر کیلئے بہت خوش کن تھی جو شروع ہی سے اس وبا کو وبا ماننے کیلئے تیار ہی نہیں تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہفتوں ہی میں پاکستان کورونا کے گھوڑے کو ایڑ لگا لگا کر چین کے گھوڑے سے کہیں آ گے لیجانے میں کامیاب ہو گیا اور اب لگتا ہے (خدا نخواستہ) کہ وہ سارے کورونی ترکی و تازیوں کو بہت پیچھے چھوڑ جائے گا۔صورتِ حال بہت خراب ہو چکی ہے اور اب وہ وفاق جو بہت "شفاف" تھا لاک ڈاؤن نہ کرنے کیلئے وہ بھی سخت گدلا کر رہ گیا ہے اور اس بات پر نہایت سنجیدہ نظر آتا ہے کہ ملک میں کم از کم 4 ہفتوں کیلئے کرفیو جیسا سماں باندھ دیا جائے۔

آج، 5 جون، 2020 کو اس بات کا امکان ہے کہ وزیر اعظم عمران خان قوم سے خطاب میں، قوم ہی پر ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کا الزام دھرنے کے بعد سخت ترین لاک ڈاؤن کی خبر بد سنائیں گے۔ فیصلہ کیا سامنے آتا ہے یہ ابھی دیکھنا باقی ہے لیکن جو فیصلہ کورونا کر بیٹھا ہے وہ بہت ہی واضح اور خوفناک ہے۔ اب خواہ لوگوں کو گھروں سے باہر جھانک لینے پر ہی کیوں نہ گولی ماردینے کا اعلان کر دیا جائے، کورونا نے کہا ہے کہ وہ ایک ایک گھر میں گھس کر رہے گا اس لئے کہ بات صرف چند افراد کے کورونا زدہ ہونے تک محدود نہیں رہ گئی ہے، بات قصبوں، دیہاتوں، شہروں اور صوبوں کے ایک ایک گھر کے اندر تک پھیل چکی ہے۔ اب خواہ دروازے بند کر دیئے جائیں یا دیوار و در ڈھا دیئے جائیں، پانی پلوں پر سے گزر کر رہے گا اس لئے کہ "ہاں اور نہیں" کی گھٹیا سیاست کے بیچ ہم نے اپنے سارے ہاتھ پاؤں اپنی ہی کلہاڑی سے اپنے ہی ہاتھوں کاٹ پیٹ کر رکھ دیئے ہیں۔