تاریخ کے قبرستان میں ہماری بے حرمتی - ذیشان نور خلجی

یہ مولانا جمیل احمد مدنی ہیں جو کہ مدینہ یونیورسٹی کے فاضل ہیں۔ فقہ حنفی کے ممتاز عالم ہیں۔ وکیل صحابہ اور مناظر اہل سنت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے نزاعی ابواب پر ان کی خاص نظر ہے۔ جب کہ یہ علامہ باقر نجفی ہیں۔ ایران کے شہر قم کی جامعہ سے سند حاصل کر رکھی ہے۔ اسلامی تاریخ ازبر ہے۔ دشمنان اہل بیت پر تبرا کرنے کا انہیں ملکہ حاصل ہے۔

ان کی تان جناب علی سے بغض رکھنے والوں پر بغض نکالتے ہوئے ٹوٹتی ہے۔کوئی دن نہیں گزرتا جب یہ دونوں قابل احترام حضرات اپنی تقریروں میں ایک دوسرے کو للکارتے نہ ہوں۔ ایک کی لکار شیر کی سی ہے تو دوسرے کے معتقدین کے نزدیک ان کے صاحب عقابی جھپٹ رکھتے ہیں۔ بار ہا ان دونوں اساتذہ کے درمیان مناظرہ بھی ہو چکا ہے جو کہ مناظروں کی ہزار سالہ تاریخ کی طرح بے نتیجہ ہی رہا ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہوا ہے کہ ہر دو شخصیات کے پیروکار باہم مخالفت پر کمر کس چکے ہیں اور ہر دم مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں۔ شاید ان کے نزدیک یہی دین کی منشاء اور خدمت ہے۔مولانا کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ جناب ابو طالب نے دراصل کلمہ نہیں پڑھا تھا اور اپنے پرانے دین پر ہی فوت ہوئے تھے۔ جب کہ علامہ صاحب کے پیروکار مانتے ہیں کہ جناب ابوبکر صدیق دراصل ایک غاصب حکمران تھے، جن کی چیرہ دستیوں سے اہل بیت بھی محفوظ نہ رہے۔

اگلے دن کی بات ہے۔ خبر چلی کہ شام میں اسلامی تاریخ کی ایک قابل احترام ہستی جناب عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ گو یہ ایک پرانی خبر کا نشر مکرر تھا لیکن پھر بھی مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی جو کہ ایک یقینی بات تھی۔ میں سوچنے لگا جانے کون بد بخت ہو گا جس نے یہ سب کیا ہے؟ فرض کرتے ہیں اس فسادی کے اجداد جناب عمر بن عبدالعزیز کے مخالف ہی رہے ہوں، لیکن پھر بھی تیرہ سو سال بعد ان کی قبر کھود کے آخر اسے ملا کیا ہو گا؟ لیکن پھر خیال آیا کہ کسی نہ کسی سطح پر ہم بھی تو گڑھے مردے ہی اکھاڑ رہے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں، مولانا جمیل احمد مدنی بضد ہیں کہ جناب ابو طالب مسلمان نہیں تھے۔ جب کہ علامہ باقر نجفی کا مقدمہ ہے کہ جناب ابوبکر، خلیفہ راشد کی بجائے غاصب حکمران تھے، تو دراصل یہ بھی تاریخ کے قبرستان میں ہم لوگ بے حرمتی ہی کر رہے ہیں۔ کیوں کہ جانے والے تو جا چکے، اللہ کے ہاں ان کا معاملہ ہو چکا اور ویسے بھی کیا ان کے ایمان اور اعمال کی بابت ہم سے پوچھ گچھ ہو گی؟ لیکن ہم سے ہمارے کرتوتوں کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا۔

بلکہ جو بد اخلاقی اس باب میں ہم اپنے مخالفین سے روا رکھے ہوئے ہیں اور جو غلط باتیں ہم نے ان معزز ہستیوں سے منسوب کر رکھی ہیں اس بارے میں بھی ضرور پوچھ گچھ ہو گی۔ اور اگر ہم محشر کے پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف دنیاوی اعتبار سے بھی دیکھیں تب بھی یہ ثابت کرنے سے کہ جناب ابو طالب مسلمان ہو گئے تھے یا نہیں اور جناب ابوبکر خلیفہ راشد تھے یا ظالم، اس سے نہ تو مذہب کو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی انسانیت کو۔ تو پھر ہمیں چاہئیے ہو گا کہ ہم بھی تاریخ کے قبرستان میں دھول اڑانے کے بجائے اور مرے ہووں کے ایمان اور اعمال کا محاسبہ کرنے کی بجائے صرف اپنے ایمان اور اعمال کی پرواہ کریں۔