98 مسافر،اور ان سے جڑی 98 کہانیاں - بریرہ صدیقی

یوں تو ہر کہانی المناک ہے لیکن ان میں غیرمعمولی ہمت و حوصلے کی ایک داستان لاہور سے تعلق رکھنے والے عارف اقبال فاروقی کی ہے۔

کینسر کی آخری اسٹیج سے لڑتی ان کی ساس کی خواہش تھی کہ وہ عید اپنی اکلوتی بیٹی اور نواسے، نواسیوں کے ساتھ گزاریں۔ چنانچہ ان کی اہلیہ اور تین بچوں کاکراچی جانے کا ہنگامی پروگرام بنا۔ چھوٹی بیٹی کا پہلا ہوائی سفر تھا اوروہ بےحد پرجوش تھی۔ روانگی سے ایک دن پہلے اپنی اہلیہ کو انگوٹھی دی جو انھوں نے فوری پہن لی جبکہ بیٹی نے کلائی میں بینڈز اور کالا ڈوپٹہ لے رکھا تھا۔ جس لمحے طیارہ گرنے کی اطلاع ملی، اگلی پرواز سے کراچی، جائے حادثہ پر پہنچ کر بیگم اور بیٹی کو اسی انگوٹھی اور بینڈ سے تو فوری پہچان لیا، لیکن بیٹا اور چھوٹی بیٹی کہیں نہ مل سکے۔اور اس کے بعد DNA کی میچنگ اور شھدا کی میتیں ڈھونڈنے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ ایک سے دوسرے محکمے کی طرف ریفر اور وہاں جاکر علم ہوتا رہا، متعلقہ افسران حادثے کی اطلاع کے باوجود عید کی چھٹیاں منانے جاچکے ہیں۔ اس تنہا رہ جانے والے باپ کی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں وزیراعظم سے لے کروزرائے اعلی اور متعلقہ افسران و ڈاکٹرز کولگاتار اپیلیں کی گئیں۔ حکومت کی جانب سے بالآخر یہ تسلی دی گئی کہ 21 دن کے بعد رزلٹس آئیں گے اور نعشیں لواحقین کے سپردکرنا ممکن ہوگا۔

یہ ایک متاثرہ شخص کی اپنے عزیزوں کی میتیں وصول کرنے کی تنہا جدوجہد تھی جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے ایر کموڈور اور پنجاب فرانزک لیب ، اور چند فرض شناس ڈاکٹرزکے خصوصی تعاون کی بدولت ٹھیک چھے گھنٹوں کے اندر پراسیس مکمل ہوا اوردونوں بچے حادثے کے نویں دن اپنی بہن اور ماں کے ساتھ دفن ہوئے۔

اپنے عزیزوں کودفنانے کے بعد اس شخص نے اپنی کوشش جاری رکھی، چند اور متاثرہ افراد کو ساتھ ملا کر خصوصی کمیٹی قائم کی گئی۔ ایک انفارمیشن ڈیسک تشکیل دے کر ، اپنی مدد آپ کے تحت جلد از جلد باقی میتوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ پورے پراسیس کی درجہ بندی کی گئی ، اور ہر پراسیس سے متعلقہ لوگوں کے رابطہ نمبر اور ایڈریس جاری کیے گئے۔ یہی وہ کام تھا جس کی بار بار حکومتی اداروں اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ سے درخواست کی گئی تھی کہ ایک فرد کو فوری نگران بناکر صحیح معلومات پہنچانے کا کام کیاجائے، لیکن سب درخواستیں صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں۔ پنجاب سائنس فرانزک لیب سے معلوم ہوا کہ جس کام کے لیے حکومت نے اکیس دن انتظار کا کہا وہ محض چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوسکتا تھا۔ تاخیر کے باوجود چند چادروں اور نمبروں کی تبدیلی سے بعض میتیں غیر متعلقہ ورثا کو دے دی گئیں۔ یہ صورتحال دیکھ کے، 2010 کے طیارہ شھداء کے لواحقین بلبلا اٹھے ہیں کہ ہمیں تو اس وقت محض قبریں دکھا کر کہاگیاتھا کہ اس میں ہیں آپ کے رشتہ دار، یہاں آکر فاتحہ خوانی کرلیں۔

قطع نظر اس بات سے کہ طیارہ حادثے کا شکار کیسے ہوا؟ تکنیکی خرابی کتنی تھی اور ہیومن ایرر کا کتنا عمل دخل تھا؟پائلٹ پر سارا الزام ڈال دینا سب سے زیادہ محفوظ طریقہ ہے جو صورتحال کی وضاحت کے لیے موجود ہی نہیں، اور جس نے بیس سال لگاتار سروس شاندار ریکارڈ کے ساتھ کی ہو۔ یایہ کہ ایرپورٹس کے قرب و جوار میں انسانی آبادی جس کے نتیجے میں پرندوں کی کثرت، بلندو بالا عمارات کی اجازت ہی کیوں دی گئی ہے۔

جہاں دنیا میں مسافرطیارے کایوں گر جانا ایک سانحے سے بھی کچھ بڑی قیامت سمجھاجاتا ہے، وہاں اب پاکستان میں یوں لگتا ہے ہوائی جہاز کا گرنا بھی اتنی ہی معمولی بات رہ جائے گی، جیسے آئے روز کے دیگر ٹریفک حادثات۔ اس کی ایک وجہ، خود ہمارا غیرضروری اطمینان، کسی بھی حادثے سے کچھ سبق لیے بغیر اسے بھول جانا اور دوسرے کے درد کو نہ محسوس نہ کرنا ہے، تا وقیکہ ہم خود کسی بڑی مصیبت کا شکار نہ ہوجائیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے، معاشرے میں ناانصافی، ظلم، جرم کو برداشت کرنا یا خاموش تماشائی بن کر دوسرے کو سہتا دیکھنا ، بجائے خود برائی کی افزائش کا سبب ہے۔ اور پھر ہمارا معاشرہ۔۔؟؟ جہاں کسی بڑی سے بڑی ذمہ داری کی بنیادی شرط آپ کا نااہل ہوناہو، آپ نااہل ہیں تو آپ عین میرٹ پر ہیں، وہاں تو بطور ایک عام شہری کے، ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

یہی انفرادی اور اجتماعی رویے قوموں کے درمیان پہچان کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ یہی حساسیت ہے جو کہیں فردواحد کی خودسوزی، آن کی آن میں عرب بہار کی آمد کی نوید بنتی ہے تو کہیں کسی دم توڑتے شخص کی آخری بے بس پکار، " میں سانس نہیں لے پارہا" چند گھنٹوں میں ایک تحریک بن کر ابھرتی ہے اور سوپر پاور کو یوں للکارتی ہے کہ بے بس پولیس اسی انداز میں گھٹنے ٹیک کے معافی مانگنے پر مجبور ہوتی ہے، جس طرح ایک شخص کا ماورائے عدالت اور عین سڑک کے بیچوں بیچ قتل کیا گیا۔۔زندہ قومیں ایسی ہی تحریک کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ اور انسانیت کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اپنی بیٹی کی راہ تکتے وہ کینسر کی مریض والدہ آج خالق حقیقی سے جاملیں۔ انہیں آخری لمحات تک یہی بتایا گیا ، بیٹی آنا چاہ رہی تھیں لیکن کورونا کے سبب انھیں قرنطینہ کردیاگیا ہے۔ ان کی روح تو بیٹی اور بچوں کو استقبال کے لیے پہلے سے جنتوں میں اپنا منتظر پا کر حیران و سرشار ہوگئی ہوگی۔ لیکن زمین پے بہت سی روحیں مضطرب ہیں، صرف طیارے کے ملبے کا دھواں ہی نہیں ہے جس سے سانس لینا مشکل ہے، اردگرد پھیلا بے حسی اور خود غرضی کا دھواں زیادہ ہے جس نے روحوں کو جکڑ رکھا ہے اور چارسو ایک پکار ہے، " I can't breathe".. " I can't breathe"

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.