سفید آدمی کا بوجھ - صبور فاطمہ

25 مئی 2020 ،امریکہ میں ایک امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کا پُر تشدد قتل گوروں نے کیا۔ جس کا محرک ، سبب اور وجہ صرف نسلی تفاخر، نسل پرستی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا تاریخی واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سلسلہ کئی صدیوں سے یوں ہی جاری وساری ہے۔ دیکھا یہ جانا چاہیئے کہ ان رویّوں کی بنیاد کیا ہے۔زمانہ جاہلیت میں بھی یہی رویے تھے۔

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو مشرکین مکّہ نسلی تفاخر کے دل خراش تحقیر آمیز جملے کستے تھے۔ دینِ اسلام اور خطبہ حجّتہ الوداع کے موقع پر ان رویّوں کی ممانعت کردی گئی کے کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کسی قسم کی کوئی ترجیح نہیں۔ اور بڑائی کی بنیاد صرف تقوی کو قرار دیا۔ اسلام کے پیروکار ،امریکہ میں پیش آنے والےنسلی تفاخر پر مبنی جیسے واقعات اور رویّوں سے اجتناب کرتے ہیں جس کا بڑا مظہر مسلمانوں کے سالانہ اجتماع حج کے موقع پر نظر آتا ہے۔ یہ تو ہے دین اسلام کامزاج۔ جس میں محمود و ایاز ایک ہی صف میں ہوتے ہیں۔لیکن دنیا بھر میں حقوق انسانی کے علمبرداروں کے اپنے ہی ملک میں اس نوعیت کے رویے کیوں برتے جارہے ہیں ؟ تو اس کا جواب دور استعمار کی تاریخ میں پنہاں ہے۔ جدید استعمارکاری پندرہویں صدی میں شروع ہوئی۔ ابتداء میں یہ طاقت اسپین اور پرتگالیوں کے پاس تھی بعد میں یہ طاقت فرانس، برطانیہ اور ولندیزی ممالک کو منتقل ہوگئی ۔البتہ بعد میں برطانیہ تاریخ کی سب سے بڑی استعماری طاقت قرار پائی۔

استعمار کار نئی زرخیز یا منافع بخش منڈیاں(زمینیں) تلاش کرکے کمپنیاں قائم کرتے ہیں پھر کمپنیوں کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط کرکے وہاں کے مقامی باشندوں اور باسیوں کی محنت کو اپنی فیکٹڑیوں میں استعمال کرتے ہیں ۔گوکہ قدرتی اور انسانی وسائل کا مکمل استعمال کیا جاتاہے۔ پرتگالی استعمار کارافریقی غلاموں کو افرادی قوت کے لئے استعمال کرتے تھے ۔پھر ان کی تجارت بھی کرتے تھے۔ استعمار کاری کے نتیجے میں استعمار کار امیر ہوتے ہیں اور اس ملک کے اپنے ہی باشندے غلام یا اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ سارا عمل انسانیت کے منافی ہے لیکن اس عمل کو جائز بنانے کے لئے استعمار کار بتدریج، نصابِ تعلیم پر اپنی گرفت کو مظبوط کرتے ہیں اور جن پر انہوں نے استعمار کاری کی ہے ان کی، اپنی من چاہی ذہن سازی کرتے ہوئے استعمار کاری کے عمل کو جائز قرارد یتے ہیں۔ یہ تو تھا پسِ منظر۔ اب سفید فام کا سیاہ فام سے نفرت کرنا،کیوں ہے؟

تو اس کی جڑیں جا کر WHITE MEN BURDEN THEORY سے مل جاتی ہیں۔ یہ باقاعدہ ایک نظریہ ہے جس کو دورِ استعمار میں ہی بڑی تیزی سے فروغ دیا گیا ہے اس کے مطابق سفید چمڑی کے آدمی اور نسل پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو جو نسلا سفید چمڑی کے نہیں ہیں ،ان کو مہذب بنائیں، شعور دیں، تعلیم دیں ، اور آگے بڑھائیں کیونکہ وہ لوگ جو سفید نسل سے نہیں ہیں وہ جاہل ،جانور سے بھی بدترین ہیں تو استعمار کاری اسی لئے کی جاتی ہے کہ سفید نسل اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے ان کو شعور دیں ،تعلیم دیں۔گوکے وہ مربّی ہیں ۔ اور یہ ذمے داری نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔۔کالی ، پیلی، گندمی رنگ کی چمڑی والی نسلوں پر گوروں کے مظالم کے لئے سفید آدمی کے بوجھ کا نظریہ بطورِ جواز پیش کیا جاتا ہے۔اس مفروضے کو مزید تقویت JOSEPH RUDYARD KIPLING کی نظم WHITE MEN BURDEN سے ملی۔جو اس نے 1899ء میں تحریر کی تھی۔ پھر مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بر صغیر پاک و ہند کا نصابِ تعلیم ایسٹ انڈیا کمپنی کا فنڈیڈ ہوتاتھا۔اُن نصابی کتب کے مضامین کے فرضی کرداروں میں سفید آدمی ہمیشہ اچھا ، طاقت ور، ناقابلِ تسخیر خصوصیات کے ساتھ پیش کیاجاتاتھا جو دوسروں کو بآسانی پچھاڑ سکتا ہے۔

جس کے مطالعے کے بعد طالبِ علم آہستہ آہستہ انگریزوں کا دلدادہ ہونے کے ساتھ ان کا معترف ہوتا اور بخوشی ان کو اپنا آقا تسلیم کرلیتاہے۔ اور اس عمل سے ذہن سازی بھی ہوجاتی ہے۔ Decolonization کے بعد آج بھی استعمار کاری کے نظریات ہم میں رائج ہے۔ جس کی بڑی مثال مختلف isms کا ہمارے ہاں رائج ہونا ہے۔ بہر حال سفید نسل پرستوں کا اپنے مظالم کو اپنی حمایت اور جائز اور قانونی قرار دینے کا پسِ منظر سفید آدمی کا بوجھ ہی ہے۔ اس زمانے میں ایسے کارٹونز بھی بنائے گئے جو اسکی عملی مثال کو واضح کرتے تھے۔ انٹرنیٹ پر THE WHITE MEN BURDEN کے نام سے IMAGES میں اس کی تصاویر بآسانی دکھی جاسکتی ہیں۔یہ نظریات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں ۔امریکہ میں ہونے والے واقعے کی اگر ویڈیو دیکھی جائے تو ان گورے پولیس والوں کا اندازفخریہ نظر آتا ہے، جو احساسِ برتری کا شکار ہیں اور یہ ایک سراسر نفسیاتی مسئلہ ہے۔

اور امریکی گورنمنٹ کا چالیس ریاستوں میں کرفیو لگادینا، واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس اورگورنمنٹ سیکورٹی کا پلاسٹک کی گولیوں اور لاٹھی چارج کرنے کا تشدد میڈیا میں عام دیکھا جاسکتا ہے۔تو انصاف کہاں ہے پھر؟ اب ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے تو وہ صرف دینِ اسلام اور اخلاقِ حسنہ محمّد رسول اللہ ﷺ میں پوشیدہ ہے ۔ جو اس قسم کے نفسیاتی مسئلوں اور نظریات سے انسان کو ابدی نجات دیتے ہیں۔ بحیثیتِ مسلمان ان واقعات کے احتجاج میں دنیا اور مغرب زدہ اذہان کے سامنے تعلیماتِ اسلامیہ کے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بہت ضرورت ہے تاکہ تکثیرِ مسلم کا سلسلہ جاری رہے۔