اپنی شریک حیات کا خیال رکھیں - الطاف جمیل ندوی

شریکِ حیات نا سہی ، میں شریکِ غم تو تھی

کاش ! تو مجھے یوں بے وقعت نا کرتا .

تھک ہار کر گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جو مسکراتے ہوئے آپ سے پوچھے جلدی آگئے یا اتنی دیر کیوں کر ہوئی وہ آپ سے کہے چائے لاؤں پر کون سی آپ کیا کھائیں گئے اتنے پریشان کیوں ہیں خیر تو ہے مطلب آپ کے ساتھ دن بھر جو بیتا وہ سب جاننا چاہئے اسے کہتے ہیں شریک حیات جو پر دم تیار رہتی ہے آپ کے درد و غم میں آپ کا ساتھ دینا اسے اپنی تھکاوٹ سے غرض نہیں پر آپ کی تھکاوٹ پر ضرور پریشان ہو جائے گئی آپ اداس رہیں یہ اس سے برداشت نہیں ہوگا ہر طرح کے جتن کرے گی آپ کہیں سر میں درد ہے تو سو جائے کہہ کر تسلی دے گی یہ آپ کی زات میں خود کو گم کرنے کے لئے پریشان و سرگرداں رہتی ہے مطلب یہ رب کی نعمتوں سے ایک خوبصورت گلدستہ ہے جو آپ کو ملا ہے .

توآپ کا فرض بنتا ہے آپ بھی اس سے عزت و محبت دیں اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں پوری کرنے کی سعی کریں تو یقینا آپ کی دنیا آپ کے لئے جنت بن جائے گی یہ اور بات ہے کہ کبھی گر یہ غصہ کرے گی آپ سے تو یقین کریں تھوڑی ہی دیر بعد اندر ہی اندر پریشان ہوجائے گی خود کو کوستی رہے گی کیسے منالوں اسے آپ ایک بار اسے اس کے غصہ کرنے کے بعد پکارین تو سہی کیوں کہ اس کی پوری کائنات آپ ہی تو ہیں اس کا تصور حیات آپ سے شروع آپ پر ختم ہوجاتا ہے تو چلیں کچھ باتیں آپ سے کہتا ہوں کہ کیسے آپ کیسے اس سے اپنا اظہار محبت کریں گئے جو اپ کو گھر سے جنت کا محل بنانے مین دیر نہین کرے گا

1۔شریکِ حیات کے لیے زیبائش اِختیار کیجیے.اپنی شریکِ حیات کے لیے خُوبصورت لباس زیبِ تن کیجیے،خُوشبو لگائیے۔ آپ آخری بار اپنی بیوی کے لیے کب بنے سنورے تھے؟؟جیسے مرد چاہتے ہیں کہ اُن کی بیویاں اُن کے لیے زیبائش اِختیار کریں،اسی طرح خواتین بھی یہ خواہش رکھتی ہیں کہ اُن کے شوہر بھی اُن کے لیے زیبائش اختیار کریں۔ یاد رکھیے کہ اللہ کے رسول ﷺ گھر لوٹتے وقت مسواک استعمال کرتے اور ہمیشہ اچھی خُوشبو پسند فرماتے۔

2۔شریکِ حیات کے لیے خوبصورت نام کا چناؤ:اپنی شریکِ حیات کے لیے خوبصورت نام کا اِستعمال کیجیے۔ اللہ کے رسُول ﷺ اپنی ازواج کو ایسے ناموں سے پُکارتے جو اُنہیں بے حد پسند تھے۔اپنی شریکِ حیات کو محبوب ترین نام سے پُکارئیے، اور ایسے ناموں سے اجتناب کیجیے جن سے اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔

3۔ شریک حیات کی خوبیوں کی قدر کیجیے اور اسے حوصلہ افزائی بھی کیجئے۔ اپنی شریکِ حیات سے مکھی جیسا برتاؤ مت کیجیے۔اپنی روزمرہ زندگی میں ھم مکھی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں،یہاں تک کہ وہ ہمیں تنگ کرے۔ اسی طرح بعض اوقات عورت تمام دن اچھا کام کر کے بھی شوہر کی توجہ حاصل نہیں کر پاتی،یہاں تک کہ اُس کی کوئی غلطی شوہر کا دھیان کھینچ لیتی ہے۔ ایسا برتاؤ مت کیجیے،یہ غلط ہے۔ اُس کی خوبیوں کی قدر کیجیے اور انھی خوبیوں پر توجہ مرکوز کیجیے۔

4۔اپنی شریک حیات کی غلطیوں سے صرفِ نظر کیجیے:اگر آپ اپنی شریکِ حیات سے کوئی غلطی سرزد ہوتے دیکھیں تو درگزر کیجیے۔ یہی طریقہ نبی اکرم ﷺ نے اپنایا کہ جب آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات سے کچھ غیر موزوں ہوتے دیکھا تو آپ ﷺ نےخاموشی اختیار کی۔ اس اسلوب میں بہت کم مسلمان مرد ہی مہارت رکھتے ہیں۔

5۔ اپنی شریکِ حیات کو دیکھ کر مسکرائیے ۔جب بھی اپنی شریکِ حیات کو دیکھیں تو دیکھ کر مسکرا دیجیے اور اکثر گلے لگائیے۔ مُسکرانا صدقہ ہے اور آپ کی شریکِ حیات اُمّتِ مسلمہ سے الگ نہیں ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ کی شریکِ حیات آپ کو ہمیشہ مسکراتے ہوۓ دیکھے تو آپ کی زندگی کیسی گزرے گی۔ اُن احادیث کو یاد کیجیے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے جانے سے پہلے اپنی زوجہ کو بوسہ دیتے جبکہ آپ ﷺ روزہ کی حالت میں ہوتے۔

6۔ شریک حیات کے حسن سلوک پر اپنے رب کا شکریہ ادا کیجیے.وہ تمام کام جو آپ کی شریکِ حیات آپ کے لیے کرتی ہیں،اُن سب کے لیے اُن کا شکریہ ادا کیجیے۔ بار بار شکریہ ادا کیجیے،مثال کے طور پر گھر پر رات کا کھانا۔ وہ آپ کے لیے کھانا بناتی ہے،گھر صاف کرتی ہےاور درجنوں دوسرے کام۔ اور بعض اوقات واحد 'تعریف' جس کی وہ مستحق قرار پاتی ہے وہ یہ کہ 'آج سالن میں نمک کم تھا'۔ خدارا! ایسا مت کیجیے۔ اُس کے احسان مند رہیے۔

7۔ اپنی شریکِ حیات کو خوش رکھنے کی سعی کریےاپنی شریکِ حیات سے کہیے کہ وہ آپ کو ایسی 10 باتوں سے متعلق آگاہ کرے جو آپ نے اُس کے لیے کیں اور وہ چیزیں اُس کی خوشی کا باعث بنیں۔ پھر آپ ان چیزوں کو اپنی شریکِ حیات کے لیے دہرائیے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جاننا مشکل ہو کہ کیا چیز اسے خُوشی دے سکتی ہے۔ آپ اس بارے میں خود سے قیاس مت کیجیے، براہِ راست اپنی شریکِ حیات سے معلوم کیجیے اور ایسے لمحوں کو اپنی زندگی میں بار بار دھراتے رہیے۔

8۔ اپنی شریک حیات کے آرام کا آپ بھی خیال رکھیے.اپنی شریکِ حیات کی خواہشات کو کم مت جانیے۔ اسے آرام پہنچائیے۔ بعض اوقات شوہر اپنی بیویوں کی خواہشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ھیں۔ ایسا مت کیجیے۔ نبیِ اکرم ﷺ نے اس واقعے میں ہمارے لیے مثال قائم کر دی کہ 'حضرت صفیہ(رضی اللہُ عنھا)رو رھی تھیں،انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ ﷺ نے انھیں ایک سست رفتار اونت پر سوار کروا دیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے آنسو پونچھے، ان کو تسلی دی اور انہیں(نیا) اونٹ لا کر دیا'۔

9 کبھی کبھار اپنی شریک حیات سے مزاح کیجیے.اپنی شریکِ حیات سے مزاح کیجیے اور اس کا دل بہلائیے۔ دیکھیے کہ کیسے اللہ کے رسول ﷺ حضرت عائشہ(رضی اللہُ عنھا) کے ساتھ صحرا میں دوڑ لگاتے تھے۔آپ نے اس طرح کی کوئی بات اپنی بیوی کے ساتھ آخری مرتبہ کب کی

10 اپنی شریک حیات کے لئے بہتر بننے کی کوشش کیجیے.ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے یہ الفاظ یاد رکھیے: ''تُم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہے۔اور میں تم سب میں اپنے عیالوں سے بہترین پیش آنے والا ہوں''۔آپ بھی بھتر بننے کی کوشش کیجیے تاکہ اس کی نگاہ میں آپ سے بہتر کوئی بھی نہ رہے تو یہ اپنی جان بھی نچھاور کرنے پے آمادہ ہوجائے گئی گر آپ اپنی خوبیاں اپنا مٹھاس سے بھر پور لہجہ اور حسن اخلاق کا نسخہ اس کے لئے آزمائیں گئے اپنی شریک حیات کی قدر کریں کیونکہ یہ آپ کے اخیر وقت کی ساتھی ہے وہ وقت جو خود آپ کے اپنے لیے گزارنا مشکل ہوجاتا ہے جس کی شدت غم بیان نہیں کی جا سکتی جس کی کھسک دلوں کو پارہ پارہ کر دیتی ہے جس کا کرب سہنا محال ہوتا ہے تب یہ آپ کی مونث و غم کی شریک ہوجاتی ہے دنیا میں یہی تو ہے وہ ہستی جو غم میں آپ کے تڑپتی رہتی ہے اپنی لاچارگئی کا اظہار کرنے سے بھی گھبراتی ہے تھراتی ہے یہ دنیا کا حسین تصور ہے جو یہ اپنے لئے خود منتخب کرتی ہے
چند لمحوں کے لیے آپ اپنی شریک حیات جو آپ کے پہلو میں سوئی ہوئی ہے تصور کیجئے ۔

اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھے اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کر لیجئے تو ممکن ہے آپ کو یہ حسین و دلکش تصور آجائے کہ کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آکر سوئی پڑی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ کو چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا کو چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے
شرمندگی سے سوچنے پر پھر مجبور ہو جائیں گئے ۔

کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ ،، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں.بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی.کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے۔کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں.کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا.کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی.

کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی.اپنی ماں اور اپنی بیوی دونوں کو بے پناہ عزت دو ،، اسلئے کہ ایک تمہیں دنیا میں لائی ،،اور دوسری ساری دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی دل کو بدل دیں اسے اپنی نوکر نہ سمجھیں بلکہ اپنی شریک سفر در سفر مان لیں یہ اکیلی ایسی شریک حیات ہے شریک منزل ہے جو آپ کو جیت دلانے کے لئے چلتی رہتی ہے اس کی ہر کامیابی آپ کی کامیابی ہے اس کی خواہش آپ سے شروع ہوکر آپ پر ہی اس کی خواہشوں کا اختتام بھی آپ پر ہی ہوتا ہے اسلام نے اس بارے رہنمائی کی ہے نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے سیکھایا ہے کہ کیسے اس کی دلجوئی کی جائے کیسے اس کا احترام کیا جائے کیسے اس کے حسین خوابوں کو تکمیل تک پہنچایا جائے کیسے اس کی عزت و توقیر کی جائے کیسے خانگی زندگی میں اس کا ساتھ دیا جائے یہ مخلوق خود کو تم پر نچھاور کرنے میں فخر کرتی ہے تو تم اس کا خیال کرکے اس کی دنیا خوشیوں مسرتون سے آباد کر دیں آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں ان چیزوں کا جو نیچے آپ پڑھ رہے ہیں ۔

جو ایک خیالی تصور ہے صرف آپ کے استفادہ کے لئے میں ایک شوہر ہوں۔میں سوتے وقت بیڈ پر موبائل کے استعمال سے گریز کرتا ہوں لیکن اگر ضرورت پڑجائے تو روشنی کم کرتا ہوں تاکہ بیگم کی نیند خراب نہ ہو۔کھانے میں نمک مرچ کم زیادہ ہونے پر کبھی بیگم کو برا بھلا نہیں کہا کیوں کہ اتنی سی بات کے لیے میں شریک حیات کی تذلیل کیسے کرسکتا ہوں۔میں گھر کے کام کاج میں بیگم کا ہاتھ بٹاتا ہوں اس وجہ سے نہیں کہ زن مرید ہوں بلکہ اس وجہ سے کہ اپنی بیوی کا احساس ہے۔پوچھا لگنے کے بعد میں گیلے فرش پر گندے جوتوں کے ساتھ نہیں چلتا کہ بیگم کی محنت کی رائگانی کے ساتھ اس کا دل نہ ٹوٹ جائے۔میں اپنی بیوی کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں انعام بھی دیتا ہوں اور تعریف بھی کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں میں ہی اس کی دنیا ہوںکسی اور کی تعریف اسے اچھی لگتی ہے نہ وہ خواہش رکھتی ہے۔میں نے کبھی اپنے مرد اور طاقتور ہونے کا فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ ہمیشہ اپنی راحت پر بیوی کی راحت کو ترجیح دی ہے کیونکہ میرے نبی پاک نے عورت ذات کو نازک آبگینوں سے تعبیر کیا ہے۔

میں جانتا ہوں بیویاں شوہر میں اپنے باپ کا عکس تلاش کرتی ہیں اور میں خوش قسمت ہوں جس نے بیوی کے منہ سے کئی بار یہ جملہ سنا ابو بھی ایسا کرتے تھے۔
یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں جن کا خیال رکھ کے ہم اپنے رشتے کو مظبوط اور پیارا بنا کرسکتے ہیں۔میں ایک شوہر ہوں مجھ پر ایک جیتتے جاگتے انسان کی ذمہ داری ہے کہ میں اس کی جسمانی ذہنی اور بدنی آرام وراحت کا خیال رکھوں۔آپ بھی ایک شوہر ہیں ۔آپ ان میں سے کیا کیا کرتے ہیں؟

اپنے آپ سے یہ سوال کیجئے گا اور خود کو ہی جواب دیجیے گا مولا آپ کو خوش و خرم رکھئے شاد باد رکھے یہ زندگی لمحوں کی ہے اس میں محبت و اخوت سے رہے دوبارہ مانگ کر بھی نہیں ملنے والی ہے تو کیوں نہ اسے خوب صورت بنا کر بسر کیا جائے دعا کریں کہ زندگی مثالی ہو ۔