پرنٹنگ پریس،دنیاکے مختلف خطوں میں مختلف اثرات - پروفیسر جمیل چودھری

نئی ہزاری کے شروع میں سابقہ ہزاری کے اہم ترین لوگوں کی فہرستیں شائع کی گئیں۔ان فہرستوں میں ایک شخص کانام بڑے سائنسدانوں،حکمرانوں ،فاتحین اورثقافتی شخصیات سے بھی سب سے اوپرتھا۔سائنسدانوں میں نیوٹن،آئن سٹائن۔فاتحین میں چنگیز خان اورنپولین،ثقافتی شخصیتوں میں شیکسپئر اور مائیکل اینجلو۔ان سب سے اوپرجس شخص کانام لکھاگیا وہ تھا جرمنی کاایک باشندہ ،کاریگر اور حرکت پزیر پرنٹنگ پریس کاموجد جوہانس گٹن برگ۔

اس شخص کا نام تیسری ہزاری کے ابتداء میںچھپنے والی تمام فہرستوں میں ابتداء میں درج تھا۔گٹن برگ کی اہمیت پر اتفاق رائے سے پوری تاریخ پرہونے والے ان نتائج کاپتہ چلتاہے جو چھاپے خانے نے پیداکئے۔گٹن برگ نے متحرک ٹائپ والے چھاپہ خانہ کو1450ء میں جرمنی کے شہرMainzمیں ایجاد کیا۔اور اس طرح معلومات کے ایک انقلاب کا آغاز کیا۔بہت حد تک انٹرنیٹ کی طرح چھاپہ خانہ اپنے وقت کی اہم ترین ٹیکنالوجی تھی۔اس ایجاد نے معلومات کے بہاؤ میں ایک بے مثال عروج پیداکیا۔اس سے پہلے خواندگی کی شرح بہت ہی کم تھی۔ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابیں اورکتابچے غیر معمولی طورپر مہنگے تھے۔اورمعلومات کودوردراز مقامات تک پہنچنے میں ہفتے یامہینے لگتے تھے۔بنیادی رکاوٹ وہ وقت تھا جو دستاویزات کی کثرت سے نقلیں بنانے میں صرف ہوتاتھا۔مدرسوں،خانقاہوں اوریونیورسٹیوں میں دانشور تکلیف دہ شدید محنت کے بعد طویل مقالہ جات کی نقلیں تیارکرتے تھے۔بہت کم لوگوں تک ہاتھ سے کتابت شدہ کتابوں کی رسائی تھی۔

اور نئی معلومات اپنے وصول کنندہ تک پہنچنے تک پرانی ہوچکی ہوتی تھیں۔چھاپہ خانہ نے ان مسائل کو حل کرنے میں بڑی مدد کی۔چھاپہ خانہ نے خیالات تک رسائی کو آبادی کے زیادہ بڑے حصے تک کھول دیا۔چھاپہ خانے کے معاشی فوائد بہت واضح تھے۔اور یہ بہت تیزی سے پورے مغربی یورپ میں پھیل گیا۔15۔ویں صدی کے آخر تک یورپ کے بڑے شہروں میں ایک پرنٹنگ پریس لگ چکاتھا۔چھاپہ خانہ کے پھیلاؤ اورمعاشی ترقی کے درمیان ایک اور تعلق چھپنے والی کتابوں کی تعداد میں تیزاضافہ تھا۔جان لیوٹن وان ذینڈن کا تخمینہ ہے کہ1454ء تا1500ء کے درمیان چھپنے والی کتابوں کی تعداد 12.6ملین تھی۔لوگوں کے پاس ذاتی لائبریریوں میں تعداد بڑھنے لگی۔چھاپہ خانہ کی ایجاد اوراستعمال نے کاغذ کی مانگ میں اضافہ کیا۔چھاپہ خانہ کی روشنائی کامعیار بلند ہوا۔یوں یورپ میں خواندگی کی شرح تیزی سے بڑھی۔1800ء تک انگلستان اورہالینڈ میں خواندگی کی شرح50 فیصد ہوگئی تھی۔گٹن برگ کے پریس میں1454ء میں پہلی بائبل چھاپی گئی۔اورپورے یورپ میں مطالعہ کے لئے دستیاب تھی۔

15۔ویں صدی کے آخر تک یورپ کے 100بڑے شہروں میں سے60کے اندر چھاپہ خانے قائم ہوچکے تھے۔چھاپہ خانہ صرف جرمنی تک محدود نہ تھا بلکہ یورپ کی ہرقوم کے پاس تھا۔1500ء سے پہلے چھپنے والی زیادہ تر کتابوں کی زبان لاطینی تھی۔اطالوی،جرمن اورفرانسیسی زبان میں بھی چھپائی ہوتی تھی۔شروع میں مذہبی کتابیں سب سے زیادہ چھپتی تھیںاور کلیساء انکا سب سے بڑا خریدار تھا۔کلیساء جن چیزوں کی چھپائی میں دلچسپی لیتاتھا۔کلیساء کی طرف سے شائع کردہ حکم نامے،مقدس لوگوں کی تصانیف،ترک مخالف جنگ کے پروپیگنڈہ کرنے والے پمفلٹ اورمعافی نامے شامل تھے۔کتابیں طبع کرنے والے خوش تھے کہ انکی شائع کردہ مذہبی کتابوں کی مارکیٹ مذہبی حلقوں میں مضبوط تھی۔ریاضی کی کتابوں کی بھی ابتدائی طورپر تاجروں کی طرف سے بہت مانگ تھی۔کلیساء نے ایسی کتابوں کے چھاپنے پرپابندی بھی لگائی جنہیں وہ ملحدانہ سمجھتے تھے۔پروٹیسٹنٹ مذہب والوں کی کتابوں کی اشاعت میں بھی کیتھولک کلیساء نے رکاوٹیں ڈالیں۔30۔کتابوں کی فہرست کلیساء کی طرف سے شائع کی گئی کہ یہ نہ شائع کی جائیں۔

ان تمام پابندیوںکے باوجود پرنٹنگ پریس والے توسیع علم کاکام کرتے رہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ متصل سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس کی ایجادکو کیسے دیکھاگیا۔حیران کن بات یہ ہے کہ عثمانیہ کو اس ایجاد کاعلم30سال بعد1480ء میں ہوا۔تب باید دوم کی حکومت تھی۔اس سلطان نے1485ء میں چھاپہ خانے پر پابندی کاحکم جاری کیا۔اس کے بیٹے سلطان سلیم اول نے اس حکم کی تجدید کی۔1515ء کے حکم نامے کو میں دوستوں کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔ـ"کسی شخص کا اپنے آپ کو طباعت کے علم سے آراستہ کرناموت کی سزا کا مستوجب ہوسکتا ہے"اس حکم نامے کے پیچھے مذہبی حاکمیت اورخطاطوں کی طاقت تھی۔یہ پابندی عربی رسم الخط میں عربی اورترکی زبانوں پرتھی۔وہ یہودی جو سپین سے آکر استنبول میں آباد ہوگئے تھے۔انہوںنے1493ء میں عبرانی زبان کا چھاپہ خانہ استعمال کرنا شروع کردیاتھا۔تورات اور دوسری مذہبی کتابیں چھپنی شروع تھیں۔آرمینیاء اورتیونس میں عیسائیوں نے بھی اپنی مذہبی کتابوں کی اشاعت کے لئے چھوٹے چھوٹے چھاپے خانے لگالئے تھے۔اگراجازت نہیں تھی توصرف عربی زبان میں کتابوں اوررسالوں کی۔

عثمانی سلطان نے1727ء میں عربی رسم الخط میںچھپائی کی اجازت تودی۔لیکن پابندی یہ تھی کہ کوئی مذہبی کتاب نہ چھاپی جائے۔لہذاچھاپہ خانہ کے مالک ابراہیم متفرقہ اورسعیدی آفندی نے پابندیوں میں رہتے ہوئے نقشے،گرائمر کی کتابیں اور لغات شائع کیں۔1745ء تک کل17۔کتب شائع ہوئیں اور پھر چھاپہ خانہ بند ہوگیا۔یہ بات تودرست ہے کہ عربی رسم الخط میں ندرت تھی۔اور یہ رسم الخط طباعت کے لئے چیلنج پیش کرتاتھا۔لیکن اس سے پہلے ہی یورپیوں نے1530ء میں قرآن کو شائع کردیاتھا۔ظاہر ہے کہ وہ بھی عربی رسم الخط میں تھا۔عربی رسم الخط میں چھاپے خانے سپین اور اٹلی میں قائم ہوگئے تھے۔جوکئی یہودی اورعیسوی تعلیمات کوعربی زبان میں چھاپ کرتقسیم کررہے تھے۔اورپبلشرز کوعربی میں اشاعت کے راستے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہوتی تھی۔ہاں البتہ اس بات پرغور کیاجاسکتا ہے کہ کیا عثمانی سلطنت میں خواندگی کی کمی کے سبب کتابوں کی طلب کم تھی۔جس دورکا ذکر ہے۔

تب خواندگی تناسب3۔فیصد تھا۔چھاپہ خانہ کی ایجاد سے پہلے مسلمانوں کوذاتی لائبریریوں کابڑاشوق تھا۔اسلام کی پہلی4۔صدیوں میں مشرق وسطیٰ میں دنیا کی بڑی بڑی لائبریریاں تھیں۔ان میں لاکھوں قلمی نسخے تھے۔سمزقند میں کاغذ کے متعارف ہونے کے بعد کاغذ بنانے کے کارخانے پورے مشرق وسطیٰ اورشمالی افریقہ میں پھیل گئے تھے۔اورہاتھ سے لکھے ہوئے نسخوں کے ذریعے اشاعت ایک صنعت بن گئی۔اور13۔ویں صدی تک بغداد ،دمشق ،قاہرہ،غرناطہ اورفیض میں بہت بڑی بڑی کتابوں کی دوکانیں تھیں۔چھوٹے بڑے شہروں میں مسجد لائبریریاں بھی وجود میں آگئی تھیں۔نجی اورسرکاری لائبریریاں کافی پھیل گئی تھیں۔منگول حملوں نے اگرچہ لائبریریوں کوضائع کیالیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نصیرالدین طوسی نے تاتاریوں سے ملکر بے شمار کتابیں بچالی تھیں۔اورایران کے شہر مراغہ کے قریب ایک رصدگاہ میں محفوظ کردیاتھا۔ضیاء الدین سردار بھی مسلم دنیا میں کتابوں کے پھیلاؤ اور اسکی اہمیت پرگفتگو کرتے ہیں۔"۔8سوسال تک چھاپہ خانہ کی ایجاد سے پہلے مسلم تہذیب حقیقی طورپر ایک کتاب کی تہذیب تھی۔جس کی بنیاد ایک کتاب(قرآن) نے رکھی تھی۔

اس کا بنیادی مقصد سرحدوں کادفاع نہیں تھا۔بلکہ کتابوں کی کتابت اور انکی تقسیم تھی"یہ بات صحیح ہوسکتی ہے۔کہ 15۔ویں صدی کے آخر میں عثمانی،مصری اورمحلوک سلطنتوں میں عباسیوں کے عروج جیساماحول نہیں تھا۔لیکن اسلامی تہذیب میں کتابوں کی اہمیت کبھی بھی ختم نہیں ہوئی۔توپھر عثمانیوں نے کیوں پرنٹنگ پریس کو صدیوں تک روکے رکھا؟۔زیادہ امکان اس کاہے کہ طبع شدہ کتابوں کی کم طلب،چھاپہ خانہ پر پابندیوں کے ساتھ مل گئی ہو۔اوریوں چھاپہ خانہ لگانے والوں کی دلچسپی ہی ختم ہوگئی ہو۔پہلے لگائے گئے چھاپہ خانہ کا انجام سخت پابندیوں کی وجہ سے بہت ہی برا ہوا۔کئی سالوں میں صرف17۔غیر مذہبی کتابیں شائع ہوئیں۔طبع شدہ کتابوں کی اشاعت کاانحصار مذہبی کتابوں کی چھپائی پر تھا۔اور پہلی اجازت میں مذہبی کتابیں شامل نہ تھیں۔عثمانی سلطانوں نے اس ٹیکنالوجی کی راہ کیوں روکی جس کے بے شمار معاشی اور تعلیمی فوائد بھی تھے۔جن لوگوں نے اس دور پر تحقیق کی ہے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ چھاپہ خانے کی اشاعت سے عثمانی سلطنت میں کس گروہ کونقصان پہنچنے کااندیشہ تھا۔یہ ایسالگتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جو سلطان کو حکومت کرنے کی جواز بخشی کاسبب بنتے تھے۔یاحکمران کوحکومت کرنے کی توسیع دیتے تھے۔

اپنے مسلمان پیش رووں کی طرح عثمانی بھی اپنے اقتدار کوتوسیع دینے کے لئے مذہبی جوازبخشی پرانحصار کرتے تھے۔بلاشبہ عثمانی عرب نہ تھے۔لیکن اسلام پر عمل کرنے کے ساتھ منسلک جواز بخشی کے فوائد اتنے زیادہ تھے۔کہ ان کے لئے ان کو نظر انداز کرنا ناممکن تھا۔سلطان فاتح محمد دوم کے1453ء میں قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد یہ بات خاص طورپر ٹھیک تھی۔جو کہ ایک ایساواقعہ تھا جس کی بازگشت پوری مسلم دنیا میں سنائی دی۔عثمانی سلطان محمد فاتح دوم کوچارخلفاء کے بعد سب سے اہم شمارکرتے تھے۔اور اسلامی دنیا جہاد کو طاقت اور اثرورسوخ کا عظیم ترین ذریعہ سمجھتی تھی۔فاتح محمد نے اپنے آپ کو تمام مسلمانوں کی طرف سے جہادکرنے والا سمجھا۔بعد میں فاتح محمد کے بیٹے سلیم اول نے مصر کوفتح کرکے خلافت کامرکز استنبول منتقل کردیا۔یوں اسلامی نقطہ نظر سے عثمانی سلطانوں کو اونچا درجہ مل گیا ان واقعات نے مذہبی جواز بخشی کی اہمیت بہت بلند کردی۔یہ جواز بخشی صرف مذہبی حاکمیت ہی سلطان کوعطا کرسکتی تھی۔عثمانی سلطان کی توجہ ہروقت مذہبی علماء کی طرف رہتی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ سلطان کے حامی رہیں اور انکی وجہ سے حکمرانی طویل ترین ہوتی رہے۔

لہذا عثمانی مذہبی حاکمیت کے اندرسلطان کو چھاپہ خانہ کے قیام سے روکنے کے لئے جذبہ محرک موجود تھا۔اورخاص طورپر ایسا چھاپہ خانہ جوعربی رسم الخط میں کتابوں کو شائع کرے۔اس وقت تک تمام عوام پر مذہبی علماء کی طرف سے ہی نام نہاد دانش پھیلائی جاتی تھی۔یہ زبانی خطابات کی شکل میں تھی قلمی مسودے صرف علماء تک محدود تھے۔عوام تک قلمی مسوودات کم ہی پہنچتے تھے۔مذہبی علماء عوام اور حکمرانوں پراپنا اثرورسوخ مکمل طورپر قائم رکھنا چاہتے تھے۔صرف اسی لئے علماء کی طاقت ورجماعت نے تقریباً3 ۔صدیوں تک چھاپہ خانے کا پھیلاؤ نہیں ہونے دیا۔عربی رسم الخط کی باقاعدہ دوبارہ اجازت1745ء میں آکر دی گئی اورچھاپے خانے لگنے شروع ہوئے۔مشرق وسطیٰ میں پہلا چھاپہ خانہ1798ء میںآکر لگا۔وہ ایک فرانسیسی نے آکر لگایا۔جو نپولین کے ساتھ مصر آیاتھا۔یہ تمام کام وسیع وعریض عثمانی سلطنت میں19۔ویں صدی میں آکر شروع ہوا اورہندوستان میں تو یہ کام انگریزوں کے آنے کے بعد ہی شروع ہوناتھا۔آپ انڈونیشیاء اورملائیشیاء جیسے دوردراز علاقوں کاتصور کرسکتے ہیں۔

سعودی عرب،یمن،عراق اورایران میں بھی یہ کام یورپ کے صدیوں بعد شروع ہوا۔پوری امت مسلمہ میں کتابوں کی چھپائی اور اسکی ترسیل صدیوں بعد ہوئی۔یہ بات تو آپ مضمون کے شروع میں ہی دیکھ چکے ہیں کہ یورپ میں1454ء تا1500ء کے درمیان12.6ملین کتابیں چھپ کردوردراز علاقوں میں پھیل چکی تھیں۔امریکہ میں بھی یہ کام بہت تیزی سے پھیلا۔جہاں یورپ کی ترقی میں دیگر اسباب تھے وہاں ایک بنیادی سبب تیز رفتار پرنٹنگ پریس کاپھیلنا بھی تھا۔نہ صرف کتابیں بلکہ اخبارات اوررسائل کے ذریعے معلومات کابہاؤ تیز رفتاری سے پورے یورپ اوربعد میں امریکہ تک پھیل گیا۔یہ صنعتی اورتعلیمی انقلاب ہی تھا۔دوردراز ایشیاء میں اس طرح کی مشینیں بھی باقی ممالک میںدیر سے پہنچیں اورپہلی جنگ عظیم سے پہلے جاپان ایک ترقی یافتہ اورعوام تعلیم یافتہ ہوچکے تھے۔عثمانیہ سلطنت میں خطاطوں کی تعداد کااندازہ80۔ہزار لگایا گیا ہے۔جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے۔پرانے روزگار ختم ہوتے ہیں اورنئے شروع ہوتے ہیں۔

مستقبل میں انٹرنیٹ بھی یہی کچھ کرتانظر آتا ہے۔لیکن اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہی زندگی ہے۔رکاوٹ ڈالنے کاقوموں کونقصان ہی ہوتا ہے۔عثمانیوں نے دیکھ لیاکہ وہ پرنٹنگ پریس اور دوسری مشینوں سے وقت پرفائدہ نہ اٹھاسکے۔یورپین نے نہ صرف پرنٹنگ پریس سے بلکہ پورے صنعتی انقلاب سے فائدہ اٹھایا۔طاقتور برطانیہ اورفرانس نے ملکر1923ء میں ترکی سے معاہدہ لوزان پردستخط کرائے اور یوں6صدیوں پر پھیلی سلطنت کوٹکڑوں میں تبدیل کردیا۔مسلمانوں کونئی ٹیکنالوجیز کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے۔