لال مسجد محاصرہ ختم، انتظامیہ سے نیا معاہدہ طے پاگیا - حافظ مطیع الرحمان جمالیؔ

اسلام آباد انتظامیہ اور مولانا عبدالعزیز کے مابین بطور ضامن علامہ محمد احمد لدھیانوی کے ایک نیا معاہدہ طے پا گیا۔ لال مسجد کا محاصرہ ختم، مولانا عبدالعزیز لال مسجد چھوڑ کر واپس جامعہ حفصہ چلے گئے۔ یہ معاہدہ دو دن پہلے اسلام آباد میں فریقین/ضامن اور کچھ افسران و علماء کی موجوگی میں ہوا۔ فریقین میں دپٹی کمشنر اسلام آباد اور مولانا عبدالعزیز جبکہ بطور ضامن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب نے کردارادا کیا۔ ترجمان شھداء فاؤنڈیشن (لال مسجد)

یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لال مسجد کا حالیہ تنازعہ کیا اور کب سے شروع ہوا۔ اگر اس تنازع کو شارٹ اور مختصر آپ حضرات کیلئے بیان کیا جائے تو یہ معاملہ گزشتہ سال تب سے شروع ہوا جب اسلام آباد انتظامیہ نے لال مسجد کو عدالت کی جانب سے دیے گے پلاٹ کو خود ساختہ منسوخ کردیا۔۔۔ عدالت کی جانب سے یہ پلاٹ لال مسجد کو متضاد جگہ کے طور پہ دیا گیا تھا، جو لال مسجد آپریشن میں مسمار کردی گئی تھی۔۔۔ یہ جگہ مسجد کے ساتھ منسلک مدرسہ کی تھی جسے دوبارہ تعمیر نا کرنے کے عدالتی حکم کے ساتھ مسجد کو متضاد جگہ الاٹ کردی گئی۔ مگر ناجانے اسلام آباد انتظامیہ کو کیا سوجھی اس پلاٹ کی منسوخی کا فرمان جاری کردیا۔اس الاٹ پلاٹ کی منسوخی سے گزشتہ سال مئی سے یہ تنازعہ شروع ہوا ۔۔۔ جس پہ جامعہ حفصہ کی طالبات بارہا اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرواتے رہیں مگر کوئی شنوائی نا ہوئی۔اسلام آباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی کئی بار محاصرہ کیا جاتا رہا پھر راستے کھول دیے جاتے۔اس سال یہ معاملہ تب زیادہ کشیدگی اختیار کر گیا جب مولانا عبدالعزیز نے جامعہ حفصہ سے لال مسجد جانے کا اعلان کیا اور وہاں پہنچ کر مسجد کے انتظامات اپنے ہاتھ لے لئے۔

پولیس نے صورتحال پہ پھر مسجد کا محاصرہ کرلیاجو کئی دنوں تک جاری رہا۔۔۔ بلاآخر پھر مزاکرات ہوئے راستے کھولے گے مگر اس معاملے کا مکمل حل نا نکل پایا۔۔۔ اور یونہی معاملات چلتے رہے کبھی محاصرہ کر کے راستے بند کر دیے جاتے تو کبھی کھول دیے جاتے۔اسی سلسلہ میں 31 مئی کو ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے کو آئی جب مولانا عبدالعزیز کی صاحبزادی، وائس پرنسپل جامعہ حفصہ طیبہ دعاء غازی کو جامعہ آتے ہوئے راستے میں روک کر انکا محاصرہ کرلیا گیا اور انہیں گرفتاری کا کہا جاتا رہا۔۔۔ مگر انہوں نے بلاوجہ کی غیر قانونی گرفتاری دینے سے انکار کیا اور گاڑی سے باہر نا نکلی، پولیس نے تقریباً پانچ گھنٹے تک انکی گاڑی کو روکے رکھا پھر انکی لیگل ٹیم کے رابطوں اور کوششوں کی وجہ سے انکا راستہ چھوڑا گیا اور وہ مدرسہ پہنچ گئی۔۔۔ اسی طرح اگلے دن لال مسجد دارالافتاء کے مفتی صاحب کی گرفتاری ہوئی اور پھر کچھ دیر بعد رہائی۔

یہ معاملہ بلاآخر 2 مئی کو مولانا عبدالعزیز صاحب اور ضلعی انتظامیہ کے مابین ایک معاہدے سے فلوقت ختم ہوا۔۔۔ دونوں فریقین کا معاہدے کو پبلک ناکرنا طے پایا گیا۔البتہ کچھ زرائع کے توسط سے معاہدے کے متعلق یہ چند چیزیں سامنے آئی ہیں۔یہ معاہدہ ابتدائی طور پہ دو ماہ کیلئے کچھ شرائط پہ طے پایا گیا۔معاہدے کے مطابق مولانا تین دن میں لال مسجد چھوڑ کر واپس جامعہ حفصہ چلے جائے گے اور دو ماہ اس مسجد میں واپس نا آسکے گے۔اور پولیس محاصرہ ختم کردے گی۔۔۔ تاہم پولیس نے مسجد کا محاصرہ ختم کردیا اور مولانا اگلے ہی روز مسجد چھوڑ کر واپس مدرسہ پہنچ گے۔اور معاہدے کے مطابق دو ماہ کیلئے لال مسجد کے انتظامات دارالافتاء لال مسجد کے مفیان کرام کے سپرد کردیے گے۔ضلعی انتظامیہ دو ماہ کے اندر جگہ تنازع کا حل نکالے گی اور مدرسہ کو عدالت کی جانب سے دی گئی جگہ واپس کی جائے گی۔دو ماہ بعد مولانا پہ سفری پابندیاں بھی ختم کر دی جائے گی اور وہ اندرون ملک سفر کرسکے گے۔معاہدہ اسلام آباد میں ڈپٹی کمشنر اور کچھ افسران و علماء کی موجودگی میں ہوا جس میں بطور فریق مولانا عبدالعزیز اور دپٹی کمشنر حمزہ اشفقات اور بطور ضامن علامہ احمد لدھیانوی نے دستخط کیے۔

معاہدے کے بعد جب مولانا کی صاحبزادی اور وائس پرنسپل طیبہ دعاء غازی سے معاہدے کے متعلق پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی جانب سے حکومت کو ایک موقع اور دیا ہے کہ وہ خوش اسلوبی سے ہمارے مسائل سنے اور بیٹھ کر بات چیت سے حل کر لے ۔ نہ تو ہم باہر کسی ملک کے ہیں نہ ہی اس وطن سے ہمیں بے دخل کیا جا سکتا ہے ۔ دو ماہ کے دوران حکومت کے نمائندوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم آپکے تمام مسائل حل کرینگے اگر نہ کر سکے تو آپ آزاد ہیں جیسے مرضی احتجاج کریں ۔ہم نے ملک کے لیے ایک بار پھر لچک کا مظاہرہ کیا اور وہاں سے واپس آگئے باوجود اسکے کے وہاں بچیوں اور دیگر لوگوں نے پانچ ماہ حکومت کی سخت سے سخت تکالیف برداشت کیں اور سخت ترین سختیاں جھیلیں ۔ بھوک، پیاس ، راتوں کو پہرہ ، شدید محاصرہ ، گرفتاریاں ، مقدمے ، کون سی سختی ہے جو نہیں کی گئی ۔

جو لوگ یہ کہتے تھے کہ مولانا عبدالعزیز صاحب تو کسی کی بات ہی نہیں مانتے انہیں اب شاید سمجھ آجائے کہ کوئی ڈھنگ کی بات ہوگی تو سنیں گے بھی ، مانیں گے صرف ہوائی باتوں پر یقین کرنا بے وقوفی ہوتی ہے ۔ دو ماہ کے لئے معاہدہ یہی ہوا ہے کہ مولانا عبدالعزیز غازی لال مسجد نہیں جائنگے بلکہ وہ جامعہ حفصہ G7 میں ہی رہنیگے ۔اس دوران تمام مسائل کو حکومت حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی ۔اس تمام معاہدے کی ضمانت مولانا احمد لدھیانوی صاحب اور کچھ علماء کرام نے لی ہے ، جس پر بابا نے ان پر اعتماد کیا ۔ اور واپس آگئے ۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جامعہ حفصہ کے تمام مسائل حل فرمائے اور حکومت کو سنجیدگی سے جامعہ کے مسائل کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے

ہمارا کبھی کبھی یہ مقصد نہیں رہا کہ بلا وجہ مسائل کھڑے کریں ، ہمیشہ ابتداء دوسری جانب سے ہوئی تو مجبورا احتجاج کرنا پڑتا ہے۔۔۔{وائس پرنسپل جامعہ حفصہ}بلاآخر ہر معاملے کا حل خوش اسلوبی سے بیٹھ کر مزاکرات میں ہی ہے۔ دعا ہے اللہ پاک اس تنازع کا حل ان دو ماہ کے اندر ہی کردے۔۔۔ ورنہ ہمارے ملک میں بےشمار ایسے لوگ موجود ہیں جو اچھے بھلے سلجھے کام کو بگاڑنے میں اپنی توانائی کا ضیاع کرتے ہیں۔۔۔