الوداع ماہ،رمضان - عدنان طارق

کیا کائنات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علاوہ کوئی انسان ایسا ہے جو یہ دعوی کر سکتا ہو کہ اس نے اللہ رب العزت کی عبادت کا حق ادا کر دیا ہے؟یقینا" نہیں۔ کوئی بھی شخص بالیقین یہ دعوی نہیں کر سکتا بھلے وہ کتنا ہی متقی ہو اور چاہے اس نے اپنی ساری زندگی دن کے روزوں اور رات کے قیام میں گزار دی ہو۔

پھر مجھ سے دنیا داروں کی کیا اوقات ہے کہ میری نمازیں بے وقت بے دھیانی میں پڑھی ہوئیں، میری زکوت دکھاوے کی غرض سے دی ہوئی، میرے روزے بدستور گناہوں میں ڈوبے ہوئے، میرا حج لوگوں کی حق تلفی سے جمع شدہ پیسوں سے کیا ہوا،جھوٹ/ منافقت/ بددیانتی/ قطع تعلقی/ ناانصافی/ بداخلاقی/ بدنظری غرض دنیاوی لحاظ سے بھی شاید ہی کوئی ایسی برائی ہو جو مجھ سے گنہ گار و سیہ کار میں بدرجہ اتم موجود نہ ہو.

ایسے میں اللہ رب العزت کی عبادت کا حق ادا کرنے کا دعوی تو درکنار میری تو اتنی اوقات بھی نہیں ہے کہ میں اپنے یہ ٹوٹے پھوٹے اعمال اس کی بارگاہ میں پیش کرنے کے ہی قابل سمجھوں۔ قصہ مختصر "حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا" تو پھر مجھے اپنے بہت ہی نیک پارسا ہونے کا غرور کیوں ہے؟سو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی رحمت میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور کرنے کا کام یہ ہے کہ مایوس ہوئے بغیر واحد میسر آپشن avail کروں کہ جو اپنے تمام گناہوں پر اظہار,ندامت اور صدق,دل سے توبہ کا ہے تاکہ میں کسی نہ کسی درجے ہی صحیح پر اللہ رب العزت کے عفو و درگزر اور رحمت کا کم از کم امیدوار تو بن سکوں۔

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آخری ایک دو دن باقی ہیں۔ حدیث,مبارکہ کے ایک حصے کا مفہوم بھی ہے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منبر کی سیڑھی پر نعلین,اقدس رکھے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے دعا کی کہ تباہ ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی بخشش نہ کرا سکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آمین فرمایا۔

کیا سید الملائکہ کے دعا کرنے اور سید الانبیاء کے آمین کہنے کے بعد بھی اس دعا کی قبولیت میں کوئی شک باقی رہتا ہے؟؟اگر نہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے، ابھی بسم اللہ کریں!

کچھ بول نہیں سکتے تو رو لیا کرو

وہ تو دلوں کے حال بھی جانتا ہے