کرنسی نوٹوں کا ارتقاء - محمد زاہد صدیق مغل

ڈاکٹر مشتاق صاحب نے کرنسی نوٹوں کی شرعی حیثیت سے متعلق چند اہم قانونی مباحث کا آغاز کیا ہے۔ ان مباحث کی نوعیت اور موجودہ کرنسی کے ساتھ ان کے تعلق کو سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان نوٹوں کے اجراء کا تاریخی عمل کیا ہے۔ یہاں اختصار کے ساتھ اسے بیان کرنے کی کوش کی جاتی ہے۔

1) پہلی بات یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ "ڈپازٹ" (اسلامی فقہ کی اصطلاح میں "ودیعہ") اور "قرض" میں فرق کیا ہے۔

- ڈپازٹ معاھدہ: جب زید اپنا دس گرام سونا کسی شخص (مثلا صہیب) کے پاس بطور ڈپازٹ جمع کراتا ہے تو یہ دو چیزوں کا نام ہوتا ہے: (الف) ایک یہ کہ اس دس گرام سونے کی ملکیت اور مکمل دستیابی ( full availability) زید کے حق میں محفوظ رہے گی، زید جب چاہے دس گرام سونا واپس مانگ سکتا ہے۔ (ب) دوسری بات یہ کہ صہیب پر لازم ہے کہ وہ دس گرام سونے کی مکمل دستیابی زید کے حق میں محفوظ رکھے اور زید کی طرف سے "جونہی" اس کا تقاضا ہو اسے واپس کرے۔ اس حفاظتی خدمت کے لئے صہیب اگر چاہے تو زید سے کچھ فیس کا تقاضا کرسکتا ہے۔

- قرض کا معاھدہ: جب زید اپنا دس گرام سونا صہیب کو ادھار دیتا ہے تو یہ تین امور سے عبارت ہے: (الف) دس گرام سونے کی ملکیت اور دستیابی زید سے منہا ہوکر صہیب کو منتقل ہوجاتی ہے، (ب) صہیب اس 10 گرام سونے کو استعمال میں لاسکتا ہے، (ج) مال کی ملکیت اور دستیابی کی یہ منتقلی ایک "معین مدت" کے لئے ہوتی ہے، یعنی دس گرام سونے کی ملکیت اور اس کی دستیابی ایک معین مدت کے لئے زید سے صہیب کو منتقل ہوتی ہے ("معین مدت" کے قانونی تصور کے بغیر قرض کو ڈیفائن کرنا ممکن نہیں)۔ اگر زید اپنے مال سے نفع اٹھانے کی قیمت کا تقاضا کرے تو اسے سود کہتے ہیں (فقہ کی زبان میں اس قسم کے قرض کا معاھدہ ربا الفضل اور ربا النسئیہ دونوں کا مرکب کہلاتا ہے، خیر یہ گفتگو یہاں ضمنی ہے)

2) اس تفصیل سے یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ حقیقی (جینون) ڈپازٹ بینکنگ اور فنانشل intermediation کا مفہوم کیا ہے۔

- ڈپازٹ بینکنگ یہ ہے کہ صہیب بطور بینک سب لوگوں کی طرف سے جمع کرائے گئے سونے کو اپنے پاس (مثلا تجوری میں) ہمہ وقت محفوظ رکھ کر اس کی مکمل دستیابی کو یقینی بنائے۔ بینک اپنے پاس ڈپازٹ شدہ سونے (چاہے وہ ایک ھزار گرام سونا ہی ہو) میں سے ایک ملی گرام سونا بھی کسی کو دینے کا مجاز نہیں کیونکہ جونہی وہ کسی کو اس سونے میں سے کچھ جاری کرے گا وہ ڈپازٹ معاھدے کی خلاف ورزی کرکے فراڈ کا ارتکاب کرے گا، اس لئے کہ کسی شخص کو اس سونے میں سے کچھ بھی دینا اس سونے کی "مکمل و ہمہ وقت دستیابی" کے بنیادی اصول ہی کے خلاف ہے جو ڈپازٹ معاھدے کی بنیاد ہے۔

- اسی طرح جینون فنانشل intermediation یہ ہے کہ زید کی طرف سے بینک کو جو دس گرام سونا بطور "قرض" (نہ کہ ڈپازٹ) میسر آیا ہے (اور جس کی ملکیت و دستیابی ایک معین مدت (مثلا ایک سال) کے لئے زید سے ختم ہوکر بینک کو منتقل ہوچکی) بینک اس سونے کو کسی تیسرے فریق (مثلا راشد) کو قرض پر دے۔ یوں اس سونے کی ملکیت اب بینک سے راشد کو منتقل ہوجائے گی۔ ممکن ہے بینک نے زید کو 5 فیصد سالانہ سودی آمدن کی لالچ دی ہو، اس لئے زید نے اپنا سونا اس کے حوالے کردیا اور بینک نے راشد کو یہ سونا 10 فیصد سالانہ شرح سود کے عوض ادھار پر دیا۔ سال گزرنے کے بعد راشد دس فیصد سود اضافے کے ساتھ اصل دس گرام سونا بینک کو لوٹا دیتا ہے (یعنی کل 11 گرام سونا لوٹاتا ہے)، پھر بینک زید کو 10 گرام سونے کے ساتھ آدھا گرام سونا (5 فیصد شرح سود کے حساب سے) اضافی واپس کردیتا ہے، یوں اس نے آدھا گرام سونا کما لیا۔ یہ جینون فنانشل intermediation ہے۔

3) قرض پر مبنی درج بالا بینک ٹرانزیکشن کو اسلامی بینکار کس طرح دیکھیں گے؟ ان کی زبان میں معاملہ یوں ہوگا کہ زید نے بینک کو دس گرام سونا بطور قرض نہیں بلکہ مضاربہ معاھدے کے تحت دیا ہے جس پر نفع و نقصان کی ایک طے شدہ شرح ان کے مابین طے ہوگی (کہ مثلا دونوں فریق، بینک اور زید، 50 فیصد نفع کے مالک ہوں گے)۔ پھر بینک اس مال کو کسی شرعی معاھدے کے تحت کلائنیٹ راشد کے ساتھ ستعمال کرے گا (مثلا اس کے ساتھ مرابحہ یا اجارہ یا مشارکہ وغیرہ کرلے گا)۔ کلائنٹ راشد سے کئے جانے والے اس معاھدے سے جو نفع حاصل ہوگا بینک اس میں سے اپنا حصہ رکھ کر زید کو اس کا حصہ دے گا۔ تو یہ ہوا فنانشل intermediation کا اسلامی ورژن۔

4۔ فنانشل intermediation کے دونوں ورژنز میں بینک کسی نہ کسی معاھدے کے تحت زید کی دس گرام سونے کی ملکیت کو راشد کی طرف منتقل کرتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح ذھن نشین رہنا چاہیے۔

5) اب آئیے اس بات کی طرف کہ یورپ میں بینکاروں نے کیا کھیل کھیلنا شروع کیا۔ قبل اس سے کہ اس تاریخ کا ایک خاکہ پیش کیا جائے، حقیقی بینکاری کا اصول سمجھ لینا اگلی گفتگو سمجھنا آسان کردے گا۔ تو یہ سوال اٹھائیے کہ بینک جو کرتے ہیں کیا وہ واقعی فنانشل intermediation ہوتی ہے؟ بینکنگ کا اصول یہ ہے۔

6۔ زید دس گرام سونا بینک کے پاس جمع کراتا ہے (کس معاھدے کے تحت، یہ اہم سوال ہے لیکن ایک لمحے کے لئے اس سوال سے سہو نظر کریں)۔ بینک اس ڈپازٹ کے بدلے اسے رسید جاری کردیتا ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ بینک کے پاس زید کا دس گرام سونا جمع شدہ ہے۔ پھر راشد (ایک کاروباری شخص) بینک کے پاس آتا ہے اور بینک اسے دس گرام سونا بطور ادھار جاری کردیتا ہے (اسلامی بینکاری کو فی الوقت ایک طرف کیجئے، اس کو بعد میں دیکھتے ہیں)۔ فی الحال فرض کرلیجئے کہ بینک نے اسے یہ قرض سونے کی صورت میں جاری کیا، یعنی اسے تجوری سے دس گرام سونا نکال کر جاری کردیا۔ یہاں بینک کی بیلنس شیٹ تفصیلات میں جانا ممکن نہیں کہ بینک اس ٹرانزیکشن کو کس طرح ریکارڈ کرتا ہے لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے:

- زید (سونا جمع کروانے والا شخص) دس گرام سونے کے مساوی جاری شدہ رسیدوں کے عوض مال کی خرید و فروخت کرتا ہے اور بینک اسے یہ گارنٹی دیتا ہے کہ تم جب چاہو اپنا دس گرام سونا مجھ سے وصول کرلو۔ گویا بینک زید کے مال کو زید کے حق میں "ڈپازٹ" قرار دیتا ہے کیونکہ وہ اس کے حق میں اس کی "ہمہ وقت و مکمل دستیابی" کا وعدہ کرتا ہے۔

- دوسری طرف جب وہ اس مال کو استعمال کرکے راشد کو قرض جاری کرتا ہے تو اسی مال کو "قرض" قرار دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں راشد اس دس گرام سونے سے خریداری کررہا ہے۔

7۔ نتیجہ یہ ہے کہ بینک نے سسٹم کے اندر دس گرام سونے کے برابر قوت خرید پیدا کردی، وہ بھی کسی چیز کے بغیر (out of nothing)۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ زید دس گرام سونے کے مساوی رسیدوں سے "spot" ٹرانزیکشنز کررہا ہے جبکہ راشد بھی دس گرام سونے سے جو اسے قرض پر جاری کیا گیا اس سے "spot" تڑانزیکشنز کررہا ہے۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ہو یہ رہا ہے کہ بینک دھوکہ دیتا ہے۔ اگر زید کا جمع شدہ دس گرام سونا "ڈپازٹ" تھا تو بینک اسے راشد کو جاری کرنے کا مجاز ہی نہیں تھا۔ اور اگر یہ دس گرام سونا قرض تھا تو پھر زید کے حق میں اس کی دستیابی کا وعدہ ہی غلط ہے، کیونکہ اس کی ملکیت اور دستیابی "ایک معین مدت کے لئے" زید سے بینک کو منتقل ہوچکی۔ اس صورت میں زید کے ہاتھ میں جو رسید ہے وہ ڈپازٹ شدہ مال کی نہیں بلکہ "قرض پر دئیے گئے مال کی رسید" ہے اور جب وہ اس کے عوض کوئی خریداری کرتا ہے تو "قرض کی رسید" کو استعمال کرتا ہے نہ کہ ڈپازٹ کی رسید (ایسا قرض جو اسے مستقبل میں ملنا ہے)۔ بینک کا کھیل یہ ہے کہ وہ دو مختلف لوگوں کے لئے ایک ہی مال (دس گرام سونے) کے مساوی قوت خرید کو برقرار رکھتا ہے اور اس کی بنیاد ایک ہی مال کو "ڈپازٹ" اور "قرض" دونوں طرح ٹریٹ کرنا ہے۔

8۔ اس بنیادی و سادہ گفتگو ("سادہ" اس لئے کہا کیونکہ اس کی مزید پیچیدگی میں جانا یہاں مقصود و ممکن نہیں) سے واضح ہوجانا چاھئے کہ بینک فنانشل intermediation کا کام نہیں کرتا۔ یہ "قرض کی تخلیق" کا نظام ہے (اس پر کچھ گفتگو ان شاء اللہ آگے کریں گے)۔ یہ سب واضح رہے تو اب ہم بینکنگ کے ارتقاء کی تاریخ کی طرف چلتے ہیں۔

9) ایک چھوٹی سی بات یہاں کہنا ضروری ہے کہ اسلامی بینک بھی بعینہہ روایتی بینک کی طرح کام کرتا ہے، کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہئے۔ زید جب اپنا دس گرام سونا اسلامی بینک کو دے کر مضاربہ معاھدے کے تحت "نفع نقصان والا ڈپازٹ" کھلواتا ہے تو بینک اسے چیک بک جاری کردیتا ہے کہ اس جمع شدہ سونے کے مساوی ٹرانزیکشن کرلیجئے۔ دوسری طرف اسلامی بینک اس مال کو راشد کے ساتھ مرابحہ یا مضاربہ یا مشارکہ وغیرہ کے تحت جاری کردیتا ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہے؟ اگر زید کا جمع شدہ دس گرام سونا "واقعی مضاربہ" ڈپازٹ ہے تو زید اس کے عوض چیک لکھ کر spot transactions کیسے کرسکتا ہے (مضاربے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس سونے کی دستیابی زید کے لئے برقرار نہ رہی)؟ اور اگر یہ "حقیقی ڈپازٹ" (ودیعہ) ہوتا ہے تو بینک اس مال سے راشد کے ساتھ معاھدہ کیسے کرتا ہے، ڈپازٹ کو آگے جاری کرنے کا حق اسے کیسے مل گیا؟ (ممکن ہے کہا جائے کہ یہ قرض حسنہ ہوتا ہے تب بھی سوال یہ ہے کہ آخر زید اس کے بدلے خرید و فروخت کیسے کرتا ہے جبکہ وہ کلائنٹ راشد جو مضاربہ کے تحت دئیے جاچکے؟) تو عین وہی دھوکہ دھی جو روایتی بینک ڈپازٹ اور قرض کے معاھدوں کو مکس کرکے کرتا ہے اسلامی بینک ان کے نام بدل کر اس میں شریک ہوتا ہے۔ آگے واضح کیا جائے گا کہ ہر قسم کا بینک صرف اتنا ہی فراڈ نہیں کرتے بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ کرتے ہیں۔
(یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ آخر اسلامی بینکاروں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آسکی؟ آگے چل کر ان شاء اللہ اس بات کی وضاحت کی جائے گی کہ انہوں نیوکلاسیکل اکنامکس کے ماھرین کے معاشی ماڈلز پر مبنی غلط نظریہ بینکنگ کو مستعار لے رکھا ہے جس کی رو سے بینک صرف فنانشل intermediary ہوتا ہے)۔ اب آئیے کچھ مختصر تاریخ کی طرف۔

10) یورپ میں نجی بینکاری کا آغاز تیرہویں اور چودھویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے جب سوناروں نے عوام سے "حفاظتی مقاصد" کے تحت سونا "بطور ڈپازٹ" وصول کرنا شروع کیا۔ اس دور کے اہم بینکاری نظاموں میں Florentine banks (اٹلی)، Barcelona’s Bank of Deposit (سپین) اور Medici Bank (اٹلی) مشہور ہیں۔ ان بینکوں نے روایتی انداز سے ابتداء لوگوں کے جمع شدہ سونے چاندی کے ڈپازٹس کو حفاظت کے لئے اپنے پاس جمع کرنا شروع کیا اور ایک عرصے تک سو فیصد ریزرو بینکاری اصول پر کاربند رہے (یعنی کل سونے کو ڈپازٹ ھولڈرز کے حق میں ھمہ وقت محفوظ رکھتے جو ڈپازٹ کا معنی ہے)۔ جوں جوں ان پر لوگوں کا اعتماد بڑھتا گیا، رفتہ رفتہ انہوں نے خفیہ طریقے سے ان ڈپازٹس میں سے قرض جاری کرنا شروع کردئیے (جس کے یہ قانونا مجاز نہ تھے)۔ یہ بینک عام کاروباری لوگوں کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی سرکاری اخراجات پورا کرنے کے لئے قرض جاری کیا کرتے (مثلا Florence کے سرکاری اخراجات کا ایک بڑا حصہ ان بینکوں کے جاری کردہ قرضوں سے پورا کیا جاتا تھا)۔

11۔ یہ نظام اس مفروضے کے تحت چلتا تھا کہ چونکہ سب لوگ اپنا جمع شدہ سونا ہر روز بینک سے نہیں نکلواتے لہذا بینک کو تمام تر سونا اپنے پاس رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک چھوٹے سی مقدار کو اپنے پاس رکھ کر باقی کو قرض پر جاری کرکے وہ اپنا کام چلا سکتے ہیں (ظاہر ہے اس سے بینک کو بے تحاشا سودی نفع ملتا)۔ لیکن یہ مفروضہ تب تک کام کرتا ہے جب تک لوگ بینک پر اندھا اعتماد کریں نیز بینک اپنی لالچ کو کسی ضابطے میں رکھتے ہوئے قرض جاری کریں۔ بینکنگ کی تاریخ بتاتی ہے کہ بینکاروں کا انفرادی حرص ان پر اس طرح غالب آتا رہا ہے کہ بینک بالاخر ناکام ہوجاتے اور عوام کا اعتماد کمزور پڑتے ہی جاری کردہ رسیدوں کے مساوی سونا چاندی واپس کرنا ناممکن ہوجاتا (کیونکہ ان کی رسیدیں ان سے کئی گنا زیادہ ہوا کرتی تھیں)۔ درج بالا سب بینکوں کے ساتھ بھی یہی ہوا اور رفتہ رفتہ یہ سب ناکام ہوئے۔

12۔ ایک بینک کی ناکامی کا مطلب لوگوں کے جمع شدہ اموال کا نقصان ہوا کرتا تھا۔ اس مسئلے سے نبٹنے کے لئے چودھویں صدی میں حکمرانوں کی طرف سے جاری کردہ ایسے قوانین کا ذکر بھی ملتا ہے جن کا مقصد لوگوں کو اس نقصان سے بچانا تھا۔ مثلا Barcelona میں چودھویں صدی کی ابتداء میں یہ قانون بنایا گیا کہ جو بینکار دیوالیہ پن (insolvency) کے بعد لوگوں کا مال واپس نہیں کرسکے گا وہ چند گلاس پانی اور روٹی کے ٹکڑوں سے زیادہ معیار زندگی برقرار نہیں رکھے گا۔ اسی طرح یہ قانون بھی بنایا گیا کہ بینک کے پاس قرضوں کے بدلے collateral ہونا چاہئے اور جس بینک کے پاس collaterals نہ ہوں اسے بازار میں اپنی میز پر چادر بچھانے کی اجازت نہیں ہوگی (تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ یہ کمزور بینک ہے)۔ لیکن اس کے باوجود بھی بینک فراڈ سے باز نہ آتے اور 1321 میں یہ قانون بنایا گیا کہ جو بینکار insolvency کے بعد ایک سال کے اندر لوگوں کا نقصان پورا نہیں کرتا اسے سر عام قتل بھی کیا جائے گا اور اس کے مال کی نیلامی کرکے لوگوں کا نقصان پورا کیا جائے گا (تاریخ دانوں کے مطابق کم از کم ایک ایسی مثال ملتی ہے جب 1360 میں ایک بینکار کو یہ سز دی گئی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بینکوں کے فراڈ سے لوگوں کا نقصان ہونا اس دور میں کافی عام ہوچکا تھا۔

13) چودھویں صدی کی بینکاری ناکامیوں کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یورپ میں بینکاروں کو اس فراڈ سے روک دیا جاتا لیکن اس کے عین برعکس municipal government bank قائم کیا گیا جو اپنی نوعیت کا پہلا سرکاری بینک تھا اور جس کا مقصد بینکاری فراڈ سے "براہ راست" مستفیذ ہوکر سرکاری اخراجات پورا کرنا تھا (اس سے قبل حکومت نجی بینکاروں سے قرض لیا کرتی تھی، سرکاری بینک کا فائدہ یہ تھا کہ جمع شدہ ڈپازٹس کی بنیاد پر براہ راست خود کو قرض جاری کیا جاسکتا تھا۔ جو ایجنٹ اس سسٹم کے اندر قرض جاری کرتا ہے وہ اس جعلی کرنسی رسید کا "پہلا صارف" ہوتا ہے)۔ اس بینک کی طرف ڈپازٹس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اسے بہت سے ڈپازٹس پر اجارہ دارانہ حقوق دئیے گئے (کہ وہ ڈپازٹس اس کے سواء کسی دوسرے بینک میں جمع نہیں کروائے جاسکتے تھے)۔

14) بینکاری کی تاریخ بتاتی ہے کہ جیسے جیسے بینکوں کی جاری کردہ جعلی کرنسی کی مقدار میں اضافہ ہوتا، ساتھ ہی افراط زر میں بھی اضافہ ہوجایا کرتا (جو معاشی نظام میں فنانشل bubbles پیدا کرنے اور بالاخر اس کے پھٹنے پر خود بینکاری نظام کی تباہی کا باعث بنا کرتا تھا، یہاں زیادہ تفصیل کا موقع نہیں)

15) سولہویں صدی سے شروع ہونے والی براعظم امریکہ میں یورپی اقوام کی لوٹ مار کے نتیجے میں یورپ میں ہونے والی سونے چاندی کی ریل پیل نیز چارلس پنجم (ف 1558) کی سامراجی پالیسیوں نے بینکاری نظام کو سپین (بالخصوص Seville) کے اندر نیا عروج بخشا۔ چارلس پنجم اپنے مسلسل جنگی اخراجات پورے کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر بینکوں سے قرض لیا کرتا۔ یوں بینکاروں اور حکمرانوں کے مفادات کا ایک مضبوط گٹھ جوڑ وجود میں آیا جہاں بینک جعلی رسیدوں کے ذریعے حکمرانوں کو قرض جاری کرتے اور حکمران ان کے فراڈ کو قانونی تحفظات اور سہولیات فراہم کیا کرتے (چارلس پنجم کا حرص اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ بعض اوقات وہ بینکوں کے ڈپازٹس کو زبردستی چھین بھی لیا کرتا)۔ امریکہ میں جاری لوٹ مار اور استحصالی ٹریڈنگ کے سامان سے بھر کر آنے والے بحری جہازوں کی فنانسنگ کرکے خطیر نفع کمانے کے لئے بینک براہ راست انوسٹمنٹ کیا کرتے تھے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ اس سب کے باوجود بھی سپین کے یہ سب بینک سترہویں صدی کے آغاز سے آہستہ آہستہ ناکام ہونا شروع ہو گئے۔

16) بینکاروں اور سرکار کے گٹھ جوڑ کا یہی وہ دور ہے جب School of Salamanca نام سے معروف ایک تاریخی معاشی گروہ سے تعلق رکھنے والے بعض مفکرین نے بینکاری فراڈ کے جواز کی دلیلیں وضع کرنا شروع کیں ، ان مفکرین میںDomingo de Soto (ف 1560) اور Luis de Molina(ف 1600) کے نام مشہور ہیں (School of Salamanca کو موجودہ اکنامکس کے subjective preference theory of value سکول کا بانی سمجھا جاتا ہے)۔ ان مفکرین کے دلائل کا حاصل یہ تھا کہ بینک ڈپازٹس کے نام پر جو رقوم وصول کرتے ہیں وہ قرض بھی ہوتی ہیں اور بینک کے لئے جائز ہے کہ وہ چند احتیاطی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سودی قرض جاری کرے۔ لیکن یہ مفکرین یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ بینک جمع شدہ رقوم سے قرض جاری نہیں کرتے، بلکہ وہ out of nothing قرض دیتے ہیں۔

17) اسی دور میں عیسائی قانون کی رو سے متعدد انفرادی جائز معاھدات کو جمع کرکے ایسے معاھدات وضع کرنے کو رواج دیا گیا جن کا مقصد قرض پر سود کے فوائد حاصل کرنا تھا (اس کی تفصیل پہلے کچھ پوسٹس میں لکھی جاتی رہی ہے)۔

18) سترہویں صدی کے آغاز (سن 1609) میں Municipal Bank of Amsterdam قائم کیا گیا اور شاید یہ آخری بینک تھا جس نے طویل عرصے تک ڈپازٹ اور قرض کے بنیادی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے "سو فیصد ریزرو بینکاری" کے اصول پر بینکاری کی اور یہ بینک ڈپازٹس کی "مکمل اور ہمہ وقت فراہمی" کے اصول پر تقریبا سو سال تک کاربند رہا ۔ البتہ 1780 کی Anglo-Dutch جنگ کے دوران بینک نے بڑے پیمانے پر اس اصول کی خلاف ورزی شروع کردی جس کا مقصد بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات کی تکمیل تھا۔ اسی بینک کی طرز پر سن 1656 میں Bank of Stockholm (Sweden) قائم کیا گیا جہاں ڈیمانڈ ڈپازٹس (جن کا مقصد صرف رقوم کا تحفظ تھا ) اور فکسڈ ڈپازٹس (جن کا مقصد قرضوں کا اجراء تھا) کی تقسیم روا رکھی گئی اور یہ اصول طے کیا گیا کہ ڈیمانڈ ڈپازٹس کو سو فیصد ریزرو بینکاری کے اصول پر چلایا جائے گا۔ لیکن یہ صرف کاغذی کاروائی تھی اور یہ بینک بھی ڈپازٹ اور قرض کے بنیادی فرق کو بھلا کر قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا رہا۔ 1668 میں اس بینک کو نیشنلائز کرلیا گیا، یوں یہ پہلا "قومی بینک " بن گیا (لیکن یہ "سینٹرل بینک" نہیں تھا)۔ اتنا ہی نہیں، اس بینک نے "بینک نوٹ" جاری کرنے کے بالکل نئے قسم کے فراڈ کا آغاز بھی کیا ۔ یہ نوٹ قرض کی رسید ہوا کرتے تھے اور جن کی تعداد بینک کے پاس موجود سونے کی مقدار سے کئی گنا زیادہ ہوا کرتی۔ یہ "بینک نوٹ" کی ابتداء تھی۔

19) بینک آف ایمسٹرڈیم کے زیر اثر سن 1694 میں Bank of England قائم کیا گیا لیکن اس بینک کے قیام کا مقصد ہی چونکہ برطانوی حکومت کے جنگی اخراجات کو پورا کرنا تھا لہذا اس نے ابتداء ہی سے دھوکہ دھی کے اصول پر کام کیا۔ حکومت کے ماضی کے ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے نجی بینک سرکار کو قرض دینے پر تیار نہ ہوتے تھے اور نہ ہی حکمرانوں کے لئےیہ ممکن تھا کہ وہ جنگوں کی ستائی ہوئی عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ عائد کردیں، ایسے میں بینک کا قیام بہترین آپشن تھا۔ بینک آف انگلینڈ کا قیام جس شخص کے مشورے اور ایماء (Paterson) پر قائم کیا گیا اس نے 1693 میں حکومت کو یہ تجویز پیش کی کہ اسے اور اس کے دوستوں کو ایک بینک قائم کرنے کی اجازت دی جائے جو نہایت "فراخدلی" کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کا تمام قرض خرید لے گی، اس شرط پر کہ اس بینک کو out of nothing نئے نوٹ جاری کرنے کی اجازت دی جائے گی (اس پر کچھ گفتگو آگےآرہی ہے)۔ اب گویا "کرنسی فیکٹری" کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ سو فیصد ریزرو بینکاری کے اصول کی دھجیاں بکھیرنے والے اس بینک نے فنانشل مشکلات کی وجہ سے 1797 میں طویل عرصے کے لئے سونے اور چاندی میں ادائیگیوں کا سلسلہ بند کیا۔ اسی سال سرکار نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی سونے اور چاندی کی صورت میں کوئی ادائیگی نہیں کرے گی بلکہ تمام ٹیکسز اور سرکاری واجبات ان وثیقوں (یعنی بینک نوٹس)کی صورت میں ہی قبول اور ادا کی جائیں گی جو سرکار کو قرض دینے کے لئے جاری کئے گئے تھے۔ یہ سینٹرل بینکنگ کا آغاز تھا جس کی کچھ تفصیل آگے بیان کی جائے گی۔

20) ھالینڈ، سویٹزرلینڈ اور انگلینڈ کی طرح فرانس میں جان لاء (ف 1729) کی کوششوں سے سن 1718 میں General Private Bank قائم کیا گیا (جان لاء ایک نامور امیر کاروباری تھا)۔ جان لاء کو مانیٹری اور interventionist اکنامکس کا بانی بھی کہا جاسکتا ہے، اس کے خیال میں بینکوں کے ذریعے قرضوں کی تقسیم کا نظام ہی معاشی ترقی کا ضامن ہے۔ گویا یوں کہنا چاہئے کہ جان لاء کے خیال میں ترقی کے لئے لازم تھا کہ دھوکہ دہی کو عمومیت بخشی جائے۔ جان لاء کا ایک مزید کارنامہ یہ تھا اس کے بینک کے جاری کردہ قرضوں کے ذریعے اس کی کمپنی (Mississippi Trading Company) کے شئیرز کی خرید و فروخت کی جاتی تھی، یہ ربا اور سٹے بازی دونوں کا ابتدائی مجموعہ تھا (جان لاء کی یہ کمپنی امریکہ میں جاری فرانسیسی استعماری مہمات کو بڑھاوا دیا کرتی تھی)۔ البتہ بینک اور کمپنی کے گٹھ جوڑ پر مبنی سود و سٹے کا یہ کاروبار زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور شئیرز کی قیمتیں گرنے کے بعد بینک اور کمپنی دونوں ڈوب گئے اور کلائنٹس کو بھاری نقصان ہوا۔ یہ نقصانات اس قدر خطیر تھے کہ فرانسیسی تاریخ میں سو سال تک "بینک" کو "فراڈ " کا ہم معنی سمجھا جاتا تھا ۔ جان لاء کی طرز پر Richard Cantillon (ف 1734) اور Henry Thornton (ف 1815) دو ایسے مفکرین ہیں جنہوں نے دھوکہ بازی پر مبنی بینکاری کے اوپر مانیٹری پالیسی کی بنیادیں رکھیں (کہا جاتا ہے کہ Cantillon وہ پہلا شخص تھا جس نے 10 فیصد ریزرو کے ساتھ "محفوظ بینکاری" کے امکان کی بات کی)۔ البتہ ان کے بینک بھی ناکام رہے۔ Cantillon نے بینک قرضوں کے ذریعے شئیر مارکیٹ میں انوسٹمنٹ کرنے کے لئے نت نئے اقسام کے فراڈ پر مبنی معاھدات ایجاد کئے (یہاں تفصیلات ممکن نہیں) جن کے سبب اس پر دھوکہ دھی کے مقدمات قائم کئے گئے اور اسے گرفتار بھی کیا گیا، البتہ دھوکہ دھی کے ذریعے لوگوں کی رقوم ڈبونے والا یہ شخص بعد ازاں انگلینڈ فرار ہوگیا۔

سنٹرل بینکنگ اور لیگل ٹینڈر کا سفر
21) جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا کہ حکام کو بینکاری کے ذریعے قرض پر مبنی جعلی رسیدیں چلانے کا ادراک حاصل کرنے میں خاصا وقت لگا اور اس دوران بینکار معاشرے کی اشرافیہ کو ساتھ ملا کر بے تحاشا معاشرتی قوت حاصل کرچکے تھے اور ساتھ ہی ساتھ وہ حکومتوں کی ضرورت بھی بنتے چلے گئے۔ پھر جب حکمرانوں کو اس خفیہ فراڈ کے "فوائد" کا اندازا ہوا تو انہوں نے بینکوں کو اپنے سہولت کار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا اور بدلے میں انہیں اس غیر قانونی و غیر اخلاقی دھندے کو چلانے کی اجازت دئیے رکھی۔ لیکن اس سب کی راہ میں بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ بینکاری کا یہ نظام نہایت غیر مستحکم تھا جس کے نتیجے میں لوگوں کے اموال ڈوب جایا کرتے۔ سینٹرل بینکنگ اسی فراڈ کو "مستحکم " طریقے سے چلانے کا ایک ادارہ تھا۔ سب سے پہلے یہ ادراک بینک آف انگلینڈ میں پیدا ہوا جس نے یہ خیال کیا کہ اسے ذاتی نفع کے لئے نجی بینکوں کے ساتھ مسابقت کے بجائے "معاشرے کی عمومی مصلحت" کے پیش نظر ایک ایسے بینک کے طور پر کام کرنا چاہئے جس کا مقصد ان بینکوں کو کرائسز سے باہر نکالنا ہو۔ چنانچہ بینک کے اس کردار کو 1844 میں "بینک آف انگلینڈ ایکٹ" کی صورت میں کوڈیفائی کیا گیا جس کے بعد lending of the last resort بینک کا پہلا وظیفہ ٹھرا ( lending of the last resort کا معنی یہ ہے کہ جب کسی نجی بینک کے پاس ڈپازٹس کی ادائیگی کے لئے اصل کرنسی کم پڑجائے تو سینٹرل بینک اسے کم شرح سود پر ادھار جاری کرکے اس کی یہ ضرورت پوری کردے گا، یعنی سینٹرل بینک قرض کی جعلی رسیدوں کی ادائیگی کے لئے مزید جعلی رسیدیں جاری کردیا کرے گا!)۔ اسی کے ساتھ بینک کو "کرنسی کے اجراء" اور اس کی مقدار قابو میں رکھنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ یہ کرنسی نوٹوں کا آغاز تھا جس کا آغاز برطانیہ سے ہوا اور پھر ہر طرف پھیل گیا۔ یہاں برطانیہ میں اس کی مختصر بیان کی جاتی ہے۔

سنٹرل بینکنگ اور لیگل ٹینڈر برطانیہ میں
22) سن 1693 میں ولیم پیٹرسن (ف 1719) کی سربراہی میں ایک سرکاری کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ سرکار کو اخراجات پورے کرنے کا کوئی طریقہ بتائے۔ پیٹرسن یہ تجویز لے کر آیا کہ وہ ایک بینک بنائے گا جو سرکاری قرضہ جات خریدا کرے گا (یعنی سرکار قرض لینے کے لئے سودی بانڈز یا رسید وغیرہ جاری کرے گی اور یہ بینک انہیں خرید لیا کرے گا، اسی کے ساتھ وہ سرکار پر واجب الاداء پرانے قرضے بھی خریدلے گا) ۔ بینک یہ سب کس چیز سے خریدے گا؟ کیا اس کے پاس جو جمع شدہ سونا چاندی کے ذخائر ہونگے ان کے عوض؟ نہیں بلکہ سرکار اس بینک کو یہ اجازت دے گی کہ وہ نوٹ جاری کرسکے اور اسی نوٹ کے عوض بینک سرکاری قرض خریدا کرے گا (بینک یہ نوٹ کس چیز کے بدلے جاری کرے گا؟ اصولا جواب ہونا چاہئے سونا چاندی کے عوض لیکن عملا کسی چیز کے عوض نہیں، اپنے چھاپے خانے سے چھاپ کر)۔ پیٹرسن نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ اس کے جاری کردہ نوٹ کو لیگل ٹینڈر بھی قرار دیا جائے لیکن ابتداء برطانوی پارلیمنٹ نے اس کی اجازت نہیں دی (لیگل ٹینڈر کا معنی یہ ہے کہ یہ نوٹ ہر قسم کی لین دین اور سرکاری ٹیکسوں اور واجبات کی ادائیگی کے لئے قابل قبول ہوگا اور جو اسے قبول کرنے سے انکار کرکے سونے چاندی کا مطالبہ کرے وہ قانونا مجرم ہوگا جسے سزا دی جاسکتی ہے)۔ اس کی تجویز پر 1694 میں بینک آف انگلینڈ قائم کیا گیا جس نے چھوٹتے ہی 760000 پاؤنڈ مالیت کے نوٹ جاری کرکے نہایت فراخدلی کے ساتھ سرکاری قرض خرید لیا (اس کے فوری بعد انگلستان میں افراط زر میں اضافہ ہوا، فی الوقت ہم اس طرف نہیں جانا چاہتے)۔ سن 1696 میں پہلی مرتبہ برطانوی حکومت نے دو سال کے لئے سونے چاندی میں ادائیگی کرنا بند کردی، 1697 میں اس بینک کی ایماء پر قانون بنایا گیا کہ انگلینڈ میں کوئی نیا بینک قائم نہیں کیا جائے گا نیز بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ نوٹ کی نقل وضع کرکے چلانے کی سزا موت مقرر کی گئی۔ 1708 میں چند مزید قوانین کا اضافہ کیا گیا جن کی رو سے بینک آف انگلینڈ کے سواء کسی بھی بینک کو ایسا نوٹ جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو "مطالبے پر قابل اداء" یعنی payable on demand ہو (جس نوٹ کے عوض کی ادائیگی "مطالبے پر" ہوسکے اس کی طلب ان نوٹوں کی بنسبت زیادہ ہوتی ہے جن کی ادائیگی مقررہ تاریخ سے پہلے ممکن نہ ہو) نیز بینکنگ سیکٹر میں 6 افراد سے زیادہ لوگوں پر مشتمل کوئی پارٹنرشپ قائم نہیں کی جاسکے گی۔

23) ان خصوصی امتیازات کی بنا پر بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ نوٹوں (جو اصلا قرض کی رسید تھے) کی طلب میں اضافہ ہوا اور نجی بینک انہیں سونے چاندی کی طرح بطور ریزرو استعمال کرنے لگے (اس امید پر کہ ان کے بدلے جب چاہیں گے سونا چاندی حاصل کرلیں گے کیونکہ یہ payable on demand تھے) ، ان کی بنیاد پر وہ مزید قرض جاری کرتے ، یوں تھوڑے سے سونے چاندی اور بینک نوٹوں کی بنیاد پر نجی بینک بے تحاشا قرضوں کی رسیدوں کا جال وضع کرتے۔ سن 1793 میں لگ بھگ 400 کے قریب نجی بینک برطانیہ کے اندر دھوکہ دھی کے اس کاروبار (جسے فریکشنل ریزرو بینکنگ کہتے ہیں) میں مصروف تھے۔ مالی مشکلات کی بنا پر اس بینک کو 1711 اور 1745 میں پھر سے اس امر کی اجازت دی گئی کہ سونا چاندی میں ادائیگی بند کردے۔ فرانس کے ساتھ برطانیہ کی طویل جنگ (1790 کی دھائی) کے نتیجے میں سن 1797 میں بینک آف انگلینڈ کو سونے چاندی میں ادائیگی سے رخصت دے دی گئی جو 24 سال برقرار رہی۔ اس دوران صرف اس بینک کے جاری کردہ نوٹس ہی "عملا "لیگل ٹینڈر کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ بینک کی دیکھا دیکھی دیگر نجی بینکوں نے بھی سونے چاندی میں ادائیگی بند کردی ۔ 1830 اور 1840 کی دھائیوں میں نجی بینکوں کو قانونا اجازت دی گئی کہ وہ بینک آف انگلینڈ کے نوٹ کے ذریعے اپنی ادائیگیاں کیا کریں اور نتیجتا یہ بینک سینٹرل بینک بننے کی پوزیشن میں آگیا جس کے پاس تمام بینکس اپنے ریزرو رکھوایا کرتے اور اسی سے سونا چاندی طلب کرتے۔ اسی دوران نجی بینکوں کو اجازت دی گئی کہ وہ بھی اپنے نوٹ جاری کرسکتے ہیں (لیکن وہ payable on demand نہیں ہونے چاہئیں)۔

24) یہ بات خوب اچھی طرح یاد رہنی چاہئے کہ یہ بینک نوٹس (یا کرنسی نوٹس) قرض کی رسید ہوا کرتے تھے اور سونا چاندی کے ساتھ انہیں بطور کرنسی چلانے کا مطلب قرض بطور کرنسی استعمال کرنے کا رواج ڈالنا تھا۔

25) سن 1844 میں Peel’s Act کے ذریعے برطانوی مالیاتی نظام میں تبدیلیاں لائی گئیں اور بینک آف انگلینڈ کو عملا سینٹرل بینک کا درجہ دے دیا گیا۔ اس ایکٹ کا مفروضہ یہ تھا کہ نوٹوں کے ذریعے کرنسی جاری کرنے سے اکانومی کو نقصان ہوتا ہے لیکن اس ایکٹ کے واضعین کو یہ شعور نہ ہوسکا کہ جو کام بینک آف انگلینڈ نوٹ جاری کرکے کرتا تھا بعینہہ وہی کام نجی بینکس قرض کی جعلی رسیدیں چلا کرکرتے ہیں (دونوں ہی کے ذریعے قرض پر مبنی کرنسی تخلیق ہوتی تھی)۔ ایکٹ میں طے کیا گیا کہ آج کے بعد بینک آف انگلینڈ اتنے ہی مقدار میں نوٹ جاری کرے گا جتنی مقدار میں سونا اور چاندی کے ذخائر اس کے پاس موجود ہوں گے نیز اس بینک کے علاوہ کوئی بینک اپنا نوٹ جاری نہیں کرے گا، یوں بینک آف انگلینڈ کو نوٹ جاری کرنے کی اجارہ داری دے دی گئی۔

26) اس ایکٹ نے برطانیہ میں فریکشنل ریزرو بینکاری کے فراڈ کو مضبوط و مستحکم کردیا، پہلے جو کام یہ نجی بینک سونے چاندی کے تھوڑے سے ذخائر کے بدلے بہت زیادہ قرض جاری کرکے کیا کرتے تھے اب وہی کام یہ "کرنسی نوٹ" کے بدلے کرنے لگے ۔ سونا چاندی کی بنیاد پر قائم دھوکہ دھی کے اس نظام کو ہمیشہ یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ اگر عوام نے بڑی مقدار میں سونے و چاندی طلب کی تو نظام ٹھپ ہوجائے گا (اس مسئلے کوbank run کہتے ہیں)، اسی وجہ سے یہ نظام صدیوں تک غیر مستحکم چلا آرہا تھا۔ البتہ اب سینٹرل بینک کے نوٹوں (جنہیں سرکاری چھاپے خانے میں "حسب ضرورت" کے اصول پر چھاپا جاسکتا تھا) کی بنیاد پر اس نظام کو مستحکم کرنے کی داغ بیل ڈالی گئی کیونکہ اب کسی بھی bank run سے نبٹنا ممکن ہوچلا تھا۔ سینٹرل بینک پر ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ نجی بینکوں کو ایسی پریشان کن صورت حال میں قرض فراہم کرکے ان کی مدد کرے۔

27) البتہ اس ایکٹ کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے اس بات کا اادراک دلانے کی کوشش کی گئی کہ سونے چاندی (یعنی کسی حقیقی شے) کی موجودگی کے بغیر کرنسی جاری کرنا غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر نقصان دہ عمل بھی ہے (مزے کی بات یہ ہے کہ آگے جا کر یہ سب کچھ قانونی اور مفید ہوگیا)۔

28) البتہ عملا اس ایکٹ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی کیونکہ متعدد مرتبہ (1847، 1857، 1866 اور بالاخر جنگ عظیم اول 1914) اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لئے زیادہ مقدار میں نوٹ جاری کئے جاتے رہے ۔ Peel’s Act کے مطابق بینک آف انگلینڈ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 14 ملین پاؤنڈز کے نوٹ جاری کرسکتا ہے (ایکٹ کے وقت 21 ملین پاؤنڈ گردش میں تھے) لیکن جب 1928 میں آخری مرتبہ اس ایکٹ کو ردی کی ٹوکری کی زینت بنایا گیا اس وقت بینک کے جاری کردہ نوٹوں کی تعداد 260 ملین پاؤنڈ تھی۔ اس کے بعد برٹش حکومت کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ جس قدر چاہے نوٹ جاری کرلے (اسی زمانے سے کنیزین اکنامکس کا دور شروع ہوتا ہے)۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا پر مسلط ہونے والی نئی استعماری قوت امریکہ کی سربراہی میں ایک نیا مالیاتی نظام متعارف کروایا گیا جس پر آگے روشنی ڈالی جائے گی (امریکہ میں سینٹرل بینکنگ اور کرنسی نوٹوں کے اجراء کی تاریخ پر مختصر گفتگو آگے آرہی ہے)۔

29) یہاں اس بات کا ذکر بھی اہم ہے کہ برطانوی سامراج نے اپنی باجگزار کالونیز پر بھی زبردستی کرنسی نوٹ اور قرض کی رسیدوں کی لین دین کو مسلط کیا۔ مثلا ھندوستان میں سن 1881 میں Negotiable Instrument Act کے ذریعے قانون بنایا گیا کہ صرف بینکوں اور سرکار کی طرف سے جاری کردہ وثیقے (نوٹس، بل آف ایکسچینج وغیرہ) ہی ہر قسم کے ٹیکس، لگان اور حرجانے وغیرہ کی ادائیگی کے لئے قابل قبول ہونگے۔ ان وثیقوں کی طلب میں اضافے کو مزید مستحکم کرنے کے لئے سن 1889 میں Metal Token Act متعارف کروایا گیا جس کی رو سے (الف) کسی بھی قسم کا کرنسی سکہ جاری کرنے پر پابندی عائد کردی گئی، (ب) کسی شخص کی ملکیت سے اگر سونا چاندی وغیرہ برآمد ہوئے اور یہ ثابت ہوگیا کہ اس نے سکے کی صورت میں کوئی کرنسی جاری کی یا 'اس کا ایسا کوئی ارادہ' تھا تو اس شخص کو ایک سال قید نیز جرمانے کی سزا (یا دونوں) دی جائیں گی، (ج) اس کے قبضے میں موجود ہر قسم کی دھات مثلا سونا چاندی وغیرہ چھین لی جائے گی (اور پھر چپکے سے انگلستان منتقل کردی جائے گی، یہ آخری بات البتہ اس ایکٹ میں نہیں لکھی ہوئی اور ہر بات "لکھنے کی" نہیں ہوتی کچھ باتیں "کرنے کی" ہوتی ہیں)، (د) ان سکوں کے ذریعے ریلوے کےمحکمے میں کسی بھی قسم کی ادائیگی کرنا یا انہیں قبول کرنا قابل سزا جرم ٹھرا۔

امریکا میں سینٹرل بینکنگ کا سفر
30) رابرٹ مورس (ف 1806 ) نے سن 1781 میں "بینک آف نارتھ امریکہ" کے نام سے امریکہ کا پہلا بینک قائم کیا۔ مورس امریکہ میں قوم پرست قوتوں کا لیڈر تھا اور امریکہ میں برطانوی طرز کی عظیم الشان قومی ریاست بنانے کا خواہاں تھا جبکہ اصل امریکی باسی اس کے سخت خلاف تھے۔ اس بینک کا بنیادی مقصد خود مورس اور اس کے ساتھیوں کے کاروبار کے لئے سستا قرض فراہم کرنا تھا۔ بینک آف انگلینڈ کی طرز پر اس بینک کے لئے بھی اصولا یہی طے کیا گیا تھا کہ یہ سونا اور چاندی کے ذخائر کی بنیاد پر کرنسی جاری کیا کرے گا، البتہ اس بینک کے جاری کردہ نوٹوں کو ابتداء ہی سے یہ امتیازی حیثیت دی گئی کہ سرکاری واجبات کی ادائیگی کے لئے سونے چاندی کے لئے علاوہ یہ نوٹ بھی قابل قبول ہوں گے۔ اس اجارہ دارانہ حق کے شکرانے کے طور پر بینک نے ریاست کو قرض فراہم کرنے کی حامی بھری ۔ لیکن یہ نوٹ چل نہ سکے اور ایک سال کے بعد مورس نے اس بینک کو نجی بینک میں تبدیل کردیا اور تمام تر سرکاری قرض اس نجی بینک کو بیچ دیا گیا، یوں یہ سرکاری بینک دو سال کے اندر موت کا شکار ہوگیا۔ لیکن قوم پرست قوتوں نے ہمت نہ ہاری اور الیگزینڈر ہملٹن (ف 1804) کی راہنمائی میں First Bank of United States کے نام سے قومی بینک کی داغ بیل ڈالی۔ ہملٹن نے اس بینک کے قیام کے لئے اس جھانسے سے کام لیا کہ اشیاء کی لین دین کے لئے امریکہ میں دھاتوں کی مقدار کافی نہیں ہے۔ سن 1811 تک امریکہ میں 117 بینک کام کرنے لگے جن کی تعداد 1815 میں 246 تک جا پہنچی۔ اسی دور میں امریکہ کو برطانیہ کے خلاف ناکام جنگ کا سامنا کرنا پڑا اور بینکوں کی جاری کردہ کرنسیوں سے ملک میں بے تحاشا افراط زر ہوگیا جس سے بینکوں کے جاری کردہ نوٹوں اور رسیدوں کی قدر سونے چاندی کے مقابلے میں مندی کا شکار ہوگئی، نتیجتا بینکوں کے لئے دھاتوں میں ادائیگیاں کرنا مشکل ہوگیا۔ اس صورت میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان دھوکہ باز بینکوں کا کاروبار بند کردیا جاتا لیکن اس کے عین برعکس سن 1812 تا 1815 تک ان بینکوں کو سونے چاندی میں ادائیگی سے استثناء فراہم کیا گیا اور سونے چاندی میں ادائیگی سے اسی نوع کے عمومی تعطل کی اجازت سن 1819، 1837 اور 1857 میں بھی دی گئی۔
31) امریکہ میں Jacksonian موومنٹ کے زیر اثر "کرنسی اور ریاست میں علیحدگی" کے تصور کو فروغ دیا گیا (یہ decentralization کی تحریک تھی)۔ 1833 میں جیکسن نے صدر نامزد ہونے کے بعد Bank of United States کے ٹریژری ڈپازٹس کو متعدد چھوٹے بینکوں میں منتقل کردیا (ان بینکوں کو pet banks کہتے ہیں)۔ اس دور میں یہ اصول طے کیا گیا کہ ہر بینک سرکار کے جاری کردہ بانڈز کی بنیاد پر قرض کے پھیلاؤ کے عمل کو فروغ دے سکے گا۔ اس قانون نے دو فرائض سر انجام دئیے: ایک طرف بینکوں کو لالچ دی گئی کہ وہ سرکاری قرض کی رسیدیں (یعنی بانڈز) خریدیں اور دوسری طرف سرکار کو موقع فراہم کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرض جاری کیا کریں (کیونکہ بینک کی صورت میں اس قرض کے خریدار موجود تھے)۔ یوں بینک اور سرکار کا گٹھ جوڑ تعمیر کرکے اسے "فری بینکنگ" کا خوبصورت عنوان دیا گیا۔

32) بینک نوٹس کو امتیازی حیثیت دلوانے کے لئے امریکہ میں متعدد قوانین بنائے گئے۔ سن 1862 میں Legal Tender Act کے ذریعے امریکی کانگریس نے قانون بنایا کہ یہ نوٹس ہر قسم کے ٹیکس، واجبات اور سرکاری قرضہ جات کی ادائیگیوں کے لئے قابل قبول ہونگے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد امریکی حکومت کے جنگی اخراجات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ فی الاصل اس قانون نے صرف اس مکروہ عمل کا قانونی جواز فراہم کیا تھا جو بینک پہلے ہی سے کررہے تھے: یعنی سونے چاندی کے بغیر کرنسی کا اجراء ۔ اس ایکٹ کے بعد 150 ملین ڈالر مالیت کے نوٹس جاری کیے گئے (انہیں greenbacks کہا جاتا ہے) اور نتیجتا افراط زر میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ البتہ امریکی سپریم کورٹ نے سن 1870 میں اس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو حکم جاری کیا کہ صرف سونے چاندی کی صورت ہی میں ادائیگیاں جائز ہوں گی، لہذا ہر مقروض دھاتوں کی صورت میں ادائیگی کرنے کا پابند ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بینکاروں اور حکمرانوں دونوں کے لئے کسی آفت سے کم نہ تھا، فیصلے کے اگلے ہی روز امریکی صدر نے اس کے خلاف اپیل دائر کردی اور کیس سننے والے بنچ میں اپنی مرضی کے دو ججز کی شمولیت کے ذریعے محض ایک سال کے اندر اس فیصلے کو تبدیل کروا کے Legal Tender Act بحال کروالیا۔ یوں قرض کی رسیدوں کو سرکاری و قانونی سطح پر بطور کرنسی استعمال کا رواج ڈالا گیا۔

33) امریکی "لیگل ٹینڈر ایکٹ" کا تناظر سمجھنے کے لئے اسی دور میں امریکی بینکاری نظام میں ہونے والی ایک اہم تبدیلی کو سمجھنا ضروری ہے۔ سن 1863 اور 1864 کے National Banking Acts منظور کئے گئے جن کے ذریعے فری بینکاری نظام کو قومی بینکوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا (یہی نظا م آگے چل کر فیڈرل ریزرو سسٹم کی بنیاد بنا)۔ ان بینکوں کو براہ راست مرکزی حکومت کے زیر سرپرستی رکھا گیا۔ بینکاری نظام میں اس تبدیلی کے محرک Jay cooke (ف 1905 ) اور اس کا بھائی ہنری (امریکہ کے مشہور اخبار "اوہایو سٹیٹ جرنل " کا ایڈیٹر) تھے۔ کوک ایک کامیاب سٹے باز ہونے کے ساتھ ساتھ لابنگ اور پراپیگنڈے کا بے تاج بادشاہ تھا اور اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ساز باز کرکے اس نے امریکی سینیٹرز اور کانگریس میں تعلقات بنا رکھے تھے۔ کوک نے سن 1862 میں اپنی کمپنی House of Cooke کے حق میں یہ اجارہ دارانہ حقوق منوالئے کہ یہ کمپنی ریاست کے بانڈز کی واحد انڈر رائٹر (یعنی انہیں جاری کرنے والی) ہوگی، یعنی جس کسی نے یہ بانڈ خریدنا ہونگے وہ صرف اس کی کمپنی سے خرید سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی 1863 میں National Banking Acts کے ذریعے ایسے بینکاری نظام کی داغ بیل ڈال دی گئی جنہیں ان بانڈز کا خریدار ہونا تھا۔ اس طرح کوک نے چند ہی سال میں بانڈز کی انڈر رائٹنگ کے کاروبار سے کئی ملین ڈالرز کمالئے۔ نئے بینکاری نظام کے حق میں "جنگی ایمرجنسی" کے استدلال کو بھی بخوبی استعمال کیا گیا، درین اثناء کوک کا بھائی اپنے جرنل کے ذریعے اور دیگر اخباروں میں مسلسل ایسے مضامین چھپواتا رہا جن کا مقصد نئے نظام کے "ملکی فوائد" کا ذکر خیر کرنا ہوا کرتا۔ اس نئے بینکاری نظام کے تحت کوئی نیا بینک کھولنے کی شرائط نہایت سخت کردی گئیں (مثلا شہر میں بینک کھولنے کے لئے دو لاکھ ڈالرز سرمائے کی حد مقرر کی گئی جو اس وقت کے حساب سے بہت خطیر رقم تھی)۔ بینکوں کے لئے لازم کیا گیا کہ وہ سونے چاندی کے علاوہ سرکاری نوٹس بھی بطور ریزرو رکھیں گے۔ بینک نوٹ جاری کرنے کے لئے لازم قرار دیا گیا کہ بینک اس کے مساوی سرکاری بانڈ بطور کولیٹرل اپنے پاس رکھے گا، یوں بینکوں کو سرکاری قرض خریدنے کا لالچ دیا اور پابند بنایا گیا۔ اس کے علاوہ کوک کے دوستوں اور خود کوک نے بھی ملک بھر میں متعدد نیشنل بینکس قائم کئے۔ 1860 کی دھائی کے آخر تک کوک نے North Pacific Railway نظام بھی اپنے قبضے میں کر لیا تھا اور اس کے جاری کردہ قرضہ جاتی بانڈز کو بھی پراپیگنڈے اور لابنگ کی مدد سے بیچا کرتا تھا۔ کوک کے خیال میں سونے چاندی کے سکوں کی بات کرنے والے لوگ قدیم ذھنیت کے حامل ہیں نیز اگر اسے ترک نہ کیا گیا تو یورپی ممالک ہمارے مقابلے میں دگنی رفتار سے ترقی کرتے ہوئے آگے جا نکلیں گے۔ لیکن 1873 میں اس کی کمپنی House of Cooke کا دیوالیہ ہوگیا۔
34) سن 1873، 1884، 1893 اور 1907 کے کرائسز کے ادوار میں بینکوں کو سونے چاندی میں ادائیگیوں سے استثناء دیا جاتا رہا۔ دریں اثناء یہ خیال پیدا ہوا کہ قومی بینکوں کے اس نظام کو درست نہج پر چلانے کے لئے ایک مرکزی بینک ضرور ہونا چاہئے۔ اس ضرورت کی بنیاد زر کی "رسد کو لچکدار رکھنا" وضع کی گئی، جس کا عام الفاظ میں مفہوم یہ ہے کہ ضرورت اور مشکلات کے وقت بینکوں کے دھوکہ دھی پر مبنی دھندے کو بچانے کے لئے کوئی ایسا سرکاری بندوبست ہونا چاہئے جو نجی بینکوں کی ضرورت کے مطابق رز کی رسد کو کم زیادہ کرکے بینکوں کو "بیل آؤٹ" کیا کرے۔ اسی دور میں امریکہ کے اندر فری مارکیٹ کے بجائے "مضبوط مرکزی ریاست" کا بھوت بھی سر چڑھ کر بولنے لگا جو مرکزی بینکاری کا تقاضا کرتا تھا۔

35) سن 1900 میں امریکن بینکرز ایسوسی ایشن کے صدر McKinley نے ایک مرکزی بینک کے قیام کی تجویز پیش کی اور 1908 میں اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو "بینک آف جرمنی" کی طرز پر ایک مرکزی بینک کا خاکہ پیش کرے۔ سن 1907 کے معاشی کرائسز کے بعد اس کمیٹی کے لئے اپنی سفارشات منوانا کچھ مشکل نہ تھا جس نے یورپی نظام کی طرز پر ایک مرکزی بینک قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ پھر 1913 میں Federal Reserve Act کے ذریعے مرکزی بینک کا قیام عمل میں لایا گیا (اس سے قبل 1910 میں بڑے بڑے بینکاروں، بشمول J P Morgan and Co ، نے ایک مجلس شوری منعقد کی جس کا مقصد لابنگ کرکے مرکزی بینک کے ایکٹ کو پاس کروانا تھا)۔

36) اس ایکٹ کے بعد طے پایا کہ صرف مرکزی بینک نوٹ جاری کرسکے گا اور دیگر تمام بینکوں کو یہ سرکاری نوٹ بینک کے پاس ڈپازٹ اکاؤنٹس کھول کر خریدنا ہونگے (جس میں سونا چاندی سمیت یہ نوٹ بھی قابل قبول ہونگے)۔ اس نئے مالیاتی نظام نے بینکوں کی قرض پر مبنی کرنسی جاری کرنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا۔ ابتداء یہ مرکزی بینک صرف "گولڈ سرٹیفیکیٹ" نامی نوٹ جاری کیا کرتا تھا جس کے پس پشت مساوی مقدار میں سونا ہوا کرتا لیکن کچھ ہی عرصے میں مرکزی بینک نے اس سرٹیفیکیٹ کی جگہ "فیڈرل ریزرو نوٹ" جاری کرنا شروع کردئیے جس کی پشت پر 40 فیصد "گولڈ سرٹیفیکیٹ" ہونے کی شرط رکھی گئی (100 فیصد کے بجائے یہ 40 فیصد کس بنیاد پر جائز ہوگیا تھا، کوئی خبر نہیں)۔ سیونگ اکاؤنٹس پر ضروری ریزرو (reserve requirement) کی شرح کو 21 فیصد سے کم کرکے 1917 میں صرف 3 فیصد کردیا گیا، اس کے نتیجے میں بینکوں کے قرض جاری کرنے کی صلاحیت میں بے تحاشا اضافہ ہوا (اس کے بعد ڈیمانڈ ڈپازٹس اور فکسڈ ڈپازٹس کا فرق عملا ختم ہوکر رہ گیا )۔

37) سن 1929 میں امریکی معیشت بدحالی کا شکار ہوگئی تو ڈپازٹس کی بصورت سونا چاندی اور گولڈ سرٹیفیکیٹ عدم ادائیگی کی وجہ سے عوام کا بینکوں پر سے اعتماد کم ہونے لگا، فیڈرل بینک نے "بینکوں کی حفاظت" کے لئے خوب نوٹ جاری کئے اور بینکوں نے بھی مسائل سے بچنے کے لئے ریزروز کی مقدار میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ بالاخر امریکی صدر روز ویلٹ نے امریکہ کے داخلی معاملات کی حد تک 1933 میں ان نوٹوں کے اجراء کو سونے سے آزاد کرکے اسے fiat کرنسی (یعنی صرف ایک "حکم") بنا دیا جبکہ عالمی تجارت میں اسے سونے کے ساتھ برقرار رکھا (البتہ سونے کی مطلوبہ مقدار کو کم کردیا، پہلے ایک ڈالر 1/20 اونس سونے کے مساوی تھا جسے 1/35 کردیا گیا، یعنی عالمی لین دین میں اب ہر ڈالر کے بدلے امریکہ سے کم سونے کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا)۔ اسی دور میں ایمرجنسی کے نام پر امریکی شہریوں پر سونا استعمال کرنے کی پابندی عائد کردی گئی اور لوگوں سے سونا چھین لیا گیا (اور یہ سونا Fort Knox میں مدفون ہے) ۔ روز ویلٹ کا ایک اور کارنامہ یہ تھا کہ اس نے Corporation Federal Deposit Insurance کے نام سے ایسا ادارہ قائم کردیا جس نے بینک کرائسز کا امکان ختم کردیا کیونکہ اس ادارے کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ بینکوں کے ڈپازٹس کو انشورنس فراہم کرے گا (یہ اس فراڈ کو محفوظ بنانے کا اب تک کا سب سے بڑا اقدام تھا، سن 2007 میں جب عظیم فنانشل کرائسز آیا تو ڈوبتے ہوئے امریکی فنانشل نظام اور ان کے کرتا دھرتا وں کو بچانے کے لئے سسٹم کے اندر 3 ٹریلین ڈالرز انجیکٹ کئے گئے۔ آخر یہ ڈالرز کس چیز کے عوض جاری کئے گئے؟)

38) جنگ عظیم دوئم کے وقت امریکہ کے سواء یورپی ممالک نے گولڈ سٹینڈرڈ تقریبا ترک کردیا تھا، نتیجتا سونے کا بہاؤ امریکہ کی طرف ہوا۔ اس کے بعد عالمی قیمتوں کے حساب کتاب کا نظام درہم برہم ہوگیا اور قومی کرنسیوں کے مابین مسابقت شروع ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے پس پشت ایک امریکی محرک گولڈ سٹینڈرڈ کی بنیاد پر عالمی مالیاتی نظام کا احیاء بھی تھا کیونکہ وہ سونے کے بڑے ذخائر جمع کرچکا تھا۔ اس مقصد کے لئے 1944 میں Bretton woods (امریکہ) میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں یہ طے کیا گیا کہ صرف امریکی کرنسی کے پس پشت مخصوص مقدار میں سونا رکھا جائے گا جبکہ دیگر تمام ممالک اپنی کرنسیوں کی مقدار کو ڈالر کی مقدار سے منسلک کریں گے اورامریکہ ڈالرز کے عوض سونے کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔ برطانیہ کو اس تجویز پر راضی کرنے کے لئے امریکہ کو خاصے پاپڑ بیلنا پڑے جو 1930 کی دھائی میں اسی طرز کا اپنا کرنسی بلاک قائم کرچکا تھا۔

39) اس نظام کے تحت دی جانے والی یہ ضمانت کہ امریکہ ڈالروں کے بدلے مطالبے پر سونا جاری کیا کرے گا ایک مکر تھا۔ امریکی کنیزین معاشیات دانوں نے بریٹن ووڈز نظام سے امریکہ کو جو فوائد ہوسکتے تھے انہیں بھانپتے ہوئے کہنا شروع کردیا تھا کہ اس نظام کے بعد امریکہ کو کرنسی جاری کرکے افراط زر کے دیو سے ڈرنے کی ضرورت ختم ہوچکی، امریکہ اب زیادہ ڈالر جاری کرکے افراط زر دوسرے ملکوں کو برآمد کرنے لائق ہوچکا ہے اور ان ملکوں کے پاس عملا سونا وصول کرنے کی کوئی راہ نہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود 1960 میں امریکہ میں افراط زر کی مقدار میں بے تحاشا اضافہ ہوا، اسی دور میں بعض یورپی ممالک (مغربی جرمنی، فرانس اور سوئٹزرلینڈ) نے "ھارڈ کرنسی" کا تقاضا کرنا شروع کیا،سونے کی عالمی منڈی میں امریکی کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لئے امریکہ کو سونا جاری کرنا پڑتا اور یوں سونا امریکہ سے باہر منتقل ہونا شروع ہو گیا۔ ان مشکلات سے بچنے کے لئے امریکہ نے 1968 میں سونے کی منڈی میں دو سطحی مالیاتی نظام وضع کرنے کی کوشش کی (جس کی تفصیل کا موقع نہیں) لیکن یہ صرف ڈوبتے ہوئے نظام کو تنکے کا سہارا دینے کے مترادف تھا۔ یورپی بینکوں کی جانب سے سونے کے اجراء کا مطالبہ بڑھتا رہااور بالاخر امریکی صدر نکسن نے اگست 1971 میں بریٹن ووڈز معاھدے سے برات کا اعلان کردیا اور یوں ڈالر سمیت ہر کرنسی مکمل طور پر فیاٹ کرنسی بن گئی۔ امریکی صدر کا یہ اعلان دراصل "امریکہ بطور ملک" دیوالیہ نیز دھوکے بازہونے کا اعلان تھا۔

40) اس اعلان کے بعد دنیا کے ہر ملک کی قومی ریاست اس امر کے لئے آزاد ہے کہ وہ ایک مقامی لیگل ٹینڈر مقرر کرکے اسے جتنی مقدار میں چاہے جاری کرلے۔ یہ اجراء کس صورت میں ہوتا ہے، اب ہم اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔

41) اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے:

- بینکاری دراصل دھوکہ دھی اور فراڈ کا کاروبار تھا جہاں "قرض "اور "ڈپازٹ" کے دو الگ معاھدات کو مکس کرکے قانون و اخلاقی قدروں کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں۔
- یہ کاروبار اپنی وضع میں غیر مستحکم تھا اور یہی وجہ ہے کہ صدیوں تک یہ کرائسز کا شکار رہا اور جس کے نتیجے میں لوگوں کے حلال اموال کو ضائع کیا جاتا رہا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
- بینکوں کی جاری کردہ تمام تر کرنسی اور نوٹ قرض کی رسید ہوا کرتے تھے اور ان قرض کی رسیدوں کو گردش میں لانے اور رکھنے کے لئے بعض افراد کو خصوصی حقوق عطا کئے گئے نیز انہیں قبول کرنے کے لئے عوام پر ریاستی جبر سے کام لیا گیا۔

- جوں جوں حکمران طبقے میں اس کے "فوائد" کا احساس بڑھتا گیا، بینکار طبقے کے ساتھ ساز باز کرکے وہ خود بھی اس سے مستفیذ ہوئے اور بینکوں کے کاروبار کی حفاظت بھی کی۔ اس کاروبار کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کا یہ شوق تھا کہ وہ جس قدر چاہیں اخراجات کرسکیں۔

- اس کرنسی کے پھیلاؤ کے نتیجے میں افراط زر کا مسئلہ پیدا ہوا (اس کی تاریخ و تجزیہ یہاں نہیں کیا گیا جو ایک مستقل باب ہے، ماہرین نے بتایا ہے کہ ان کرنسیوں کے اجراء سے قبل قیمتیں دھائیوں بلکہ صدیوں تک مستحکم رہا کرتی تھیں)

- جب کچھ بن نہ پایا تو پھر بینکار طبقے نے اپنے فراڈ کے کاروبار کو مستحکم بنانے کے لئے ریاستوں کو مرکزی بینک قائم کرنے پر راضی کیا تاکہ وہ ہر مشکل میں ان کے ساتھ کھڑا ہو ا کرے اور قرض کی مزید جعلی رسیدیں (جنہیں فیاٹ کرنسی کہا جاتا ہے) جاری کرکے ان کی مدد کیا کرے۔

- یہ ریاستی حفاظت "فری مارکیٹ" کے نام پر کی گئی جبکہ یہ عین اس کے برعکس رویہ تھا کیونکہ حقیقی فری مارکیٹ کا معنی یہ ہوگا کہ لوگوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ جس بھی شے کو آلہ مبادلہ (means of exchange) کے طور پر اختیار کرنا چاہتے ہیں کریں (اور ہم کہے دیتے ہیں کہ اس صورت میں لوگ ان جعلی نمبرو ں کو نہیں بلکہ سونے ہی کو اختیار کریں گے)، اگر کوئی ادارہ ڈپازٹ جمع کرکے اموال کی حفاظت کی کوئی سکیم لاتا ہے تو اس پر سو فیصد ریزر و رکھنے کا اصول لاگو ہونا چاھئے اور جونہی وہ اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا جائے (یعنی اس حقیقی شے مثلا سونے کی صورت ادائیگی نہ کرے) تو اس کے کاروبار کو فی الفور بند کرکے اس پر فراڈ کا مقدمہ قائم کیا جائے، نہ یہ کہ اسے سونے کی صورت میں ادائیگی سے استثناء دے کر قرض کی رسیدوں ہی کو مال قرار دیا جائے۔ اسی طرح کاروباری سکیم کے تحت قائم کئے جانے والے اداروں پر بھی لازم ہونا چاہئے کہ وہ "جمع شدہ اموال میں سے " کاروباری معاھدے کیا کریں اور جن لوگوں کا مال ان کے پاس جمع ہو انہیں معین مدت تک اس کے استعمال (یعنی چیک لکھنے) کا حق نہیں ہونا چاہئے۔

42) اچھی طرح سمجھ رکھنا چاہئے کہ " کاغذی کرنسی" (paper currency) کسی شے کا نام نہیں ہے، جدید کرنسی دراصل ایک "نمبر" کا نام ہے جس کی نمائندگی کرنے کے لئے صفحے یا سکے وغیرہ کو اختیار کرلیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں دو چیزوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے: ایک ہے money unit of account اور دوسری ہے money thing۔ اول الذکر وہ "تصور" ہے جس میں اشیاء کی قدر یعنی ویلیو کو ظاہر کیا جاتا ہے مثلا ڈالر، پاؤنڈ، روپیہ، ریال وغیرہ۔ موخر الذکر وہ شے ہے جو اس نمبر کی سرکاری نمائندگی کرتی ہیں، جیسے کوئی نوٹ یا سکہ۔ چنانچہ یہ جنہیں ڈالر یا روپیہ وغیرہ کہا جاتا ہے یہ ریاست کی طرف سے تخلیق یا اختیار کردہ ایک "فرضی نمبر" ہے۔ جدید دور میں یہ نمبر صفحوں سے زیادہ کمپیوٹر کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے (کیونکہ گردش کرتے نوٹوں کے مقابلے میں کمپیوٹر یاداشت میں بینکوں کی جاری کردہ کرنسی کی مقدار کئی سو گنا زیادہ ہوتی ہے)۔ اس فرضی کرنسی کو ایجاد و قابل قبول بنانے کا قومی ریاستی فارمولا بڑا سیدھا ہے:

- گنتی کا ایک فرضی نمبر یعنی money unit of account ایجاد کرو۔
- اس نمبر کی نمائندگی کرنے والی علامتی شے (نوٹ یا سکہ) یعنی money thing جاری کرو۔
- اسے جاری کرنے پر اپنی اجارہ داری قائم کرو۔
- لوگوں پر اس نمبر میں ٹیکس اور واجبات لاگو کرو تاکہ ٹیکس اور تمام واجبات کی ادائیگی کے لئے لوگ اس نمبر کی نمائندگی کرنے والی شے طلب کریں۔
- اس نوٹ میں ٹیکس ادائیگی کو قبول کرو (بصورت دیگر لوگ اس کی طلب نہیں کریں گے)
چنانچہ پیپر کرنسی کوئی شے نہیں ہے، اصل چیز "مخصوص نمبر" (ڈالر، روپیہ وغیرہ) ہیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھنے سے money thing کا استعمال کم ہوتا چلا جاتا ہے جبکہ money میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

43) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سرکار یہ "نمبرز" کس چیز کے عوض جاری کرتی ہے؟ جواب ہے کسی چیز کے عوض کے بغیر (out of nothing) تخلیق کرتی ہے۔ عام آدمی کے مقابلے میں ریاست کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ جس قدر چاہے خود کو قرض جاری کرسکتی ہے۔ مرکزی بینک جب حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لئے "روپیہ" نامی جنس جاری کرتا ہے تو اپنے اکاؤنٹس میں اسے حکومت کو جاری کیا جانے والا "قرض" درج کرتا ہے جس کی واپسی انہی نمبروں کی صورت میں حکومت پر لازم ہوتی ہے۔

44) سرکار کے عطا کردہ حق سے کمرشل بینکوں کو بھی یہ حق دیا جاتا ہے کہ لوگوں کی طلب پورا کرنے کے لئے وہ بھی بلا کسی عوض قرض کی رسید جاری کرسکتے ہیں، اس رسید کو "بینک ڈپازٹ" کہتے ہیں (بینک ڈپازٹس کی صورت میں جتنی کرنسی سسٹم کے اندر گردش کرتی ہے وہ سرکار کے جاری کردہ نوٹوں کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ ہوتی ہے)۔ آگے چل کر اس بات کو واضح کیا جائے گا کہ بینک دراصل ڈپازٹس میں سے قرض جاری نہیں کرتے (جیسا کہ نیوکلاسیکل اکنامکس کے میکرو اکنامک ماڈلز میں غلط طور پر فرض کیا جاتا ہے کہ deposits create loans ) بلکہ اصلا قرض کے اجراء سے ڈپازٹ جنم لیتے ہیں (loans create deposits)۔
(جاری ہے)

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.