نئی راہیں تلاش کر - عشرت زاہد

عید گزر چکی۔ امید ہے اچھی گزری ہوگی۔۔ جن کے پیارے اس بار ان کے ساتھ نہیں تھے،وہ ان کی یاد سے اداس ہو گئے ہونگے۔۔ اور جن کے خاندان میں خوشگوار اضافہ ہوا ہوگا وہ بہت خوش ہونگے۔۔ یہ زندگی کے مختلف ادوار ہیں۔

کہیں خوشی اور کہیں غم دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس مرتبہ حالات کی وجہ سے عید ملن اور عید کی دعوتیں کم ہوئیں ۔ کچھ لوگوں نے یہ سارے دن خوب سو کر ، آرام کر کے گزار دئے ہونگے۔ اور کچھ عقل مندوں نے فارغ وقت کا خوب فائدہ اٹھایا ہوگا۔ اپنی کپڑوں اور کتابوں کی الماریاں ٹھیک کر لی ہونگی۔ بہت سارا مطالعہ جو فرصت کا متقاضی تھا ،وہ کر ڈالا ہوگا۔ کچھ نے اپنا قلم استعمال کرتے ہوئے خوبصورت تحریر مکمل کر لی ہوگی۔۔اور کچھ نے نظمیں لکھی ہونگی۔۔ کچھ خواتین نے سلائیاں، مکمل کی ہونگی۔۔ اور کچھ اچھی بچیوں نے اچھی اچھی ریسیبی سیکھ لی ہونگی اور اپنے گھر والوں پر اس کی طبع آزمائی بھی کر لی ہوگی۔ کچھ نے ڈرائیونگ یا اور کوئ کام سیکھے ہونگے۔ ہماری ایک بہن نے کہا کہ میں تفسیر قرآن کا تفصیلی مطالعہ کرنا چاہتی تھی۔ اس لاک ڈاون میں یہ ممکن ہو گیا۔ الحمدللہ

کچھ اس بات پر خوش ہونگے کہ ،شکر اس بار مہمانوں کا ہنگامہ اور تواضع سے جان چھوٹی ۔۔تو کچھ بہت افسردہ ہوئے ہونگے کہ یہ خوبصورت محفل جس میں کھانے پینے کے پکوانوں کے ساتھ، عیدی اور اس پر نوک جھونک ہوتی ہے۔۔ہر عمر کی بچیاں خوب تیار ہو کر اپنے رنگ برنگے دوپٹے لہراتے ہوئے اور چوڑیاں کھنکاتے ہوئے ادھر سے ادھر دوڑ رہی ہوتی ہیں ۔۔ لڑکوں کی علہدہ دلچسپیاں ہوتی ہیں ۔۔ خواتین بھی کئ کئ جگہ دعوتوں میں جانے کے لئے ذرا منع نہیں کرتیں، بلکہ جی جان سے تیار ہوتی ہیں۔ مرد حضرات بھی مسکرا کر ہر چیز برداشت کرتے ہیں کہ عید ہے۔۔ چاہے جیب پر کتنا ہی بوجھ پڑ رہا ہو۔۔ یہ خندہ پیشانی سے ڈٹے رہتے ہیں ۔ گھر کے بڑے بھی بہت خوش ہوتے ہیں کہ عید کے بہانے ہی صحیح، دور پرے کے رشتہ داروں کی شکل تو نظر آئیگی۔یہاں تک کہ گھر کی ماسییاں بھی کچھ زیادہ کام خوشی سے کر دیتی ہیں ۔کہ عید ہے۔اس مرتبہ عید میں بہت گہما گہمی تو نہیں رہی۔ مگر یہ عید ہمیں بہت ساری باتیں غور و فکر کرنے کے لئے ضرور چھوڑ گئ ہے۔ کیوں کہ مارچ کے وسط تک بھی کسی کو حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔۔ اور پھر ہم نے تمام ناممکنات کو ممکن ہوتے دیکھا۔

دنیا بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند ہوئے، عبادت گاہیں۔۔ یہاں تک کہ خانہ کعبہ کا طواف تک رک گیا۔ تمام دفاتر، مالز، بازار وغیرہ وغیرہ ۔۔سب بند۔۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے ایک اور انہونی ہوتے ہوئے دیکھی۔ بد قسمتی سے جو اس موذی مرض کورونا کا شکار ہوئے، ان کے سگے بیٹے، بیٹیاں، بیوی، شوہر ،ماں، باپ سب مریض سے دور دور بھاگتے دیکھا۔۔۔کہ کہیں یہ مرض ان کو نا چمٹ جائے۔ اس وقت اس وقت سورہ عبس کی آیت نمبر 34 سے 36 تک یاد آئیں۔ اس روز آدمی اپنے بھائ، اپنے ماں اور باپ اور اپنی بیوی اور اولاد سے دور بھاگیگااور اب کہا جا رہا ہے کہ ہمیں انہی حالات میں جینا ہے۔۔ اسی طرح کورونا کے خوف کے ساتھ، احتیات کرتے ہوئے ماسک، سینیٹائزر اور دستانے وغیرہ کا استعمال ہر وقت کرنا ہوگا۔۔ چاہے دل مانے یا نا مانے۔ اس کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ کیوں کہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت سی پیاری پیاری صورتیں کچھ ہی دنوں میں خاک کے سپرد ہو گئیں ہیں ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

کتنے لوگ ہیں جو مختلف جگہوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہوائ سفر کی اجازت ابھی نہیں ملی ہے۔ نا جانے کب سب کچھ پہلے جیسا ہوگا ؟ اور ہوگا بھی یا نہیں؟
اب ہم سب کو ان حقائق کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ان ہی حالات میں رہتے ہوئے ہمیں اپنی ذندگی گزارنا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات مین ہم کس طرح ذندگی کو بہتر اور کار آمد بنا سکتے ہیں ۔ کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ مومن مایوس نہیں ہوا کرتا۔ ۔۔ ہمیں اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے ہر حال میں ذندگی کو رواں دواں رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اور نئ راہیں تلاش کرنی ہونگی۔ نئے طریقے ایجاد و دریافت کرنا ہونگے۔