نسلی تعصب کااصل حل - ناصر امیر

"چند ہی صدیوں میں انسان کی اعلی نسلیں پوری دنیا میں موجود وحشی نسلوں کا خاتمہ کرکے ان کی جگہ لے لیں گی"(Charles Darwin 1871 The Descent Of Man page 168-169)امریکہ میں ہونے والے حالیہ نسلی تصادم کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی مستقبل میں کسی بہتری کی امید ہے.جب بچوں کےنصاب میں متعصب "نظریہ حیات" شامل ہو اوران متعصب نظریات کے دریافت کنندہ کو ہیروز میں شمار کیا جاتاہو تو ایسے واقعات ہونا قدرتی ہو جاتا ہے.

نصابی کتب میں شامل "چارلس ڈارون"کے اعتقادات بھی کچھ ایسے ہی شاہکار ہیں. گورے یورپین لوگوں کے بارے میں ڈارون لکھتے ہیں کہ "سفید لوگ انسان کی بہترین شکل میں آ چکے ہیں جبکہ باقی نسلیں ابھی تک انسان اور اپنے اجداد یعنی حیوان کے کسی درمیانی درجے میں ہے اور ان کا ارتقاء ابھی باقی ہے".
ان عقائد کے مطابق تمام وحشی نسلیں اپنی جلد کے اعتبار سے جانوروں کے قریب تر ہیں جبکہ گورے انسان ایسی کسی ساخت میں جانوروں سے نہیں ملتے جیسے ان کی ناک کی چوڑائی,ہونٹوں کی موٹائی, جلد کا رنگ کھوپڑی کا فریم جو دوسری نسلوں میں جانوروں سے مماثلت رکھتے ہیں.

اس بنیاد پر ڈارون اور اس کےچاہنے والوں نے اخذ کر لیا کہ انسان کی یہ اعلیٰ نسل اس وقت تک مزید ارتقاء کی جانب نہیں بڑھ سکتی جب تک تمام غیر مہذب نسلوں کا خاتمہ نہ کر لے.یہ نظریہ "سوشل ڈارونزم" کی بنیاد ہے اور عملی میدان میں ڈارون کے نظریے کے نفاذ کا متقاضی ہے..ڈاروِن نے اپنی کتاب (The Descent Of Man)کے چھٹے باب میں تحریر کیا "چند ہی صدیوں میں انسانوں کی اعلی نسلیں پوری دنیا میں موجود وحشی نسلوں کا خاتمہ کرکے ان کی جگہ لے لیں گی"
یہ وہ عقیدہ ہے جو بچوں کو ایک سائنسی حقیقت کے طور پر پڑھایا جاتا ہے. ایسے حالات میں مساوات اور برابری کے تمام نعرے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ہر چند روز بعد نسلی تعصب کے واقعات رونما ہوتے ہیں حال ہی میں ہونے والے "جارج فلائیڈ"کے سانحےپر کالے اور گورے دونوں ہی نسلی تعصب کے خلاف کھڑے ہیں لیکن یہ معاملہ ایسے حل ہونے والا نہیں ہے.

ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ نصابی کتب میں موجود اس متشدد مواد کو نکالا جائے جو اس دہشتگردی کی بنیاد ہے اور لوگوں کے لاشعور پر اثرانداز ہورہا ہے.ورنہ ہر بار کیمرہ عکسبندی نہیں کر پاتا اور کوئی کاروائی بھی نہیں ہوتی. ہمیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہیئے جس نے اس تعصب کی بیخ کنی کردی اور فرمایا "اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے" سورہ حجرات ١٣ بےشک اسلام نے ہر طرح کی عصبیت سے روک دیا ہے چاہے وہ نسلی تعصب ہو یا علاقائی تعصب یا قبائلی تعصب اللہ کے رسول نے فرمایا "بیشک تمہارا خدا ایک ہے

اور تمہارا باپ (آدم) بھی ایک ہے" فاتح روم اور فارس خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بےشک ابوبکر ہمارے آقا ہیں اور انہوں نے ہمارے آقا (بلال) کو آزاد کروایا.انسانیت ایک بار پھر پستی کی انتہاء پر ہے.. آئیے سب مل کر اُس نظامِ عدل کی کوشش کریں جو آدمی کو پھر سے انسان بنا دے.
آئیے اسلام کے نظام کو پھر سے نافذ کرنے کی جد و جہد کریں..