اوریا مقبول جان

میدان عرفات میں جبل الرحمت پر کھڑے ہو کر 6مارچ 632بمطابق 9ذلحج10ہجری کو محسن انسانیت ﷺ نے رنگ و نسل، اور زبان و قومیت کو توڑتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’’کسی گورے کو کالے پر،کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر کوئی فضلیت حاصل نہیں، اللہ کے نزدیک برتر وہ ہے جو متقی و پرہیزگار ہے، تم سب ایک آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے‘‘۔ آج اس عظیم،برتر اور حسین آواز کو دنیا میں بلند ہوئے چودہ سوسال ہو چکے ہیں۔ وہ امت مسلمہ جو سید الانبیائﷺ نے اپنی میراث میں چھوڑی تھی اس میں سے غلامی کی لعنت کو بھی ختم ہوئے آج ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ وہ امتِ عظیم ہے جس نے اس خطبئہ حجتہ الوداع کے اعلان کو اسقدر سچ کر دکھایا، کہ نہ صرف اپنی عبادات اور نمازوحج کے اجتماعات میں سے گورے و کالے اور عربی و عجمی کا فرق مٹایا،بلکہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا سنگ میل رقم کیا جو اس دور میں توناقابلِ یقین تھا۔ آج سے ساڑھے آٹھ سو سال قبل 1206عیسوی میں ہندوستان میں ایک ایسی بادشاہت کی بنیاد رکھی گئی، جس کا سربراہ ایک غلام تھا۔ قطب الدین ایبک۔۔ جسے ایک سوداگر نے ترکستان سے خرید کر نیشاپور کے قاضی فخرالدین عبدالعزیزکے ہاتھ فروخت کیا اوراس نے اس غلام کو شہاب الدین غوری کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ انتہائی معمولی شکل و صورت کے اس غلام کی ایک چھنگلیا ٹوٹی ہوئی تھی، اسی لیے اسے ایبک مثل(خستہ انگشت) کہتے تھے۔ یہ غلام جو 1150ء میں پیدا ہوا، جوانی میں فروخت ہوا اور صرف بیالیس سال کی عمر یعنی 1192ء میں، شہاب الدین غوری نے اسے دلی اور اجمیر کا گورنر مقرر کر دیا۔ اگلے سال سلطان نے اس غلام کیلئے ’’فرمان فرزندی جاری کیا‘‘یعنی اسے اپنا بیٹا بنالیا۔

جب 15مارچ 1206 ء کو شہاب الدین غوری جہلم کے قریب گگھڑوں کے ہاتھوں مارا گیا تو ترکستان کے بازاروں میں بکنے والا یہ غلام، ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کا بانی ٹھہرا۔ اس کی سلطنت میں موجود تمام مسلمانوں نے جن میں ہاشمی النسل سید بھی تھے اور ترکی النسل شاہسوار بھی، سب نے اسے بادشاہ تسلیم کیا۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ قطب الدین ایبک کے مرنے کے بعد1210ء میں اس کا بیٹا آرام شاہ تخت پر بیٹھا۔ وہ اس قدر نااہل تھا کہ ترک سرداروں نے اسے بادشاہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ایک اور ترک غلام شمس الدین الشمس جسے قطب الدین ایبک نے خریدا تھا، اسے ہندوستان کے تخت پر بٹھا دیا۔ غلاموں کی حکومت کا سلسلہ جو انسانی تاریخ کا روشن ترین باب ہے، چوراسی سال یعنی تقریباایک صدی تک چلتا رہا۔ اس سلسلے نے ایسے متقی، پرہیزگاراور منصف مزاج حکمران پیدا کئے ہیں جن کی نظیر ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکی تاریخ میں بھی ملنا مشکل ہے۔ محسن انسانیت ﷺ کے خطبئہ حجتہ الوداع کے اعلان کردہ انسانی حقوق کے چارٹر کے چودہ سو عیسوی سال گذرنے بعد اور امت مسلمہ کی قائم کردہ مثالی خاندانِ غلاماں کی حکومت کے ساڑھے آٹھ سو عیسوی سال کے بعد آج کے جدید ترین جمہوری نظام کے چیمپئن، انسانی حقوق کے علمبرداراور مغربی تہذیب کے پرچم بردار امریکہ میںاس وقت سیاہ فام افراد کے خلاف جمہوری اکثریت کی نفرت کاایک طوفان برپا ہے۔سڑکوں، گلیوںاور بازاروں میں کالے اور گورے کے درمیان صدیوں پرانی دبی ہوئی عصبیت آتش فشاں کی طرح ایسی پھوٹی ہے کہ اس نے انسانی حقوق ، برابری اور جمہوری اخلاقیات کے چہرے سے نقاب اتارکر پھینک دیا ہے اور اندر سے جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمئین امریکہ کا مکروہ چہرہ عیاں ہو چکا ہے۔ امریکی جمہوری چیمئین شپ وہ ہے جو میرے ملک کے سیکولرلبرل اور مغربی جمہوریت کے علمبرداروں کو بہت عزیز ہے۔ وہ ہر سال امریکہ کے سٹیٹ ڈییارٹمنٹ کی دو رپورٹوں کا شدت سے انتظار کیاکرتے تھے۔ ایک ’’انسانی حقوق کی صورت حال‘‘ سے متعلق اور دوسری’’مذہبی رواداری‘‘ سے متعلق۔ جیسے ہی یہ دونوں سالانہ رپورٹیں سامنے آتیں، ہر سیکولرلبرل اور جمہوری آمریت کا علمبردار کالم نگار پاکستان کومطعون کرنا شروع کر دیتا۔ اسی طرح مخصوص اینکر پرسن پہلے پاکستان اور پھرمسلمان ممالک کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتے۔

آخر میں ان سب کی تان اس بات پر ٹوٹتی کہ پاکستان میں نہ انسانی حقوق کی حالت بہتر ہے اور نہ ہی مذہبی رواداری کا ثبوت ملتا ہے، اس لئیے جلدہی امریکہ اور یورپ اس ملک پر اقتصادی پابندیاں لگا کر اس کا جینا دوبھر کر دے گا۔ یہ سیکولراورلبرل ’’جمہورئیے‘‘ آخر میں ایک ’’عظیم تاریخی تجزیہ‘‘ بیان کرتے کہ یہ سب اس لئیے ہے کہ پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر بنا تھا اوراس ملک کی ساری خرابیوں کی جڑ قراردادمقاصد ہے۔ جب تک اس بنیاد سے نجات نہیں ملتی ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ امریکہ کا جو چہرہ اس وقت دنیا کے سامنے آیا ہے، یہ با لکل نیا اور انوکھا نہیں ہے۔امریکی سوسائٹی اور تہذیب کی بنیاد ہی کالوں سے نفرت، ان کے استحصال اور ان پر ظلم و تشددسے عبارت ہے۔ چارسو برسوں سے اس دھرتی پر سیاہ فام افریقیوں کی غلامی کا کاروبار جاری ہے۔ اگست 1619 ء میں افریقی علاقے ،انگولا سے بیس سیاہ فام افریقیوںکو ولندیزی یعنی موجودہ ہالینڈ کے گوروں نے اغوا کر کے برطانوی گوروں کے ہاتھ بیچا تھا۔ جس دن ان کا جہاز امریکہ میں برطانوی کالونی ورجینیا کے شہر جیمز ٹائون پہنچا،یہ وہ پہلا دن تھا، جب سرکاری طور پر امریکی ساحلوں پر غلاموں کی تجارت کا منظم آغاز ہوا۔ اس سے پہلے کوئی اکاّدکاّ گورا زمیندار یا تاجر اپنی ضروریات کیلئے اغوا شدہ افریقی سیاہ فام افراد کو خریدکر امریکہ لایا کرتا تھا۔ اس دن کے بعد پوری ایک صدی افریقہ سے غلاموں کی تجارت ہوتی رہی اور تقریباسترلاکھ سیاہ فام افریقی امریکہ لائے گئے۔جیمز ٹائون کے ’’مہذب‘‘امریکہ میں اگست 1619 ء کے جس دن غلاموں کا بازار سجا تھا، اس دور میں مسلم امہ کی سرزمین پر خلافت عثمانیہ کی مرکزیت قائم تھی، ایران میں صفوی بادشاہت اور ہندوستان میں مغل حکمران بام عروج پر تھے۔ ہندوستان کے دلّی اور لاہورکے شہرثقافت، تہذیب، ادب اور فنِ تعمیر کے مراکز تھے۔ شاہ جہان کا تاج محل اسی صدی میں دنیا کے نقشے پر ابھرا اور اورنگ زیب عالمگیر نے اسی صدی میں ایک ایسی حکومت قائم کی تھی جس میں پہلی دفعہ برصغیر پاک و ہند کے تمام بڑے بڑے ہندومندروں کے لئیے بھی زمینیں وقف کی گئیں اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے لئیے مستقل سرکاری گرانٹ جاری کی گئیں۔ یہی نہیں بلکہ اورنگ زیب عالمگیرسے پہلے مسلمان استاد اور ہندو استاد کی تنخواہوں میں آدھے کا فرق تھا، اس نے ان دونوں کی تنخواہ کو برابر کر دیا۔ اسی صدی میںمغرب کا فرانس غربت اور افلاس کا ایسا شکار تھا کہ لوئی چودہ کے زمانے میں صرف پیرس شہر میںچھ لاکھ فقیر تھے۔ ہندوستان دنیابھر میں25 فیصد جی ڈی پی کا حصے دار تھا۔ چین میں منگ خاندان زوال پذیر ہوچکاتھا۔ جن دنوں امریکہ اور یورپ غلاموں کی تجارت اور کپاس سے دولت کمانے میں لگے ہوئے تھے، اسی زمانے میں اورنگ زیب کے دورکے ہندوستان میں علم و عرفان کا یہ عالم تھا کہ دنیا میں پہلا بے جوڑ گلوب علی بن لقمان کشمیری نے بنایا تھا جس پر دنیا کا نقشہ موجود تھا۔ جو نپور کے صادق اصفہانی نے دنیا کی 32 صفحات پر مشتمل پہلی اٹلس بنائی تھی۔ جب امریکہ کا جدید معاشرہ غلاموں کی تجارت اورمظالم کی بنیاد پر اپنی معیشت استوار کر رہا تھا، خلافت عثمانیہ دنیا بھرکے مظلوم یہودیوں کیلئے واحدپناہ گاہ تھی۔ (جاری ہے)