رائج کرنسی کی شرعی حیثیت کے تعین میں غلطی - ڈاکٹر محمد مشتاق

معاصر دنیا میں ریاستوں کی جانب سے رائج کرنسی کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اس ضمن میں معاشیات کی کتابوں میں جو کہانی بیان کی گئی ہے اس کو جوں کا توں قبول کرکے مان لیجیے کہ لوگ سناروں کے پاس سونا رکھواکر رسید لے لیتے تھے؛ بعد میں سونا لینے بہت کم ہی کوئی آتا تھا اور رسیدوں کا تبادلہ ہوتا تھا اور یوں وہ رسید کرنسی نوٹ بن گئے۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد ان نوٹوں کی یہ حیثیت بھی ختم ہوگئی جب ان کو ڈالر کے ساتھ منسلک کیا گیا اور ڈالر کو سونے کے ساتھ متعلق کیا گیا۔ گویا اب یہ دین کی رسید کی رسید ہوگئے۔ ستر کی دہائی میں یہ معاملہ بھی ختم ہوا جب ڈالر کو بھی سونے سے الگ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تخلیقِ زر کا عمل کیسے کیا جاتا ہے؟ اس عمل کے تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگا کہ اس زر کی علامت "کرنسی نوٹ "کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جاسکے۔ جی ہاں، اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ یہ نوٹ "علامت" ہیں اور اسی وجہ سے انھیں fiat money، یعنی "علامتی زر" کہا جاتا ہے۔ یہ علامت تبدیل بھی ہوسکتی ہے، جیسے کرنسی نوٹوں کی جگہ پلاسٹک منی (ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز)، اور ہر صورت میں یہ محض اعداد (digits) ہیں۔ جو لوگ صرف بِٹ کوئن اور کریپٹو کرنسی کو ہی ڈیجیٹل کرنسی سمجھتے ہیں وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ مکرر سن لیجیے کہ کرنسی نوٹ بھی ڈیجیٹل کرنسی ہی ہیں۔ یقین نہ ہو، تو ابھی جیب سے کوئی سا نوٹ نکال کر اس پر دیکھ لیجیے کہ اعداد موجود ہیں یا نہیں؟

یہ علامتی زر کیسے تخلیق کیا جاتا ہے؟ یہاں ہم کچھ قانونی امور واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ان قانونی امور کے تعین کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ کرنسی نوٹوں، یا علامتی زر، کی شرعی حیثیت کے تعین میں معاصر اہلِ علم کی بنیادی غلطی کیا ہے؟

علامتی زر اور بل آف ایکسچینج

کرنسی نوٹوں، یا علامتی زر، کی قانونی حیثیت کی درست تفہیم کےلیے سب سے زیادہ اہم قانونی تصور "بل آف ایکسچینج " کا ہے۔ آپ سہولت کی خاطر اسے "ہنڈی" سمجھ لیجیے۔

بل آف ایکسچینج ایک "قابلِ انتقال وثیقہ" (negotiable instrument)ہے۔ قابل ِ انتقال وثیقہ جات سے متعلق قانون ہی وہ بنیادی چیز ہے جس سے موجودہ fiat currency پر بحث کی راہ کھلتی ہے۔

انگریزی قانون کی رو سے ، اور یہ قانون انگریزوں کے دور سے ہندوستان و پاکستان میں رائج ہے، قابل ِ انتقال وثائق وہ وثائق ہیں جن کے ذریعے دین ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتا ہے۔ اس کی تین قسمیں ہیں:

1۔ Promissory Note جسے مختصراً Pro-note بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ زید لکھ کر بکر کو دے دے کہ "میرے ذمے تمھارا اتنا دین واجب الادا ہے اور میں اسے فلاں تاریخ کو ادا کروں گا۔" کسی مقررہ تاریخ کے بجائے " مطالبے پر" (on demand) ادائیگی کا وعدہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مخصوص دائن کی جگہ اس کے حکم پر کسی اور کو (to the order of)، یا "حامل ِ ہذا" (bearer)کو بھی ادائیگی کا وعدہ کیا جاسکتا ہے۔ (تفصیل آگے آئے گی لیکن کرنسی نوٹ دراصل ایک ایسا پرو نوٹ ہے جس کے ذریعے "حاملِ رقعہ کو مطالبے پر ادا ئیگی کا وعدہ" کیا جاتا ہے۔ ) ایسی صورت میں وعدہ کرنے والے کو Maker اور جسے ادائیگی کی جائے گی اسے Payee کہا جاتا ہے۔

2۔ Bill of Exchange جسے مختصراً BOE بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں تین فریق ہوتے ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ زید بکر کو لکھ کر دے کہ وہ عمر کو، یا اس کے حکم پر، یا حاملِ ہذا کو، اتنی رقم فلاں تاریخ کو، یا مطالبے پر، ادا کردے۔

3۔ جب یہی BOE اس طرح بنادیا جائے کہ ادائیگی کرنے والا شخص (drawee) کوئی بینک ہو تو اس صورت میں اس BOE کو چیک (Cheque) کہا جاتا ہے۔ گویا زید بینک کو حکم دیتا ہے کہ وہ چیک پر جس کا نام لکھا ہو اسے، یا حامل ہذا کو، اتنی رقم کی ادائیگی فلاں تاریخ کو، یا مطالبے پر کردے۔
واضح رہے کہ پرونوٹ ہو، بل آف ایکسچینج ہو، یا چیک، ہر صورت میں وصولی کرنے والے (Payee) کو حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی جگہ کسی اور کے حق میں، یا حامل ہذا، ادائیگی کا حکم جاری کردے۔

غور کیجیے تو ان قابلِ انتقال وثائق کے ذریعے قانون نے نجی سطح پر فرد اور بینک کو تخلیقِ زر کا اختیار دے دیا۔ چنانچہ کاروبار کی دنیا میں انہی وثائق کے ذریعے زر تخلیق کیا جاتا، دین منتقل کیا جاتا، منافع کمایا جاتا اور سود پھیلایا جاتا ہے۔ مثلاً زید کے ذمے بکر کا ایک لاکھ کا دین ہے اور زید نے اسے پرونوٹ دیا ہوا ہے جو یکم جولائی کو قابلِ تنفیذ ہوگا، یعنی بکر اپنے دین کی وصولی کےلیے یکم جولائی کو زید سے مطالبہ کرسکے گا، لیکن بکر کو کسی منافع بخش سودے کےلیے فوری طور پر نقد نوے ہزار کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک اور دوست ہے، عمرو،جو اسے نوے ہزار نقد دے سکتا ہے، لیکن وہ بھی تو منافع کمانا چاہتا ہے۔ چنانچہ بکر وہ ایک لاکھ کا پرونوٹ عمرو کو دے کر اس سے فوری طور پر نوے ہزار لے لیتا ہے اور عمرو پھر یکم جولائی کو زید سے ایک لاکھ وصول کرے گا!

تو کیا حیرت کی بات نہیں ہے کہ سود کے خاتمے کےلیے کیے جانے والے مباحثےمیں بالعموم قابلِ انتقال وثائق کے قانون کو نظرانداز کیا جاتا ہے؟
ریاست نے نجی سطح پر تاجروں کو تخلیقِ زر کا یہ اختیار تو دے دیا لیکن ایک مخصوص نوعیت کے زر کی تخلیق کا اختیار اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ چنانچہ اسی قانون میں تصریح کی گئی ہے کہ "ایسا پرونوٹ جو حامل رقعہ کو مطالبے پر ادائیگی" کےلیے ہو، صرف سٹیٹ بینک ہی جاری کرسکتا ہے۔ ادنی تامل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ایسا پرونوٹ ہی وہ نوٹ ہے جسے اب ہم کرنسی نوٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ جسے یقین نہ ہو، وہ کوئی سا نوٹ نکال کر دیکھ لے جس پر لکھا ہوا ہے کہ: "بینک دولت پاکستان۔۔۔ حامل ہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا۔"

عقدِ حوالہ اور قابلِ انتقال وثائق

بل آف ایکسچینج، اور اسی طرح بینک چیک، بظاہر شرعی عقد ِ حوالہ سے مشابہ ہوتے ہیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں کئی اہلِ علم کی رائے یہ بنی تھی کہ کرنسی نوٹ عقدِ حوالہ کی دستاویز ہیں۔ یہ رائے آج تو بالکل بھی نہیں مانی جاسکتی، جیسا کہ ہم آگے واضح کریں گے، لیکن جس وقت یہ رائے دی گئی تھی اس وقت بھی چند اہم امور نظرانداز ہوگئے تھے۔ عقدِ حوالہ کی شرعی شروط پر بحث سے یہ بات واضح ہوجائے گی۔

عقد ِ حوالہ میں تین فریق ہوتے ہیں :
1۔ دین کسی اور کی طرف منتقل کرنے والا (اسے محیل کہتے ہیں)؛ چونکہ اصل میں اس کے ذمے دین ہوتا ہے، اس لیے اسے principal debtor ، یعنی اصلی مدین، بھی کہا جاتا ہے، اور چونکہ یہ اس دین کو کسی اور کے ذمے منتقل کرتا ہے، اس لیے اسے Assignor، یعنی منتقل کرنے والا، بھی کہا جاتا ہے؛

2 ۔ دین جس کی طرف منتقل کیا جائے (اسے محال علیہ کہتے ہیں) ؛ آپ اسے Assignee کہیں ؛ اور

3۔ جس کا دین منتقل کیا جائے ( اسے محال کہتے ہیں ) ؛ یہ اصل میں creditor، یعنی دائن، تھا۔

اگر بکر کا دین تھا زید کے ذمہ ، اور عمرو کا دین ہے بکر کے ذمے، لیکن بکر نے عمرو سے کہا کہ وہ یہ دین زید سے وصول کر لے ، تو اس صورت میں بکر محیل ہے ؛ عمرو محال ہے ؛ اور زید محال علیہ ہے ۔

عقد ِ حوالہ کے لیے رکن ایجاب و قبول ہے ۔ ایجاب محیل کی جانب سے ؛ اور قبول محال اور محال علیہ دونوں کی جانب سے ۔
اب آئیے شرائط کی طرف ۔

محیل (principal debtor/assignor) کے لیے ضروری ہے کہ وہ عاقل و بالغ ہو اور حوالہ کے لیے راضی ہو ، یعنی اسے مجبور نہیں کیاجاسکتا۔
یہی تینوں شرائط محال (creditor)اور محال علیہ ( Assignee) کے لیے بھی ہیں ۔

ان تینوں شرائط کے علاوہ ایک اہم شرط یہ ہے کہ محیل کی جانب سے ایجاب اور محال و محال علیہ کی جانب سے قبول ایک ہی مجلس میں ہو ورنہ عقد حوالہ سرے سے وجود میں ہی نہیں آئے گا!

"محال بہ " یعنی اس دین (debt) کے لیے ، جسے منتقل کیا جارہا ہے ، دو شرائط ہیں:
پہلی شرط تو یہ ہے کہ وہ دین ہو ، عین نہ ہو؛
دوسری شرط یہ ہے کہ یہ دین لازم ہو ۔ پس جو دین غیر لازم ہو اسےحوالہ کے ذریعے کسی اور کو منتقل نہیں کیا جاسکتا ۔
کیا ان شرائط کی پابندی Bill of Exchange کی صورت میں ہوتی ہے؟

اس سلسلے میں سب سے پہلے غور کرنے والی بات یہ ہے کہ حوالہ میں تو تینوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ۔ کیا یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ تیسرے فریق ( drawee/bank) کی رضامندی دلالتاً موجود ہے ؟ جب میں نے بینک میں اکاؤنٹ کھولا تو اس نے گویا وعدہ کیا کہ میں جسے بھی ادائیگی کا کہوں گا وہ اسے ادائیگی کرے گا ؟ کیا شرعاً محال علیہ اس طرح کھلی اجازت پہلے سے ہی دے سکتا ہے؟ جب فقہاے کرام یہ کہتے ہیں کہ تینوں فریقوں کی مجلس عقد میں رضامندی ضروری ہے ، تو آپ مجلس کو جتنی بھی وسعت دیں، بہرحال قابلِ انتقال وثائق کی رائج صورتیں قابلِ گرفت ٹھہریں گی؛ اور اگر وہ قابلِ گرفت ہیں ، تو کرنسی نوٹ من بابِ اولی قابلِ گرفت ہوجاتا ہے!

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ "ادائیگی" کس چیز کی ہوتی ہے؟ مال کی؟ یا مال کے بجائے ایک اور رسید کی؟ ایک اور وعدے کی؟ اس پہلو کی وضاحت جناب زاہد مغل صاحب کی تحریر سے ہوجائے گی جب وہ تخلیقِ زر کے عمل کی درست تفہیم کریں گے، ان شاء اللہ۔

عقدِ حوالہ یا توکیل بقض الدین؟
شرعی لحاظ سے عقدِ حوالہ اس صورت سے مختلف ہے جب آپ کسی کو دین کو قبضے میں لینے کےلیے وکیل بناتے ہیں۔

عقدِ حوالہ کے ذریعے "دین ایک ذمے سے دوسرے ذمے کو منتقل" ہوجاتا ہے اور اس لیے وہ اسے "توکیل بقبض الدین" (agency for receiving debt)سے مختلف قرار دیتے ہیں ۔ توکیل بقبض الدین سے مراد یہ ہے کہ زید کا دین بکر کے ذمے تھا ، تو زید نے اپنے وکیل عمرو کو اختیار دیا کہ وہ جاکر زید کی جگہ زید کا دین بکر سے قبضے میں لے لے۔ اس کے برعکس حوالہ میں زید کا جو بکر کے ذمے دین ہوتا ہے وہ اب "عمرو کا بکر کے ذمے دین" بن جاتا ہے اور عمرو "اپنا دین" وصول کرتا ہے ، نہ کہ زید کا ۔

اگر عمرو کا پہلے سے زید کے ذمے دین ہو ، اور زید کا بکر کے ذمے دین ہو ، اور اب زید عمرو سے کہے کہ تم میرے بجاے بکر سے اپنا دین وصول کرو ، تو اس پر قانونی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمرو کا دین تو زید کے ذمے تھا ، نہ کہ بکر کے ذمے ؛ اسی طرح بکر کے ذمے تو زید کا دین تھا نہ کہ عمرو کا ؛ تو پھر عمرو دین کا مطالبہ بکر سے کیسے کرسکتا ہے ؟ اسی لیے فقہاے کرام نے قرار دیا کہ اس تحویل ، یا دین کی منتقلی ، کےلیے تینوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔

قابلِ انتقال وثائق کے ذریعے دین کی منتقلی ہوتی ہے اور انھیں "توکیل بقبض الدین " نہیں کہا جاسکتا لیکن اس کے باوجود عقدِ حوالہ کے برعکس ان میں جس بندے نے ادائیگی کرنی ہے اس کی رضامندی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔ بلکہ payee، یعنی جسے ادائیگی ہونی ہے ، اس کو آگے کسی اور شخص کے نام endorse کرسکتا ہے اور اب یہ نیا شخص (endorsee)وصولی کا حق دار یعنی payee بن جاتا ہے ۔ پھر یہ نیا payee اسی طرح آگے اسے مزید endorse بھی کرسکتا ہے۔

بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ، payee کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ کسی مخصوص شخص کے نام endorse کرنے کے بجاے " حامل ہذا " (bearer)کے نام endorse کردے اور اس صورت میں جس شخص کے ہاتھ میں بھی یہ وثیقہ ہو تو وہ وصولی کا حق دار ہوگا۔
یہی چیز بنیاد بنی اس تصور کی جسے اب ہم fiat currency ، یا علامتی زر کہتے ہیں!

عقدِ حوالہ اور کرنسی نوٹ
معاشیات کی نصابی کتب میں بیان کی گئی کہانی کو جوں کا توں مان کر اس کا قانونی تجزیہ کرتے ہیں۔
جب سنار نے زید سے وعدہ کیا کہ وہ فلاں تاریخ کو ، یا مطالبے پر، اس کو، یا اس کے حکم پر کسی اور شخص کو، یا حامل رقعہ کو، اتنی مقدار کا سونا ادا کرے گا تو یہ دراصل "پرونوٹ" لکھا گیا۔

آگے جب زید نے یہ پرونوٹ بکر کو دیا تو گویا اس نے اس پرونوٹ کی endorsement کرلی۔ یوں endorsement کے ذریعے یہ پرونوٹ ایک شخص سے دوسرے اور پھر تیسرے، چوتھے شخص کے پاس جاتا رہا اور ساتھ ہی ہر قدم پر سنار اور نئے شخص کے درمیان مدین اور دائن کا تعلق قائم ہوتا رہا۔

اگر زید نے بکر کو ایک پرونوٹ دیا اور جواب میں بکر نے اسے ایک اور پرونوٹ دیا جو اسی سنار یا کسی اور سنار نے لکھ کر دیا تھا، تو اس طرح دائن اور مدین کے مزید نئے قانونی بندھن وجود میں آتے گئے؛ اور بسااوقات دائن اور مدین کی کبھی ایک دوسرے سے ملاقات ہی نہ ہوتی؛ ایجاب و قبول تو دور کی بات تھی۔

کیا اس سارے گورکھ دھندے کو عقدِ حوالہ قرار دینا انتہائی درجے کی سادگی نہیں ہے؟

کرنسی نوٹوں نے برصغیر کی حد تک دینار و درہم کی جگہ کیسے لی؟ اس سلسلے میں صرف درج ذیل دو قوانین کی دفعات پر غور کریں:

Negotiable Instruments Act, 1881
Metal Tokens Act, 1889

پہلے قانون کے تحت پرونوٹ ، بل آف ایکسچینج اور چیک کو قانونی حیثیت دے کر ، نجی سطح پر افراد ، بالخصوص کمرشل بینکوں ، کو زر کی تخلیق کا اختیار دیا گیا، اور ایک خاص نوعیت کے زر کی تخلیق کا اختیار ریاست کے بینک، یعنی سٹیٹ بینک، کے پاس رکھ دیا گیا۔ دوسرے قانون کی رو سے سونے چاندی کے سکوں پر پابندی لگاکر ان کے استعمال کو قانوناً قابل ِ سزا جرم قرار دیا گیا ۔ یوں ریاستی جبر کے ذریعے علامتی زر کو زبردستی مسلط کیا گیا!

تاریخی ترتیب بھی قابل ِ توجہ ہے:

پرونوٹ ، بل آف ایکسچینج اور چیک کا قانون پہلے اور سونے چاندی کے سکوں پر پابندی اس کے آٹھ سال بعد!

پتہ نہیں لوگ کیسے فرض کرلیتے ہیں کہ کرنسی نوٹ "عام لوگوں کی مرضی اور خوشی" سے رائج ہوئے کیونکہ یہ سونے چاندی کی بہ نسبت زیادہ سہولت دیتے ہیں!

کچھ عرصے تک تو مرکزی بینک کے Pro-note payable to bearer on demand کے پیچھے سونا باقی رہا ، اگرچہ یہ یقینی بنانے کے لیے کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ نوٹ اتنے ہی جاری کیے گئے جتنی مالیت کا سونا پیچھے بینک میں پڑا تھا ۔ دوسری جنگ ِ عظیم نے عالمی سطح پر معیشت کو جو نقصان پہنچادیا اس کے بعد نئے عالمی نظام کی تشکیل اس طرح کی گئی کہ باقی ریاستوں نے نوٹوں کے پیچھے سے سونا نکال لیا لیکن ڈالر کا سونے کے ساتھ تعلق برقرار رہا۔

ایک اور twist اس کہانی میں تب آیا جب امریکا نے ستر کی دہائی میں ڈالر کو بھی سونے سے لاتعلق کردیا۔

پس کرنسی نوٹ کی کہانی جیسے بھی شروع ہوئی مختلف موڑ لینے کے بعد آخر پہنچی یہاں تک کہ اب ان نوٹوں کے پیچھے سونا کیا، ڈالر بھی نہیں رہا ہے۔ اب کیسے انھیں دین کا وثیقہ سمجھا جاسکتا ہے؟ اب سو روپے کے نوٹ آپ بینک کو دیں گے تو وہ جواب میں پچاس کے دو نوٹ ، یا دس کے دس نوٹ پکڑا دے گا، اور ان میں ہر نوٹ پر اسی طرح "حامل ہذا کو مطالبہ پر ادائیگی کا وعدہ" ہی ہوگا!

جن دنوں سنار سونا رکھ کر رسید کے طور پر نوٹ دیتے تھے، ان دنوں تو یہ نوٹ دین کا وثیقہ تھا۔

بعد میں جب لوگوں نے ان نوٹوں کا تبادلہ شروع کیا تو ہمارے کئی مفتیانِ کرام نے اس معاملے کو عقدِ حوالہ سمجھ کر اس نوٹ کو سند الحوالہ مان لیا لیکن، جیسا کہ پچھلی پوسٹس میں واضح کیا گیا ، حوالہ اور اس معاملےمیں بہت زیادہ فرق ہے اور اس معاملے میں حوالہ کی شرائط پوری ہی نہیں ہورہی تھیں۔

اب جبکہ ان نوٹوں کے پیچھے نہ سونا ہے، نہ ڈالر، اور promise to pay سے مراد سونے یا کسی دیگر اثاثے کی ادائیگی کا وعدہ نہیں بلکہ مزید نوٹوں، یا ان کی ریزگاری، کی ادائیگی کا وعدہ ہے تو اب اس نوٹ کی شرعی حیثیت کیا ہو گئی ہے ؟

کرنسی نوٹ نہ تو فلوس ہیں اور نہ ہی ثمن عرفی کیونکہ یہ علامتی زر ہیں نہ کہ حقیقی۔

ہمارے بعض بزرگوں نے کرنسی نوٹوں کو "فلوس" قرار دیا تو بعض نے انھیں "ثمن عرفی" قرار دے کر سونے چاندی کے ہی تمام احکام کا اطلاق ان پر کیا۔

پہلے فلوس والی راےدیکھ لیں۔

فلوس دینار ودرہم کی طرح کوئی standardized سکے نہیں تھے، نہ ہی حکومتی سطح پر ان کے ڈھالنے کا کوئی باقاعدہ نظام تھا۔ اس لیے ایک ہی حکمران کے زیر ولایت مختلف علاقوں میں فلوس بطور ریزگاری کبھی قبول کیے جاتے تھے اور کبھی نہیں۔ عاقدین کی مرضی ہوتی تھی کہ انھیں دھات کے طور پر قبول کرلیں یا ثمن کے طور پر۔ اگر انھیں بطور ریزگاری قبول نہ بھی کیا جاتا تو کم از کم بطور تانبا ان کی اپنی کچھ intrinsic value تو تھی۔ اس کے مقابل میں کاغذ کے پرزے کی کیا حیثیت ہے ، اگر اس کے پیچھے سے ریاستی جبر کو نکال لیا جائے ؟ یقین نہ ہو تو ان کرنسی نوٹوں کو استعمال کرنے کا سوچ لیں جو حکومت نے منسوخ کردیے ہیں!

چنانچہ اس پہلو سے "ثمن عرفی" والی بات اس راے سے بہتر معلوم ہوتی ہے کہ جب تک ان نوٹوں کے پیچھے ریاستی جبر ہے، تب تک – اور صرف تب تک – یہ کرنسی نوٹ باقاعدہ ثمن کی حیثیت ہی رکھتے ہیں ۔ یہ کسی دین کا وثیقہ نہیں رہے ؛ نہ ہی کسی اصل سکے کی ریزگاری ہیں ؛ بلکہ اب انھیں جبراً ثمن کی حیثیت دے دی گئی ہے اور جب تک یہ جبر باقی رہے گا ، ان کی یہ حیثیت باقی رہے گی ۔

فلوس والے موقف پر قائم بزرگوں نے مزید عجیب یہ کیا کہ ایک فلس کے بدلے دو فلس لینے کی اجازت کے بارے میں جس فقیہ کی راے قبول کی ، فلوس کی ثمنیت کے بارے میں اسی فقیہ کی راے ترک کردی ! دراصل وہ چاہتے یہ ہیں کہ کرنسی نوٹوں کو ثمن بھی مانا جائے اور انھیں ربا النسیئہ کے احکام سے بھی بچایا جائے ؛ ربا الفضل کا معاملہ چونکہ واضح طور پر ربا کا نظر آتا ہے ، اس لیے اس سے وہ انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک روپے کا دو روپوں کے ساتھ تبادلہ (ربا الفضل) ناجائز ہے لیکن ایک روپیہ آج دے کر ایک ہی روپیہ کل ، یا ایک ڈالر آج دے کر 100 روپے کل ، لے سکتے ہیں ۔ اس مؤخر الذکر معاملے کو "کرنسی سلم " کا نام بھی دے دیا گیا ہے!

"آدھی بات ادھر سے اور آدھی ادھر سے "کا طریقِ کار اصولی طور پر غلط ہے ۔ سیدھی سی بات ہے کہ فلوس ، جو تانبے کے سکے تھے ، یا انھیں تانبا سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کیجیے تو ربا النسیئہ اور ربا الفضل دونوں سے جان چھوٹ جائے گی ، یا انھیں ثمن مان لیجیے تو پھر ربا الفضل اور رباالنسیئہ دونوں کے احکام کا اطلاق ان پر کیجیے۔ آپ یہ نہیں کرسکتے کہ ان میں سے ایک پوزیشن لیں لیکن اس کے لازمی نتائج نہ لیں ۔ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے جمیع لوازم سمیت ثابت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بھی "ثمن عرفی" والا موقف فلوس والے موقف سے بہتر معلوم ہوتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ثمن عرفی والی راے بھی کرنسی نوٹوں کے متعلق ایک غلط مفروضے پر قائم ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مفروضہ ان دونوں آرا میں مشترک ہے ! اسی مفروضے کی نشان دہی کےلیے پوسٹس کی یہ سیریز لکھی گئی ہے۔ وہ مشترک مفروضہ، جو غلط ہے، یہ ہے کہ دونوں نے کرنسی نوٹوں پر "زر حقیقی" کے احکام کا اطلاق کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ کرنسی نوٹ زرحقیقی نہیں بلکہ زر اعتباری یا علامتی زر ہیں! اس لیے ان پر دینار، درہم یا فلوس کے احکام کا اطلاق اصولاً غلط ہےکیونکہ ذاتی مالی قدر (intrinsic value) کی حامل دھاتوں سے بنے سکے تھے جبکہ کرنسی نوٹ جس کاغذ سے بنتے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ، نہ ہی اس پلاسٹک کی کوئی حیثیت ہوتی ہے جس سے کارڈ بنتے ہیں، بلکہ ریاستی جبر کے نتیجے میں زبردستی ان اعداد کےلیے حیثیت تسلیم کرائی گئی ہے جن کی علامت کے طور پر یہ نوٹ یا کارڈ رائج کیے گئے ہیں ۔ یہ ہے وہ بنیادی غلطی جو رائج کرنسی کی شرعی حیثیت کے تعین میں اہلِ علم کو لاحق ہوئی ہے کہ انھوں نے زر اعتباری یاعلامتی زر ، یعنی fiat money پر زرحقیقی ، یعنی commodity money ، کے احکام کا اطلاق کیا ہے۔ پھر اگر ان پر commodity money کے احکام کا اطلاق کرنا ہی تھا تو اس اصولی تناقض میں تو نہ پڑتے جس میں currency salam کو جائز ماننے والے اہلِ علم پڑ گئے ہیں۔اس پہلو سے ثمن عرفی والی راے فلوس والی راے سے بہتر ہے لیکن بہرحال وہ بھی اس لیے ناقابلِ قبول ہے کہ وہ اس غلط مفروضے پر قائم ہے کہ علامتی زر پر زر حقیقی کے احکام لاگو کیے جاسکتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ جب یہ دونوں رائیں غلط مفروضے پر قائم ہیں تو پھر اس علامتی زر کی درست شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سوال پر بحث تبھی کی جاسکے گی جب پہلے یہ واضح ہوجائے کہ علامتی زر کی تخلیق کیسے کی جاتی ہے۔ کچھ اشارات یہاں دیے گئے۔ مزید وضاحت زاہد مغل صاحب کی تحریر سے ہوجائے گی۔ اس کے بعد اس بحث کو آگے بڑھائیں گے، ان شاء اللہ۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.