صرف پاکستان اسٹیل ہی کیوں - حبیب الرحمن

فیصلہ کر لیا گیا کہ پاکستان اسٹیل کے سارے کے سارے 9250 ملازمین ملازمتوں سے فارغ کر دیئے جائیں گے۔ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ ملازمین کو فارغ کرنے سے قبل ہر ملازم کو 23 لاکھ روپے بطور گولڈ ہینڈ شیک ادا کئے جائیں گے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اگر 9250 ملازمین میں سے ہر ایک کو واقعی 23 لاکھ روپے دے کر فارغ کیا جائے تو کل رقم اس رقم سے تین گنا کم ہے جو اس سلسلے میں مختص کی گئی ہے۔ اس نقطہ نظر سے گولڈ ہینڈ شیک کا عمل کافی حد تک شکوک و شبہات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔پاکستان اسٹیل کو فروخت کرنے کا معاملہ آج کا نہیں ہے بلکہ کئی برس پرانا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے متعلق علامہ اقبال کے کہے یہ چار مصرعے حسبِ حال ہی لگتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ

مشرق میں اصولِ دین بن جاتے ہیں

مغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں

رہتا نہیں ایک بھی ہمارے پلے

واں ایک کے تین تین بن جاتے ہیں

با الفاظِ دیگر، کوئی بھی معاملا ہو، وہ نہ صرف بحث کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے بلکہ اس میں اتنی شدت پیدا ہوجاتی ہے کہ بات تو تڑاق سے بہت آگے جا پہنتی ہے۔
ہر بننے والے حکومت کے محکمہ پرائیوٹائیزیشن کی فہرست میں پاکستان اسٹل ہمیشہ سر فہرست رہا جبکہ جنرل مشرف کے دور میں یہ مل تقریباً فروخت ہو ہی گئی تھی لیکن ان پر نہ بیچنے کے سلسلے میں اتنا بے پناہ دباؤ آیا کہ جنرل اور مختارِ کل ہونے کے باوجود ان کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔گزشتہ سال 8 مئی 2019 کو ایک مرتبہ پھر حفیظ شیخ کی "قیادت" میں اس مل کے بیچنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اسد عمر اس نجکاری کے خلاف تھے۔ ان کی مخالفت کسی حد تک اس لئے بجا تھی کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے سے پہلے پاکستان اسٹیل کے ملازمین سے یہ وعدہ کر چکے تھے کہ اگر ان کی حکومت نے آپ کی مل کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ حکومت کے ساتھ نہیں، آپ کے ساتھ کھڑے ہونگے۔

ٹھیک ایک سال اور تقریباً ایک ماہ بعد حفیظ شیخ ہی کی "قیادت" میں حکومت یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ پاکستان اسٹیل کو بہر صورت فروخت کر دیا جائے اور ملازمین کو ایک ماہ کے اندر اندر فارغ کرکے گھر بھیج دیا جائے۔مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ اس فیصلے کے کیا نتائج نکلیں گے اور ملازمین کو اس سے فائدہ پہنچے گا یا ان کے گھروں میں صفِ ماتم بچھ جائے گی، مجھے کہنا ہے تو یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں عوام سے لیکر خواص تک، کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو پاکستان کیلئے اچھا سوچتا ہو البتہ ہر معاملے کو دین و مذہب جیسا مسئلہ بنا کر ضرور رکھ رکھ دیا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب املاک کو "قومیایا" جانا ایک سنگین مسئلہ بنا دیا گیا تھا اور اس کے کھربوں نقصانات بیان کرتے کسی پاکستانی کی زبان نہیں تھکتی تھی۔ پھر قوم ایک طویل عرصے سے یہ بھی دیکھتی آ رہی ہے کہ نجکاری کا عمل ایک "شرعی" مسئلہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ضلعے بنانے ہوں، انتخابی حلقوں کی تقسیم میں رد بدل کرنا ہو، انتخابی فہرستیں تیار کرنا ہوں یا صوبوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہو، پورے پاکستان میں زلزلے آنا شروع ہو جاتے ہیں اور ہر جانب "مرسوں مرسوں فلاں کام نہ کر نے ڈیسوں" کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔

پاکستان اسٹیل کو جب بھی فروخت کرنے کی بات کی گئی، ایک ہی عذر سامنے رکھا گیا کہ صرف اس کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے کئی سو ارب روپے، سالانہ بجٹ میں مختص کرنے پڑتے ہیں۔ یہ بات غلط بھی نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اگر یہ مل پرویز مشرف کے دور میں فروخت کر دی گئی ہوتی تو اس وقت سے لیکر اب تک جو ادائیگیاں عوام پر لگے ٹیکسوں میں سے آج تک پاکستان اسٹل کو کی جاتی رہی ہیں وہ کھرب ہا کھرب کی ہو چکی ہیں، اگرمشرف دور میں پاکستان اسٹیل مل فروخت ہو چکی ہوتی تو قوم کا یہ سرمایہ کسی اور مد میں کام آجاتا۔ بے شک ملازمین کا بے روز گار ہو جانا ایک تکلیف دہ عمل ہوتا لیکن کیا اس عمل سے ان کو بچالیا گیا؟۔

پاکستان اسٹیل ہی نہیں، مرکزی حکومت ہو یا صوبائی و ضلعی، ان کے تحت جو جو ادارے اور محکمے بھی آتے ہیں وہ سب کے سب سفید ہاتھی ہیں اور پاکستان کے غریب عوام پر ایک بوجھ سے کم نہیں۔ یہ سب کے سب اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہیں۔ اگر سچ پوچھیں تو یہ سب کے سب قومی یتیم و مسکین و اپاہج خانے ہیں جن کو پاکستان کے غریب عوام ٹیکس ادا کر کر کے پال رہے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف پاکستان اسٹیل ہی پر مہربان نہ ہو، حکومتوں کے تحت جو جو ادارے اور محکمے بھی آ تے ہیں، ان سب پر اپنی نظر عنایت ڈالے۔ یہ سارے فیصلے بڑی جراحیاں تو ضرور ہونگے لیکن پاکستان کے تنِ بیمار و ازار کیلئے اب بڑی بڑی جراحیاں کر دینا بہت ضروری ہو چکا ہے ورنہ جو کیڑے جسم کے ایک ایک عضو میں پڑ چکے ہیں وہ تمام جسم کو ہضم (خدانخواستہ) بھی کر سکتے ہیں۔