کیا ایک مہینہ کافی نہیں - شیراز علی مردانی‎

امید واثق ہے کہ آپ سب کی عید اچھی گزری ہوگی ویسے عید کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہر حال میں اللہ کی مہمانوازی سے لطف اندوز ہونا۔ ۔اور رمضان کا مہینہ بھی اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ رخصت ہوا اب وہ الگ بات کہ ہم میں سے کس نے کیا کھویا کیا پایا۔ ۔لیکن سوال یہ نہیں کہ کیا ملا ؟

سوال یہ ہے کہ کب تک کیلئے ملا؟۔ رمضان کے روزوں کا مقصد صرف ایک مہینے کیلئے اپنے آپ کو ہر طرح کی فضولیات یا دیگر مشاغل سے دور رکھنا نہیں
بلکہ یہ تو رب کریم کی طرف سے اہل اسلام کو جگانے ۔۔یاد دہانی کروانے اور جھنجھوڑنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ہم سے وہ سارے اعمال کروائے جاتے ہیں جس کا ہم سال بھر سست روی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔مثلاّ۔ ۔ہم سال بھر تہجد کیلئے نہ اٹھنے کا بہانا کرتے ہیں کہ جی اٹھا نہیں جاتا آنکھ نہیں کھلتی وغیرہ وغیر۔ ۔
لیکن اس مہینہ میں ہمیں ہر حال میں اٹھنا پڑتا ہے۔نمازوں کیلئے وقت نکالنا تک دشوار ہوتا ہے لیکن اس مہینہ میں آپ کو مساجد آباد نظر آئینگی۔ ۔ آپ کو ہر بندہ مسلمان دکھے گا۔ ۔لیکن رمضان گزرتے ہیی وہیی عادات و مشاغل پھر سے شروع تو کیا مہینہ بھر کی پریکٹس کافی نہیں؟

کیا اس روٹین کو صرف ایک ہی مہینہ تک محدود رکھا جائے۔ ہم کیوں ظالم بنے بیٹھے ہیں کہ اپنے ہاتھوں بنا محل خود کے ہاتھوں مسمار کر دیتے ہیں ہائے ظالموں وہ منظر تو یاد کرو کہ جب فرشتوں کا سردار دعا فرما رہے ہیں اور دونوں جہانوں کا سردارؐ آمین فرماتیں ہوئیں زینا چڑھ رہے ہیں ہلاک و برباد ہو جائے وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے لیکن اس کی مغفرت نا ہو۔( حدیث کا ایک جز)

دوسری طرف آمین کی صدا ساتوں آسمانوں کو چیرتی ہوئی عرش الہٰی کے سامنے ٹھر جاتی ہے۔ ۔تو بتاو کیسے بچ نکلو گے ۔۔کیا اب بھی ہم خود کو نہ بدلے۔
رب کریم ہم سب کی اس بددعا سے حفاظت فرمائیں۔ ۔